سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ باب: دوران خطبہ مسجد میں آنے والا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : " أَصَلَّيْتَ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، اسی دوران ایک شخص مسجد میں آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے نماز پڑھ لی ؟ “ اس نے کہا : جی نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو رکعت پڑھ لو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام خطبہ کے دوران بات کر سکتا ہے، اور مقتدی بھی امام کا جواب دے سکتا ہے، لیکن ازخود مقتدی کا خطبہ کی حالت میں بات کرنا صحیح نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1409 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جمعہ کے دن امام کے اپنے خطبہ میں صدقہ پر ابھارنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو ایک آدمی خستہ حالت میں (مسجد میں) آیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم نے نماز پڑھی؟ “ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” دو رکعتیں پڑھ لو “، اور آپ نے (دوران خطبہ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا، اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ شخص (پچھلے) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا “، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ” اپنا کپڑا اٹھا لو “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1409]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو ایک آدمی خستہ حالت میں (مسجد میں) آیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم نے نماز پڑھی؟ “ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” دو رکعتیں پڑھ لو “، اور آپ نے (دوران خطبہ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا، اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ شخص (پچھلے) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا “، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ” اپنا کپڑا اٹھا لو “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1409]
1409۔ اردو حاشیہ: ➊ آپ نے خطبے میں صدقے کی رغبت اس آنے والے شخص کی وجہ سے نہیں دلائی تھی بلکہ یہ تو آپ کے خطبے کا حصہ تھا۔ بعد میں اس کی فقیرانہ حالت کے پیش نظر اس کو بھی دوسرے فقراء کے ساتھ دو کپڑے دے دیے گئے۔ احناف کہتے ہیں: ”آپ نے اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ لوگ اس کی خستہ حالت دیکھ کر اس پر صدقہ کریں، لہٰذا دو رکعت پڑھنے کا حکم عام نہیں بلکہ اس کے ساتھ خاص تھا“ حالانکہ اگر ایسے ہوتا تو پھر سب کپڑے اور صدقہ اسی کو ملنا چاہیے تھا، نیز الگ سے بھی ان دو رکعتوں کا حکم آیا ہے۔
➋ امام کو اپنے مقتدیوں کے حال احوال کا خیال رکھنا چاہیے۔
➌ جس چیز کی آدمی کو خود شدید ضرورت ہو، اس کا صدقہ نہیں کرنا چاہیے۔
➋ امام کو اپنے مقتدیوں کے حال احوال کا خیال رکھنا چاہیے۔
➌ جس چیز کی آدمی کو خود شدید ضرورت ہو، اس کا صدقہ نہیں کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1409 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 511 کی شرح از حافظ ابو یحییٰ نورپوری ✍️
´خطبہ کے دوران آدمی آئے تو پہلے دو رکعت نماز پڑھے`
«. . . وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَمَرَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا . . .“ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 511]
«. . . وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَمَرَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا . . .“ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 511]
فوائد و مسائل:
↰ اس روایت کو امام ابن خزیمہ [1830] اور امام ابن حبان [2505] رحمہما اللہ نے ”صحیح“ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ کہا ہے۔
↰ اس روایت کو امام ابن خزیمہ [1830] اور امام ابن حبان [2505] رحمہما اللہ نے ”صحیح“ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ کہا ہے۔
درج بالا اقتباس ماہنامہ السنہ جہلم ، شمارہ نمبر 6، حدیث/صفحہ نمبر: 21 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2537 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جب کوئی صدقہ دے اور وہ خود ضرورت مند ہو تو کیا وہ چیز اسے لوٹائی جا سکتی ہے؟`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ” تم دو رکعتیں پڑھو “، پھر وہ شخص دوسرے جمعہ کو بھی آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ” تم دو رکعتیں پڑھو “، پھر وہ تیسرے جمعہ کو (بھی) آیا، آپ نے فرمایا: ” دو رکعتیں پڑھو “، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: ” صدقہ دو “، تو لو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2537]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ” تم دو رکعتیں پڑھو “، پھر وہ شخص دوسرے جمعہ کو بھی آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ” تم دو رکعتیں پڑھو “، پھر وہ تیسرے جمعہ کو (بھی) آیا، آپ نے فرمایا: ” دو رکعتیں پڑھو “، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: ” صدقہ دو “، تو لو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2537]
اردو حاشہ: (1) ”دو رکعتیں پڑھ۔“ ہر جمعے آپ کا اسے دو رکعات پڑھنے کا حکم دینا دلیل ہے کہ دوران خطبہ میں آنے والا شخص لازماً دو رکعات پڑھے۔ اسے یہ کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا کہ آپ نے اس لیے نماز کا حکم دیا تھا کہ لوگ اس کی حالت دیکھ کر اس پر صدقہ کریں کیونکہ یہ بات تو تیسرے جمعے میں ہوئی۔ اگر پہلے دو جمعوں میں یہ مقصد ہوتا تو اپ موقع پر صدقے کا حکم دیتے جس طرح تیسرے جمعے کو دیا، نیز صدقے کا حکم عام تھا، تبھی تو اس آنے والے کو صرف دو کپڑے دیے اور پھر بعد میں بھی صدقے کا حکم دیا گیا۔ گویا یہ صدقہ صرف اس شخص کے لیے نہ تھا۔
(2) ”ڈانٹا۔“ معلوم ہوا محتاج کا صدقہ کرنا ضروری نہیں بلکہ اسے روکا جائے گا۔
(2) ”ڈانٹا۔“ معلوم ہوا محتاج کا صدقہ کرنا ضروری نہیں بلکہ اسے روکا جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2537 سے ماخوذ ہے۔