وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ سورة البقرة آية 102 وَقَوْلِهِ تَعَالَى : وَلا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى سورة طه آية 69 وَقَوْلِهِ : أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ سورة الأنبياء آية 3 وَقَوْلِهِ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى سورة طه آية 66 وَقَوْلِهِ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ سورة الفلق آية 4 وَالنَّفَّاثَاتُ : السَّوَاحِرُ ، تُسْحَرُونَ تُعَمَّوْنَ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور لیکن شیطانوں نے کفر کیا کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور ( وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے ) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی ، حالانکہ وہ دونوں کسی ایک کو نہیں سکھاتے تھے ، یہاں تک کہ کہتے ہم تو محض ایک آزمائش ہیں ، سو تو کفر نہ کر ۔ پھر وہ ان دونوں سے وہ چیز سیکھتے جس کے ساتھ وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے اور وہ اس کے ساتھ ہرگز کسی کو نقصان پہنچانے والے نہ تھے مگر اللہ کے اذن کے ساتھ ۔ اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان پہنچاتی اور انہیں فائدہ نہ دیتی تھی ۔ حالانکہ بلاشبہ یقیناً وہ جان چکے تھے کہ جس نے اسے خریدا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں “ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتا جہاں سے بھی آئے “ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” تو کیا تم جادو کے پاس آتے ہو ، حالانکہ تم دیکھ رہے ہو ؟ “ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اس کے خیال میں ڈالا جاتا تھا ، ان کے جادو کی وجہ سے کہ واقعی وہ دوڑ رہی ہیں “ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے “ گرہوں میں پھونکنے والیوں سے مراد جادوگرنیاں ۔ «تسحرون» تم اندھے بنتے ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ، فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَخَرَجَ مُوسَى فِي إِثْرِهِ، يَقُولُ: ثَوْبِي يَا حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى مُوسَى، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ وَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا"، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَنَدَبٌ بِالْحَجَرِ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبًا بِالْحَجَرِ.»
”۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن موسیٰ علیہ السلام تنہا پردہ سے غسل فرماتے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بخدا موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہے کہ آپ کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں۔ ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ دیا۔ اتنے میں پتھر کپڑوں کو لے کر بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے پیچھے بڑی تیزی سے دوڑے۔ آپ کہتے جاتے تھے۔ اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھ لیا اور کہنے لگے کہ بخدا موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے کپڑا لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بخدا اس پتھر پر چھ یا سات مار کے نشان باقی ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل: 278]
یہ روایت صحیح بخاری میں تین مقامات پر ہے۔ [ح 278، 3404، 4799]
امام بخاری رحمہ اللہ کے علاوہ درج ذیل محدثین نے بھی اسے روایت کیا ہے:
مسلم النیسابوری [صحيح مسلم ح339 وترقيم دارالسلام: 770 وبعد ح 2371 ترقيم دارالسلام: 6146، 6147]
ترمذي [السنن: 3221 وقال: ”هذا حديث حسن صحيح“ إلخ]
النسائي فى التفسير [444، 445]
الطحاوي فى مشكل الآثار [1؍11]
والطبري فى تفسيره [تفسير ابن جرير 22؍37]
یہ روایت درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:
مسند ابي عوانه [281/1]
صحيح ابن حبان [الاحسان 94/14 ح 6178، دوسرا نسخه: 6211]
الاوسط لابن المنذر [120/2 ح649]
