سنن ابن ماجه
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النِّكَاحِ باب: نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى ، فَخَلَا بِهِ عُثْمَانُ ، فَجَلَسْتُ قَرِيبًا مِنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : هَلْ لَكَ أَنْ أُزَوِّجَكَ جَارِيَةً بِكْرًا تُذَكِّرُكَ مِنْ نَفْسِكَ بَعْضَ مَا قَدْ مَضَى ؟ ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنَّهُ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ سِوَى هَذِهِ ، أَشَارَ إِلَيَّ بِيَدِهِ فَجِئْتُ وَهُوَ يَقُولُ : لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ ، لَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
´علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ` میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں تھا ، تو عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر تنہائی میں گئے ، میں ان کے قریب بیٹھا تھا ، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے کرا دوں جو آپ کو ماضی کے حسین لمحات کی یاد دلا دے ؟ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ان سے اس کے علاوہ کوئی راز کی بات نہیں کہنا چاہتے ، تو انہوں نے مجھ کو قریب آنے کا اشارہ کیا ، میں قریب آ گیا ، اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے : ” اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شخص نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کر لے ، اس لیے کہ اس سے نگاہیں زیادہ نیچی رہتی ہیں ، اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے ، اور جو نان و نفقہ کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے ، اس لیے کہ یہ شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں تھا، تو عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر تنہائی میں گئے، میں ان کے قریب بیٹھا تھا، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے کرا دوں جو آپ کو ماضی کے حسین لمحات کی یاد دلا دے؟ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ان سے اس کے علاوہ کوئی راز کی بات نہیں کہنا چاہتے، تو انہوں نے مجھ کو قریب آنے کا اشارہ کیا، میں قریب آ گیا، اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو رسول اللہ صلی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1845]
فوائد ومسائل: (1)
گزرے وقتوں کی یاد سے مراد یہ ہے کہ جس طرح آپ پہلے ازدواجی زندگی گزار رہے تھے اور اطمینان و مسرت کا وقت گزر رہا تھا، اب پھر آپ کو شادی کی ضرورت ہے تاکہ آپ کو دوبارہ وہی خوشی اور وہی اطمینان و سکون حاصل ہو جس کا حصول شادی کے بغیر ممکن نہیں۔
(2)
شادی شدہ زندگی میں میاں بیوی کی عمر میں تفاوت کو بہت زیادہ اہمیت حاصل نہیں۔
اگر ذہنی ہم آہنگی موجود ہو اور مرد اس قابل ہو کہ اپنی بیوی کی فطری ضروریات خوش اسلوبی سے پوری کر سکے تو ادھیڑ عمر مرد کم عمر عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔
(3)
تین افراد میں سے دو افراد کا تیسرے کو الگ کر کے بات چیت کرنا منع ہے لیکن اگر تیسرے آدمی کی دل شکنی کا اندیشہ نہ ہو تو بعض حالات میں اس کی گنجائش ہے، ویسے بھی مذکورہ بالا واقعہ میں دونوں کے الگ ہو جانے کے باوجود حضرت علقمہ ؓ اتنے دور نہیں تھے کہ ان کی بات چیت نہ سن سکیں۔
(4)
حضرت عبداللہ کو اس وقت نکاح کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اس لیے انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ لڑکی والوں سے رابطہ قائم کیا جائے، البتہ حضرت عثمان کی خیر خواہی کا شکر ادا کرنے کے لیے فرما دیا کہ نکاح واقعی ایک اہم اور مفید چیز ہے۔
(5)
