کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس شہر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقارب کے ذریعے سے بارش طلب کرنا مستحب ہے ، جس شہر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقارب کے ذریعے سے بارش طلب کی جاتی تھی
حدیث نمبر: 1421
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا قَحَطُوا خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالْعَبَّاسِ ، فَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا إِذَا قَحَطْنَا اسْتَسْقَيْنَا بِنَبِيِّكَ فَتَسْقِينَا ، وَإِنَّا نَسْتَسْقِيكَ الْيَوْمَ بِعَمِّ نَبِيِّكَ ، أَوْ نَبِيِّنَا ، فَاسْقِنَا ، فَيُسْقَوْنَ " . قَالَ الأَنْصَارِيُّ : كَذَا وَجَدْتُ فِي كِتَابِي بِخَطِّي فَيُسْقَوْنَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( کے زمانہ میں ) جب لوگ قحط سالی کا شکار ہوئے تو آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعے سے بارش طلب کرتے ۔ آپ دعا کرتے کہ اے اللہ ، جب ہم قحط سالی میں مبتلا ہوتے تھے تو ہم تیرے نبی کے ذریعے سے بارش طلب کرتے تھے ، تُو ہمیں بارش عطا کر دیتا تھا ۔ آج ہم تیرے نبی کے چچا یا ہمارے نبی کے چچا کے ذریعے سے تجھ سے بارش طلب کرتے ہیں ۔ ( سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ) لوگوں کو بارش عطا کردی گئی ۔ جناب محمد بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں اپنی لکھائی سے ” فَیُسْقَوْنَ “ کے لفظ ہی لکھے ہوئے دیکھے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة الاستسقاء وما فيها من السنن / حدیث: 1421
تخریج حدیث صحيح بخاري