سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ باب: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1143
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح صادق روشن ہو جاتی تو دو رکعت پڑھتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح صادق روشن ہو جاتی تو دو رکعت پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1143]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح صادق روشن ہو جاتی تو دو رکعت پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1143]
اردو حاشہ:
فائدہ: علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ حدیث اصل میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے، تاہم اس کی وجہ سے حدیث کے قابل اعتماد ہونے میں فرق واقع نہیں ہوتا۔
دیکھئے: (صحیح ابن ماجه، حدیث: 944)
فائدہ: علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ حدیث اصل میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے، تاہم اس کی وجہ سے حدیث کے قابل اعتماد ہونے میں فرق واقع نہیں ہوتا۔
دیکھئے: (صحیح ابن ماجه، حدیث: 944)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1143 سے ماخوذ ہے۔