السنن الكبريٰ للبيهقي [198/1]
معالم التنزيل للبغوي [545/3]
یہ روایت امام بخاری رحمہ اللہ سے پہلے درج ذیل محدثین نے بھی بیان کی ہے:
أحمد بن حنبل [المسند 2؍315، 392، 514، 535]
عبدالرزاق [المصنف: 20531]
همام بن منبہ [الصحيفة: 61]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت درج ذیل جلیل القدر تابعین کی سند سے مروی ہے:
① ہمام بن منبہ [الصحيفة: 61 وصحيح البخاري: 278 وصحيح مسلم: 339]
② محمد بن سیرین [صحيح البخاري: 3404، 4799]
③ خلاس بن عمرو [صحيح البخاري: 3404، 4799]
④ الحسن البصری [صحيح البخاري: 3404، 4799]
⑤ عبداللہ بن شقیق [صحيح مسلم: 339 بعد ح2371 ترقيم دارالسلام: 6147]
اس روایت کی دوسری سندیں، آثارِ صحابہ اور آثارِ تابعین بھی مروی ہیں دیکھئیے:
مصنف ابن ابی شیبہ [11؍533، 535]
وتفسیر الطبری [22؍36، 37]
وكشف الاستار [مسند البزار: 2252]
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ صحیح بخاری کی یہ روایت بالکل صحیح ہے۔
اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «انه ليس فى الحديث انهم رأوا من موسي الذكر - الذى هو عورة - و ان رأوا منه هيئة تبينوا بها أنه مبرأ مما قالوا من الادرة وهذا يتبين لكل ناظر بلا شك، بغير أن يرى شيئًا من الذكر لكن بأن يرى مابين الفخذين خاليًا»
”حدیث میں یہ نہیں ہے کہ انہوں (بنی اسرائیل) نے موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر یعنی شرمگاہ دیکھی تھی۔ انہوں نے ایسی حالت دیکھی جس سے واضح ہو گیا کہ موسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کے الزمات کہ وہ آدر ہیں (یعنی ان کے خصیے بہت موٹے ہیں) سے بری ہیں۔ ہر دیکھنے والے کو (ایسی حالت میں) بغیر کسی شک کے ذَکر (شرمگاہ) دیکھے بغیر ہی یہ معلوم ہو جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ رانوں کے درمیان جگہ خالی ہے۔“ [المحليٰ 3؍213 مسئله: 349]
اس تشریح سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر جو جسمانی نقص والے الزامات لگاتے تھے، ان تمام الزامات سے آپ بری تھے۔ دوسرے یہ کہ اس روایت میں یہ بھی نہیں ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بالکل ننگے نہا رہے تھے۔ امام ابن حزم کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے لنگوٹی وغیرہ سے اپنی شرمگاہ کو چھپا رکھا تھا اور باقی جسم ننگا تھا۔
بنی اسرائیل نے آپ کی شرمگاہ کو دیکھا ہی نہیں لہٰذا منکرین حدیث کا اس حدیث کا مذاق اڑانا مردود ہے۔
بعض الناس نے کہا کہ ”تو تین یا چار نشان کہنے کا کیا مطلب؟“ عرض ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ”اور بھیجا اس کو لاکھ آدمیوں پر یا زیادہ۔“ [الصّٰفّٰت: 147 ترجمه شاه عبدالقادر ص543]
اس آیت کریمہ کا ترجمہ شاہ ولی اللہ الدہلوی کی تحریر سے پڑھ لیں: «وفرستاديم اُو را بسوئے صد هزار يا بيشتر ازان باشند» [ص543]
منکرین حدیث اس آیت کریمہ میں لفظ ”او“ کی جو تشریح کریں گے وہی تشریح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول «ستة أو سبعة» میں «او» کی ہے۔ «والحمدلله»
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ . . .»
”. . . انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن موسیٰ علیہ السلام تنہا پردہ سے غسل فرماتے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ مَنِ اغْتَسَلَ عُرْيَانًا وَحْدَهُ فِي الْخَلْوَةِ، وَمَنْ تَسَتَّرَ فَالتَّسَتُّرُ أَفْضَلُ:: 278]
[194۔ البخاري فى: 5 كتاب الغسل: 20 باب من اغتسل عريانًا وحده فى الخلوة 278، مسلم 339]
لغوی توضیح:
«آدَرُ» بڑے بڑے خصیتین والا۔
«فِيْ اِثْرِهِ» اس کے پیچھے۔
«نَدَبٌ» نشان۔
1۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو ننگے نہاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’’تم میں سے جب کوئی غسل کرے تواسے چاہیے کہ چھپ کرنہائے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الحمام، حدیث: 4012)
اس حدیث کے پیش نظر محدث ابن ابی لیلیٰ ؒ کا موقف ہے کی خلوت میں ننگے نہانا جائز نہیں۔