نکاح کی طاقت رکھنے کا مطلب جسمانی طور پر نکاح کے قابل ہونا اور مالی طور پر بیوی کے لازمی اخراجات پورے کرنے کے قابل ہونا ہے۔
موجودہ معاشرے میں رائج رسم و رواج پر کیے جانے والے بے جا اخراجات کی طاقت مراد نہیں۔
معاشرے سے ان فضول رسموں کو ختم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
(6)
نکاح کا سب سے بڑا فائدہ گناہ کی زندگی سے حفاظت اور جنسی خواہشات کی جائز ذریعے سے تکمیل ہے۔
نکاح کرتے وقت یہ مقصد پیش نظر رکھنا چاہیے، دوسرے فوائد خود ہی حاصل ہو جائیں گے۔
(7)
فحاشی سے بچاؤ اسلامی معاشرے کی ایک اہم خوبی ہے، اس کے حصول کے لیے ہر جائز ذریعہ اختیار کرنا چاہیے، اور فحاشی کا ہر راستہ بند کرنا چاہیے۔
(8)
اسلامی شریعت کی یہ خوبی ہے کہ یہ انسان کی فطرت کے مطالبات کی نفی نہیں کرتی بلکہ ان کے حصول کے جائز ذرائع مہیا کرتی ہے۔
(9)
روزہ رکھ کر انسان نامناسب خیالات اور جذبات کو کنٹرول کرسکتا ہے۔
اس وجہ سے فطری خواہش بھی بے لگام نہیں ہوتی، اس لیے اگر کسی نوجوان لڑکے یا لڑکی کی شادی میں کسی وجہ سے تاخیر ہو جائے تو اسے چاہیے کہ نفلی روزے کثرت سے رکھے اور جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والے ماحول، اس قسم کے لٹریچر کے مطالعے، جذبات انگیز نغمات سننے اور فلمیں وغیرہ دیکھنے سے پرہیز کرے تاکہ جوانی کا جوش، گناہ میں ملوث نہ کرسکے۔
(1)
حدیث میں الباءة سے جسمانی اور مالی طاقت مراد ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطاب ان نوجوانوں سے ہے جنھیں عورتوں کی خواہش ہو اور وہ اس خواہش کو نظر انداز نہ کرسکتے ہوں۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شہوت کا جوش کم کرنے کے لیے دوائی وغیرہ سے علاج کرانا جائز ہے تا کہ جوش جاتا رہے اور انسان پر سکون ہو کر زندگی گزارنے کے قابل ہوجائے۔
بالکل نسل بندی کرکے شہوت ختم کر دینا صحیح نہیں کیونکہ کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ انسان کو نکاح کی قدرت حاصل ہو جائے تو اسے ندامت و شرمساری کا سامنا کرنا پڑے۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہوت توڑنے کے لیے غیر فطری اشیاء کا استعمال جائز نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے انسان کے لیے روزے رکھنے تجویز فرمائے ہیں لیکن ایک دو روزے تو شہوت کو ابھارنے کا باعث ہوتے ہیں، اس لیے کثرت سے روزے رکھنا شہوت کے جوش کو کم کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔
والله اعلم.
خصی ہونے کی کسی حالت میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔
(1)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خستہ حال دیکھا تو انھیں احساس ہوا کہ یہ خستہ حالی نوجوان بیوی کے نہ ہونے کی وجہ سے ہے تو انھوں نے کنواری نوجوان لڑکی سے شادی کی پیش کش فرمائی کیونکہ نوجوان لڑکی سے شادی کرنا نشاط وقوت کا باعث ہے۔
لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے علمی مشاغل کی وجہ سے اس مخلصانہ پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت کرلی اور نوجوان شاگرد حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کے لیے سفارش کر دی۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان اور پیش کردہ حدیث سے اشارہ فرمایا کہ نکاح سنت ضرور ہے لیکن اگر کسی کو حاجت نہ ہو تو اس کے لیے ضروری نہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بے رغبتی کا مظاہرہ کیا۔
(3)
''وِجَاء'' کے لغوی معنی خصی ہونا ہیں لیکن خصی ہونے کی کسی حالت میں اجازت نہیں ہے بلکہ اس کا متبادل یہ ہے کہ شہوت توڑنے کے لیے روزے رکھے جائیں۔
یاد رہے کہ ایک دو روزے کسرِ شہوت کے لیے کافی نہیں بلکہ التزام سے روزے رکھنا شہوت توڑنے کا موجب بنتا ہے۔
