حدیث نمبر: 1507
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي جُبَيْرُ بْنُ حَيَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” بچہ کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1507
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الجنائز 49 ( 3180 ) ، سنن الترمذی/الجنائز 42 ( 1031 ) ، سنن النسائی/الجنائز 55 ( 1944 ) ، 56 ( 1945 ) ، ( تحفة الأشراف : 11490 ، 11497 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/247 ، 248 ، 249 ، 252 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔`
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بچہ کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1507]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
سنن ابو داؤد کی روایت میں یہ حدیث ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔
نا تمام بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے۔
اور اس کے والدین کےلئے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے۔ (سنن ابی داؤد، الجنائز، باب المشئی أمام الجنازۃ، حدیث: 3180) 2۔
مردہ پیدا ہونے والے بچے کی نما ز جنازہ اس صورت میں پڑھی چاہیے۔
جبکہ وہ حمل کے چار ماہ پورے ہونے پر یا اس کے بعد پیدا ہوا ہو۔
کیونکہ جنین میں اس وقت روح ڈالی جاتی ہے۔
لہٰذا اس کے بعد پیدا ہونےوالے ہی کو میت قراردیا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1507 سے ماخوذ ہے۔