امام بخاری ؒ نے ان کی تردید میں اس عنوان کو قائم کیا ہے کہ خلوت میں ننگے نہانا جائز ہے، البتہ ستر چھپا کر غسل کرنا بہتر ہے، کیونکہ خلوت میں اگرچہ کسی انسان کی موجودگی نہیں جس سے شرم آئے، مگر اللہ تعالیٰ سے شرم ہونی چاہیے۔
جب انسانوں سے حیا کے پیش نظر ننگا نہانا درست نہیں تو اللہ تعالیٰ سے تو بدرجہ اولیٰ شرمانا چاہیے۔
اس کے لیے امام بخاری ؒ نےحضرت بہز بن حکیم ؓ کی روایت کا حوالہ دیا ہے، ان کے دادا حضرت معاویہ بن حیدہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے خلوت میں ستر کھولنے کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔
‘‘ (جامع الترمذي، الأدب، حدیث: 2769)
اب سوال پیداہوتا ہے کہ اس حدیث کے پیش نظرتو خلوت میں بھی ننگے نہانے کا جواز نہیں تو امام بخاری ؒ نے ننگے نہانے کے موقف کو کیوں اپنا یا ہے؟ امام بخاری ؒ نے اس کے جواز کے لیے دو واقعات بیان فرمائے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ خلوت میں ننگے ہوکرنہائے تھے، اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام نے بھی برہنہ غسل فرمایا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے ان سابقہ انبیاء علیہم السلام کے عمل کو نقل فرمایا اور اس پر کسی قسم کا انکار نہیں فرمایا۔
اگر ہماری شریعت میں کوئی مختلف حکم ہوتا تو آپ اس پر ضرور تنبیہ فرمادیتے، اس لیے یہ سکوت، محل بیان کا سکوت ہے جس سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ برہنہ غسل میں کوئی مضائقہ نہیں۔
اسے یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد انبیاء علیہم السلام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ ﴾ ’’ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت یاب بنایاہے لہذا آپ ان کی اقتدا کریں۔
‘‘ (الأنعام 90/6)
اس لیے ان جلیل القدرانبیاء علیہم السلام کا عمل قابل اقتدا اور لائق اتباع ہے۔
(فتح الباري: 501/1)
2۔
کھلی فضا یا ایسے وسیع مکان میں جہاں لوگوں کے آنے کا احتمال نہ ہو، برہنہ غسل کرنا معصیت نہیں بلکہ صرف جائز ہے۔
بعض انتہاپسند حضرات غسل خانے میں بھی تہ بند باندھ کر غسل کرتے ہیں۔
ہماےنزدیک یہ بے جا تشدد ہے جس کی شریعت میں اجازت نہیں، کیونکہ غسل خانہ خود ایک تستر(پردے)
کی صورت ہے۔
3۔
ابن بطال ؒ نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نافرمان تھے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے ننگے نہاتے تھے۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل کے وادی تیہ میں قیام کے دوران میں پیش آیا جہاں عورتیں اورمکانات نہ تھے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شریعت میں ایک دوسرے کے سامنے ننگے ہو کر نہانا جائز تھا۔
اگرآپ کی نافرمانی کرتے ہوئے ایسا کرتے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ان کو روکنا ضرور منقول ہوتا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا غسل اس لیے کرتے تھے کہ ان کے ہاں ایسا کرنا افضل تھا۔
(فتح الباري: 501/1)
4۔
موسیٰ علیہ السلام کے اس قصے سے معلوم ہوا کہ علاج یا عیب سے براءت کے پیش نظر دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھنا جائز ہے، مثلاً: زوجین میں سے کوئی دوسرے کے متعلق فسخ نکاح کے لیے برص کا دعویٰ کرے تو اس کی تحقیق کے لیے دیکھنا درست ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اپنی خلقت واخلاق کے لحاظ سے انتہائی کامل ہوتے ہیں اور جو کوئی ان کی طرف کسی نقص خلقی یا عیب خلقی منسوب کرے گا وہ انھیں ایذا دینے والوں میں سے ہوگا اور اس کے ارتکاب پر کفر کااندیشہ ہے۔
(فتح الباري: 532/6)
5۔
ابن بطال نے لکھا ہے کہ واقعہ ایوب سے عریاں ہوکر غسل کرنے کا جواز معلوم ہوا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو سونے کی ٹڈیاں جمع کرنے پر ملامت کی، مگرعریاں غسل کرنے پر کوئی عتاب نہیں فرمایا۔
(شرح ابن بطال: 393/1)
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنا ستر کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈیوں کے “ وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم سے ہو سکے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھے تو اسے کوئی نہ دیکھے “ وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی تنہا خالی جگہ میں ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں کے بہ نسبت اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4017]