(1)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص نکاح کے اخراجات پر قادر ہونے کے ساتھ ساتھ جماع کی طاقت رکھتا ہے وہ ضرور نکاح کرے اور جو کوئی نکاح کے اخراجات پر قادر نہیں وہ روزے رکھے کیونکہ ایسا کرنے سے شہوت کمزور ہو جاتی ہے اور بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ باقی نہیں رہتا۔
آغاز میں حرارت غریزی کے جوش مارنے سے شہوت زیادہ معلوم ہوتی ہے لیکن چند روزے رکھنے کے بعد شہوت کے کمزور ہونے کا عمل شروع ہوتا ہے، کیونکہ جماع کی خواہش کھانے پینے کے تابع ہوتی ہے، وہ کھانے پینے سے قوی اور اس سے پرہیز کرنے سے کمزور ہوتی ہے، اس لیے زیادہ روزے رکھنے سے شہوت خودبخود کمزور ہو جاتی ہے۔
(فتح الباري: 153/4) (2)
واضح رہے کہ نکاح کی تین اقسام ہیں: ٭ اعتدال کی حالت میں نکاح کرنا سنت ہے۔
شریعت نے اس کی ترغیب دی ہے۔
٭ غلبۂ شہوت کے وقت نکاح کرنا واجب ہے کیونکہ اس سے شرمگاہ کی حفاظت اور نگاہ میں حیا آتا ہے۔
٭ جب اسے بیوی پر ظلم کا اندیشہ ہو تو نکاح کرنا مکروہ ہے کیونکہ نکاح کی مشروعیت مصالح کے تابع ہے، ایسے حالات میں انسان کو روزے رکھنے چاہئیں۔
(3)
واضح رہے کہ روزہ اللہ کی رضا کے لیے اس وقت ہوتا ہے جب اس سے کوئی دینی یا دنیوی مصلحت وابستہ نہ کی جائے، زنا سے بچنے کے لیے روزہ رکھنا اس اخلاص کے منافی ہے، یہ ایک اعتراض ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی عبادت پر کوئی دینی غرض مرتب ہوتی ہو تو اس کا ارادہ کرنا اخلاص کے لیے نقصان دہ نہیں۔
زنا سے بچنا جو روزہ رکھنے پر مرتب ہوتا ہے اس سے بھی اللہ کی رضا مقصود ہے۔
تو یہ غرض روزے کی اصلی غرض کے منافی نہیں ہو گی۔
جو غلط کاری کا بنیادی ذریعہ اورسبب ہے اور اس طرح انہیں شرم گاہ کو بھی گناہوں کی آلودگی سے بچا سکتا ہے۔
اگر کسی وجہ سے کسی پر نظر پڑ جائیے اور وہ اس سے متاثر ہوجائے تو اس کا علاج اور مداوابھی کرسکتا ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے اگر کسی وجہ سے شادی نہ کرسکے تو روزہ رکھ کر اپنی غذا اور خوراک میں کمی کرے تو قوت شہوت پر کنٹرول کرسکے گا لیکن ہم نے تو روزے کابسیار خوری اور خوش خوری کا ذریعہ بنا کر اس کو جنسی قوت میں اضافہ کاباعث بنا چھوڑا ہے اورضبط نفس کے مقصد کو پس پشت پھینک دیاہے اس لیے روزوں سے بھی یہ مقصد پورا نہیں ہورہا۔
(1)
اَلنِّكاَح: دفعتاً ملاپ اور تداخل کو کہتے ہیں، جیسا کہ کہتے ہیں، (نَكَحَ الْمَطَرُ الْاَرْضَ)
بارش زمین میں جذب ہو گئی، (نَكَحَ النُّعَاسُ الْعَيْنَ)
اونگھ آنکھ میں سرایت کر گئی، (نكحت القمح في الارض)
میں نے زمین میں گندم بودی، (نكحت الحصاة اخفاف الابل)
کنکر اونٹوں کے پاؤں میں چھپ گئے، اس لیے امام زھری کہتے ہیں، کلام عرب میں نکاح تعلقات قائم کرنے کو کہتے ہیں، اور شادی کرنے کو بھی، اس لیے نکاح کہتے ہیں، کہ دو زن وشوہر کے تعلقات کا سبب ہے اور امام زجاجی کے نزدیک کلام عرب میں نکاح کا اطلاق، عقد (نکاح پڑھانے)
اور تعلقات قائم کرنے پر ہوتا ہے، ابو علی فارسی کا قول ہے، اگر یوں کہیں، (نَكَحَ فُلَانَةٌ، اَوْبِنْتتُ فُلاَنٍ)
تو معنی ہو گا اس سے شادی کی، اور اگر کہیں (نَكَحَ اِمْرَأَتُهُ اَوْ زَوْجَتُهُ)
تو معنی ہو گا، تعلقات قائم کیے۔
لیکن قرآن مجید میں عام طور پر یہ شادی کرنے کے معنی میں آیا ہے، شوافع کے نزدیک اس کا حقیقی معنی عقد (شادی کرنا)
ہے اور تعلقات قائم کرنا مجازی معنی ہے اور احناف کے نزدیک اس کے برعکس ہے اور صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں معنی میں حقیقی استعمال ہوتا ہے، مشترک لفظی ہے، قرینہ سے ایک معنی کا تعین ہو جاتا ہے۔
(2)
اَلْبَاءَةُ: یہ مُبَاوَة سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے، (منزل، ٹھکانہ)
