حدیث نمبر: 1297
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنَا مِنْدَلٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَأْتِي الْعِيدَ مَاشِيًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابورافع کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کے لیے پیدل چل کر آتے تھے ۔

وضاحت:
۱؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ سنت یہی ہے کہ عیدگاہ کو پیدل جائے، اگر عید گاہ دور ہو یا کوئی پیدل نہ چل سکے تو سواری پر جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1297
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث الآتي (1300), مندل و محمد بن عبيد اللّٰه بن أبي رافع: ضعيفان, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12021 ، ومصباح الزجاجة : 454 ) ( حسن ) » ( شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے ، ورنہ اس کی سند میں دو راوی : مندل و محمد بن عبیداللہ ضعیف ہیں ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 636 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1300

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عید کے لیے عیدگاہ پیدل چل کر جانے کا بیان۔`
ابورافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کے لیے پیدل چل کر آتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1297]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس باب کی تمام روایات کو اکثر محققین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
جن میں ہمارے فاضل محقق، دکتور بشار عواد اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ شامل ہیں۔
تاہم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت (1296)
کو امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حسن قرار دیا ہے لیکن شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں۔
شاید امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کودیگر شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہو جو ابن ماجہ کے مزکورہ باب کے تحت آئے ہیں۔
مذید لکھتے ہیں۔
کہ مذکورہ روایات انفرادی طور پرضعیف ہیں۔
لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہوسکتا ہے۔
کہ مسئلہ کی کوئی نہ کوئی اصل ضرور ہے اور پھر اس مسئلہ کی تایئد میں ایک مرسل روایت پیش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے میں شرکت اورعید الاضحیٰ او ر عید الفطر کی نماز کی ادایئگی کے لئے پیدل تشریف لے جاتے تھے۔
نیز سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔
کہ عید الفطر کی تین سنتیں ہیں۔
عید گاہ کی طرف پیدل جانا۔
عید نماز کی ادایئگی کے لئے جانے سے پہلے کوئی چیز کھانا اور عید نماز کے لئے غسل کرنا۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (إرواء الغلیل، للألبانی: 104، 103/3)
الحاصل مذکورہ بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ عید گاہ کی طرف پیدل جانا کم از کم مستحب ضرور ہے۔
تاہم ضروریات کے پیش نظر سواری پر سوار ہو کر بھی جایا جا سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1297 سے ماخوذ ہے۔