کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه باب: ماہ محرم میں روزوں کی فضیلت کا بیان کیونکہ رمضان المبارک کے بعد محرم کے روزے سب سے افضل ہیں حدیث 2076–2076 باب: ماہ شعبان کے روزے رکھتے ہوئے اسے ماہ رمضان کے ساتھ ملانا مستحب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ماہ میں روزے رکھنا بہت محبوب تھا حدیث 2077–2077 باب: ماہ شعبان کے روزے رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ ملانا جائز ہے حدیث 2078–2079 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشوراء کے روزے کی ابتداء کرنا اور عاشوراء کا روزہ رکھنے کا بیان حدیث 2080–2080 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ عاشوراء کے روزے کی ابتداء ماہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے ہوئی تھی حدیث 2081–2081 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ماہ رمضان کے روزے فرض ہو جانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشوراء کا روزہ چھوڑنا آپ کی مرضی پر منحصر تھا ۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ نے اسے ہر حال میں بالکل چھوڑ دیا تھا ۔ بلکہ آپ چاہتے تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر چاہتے تو اس کا روزہ رکھ لیتے حدیث 2082–2082 باب: اس حدیث کا بیان جس کا معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے ایک عالم دین کو اس کے معنی میں غلطی لگی ہے -اس کا خیال ہے کہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے عاشوراء کا روزہ مکمّل طور پر منسوخ ہوگیا ہے حدیث 2083–2083 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منوّرہ تشریف لانے کے بعد عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حُکم دینے کی علت کا بیان حدیث 2084–2084 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حُکم فرضی حُکم نہیں تھا نہ ابتداء کے طور پر اور نہ گنتی کے اعتبار سے ۔ بلکہ یہ فضیلت اور استحباب کا حُکم تھا حدیث 2085–2085 باب: عاشوراء کے روزے کی فضیلت اور رمضان المبارک کے روزوں کے سوا باقی دنوں کے روزوں پر اس کی فضیلت کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس روزے کا اہتمام کرنا حدیث 2086–2086 باب: عاشوراء کے روزے سے گناہوں کی بخشش کا بیان حدیث 2087–2087 باب: عاشورا کے دن کی عظمت کی لئے ماؤں کا اپنے بچّوں کا عاشورا کے دن دودھ نہ پلانا مستحب ہے ۔ بشرطیکہ روایت صحیح ہو ، کیونکہ میرا دل خالد بن ذکوان کے بارے میں مطمئن نہیں ہے ۔ حدیث 2088–2090 باب: عاشوراء کے روزے کے حُکم کا بیان حدیث 2091–2091 باب: عاشوراء کے دن کے بعض حصّے کا روزہ رکھنے کے حُکم کا بیان حدیث 2092–2093 باب: عاشوراء کا روزہ رکھنے اور نہ رکھنے میں اختیار کا بیان ، اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ عاشوراء کے دن کے روزے کا حُکم استحباب ، راہنمائی اور فضیلت کے لئے ہے حدیث 2094–2094 باب: عاشوراء کے دن یہودیوں کے روزے کی مخالفت کے لئے عاشوراء سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزے رکھنے کے حُکم کا بیان حدیث 2095–2095 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ماہ محرم کی نوتاریخ کو روزہ رکھنا مستحب ہے حدیث 2096–2098 باب: مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ عرفہ کے دن کی فضیلت اور اس سے گناہوں کی بخشش کا بیان حدیث 2099–2099 باب: مجمل غیر مفسر الفاظ کے ساتھ مروی حدیث کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن کے روزے کی ممانعت میں ذکر ہوئی ہے حدیث 2100–2100 باب: گزشتہ دو مجمل روایات کی تفسیر کرنے والی روایت کا بیان حدیث 2101–2101 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اور دعا کے لئے قوت وطاقت کو جمع کرنے کے لئے عرفات میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنا مستحب ہے ۔ کیونکہ عرفہ کے دن کی دعا سب دعاؤں سے افضل واعلیٰ ہے یا افضل دعاؤں میں سے ایک ہے حدیث 2102–2102 باب: عشرہ ذوالحجہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ نہ رکھنے کا بیان حدیث 2103–2103 باب: اس علت وسبب کا بیان جس کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض نفلی کا م ترک کردیتے تھے اگرچہ آپ ان کی ترغیب بھی دلاتے تھے ۔ اور ڈر یہ تھا کہ کہیں وہ فعل مسلمانوں پر فرض نہ کردیا جائے ، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر فرائض میں تخفیف کرنا پسند فرماتے تھے حدیث 2104–2104 باب: ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا مستحب ہے اور اس بات کی اطلاع کہ یہ اللہ کے نبی داود عليه السلام کے روزوں کی کیفیت ہے حدیث 2105–2105 باب: اس بات کا بیان کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل ، پسندیدہ اور عدل پر مبنی روزے ہیں حدیث 2106–2108 باب: اس بات کی دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ عليه السلام کے روزے سب سے معتدل ، افضل ترین اور اللہ تعالی کو زیادہ محبوب ہیں حدیث 2109–2109 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ داوَد عليه السلام سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے ۔ جبکہ ان کے روزوں کا معمول اس طرح تھا جیسا ہم نے بیان کیا ہے حدیث 2110–2110 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ناغہ کرنے کی استطاعت ملنے کی تمنّا کا بیان حدیث 2111–2111 باب: اللہ تعالیٰ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان - جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے جہنّم سے ستّر سال دور کردیتا ہے - اس سلسلے میں ایک مجمل غیر مفسر روایت کا ذکر حدیث 2112–2112 باب: گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان حدیث 2113–2113 باب: رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کی فضیلت کا بیان تو یہ روزے سارے سال کے روزوں کی طرح ہوجائیں گے حدیث 2114–2114 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اطلاع دی ہے کہ رمضان المبارک کے روزے اور شوال کے چھ روزے عمر بھر کے روزوں کی مانند ہوں گے کیونکہ اللہ تعالی نے ایک نیکی کا بدلہ دس گنا رکھا ہے یا اگر اللہ چاہے تو اس سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے حدیث 2115–2115 باب: پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ان دو روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے حدیث 2116–2116 باب: پیر کا روزہ رکھنا مستحب ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولادت باسعادت اس دن ہوئی ، اسی دن آپ کی طرف وحی بھیجی گئی اور اسی دن آپ کی وفات ہوئی حدیث 2117–2118 باب: پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا اس لئے بھی مستحب ہے کیونکہ ان دو دنوں میں اعمال اللہ تعالی کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں حدیث 2119–2120 باب: ہر مہینے ایک دن کا روزہ رکھنے کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کا ایک دن کا روزہ رکھنے والے کو پورے مہینے کا ثواب عطا فرمانا ۔ حدیث 2121–2121 باب: ہر مہینے تین روزے رکھنے کا حُکم استحباب کے لئے ہے وجوب کے لئے نہیں حدیث 2122–2123 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہر مہینے تین روزے رکھنے کا حُکم استحبابی ہے ، وجوبی نہیں حدیث 2124–2125 باب: ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے والے پر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کا بیان کہ وہ ایک نیکی کا اجر دس گنا عطا کرکے اسے عمر بھر کے روزوں کا ثواب عطا کرتا ہے ۔ حدیث 2126–2126 باب: ہر مہینے کے تین روزے ایام بیض ( 13 ، 14 ، 15تاریخ ) میں رکھنا مستحب ہے حدیث 2127–2128 باب: ہر مہینے کے تین روزے مہینے کے شروع میں رکھنا جائز ہے اس ڈرسے کہ ممکن ہے کہ آدمی یہ تین روزے ایام بیض میں نہ پاسکے حدیث 2129–2129 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہر مہینے کے تین روزے عمر بھر کے روزوں کے قائم مقام ہوں گے ، خواہ یہ تین روزے مہینے کے شروع میں ، مہینے کے وسط میں یا اس کے آخر میں رکھے جائیں حدیث 2130–2130 باب: اللہ تعالیٰ ایک دن کا روزہ رکھنے والے کے لئے جنّت واجب کردیتے ہیں جبکہ وہ اپنے روزے کے ساتھ ساتھ صدقہ کرے ، نماز جنازہ میں شرکت کرے اور مریض کی تیمارداری کرے حدیث 2131–2131 باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت کے بیان کے ساتھ سابقہ احادیث کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کی کیفیت حدیث 2132–2132 باب: گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان کہ ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے “ سے اُن کی مراد ماہِ شبعان ہے . آپ اس مہنے کے روزے رمضان کے روزوں کے ساتھ ملادیتے تھے حدیث 2133–2133 باب: ایک مہینے میں مسلسل روزے رکھنا اور پھرمسلسل روزے نہ رکھنے کا بیان حدیث 2134–2135 باب: ہمیشہ نفلی روزے رکھنے والوں کے لئے اللہ تعالی نے جنّت میں جو بالا خانے تیار کر رکھے ہیں ، اُن کا بیان بشرطیکہ روایت صحیح ہو حدیث 2136–2137 باب: روزہ دار کے پاس روزہ نہ رکھنے والے کھائیں تو فرشتے روزے دار کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں حدیث 2138–2140 باب: نفلی روزے رکھنے کی رخصت کا بیان حدیث 2141–2142 باب: دن کا کچھ حصّہ گزرنے کے بعد نفلی روزے کھولنے کے جواز کا بیان ، اگرچہ گزرے ہوئے دن میں آدمی کی نیت روزے کی ہو ۔ حدیث 2143–2143 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نفلی روزہ رکھنے کے بعد ، اس دن کے روزے کی نیت کرنے کے بعد کھولنا جائز ہے ، ان علماء کے مذہب کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ اس پر اس روزے کی قضا ادا کرنا واجب ہے حدیث 2144–2144 باب: موسم سرما کے روزوں کو ٹھنڈی غنیمت سے تشبیہ دینا اور بات کی دلیل کا بیان کہ مشبہ کو مشبہ بہ سے جزوی تشبیہ ہوتی ہے ، کلی تشبیہ نہیں ہوتی حدیث 2145–2145 باب: دنوں کے ذکر کے ابواب کا مجموعہ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایک چیز سے منع فرما دیتے ہیں جبکہ دوسری چیز کو جائز قرار دئیے بغیر اس سے خاموشی اختیار کرتے ہیں حدیث 2146–2146 باب: صریح ممانت کے بغیر ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان حدیث 2147–2147 باب: ایام تشریق میں روزے رکھنے کی صریح ممانعت کا بیان حدیث 2148–2149 باب: عمر بھر روزہ رکھنے کی ممانعت کی علت ذکر کیے بغیر اس کی ممانعت کا بیان حدیث 2150–2151 باب: اس علت کا بیان جس کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمربھر کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے حدیث 2152–2152 باب: عمر بھر روزے رکھنے کی رخصت جبکہ آدمی ممنوعہ دنوں کے روزے نہ رکھے حدیث 2153–2153 باب: عمر بھر روزوں کی فضیلت کا بیان جبکہ ممنوعہ دنوں کے روزے نہ رکھے حدیث 2154–2156 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کے بارے میں مروی مجمل غیر مفسر روایت کا بیان حدیث 2157–2157 باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کرنے والی روایت کی مفسر روایت کا بیان اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ ممانعت اس وقت ہے جب اکیلے جمعہ کے دن کا روزہ رکھا جائے اور اس سے پہلے یا بعد میں روزہ نہ رکھا جائے حدیث 2158–2160 