اور اس کا لغوی معنی جماع ہے، اور شادی کرنے پر اس کا اطلاق اس لیے ہوتا ہے کہ خاوند، بیوی کو گھر مہیا کرتا ہے، وِجَاءٌ: اس کا اصل معنی دبانا ہے، اس لیے خصی کرنے پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔
فوائد ومسائل: اگر ایک انسان قوت مردانہ رکھنے کی بنا پر نکاح کرنے کا شوق و رغبت رکھتا ہے۔
اور وہ اس کی بھی استطاعت رکھتا ہے کہ وہ نکاح کے اخراجات برداشت کر سکتا ہے یعنی بیوی کو گھر، لباس، طعام، اور اس کے لوازمات مہیا کر سکتا ہے تو وہ شادی کر لے، اگر بیوی کے اخراجات یا اس کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔
ضبط نفس کے لیے روزے رکھے۔
اگر انسان نکاح کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اور شادی نہ کرنے کی صورت میں زنا کا خطرہ ہے، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس صورت میں نکاح کرنا فرض ہے۔
اور ظاہر یہ کا قول بھی یہی ہے اور اس صورت میں یہ عبادت ہے، شوافع کے نزدیک اس صورت میں نکاح کرنا مستحب ہے اور انہوں نے جمہور کا یہ قول قرار دیا ہے، اگرانسان کے اند رغلبہ شہوت نہ ہو اور نکاح کی طاقت ہو تو شوافع کے نزدیک عبادت کے لیے نکاح نہ کرنا بہتر ہے۔
لیکن امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
بعض شوافع اور بعض مالکیہ کے نزدیک نکاح کرنا افضل ہے۔
اور صحیح بات یہی ہے کیونکہ: (فمنْ رغِب عَنْ سُنَّتِي فَلَيسَ مِنِّى")
جو شخص میرے طریقہ سے یا عمل اور رویہ سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوانوں سے خطاب اس لیے فرمایا کیونکہ عام طور پر شادی کا محرک اور داعیہ ان میں موجود ہوتا ہے اور عمرڈھلنے سے کمی آ جاتی ہے مطلب یہ نہیں ہے کہ بڑی عمر کو اس کی ضرورت لاحق نہیں ہوتی، یا وہ شادی نہیں کر سکتا، بلکہ اگر بڑی عمر والا با کرہ دوشیزہ سے شادی کر لے تو اس میں عہد شباب کا دور لوٹ آتا ہے، اس لیے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تھا، کہ ہم تیری نوجوان لڑکی سے شادی کر دیں، اور وہ تمھیں گذشتہ دور کے ایام یاد کرا دے، لیکن وہ اپنے ظروف وحالات کی بنا پر اس کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے اس لیے جواب دیا کہ اس کی اصل ضرورت تو نو جوانوں کو ہے، مجھے اس عمر میں اس کی خواہش نہیں رہی۔
علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں چل رہا تھا کہ اچانک ان کی ملاقات عثمان رضی اللہ عنہ سے ہو گئی تو وہ ان کو لے کر خلوت میں گئے، جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ انہیں (شادی کی) ضرورت نہیں ہے تو مجھ سے کہا: علقمہ! آ جاؤ ۱؎ تو میں گیا تو عثمان رضی اللہ عنہ ۲؎ نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم آپ کی شادی ایک کنواری لڑکی سے نہ کرا دیں، شاید آپ کی دیرینہ طاقت و نشاط واپس آ جائے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو میں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سن چکا ہو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2046]
1۔
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے۔
کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پہلی بیوی فوت ہوگئی تھی۔
اور اب وہ بیوی کے بغیر زندگی گزار رہے تھے۔
حضرت عثمان کے علم میں یہ بات تھی۔
اس لئے انہوں نے ملاقات پر پہلے انہیں خلوت میں دوبارہ نکاح کی ترغیب دی وہ آمادہ نہ ہوئے تو پھر ان کے ساتھی کےسامنے دوبارہ یہ کوشش کی۔
بہرحال اس حدیث س کئی فوائد معلوم ہوئے مثلا جس شخص کے پاس اپنا گھر آباد کرنے کے لئے نان ونفقہ اور سکنیٰ کے لازمی مصارف موجود ہوں۔
اس کیلئے متاھل زندگی گزارنا مستحب ہے۔
بالخصوص جوانوں کو تو اس کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے۔
2۔
نظر اور شرمگاہ کی پاکیزگی کو انسان کی دینی اور معاشرتی زندگی میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
