حدیث نمبر: 1347
وَالْعَدُوُّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، وَأَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي حَرَسَتْ مِنَ الْعَدُوِّ كَانَتْ أَمَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا خَلْفَهُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

اور جس گروہ نے دشمن سے حفاظت کی تھی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صف آراء تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نہیں تھا

نَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِهِمْ صَلاةَ الْخَوْفِ ، فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَصَفٌّ خَلْفَهُ ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلاءِ حَتَّى قَامُوا مَقَامَ أَصْحَابِهِمْ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا مَقَامَ هَؤُلاءِ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلَهُمْ رَكْعَةٌ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز خوف پڑھائی ، ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو گئی اور ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی ۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو جو آپ کے پیچھے کھڑے تھے ، ایک رکعت دوسجدوں کے ساتھ پڑھائی ، پھر یہ لوگ آگے بڑھ کر اُن کی جگہ کھڑے ہو گئے اور وہ آکر اُن کی جگہ کھڑے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور دو سجدے کرائے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تشہد کے بعد ) سلام پھیر دیا ، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعت اور اُن کی ایک ایک رکعت ہوگئی ـ

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة الخوف / حدیث: 1347
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح