کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: شدید خوف کی حالت میں نماز خوف سوار ہوکر اور پیدل چلتے ہوئے ادا کرنا جائز ہے ۔
قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : « فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا » [ سورة البقرة : 239 ] ” پھر اگر تم خوف کی حالت میں ہوتو پیدل یا سوار ہی ( نماز پڑھ لو ) “
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ : " فَإِنْ كَانَ خَوْفٌ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ ، أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا " . قَالَ نَافِعٌ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَوَى ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : رَوَى أَصْحَابُ مَالِكٍ هَذَا الْخَبَرَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : قَالَ نَافِعٌ : لا أَرَى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَهُ إِلا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب اُن سے نماز خوف کے متعلق سوال کیا جاتا ، تو وہ طویل حدیث بیان کرتے اور فرماتے کہ پھر اگر خوف اس سے بھی شدید ہو تو تم اپنے قدموں پر کھڑے کھڑے یا سوار ہوکر ، قبلہ رُخ ہو کر یا قبلہ رُخ ہوئے بغیر ہی نماز پڑھ لو ۔ جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام مالک کے شاگردوں نے یہ روایت ان سے بیان کی تو انہوں نے کہا جناب نافع نے فرمایا ، میرے خیال میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے بیان کرتے ہیں ۔
ثناهُ يُونُسُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مَالِكٍ ، ح وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، عَنِ الشَّافِعِيِّ ، عَنْ مَالِكٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام صاحب نے اپنی سند کے ساتھ امام مالک سے امام شافعی رحمه الله کی روایت بیان کی ہے ۔