تنہائی میں بھی بلاوجہ ننگا ہو بیٹھنا جائز نہیں اور تعجب ہے کہ ہمارے ہاں کے جاہل اور بدعتی ومشرک لوگ ننگ دھڑنگ بے دین اور بے شعور لوگوں کو ولی اللہ سمجھتے ہیں۔
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو “، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو “، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1920]
فوائد و مسائل:
(1)
بیوی اور لونڈی کے سوا ہر کسی سے شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا مطلب ناجائز تعلقات اور بدکاری سے اجتناب ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾ (بنی اسرائیل: 32)
’’زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، یہ بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔‘‘
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اعضائے مستورہ پر کسی کی نظر نہ پڑنے دی۔
(2)
عام طور پر مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے اس معاملہ ميں احتیاط کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔
یہ غلط رویہ ہے۔
بغیر کسی مجبوری کے مرد دوسرے مرد کے اور عورت دوسری عورت کے اعضائے مستورہ کو نہیں دیکھ سکتے۔
(3)
اس حدیث سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ خاوند بیوی ایک دوسرے کے اعضائے مستورہ دیکھ لیں تو گناہ نہیں۔
آئندہ روایتوں میں اس کی ممانعت مذکور ہے لیکن وہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔
(4)
تنہائی میں بھی بلا ضرورت بالکل ننگا ہونے سے اجتناب کرنا چاہیے اگرچہ غسل وغیرہ کے وقت تمام کپڑے اتارنا جائز ہے۔ (صحیح البخاري، الغسل، باب من اغتسل عریانا وحدہ فی خلوۃ، ومن تستر فالتستر أفضل، حدیث: 278)
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک لوگ اس بات کی شہادت نہ دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ (کر کے عبادت) نہ کرنے لگیں۔ ہمارا ذبیحہ نہ کھانے لگیں اور ہمارے طریقہ کے مطابق نماز نہ پڑھنے لگیں۔ جب وہ یہ سب کچھ کرنے لگیں گے تو ان کا خون اور ان کا مال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2608]
وضاحت:
1؎:
یعنی وہ کوئی ایساعمل کربیٹھیں جس کے نتیجہ میں ان کی جان اور ان کا مال مباح ہو جائے تو اس وقت ان کی جان اوران کا مال حرام نہ رہے گا۔
2؎:
یعنی جو حقوق و اختیارات اور مراعات عام مسلمانوں کو حاصل ہوں گے وہ انہیں بھی حاصل ہوں گے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» ” نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ کی گواہی دینے، ہمارے قبلہ کا استقبال کرنے، ہمارا ذبیحہ کھانے، اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے نہ لگ جائیں، تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کے خون اور مال ہمارے اوپر حرام ہو گئے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور ان کے وہ سارے حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ سارے حقو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2641]
حق اسلام کا معنی یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے کو ناحق قتل کردے تو قصاص میں اسے قتل کیا جائے گا۔
شادی شدہ ہوتے ہوئے بدکاری کرلے تو رجم ہوگا۔
اور کسی کامال لوٹ لے تو بدلے میں مال دے گا وغیرہ۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں کفار و مشرکین سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر جب وہ گواہی دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور وہ ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے لگیں، ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں اور ہمارے ذبیحے کھانے لگیں تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3971]