ان کی حفاظت معاشرے میں امن وامان بھائی چارے عمومی راحت خیر وبرکت اور اللہ فضل و انعامات کی ضامن ہے اور ان کا فساد معاشرتی بگاڑ فتنے عداوت اور دلوں کی بے سکونی کا باعث ہے۔
اور نتیجتاً اللہ کی ناراضگی حصے میں آتی ہے۔
3۔
مالی اعتبار سے کمزور شخص جو شادی نہ کرسکتا ہو اسے بمقابلہ دیگر علاجوں کے روزے رکھنے چاہیں امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ایسے شخص کو قرض لے کر بھی یہ بار اُٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہم سب نوجوان تھے۔ ہم (جوانی کے جوش میں) کسی چیز پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے نوجوانوں کی جماعت! تم اپنے اوپر شادی کرنے کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نظر کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے، اور جو نہ کر سکتا ہو (یعنی نان، نفقے کا بوجھ نہ اٹھا [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2241]
علقمہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)، عثمان (رضی اللہ عنہ) سے عرفات میں ملے، تو وہ انہیں لے کر تنہائی میں چلے گئے اور ان سے باتیں کیں، عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو کسی دوشیزہ کی خواہش ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بھی بلا لیا (آ جاؤ کوئی خاص بات نہیں ہے اور جب وہ آ گئے) تو انہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2242]
(2) نکاح اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے، جو ضرورت محسوس نہ کرتا ہو، اس کے لیے نکاح ضروری نہیں، جیسے بوڑھا شخص۔
علقمہ سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر تمہیں کسی نوجوان عورت سے شادی کی خواہش ہو تو میں تمہاری اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بلایا (اور ان کی موجودگی میں) حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص بیوی کو نان و نفقہ دے سکتا ہو اسے شادی کر لینی چاہیئے۔ کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے کا ذریعہ ہے اور جو شخص نان و نفقہ دینے کی طاقت نہ رکھتا ہ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3209]
(سـنـن ابـن ماجه: 1845) میں اس حدیث میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ علقمہ بن عاص تابعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں منی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کو الگ لے گئے۔ میں پاس بیٹھا تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں ایک کنواری لڑکی سے آپ کی شادی کروا دوں، جس سے آپ کو گزرے وقت کی کچھ باتیں یاد آجائیں؟ جب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو محسوس ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کے سوا کوئی کام نہیں، (جس کی وجہ سے وہ انھیں الگ لے کر گئے تھے) تو مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں حاضر ہوا تو وہ فرما رہے تھے: اگر آپ نے یہ بات کہی ہے تو بالکل درست کہی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
اس مطول حدیث سے کچھ باتیں ثابت ہوتی ہیں: اس حدیث سے زندگی کا ایک اہم پہلو اجاگر ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو شادی کی ترغیب دالانی چاہیے، تا کہ معاشرہ درست رہے۔ الباءۃ سے مراد جماع اور نان و نفقہ ہے۔ اگر انسان میں قوت جماع نہیں ہے تو اس کو نکاح کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اگر قوت جماع ہے لیکن نان و نفقہ کی استطاعت نہیں ہے، تو ان کے حصول تک برائی سے بچنے کی خاطر نفلی روزوں سے کام لے۔ شادی کے بے شمار مقاصد ہیں، دو کا ذکر اس حدیث میں ہوا ہے: ➊ نظروں کی حفاظت ➋ شرم گاہ کی حفاظت۔