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ کا دن عید کا دن ہے اور جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت اس کے عید ہونے کی وجہ سے ہے اور جمعہ اور عیدین ، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ میں فرق یہ ہے کہ ان دو دنوں میں روزے کی ممانعت اس طرح آئی ہے کہ ان سے ایک دن پہلے یا بعد میں بھی روزہ رکھ کر ان کا روزہ نہیں رکھا جاسکتا ( جبکہ جمعہ کا روزہ اس طریقے سے رکھا جاسکتا ہے ) حدیث 2161–2161 باب: اکیلے جمعہ کا روزہ رکھنے والے کو دن کا کچھ حصّہ گزر جانے کے بعد روزہ کھولنے کا حُکم دینا حدیث 2162–2162 باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت جس کے الفاظ عام ہیں اور مراد خاص ہے ، اس کے ذکر کے ساتھ اکیلے ہفتے کے دن کا نفل روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان حدیث 2163–2164 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہفتے کے دن نفلی روزہ رکھنے کی ممانعت اس وقت ہے جب اکیلے ہفتے کا روزہ رکھا جائے اور اس سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد میں روزہ نہ رکھا جائے ہفتے کے دن روزہ رکھنے کی رخصت ہے جبکہ روزے دار اس کے بعد اتوار کا روزہ بھی رکھے حدیث 2165–2167 باب: جب عورت کا خاوند گھر میں موجود ہو ، سفر پر نہ ہو تو عورت کے لئے خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا منع ہے حدیث 2168–2168 باب: لیلۃ القدر کے ابواب کا بیان حدیث 2169–2169 باب: تا قیامت ہررمضان المبارک میں شب قدر کے موجود ہونے کا بیان - انبیائے اکرام کے سلسلے کے منقطع ہونے سے شب قدر کا آنا منقطع نہیں ہوتا حدیث 2169–2169 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ شب قدر بغیر کسی شک و شبہ کے رمضان المبارک میں ہے حدیث 2170–2170 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہے حدیث 2171–2171 باب: شب قدر کو تلاش کرنے اور اسے رمضان کے آخری عشرے میں طلب کرنے کے حُکم کا بیان مجمل غیر مفسر الفاظ کے ساتھ حدیث 2172–2172 باب: گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان حدیث 2173–2174 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ شب قدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حُکم ہے ۔ گزشتہ وتر راتوں میں تلاش کرنے کا حُکم نہیں حدیث 2175–2175 باب: اس دلیل کی تفسیر کرنے والی روایت کا بیان جو میں نے بیان کی ہے کہ شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا جائے گا نہ پہلے ( دو عشروں کی ) طاق راتوں میں حدیث 2176–2177 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ بقیہ آخری عشرے کی طاق رات کبھی گزشتہ راتوں کے حساب سے بھی طاق ہو جاتی ہے - کیونکہ مہینہ کبھی اُنتیس دنوں کا ہوتا ہے حدیث 2178–2178 باب: جو دلیل میں ذکر کی ہے اس کی تفسیر کرنے والی روایت کا بیان کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کو مہینے کے گزر جانے والے دنوں کے حساب سے تئیسویں رات کو تلاش کرنے کا حُکم دیا تھ جبکہ باقی ماندہ دنوں کے اعتبار سے وہ ساتویں رات تھی حدیث 2179–2181 باب: آخری سات راتوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کے بارے میں نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس روایت کا بیان جس میں اس علت کا ذکر موجود نہیں جس کی بنا پر آپ نے دس دنوں کی بجائے صرف سات دنوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کا حُکم دیا ہے ۔ حدیث 2182–2182 باب: اس حدیث کا بیان جو دوسرے معنی کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرنے کا حُکم اس وقت دیا جب شب قدر کا متلاشی اسے آخری مکمّل عشرے میں تلاش کرنے سے عاجز اور کمزور ہوگیا ۔ حدیث 2183–2183 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