(2) ”مجھے حکم دیا گیا ہے“ مقصود یہ ہے کہ کافروں سے لڑائی لڑنے کی اجازت ہے لیکن اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو ان سے لڑنا جائز نہیں بشرطیکہ وہ اسلام کے اہم احکام پر بھی عمل کریں اور مسلمانوں کی طرح رہیں۔
(3) ”اسلام کا کوئی حق بنتا ہو“ یعنی انھوں نے کسی کے جان و مال کا نقصان کیا ہو تو اس میں ماخوذ ہوں گے۔
(4) لوگوں کے معاملات ظاہر پر محمول کیے جائیں گے۔ اگر دینی اعمال ظاہر کریں گے تو ان پر مسلمانوں کے احکامات جاری کیے جائیں گے اگرچہ وہ باطن میں کوئی اور عقائد رکھتے ہوں۔ یہ احکامات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ اسلام کے خلاف اپنا کوئی عمل ظاہر نہ کر دیں۔
(5) جو اسلام میں داخل ہو گا اس کے لیے وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے لیے ہیں اور اس پر وہی ذمہ داریاں ہیں جو دیگر مسلمانوں پر ہیں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، پھر جب وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں، ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری نماز پڑھیں تو ان کے خون اور ان کے مال ہم پر حرام ہو گئے مگر کسی حق کے بدلے، ان کے ل [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5006]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو بعض عرب مرتد ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ عربوں سے کیسے جنگ کریں گے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم نہ کریں اور زکاۃ نہ دیں، اللہ کی قسم! اگر وہ بکری کا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3974]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پھر جب وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری نماز پڑھیں تو ان کے خون اور ان کے مال ہم پر حرام ہو گئے مگر (جان و مال کے) کسی حق کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3972]
(2) حدیث سے قبلے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر نماز میں اپنا رخ قبلے کی جانب نہیں کرے گا اس کی نماز نہیں ہو گی۔ (دیکھئے، حدیث: 3092۔ اس مسئلے کی پوری تفصیل کتاب الجہاد میں ملاحظہ فرمائیں۔)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے، تو عرب (دین اسلام سے) مرتد ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ عربوں سے کیسے لڑائی لڑیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ لوگ گواہی دینے لگیں کہ کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے لگیں، اور زکاۃ دینے لگیں، قسم اللہ کی، اگر انہو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3096]
(2) ”مرتد ہوگئے“ مرتدین کی کئی قسمیں ہیں مگر یہاں اختلاف مانعین زکاۃ کے بارے میں ہے جن کا موقف تھا کہ زکاۃ صرف رسول اللہﷺ کے ساتھ خاص تھی، کوئی دوسرا وصول نہیں کرسکتا، حالانکہ آپ نے زکاۃ بطور امیر یا حاکم وصول فرماتی تھی ورنہ آپ کے لیے تو جائز ہی نہ تھی، لہٰذا اب جو نبیﷺ کا نائب بنے گا وہ بھی بطور حاکم وصول کرے گا ورنہ افراتفری پھیل جائے گی، زکاۃ کا فریضہ ترک ہوجائے گا، حالانکہ رسول اللہﷺ نے نماز اور زکاۃ دونوں کو مسلمان ہونے کے لیے شرط قراردیا ہے، نیز زکاۃ نہ دینے والا حکومت کا باغی ہے اور باغی سے لڑائی بالاتفاق جائز ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ یہ کلمہ گو ہیں۔ ان سے لڑائی جائز نہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دلائل سے ان کی سمجھ میں آگیا کہ مسلمان ہونے کے لیے صرف کلمہ ہی کافی نہیں کچھ دوسرے امور بھی ضروری ہیں جیسا کہ حدیث نبوی مذکور میں وضاحت ہے۔
یعنی یہ 7 ھ کا واقعہ ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اس وقت سولہ سال کی تھی، یہ آیت حجاب کے نزول کے بعد کا واقعہ ہے۔
پس اس سے غیر مرد کی طرف عورت کا نظر کرنا جائز ثابت ہوا بشرطیکہ یہ دیکھنا نیت کے ساتھ نہ ہو اس پر بھی نہ دیکھنا بہتر ہے۔
(1)
اہل حبشہ سات ہجری میں مدینہ طیبہ آئے تھے اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر سولہ برس تھی اور یہ واقعہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اجنبی عورت کسی بھی غیر مرد کو دیکھ سکتی ہے بشرطیکہ کسی فتنے کا خطرہ نہ ہو۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا یہی موقف ہے۔
