سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں بال اور کپڑے سمیٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1041
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أُمِرْنَا أَلَّا نَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا ، وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ مَوْطَإٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں اور زمین پر چلنے کے سبب دوبارہ وضو نہ کریں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اگر وضو کر کے زمین پر چلیں، اور پاؤں یا کپڑوں میں کوئی نجاست اور گندگی لگ جائے، تو وضو کا دہرانا ضروری نہیں صرف انہیں دھو ڈالنا کافی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز میں بال اور کپڑے سمیٹنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں اور زمین پر چلنے کے سبب دوبارہ وضو نہ کریں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1041]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں اور زمین پر چلنے کے سبب دوبارہ وضو نہ کریں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1041]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سنداً ضعیف ہے جبکہ معناً صحیح ہے کیونکہ اس روایت میں بیان کردہ باتیں دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔
غالباً اسی وجہ سے اسے شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (الارواء: 198/1، حدیث: 183)
(2)
اگر پاؤں ناپاک ہوجایئں تو صرف پاؤں دھولیے جایئں پورا وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں اوراگر نجاست ظاہر نہ ہو تو محض جگہ کے ناپاک ہونے کے شک کی بنیاد پر پاؤں دھونے کا تکلف نہیں کرنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سنداً ضعیف ہے جبکہ معناً صحیح ہے کیونکہ اس روایت میں بیان کردہ باتیں دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔
غالباً اسی وجہ سے اسے شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (الارواء: 198/1، حدیث: 183)
(2)
اگر پاؤں ناپاک ہوجایئں تو صرف پاؤں دھولیے جایئں پورا وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں اوراگر نجاست ظاہر نہ ہو تو محض جگہ کے ناپاک ہونے کے شک کی بنیاد پر پاؤں دھونے کا تکلف نہیں کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1041 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 204 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نجاست اور گندگی پر چلے تو کیا حکم ہے؟`
«. . . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا لَا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ، وَلَا نَكُفُّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا . . .»
”. . . عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم راستہ میں چل کر پاؤں نہیں دھلتے تھے، اور نہ ہی ہم بالوں اور کپڑوں کو سمیٹتے تھے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 204]
«. . . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا لَا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ، وَلَا نَكُفُّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا . . .»
”. . . عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم راستہ میں چل کر پاؤں نہیں دھلتے تھے، اور نہ ہی ہم بالوں اور کپڑوں کو سمیٹتے تھے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 204]
فوائد و مسائل:
یہ روایت بھی شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح ہے، اس میں بیان کردہ باتیں دوسری احادیث سے بھی ثابت ہیں۔
➊ انسان اگر گندگی اور نجاست پر سے گزرے اور بعد میں خشک زمین پر چلے اس طرح کہ سب کچھ اتر جائے، تو جسم اور کپڑا پاک ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس کا جرم (وجود) باقی رہے تو دھونا ضروری ہو گا۔ چمڑے کے موزے اور جوتے کو زمین پر رگڑنا ہی کافی ہوتا ہے۔
➋ اثنائے نماز میں بالوں اور کپڑوں کو ان کی ہیئت سے سمیٹنا جائز نہیں، زمین پر لگتے ہیں تو لگنے دیں، البتہ سر یا کندھے کے کپڑے کا لٹکانا (سدل کرنا) جائز نہیں ہے، اسے لپیٹ لینا چاہیے۔
یہ روایت بھی شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح ہے، اس میں بیان کردہ باتیں دوسری احادیث سے بھی ثابت ہیں۔
➊ انسان اگر گندگی اور نجاست پر سے گزرے اور بعد میں خشک زمین پر چلے اس طرح کہ سب کچھ اتر جائے، تو جسم اور کپڑا پاک ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس کا جرم (وجود) باقی رہے تو دھونا ضروری ہو گا۔ چمڑے کے موزے اور جوتے کو زمین پر رگڑنا ہی کافی ہوتا ہے۔
➋ اثنائے نماز میں بالوں اور کپڑوں کو ان کی ہیئت سے سمیٹنا جائز نہیں، زمین پر لگتے ہیں تو لگنے دیں، البتہ سر یا کندھے کے کپڑے کا لٹکانا (سدل کرنا) جائز نہیں ہے، اسے لپیٹ لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 204 سے ماخوذ ہے۔