اس موقف کی تائید ایک جاری عمل سے بھی ہوتی ہے کہ عورتوں کا مسجد میں آنا جانا جائز ہے، وہ نقاب پہن کر مساجد، بازار اور سفر میں جا سکتی ہیں تاکہ مرد حضرات ان کے چہرے نہ دیکھیں اور مردوں کو نقاب پہننے کا حکم نہیں تاکہ انھیں عورتیں نہ دیکھیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں مردوں اور عورتوں کا حکم الگ الگ ہے۔
والله اعلم (فتح الباري: 418/9) (2)
ہمارے رجحان کے مطابق عورتوں کا جہاد میں جانا، زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا اور مجاہدین کا کھانا پکانا بکثرت احادیث سے ثابت ہے، یہ تمام امور مردوں کو دیکھے بغیر ممکن نہیں ہیں، لہٰذا امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف صحیح ہے، البتہ یہ جواز صرف اس صورت میں ہوگا جب فتنے کا خطرہ نہ ہو جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان میں وضاحت کی ہے۔
اگر فتنے فساد کا خطرہ ہو تو عورت کا غیر مرد کو دیکھنا بھی جائز نہیں ہوگا۔
والله المستعان
فائدہ:
«عَشِي» کا وقت زوال کے فوراََ بعد سے لے کر مغرب تک رہتا ہے، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پوتے، فقیہ مدینہ قاسم بن محمد رحمہ اللہ اپنے اس فرمان سے ان لوگوں کی تردید کرنا چاہتے ہیں جو زوال کے فوراً بعد نمازِ ظہر ادا کرنے کو معمول بناتے ہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی زوال آفتاب کے بعد کچھ وقت گزار کر ہی ظہر پڑھا کرتے تھے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «كَانَتْ قَدْرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّيْفِ ثَلاثَةَ أَقْدَامِ إِلى خَمْسَةِ أَقْدَامٍ وَفِي الشَّتَاءِ خَمْسَةَ أَقْدَامٍ إِلى سَبْعَةِ أَقْدَامٍ»
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ظہر کا گرمیوں میں اندازہ یہ تھا کہ (آپ اُس وقت اسے پڑھتے جب سورج ڈھلنے کے بعد سایہ) تین سے پانچ قدم تک ہو جاتا اور سردیوں میں پانچ سے سات قدم تک ہو جاتا۔“
[ابوداود: 400، نسائي: 504، اس كي سند صحيح هے]
------------------
جمعہ کے وقت کا بیان
فائدہ:
جمعہ چونکہ نمازِ ظہر کا بدل ہے اس لیے اس کا وقت بھی ہو بہو ظہر والا ہی ہے، یعنی زوالِ آفتاب سے لے کر سایہ ایک مثل ہونے تک رہتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اول وقت ہی میں جمعہ ادا کیا کرتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمعہ کی تیاری اور اس میں جلدی حاضر ہونے کا اس قدر شوق رکھتے اور اہتمام کرتے تھے کہ دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ کے بعد تک مؤخر کر دیتے۔
[صحيح بخاري: 939، صحيح مسلم: 859]
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمعہ پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔ [صحيح بخاري: 904] حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جمعہ اس وقت ادا کرتے جب زوالِ آفتاب ہو جاتا۔ [صحيح مسلم: 860]
ایک زمانہ میں یہ سارے عرب پر غالب ہوگئے تھے اور ان کے بادشاہ ابرہہ نے کعبہ کو گرادینا چاہاتھا۔
یہاں یہ کھیل حبشیوں کا جنگی تعلیم اور مشق کے طورپر تھا۔
اس سے رقص کی اباحت پردلیل صحیح نہیں جو لہو ولعب کے طورپر ہو۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بنو ا ارفدہ کہہ کر پکارا یہی مقصود باب ہے۔
1۔
ارفدہ،اہل حبشہ کے جد اعلیٰ کا نام ہے۔
مسجد میں حبشیوں کا یہ کھیل جنگی تعلیم اور مشق کے طور پر تھا۔
صوفیاء نے اس حدیث سے رقص وسماع کا جواز ثابت کیا ہے لیکن جمہور علماء نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا کیونکہ حبشی لوگ تو جنگی تربیت حاصل کرنے کے لیے چھوٹے نیزوں سے مشق کررہے تھے۔
کہاں جنگی مشق اور کہاں رقص وسرور کے ساتھ گانا بجانا! رقص لہو ہے اور مشق مطلوب ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حبشہ کو ان کے جد اعلیٰ کی طرف منسوب کیا۔
معلوم ہواکہ نسب میں ایساکرنا جائز ہے۔
امام بخاری ؒ کا یہی مقصود ہے۔
واللہ أعلم۔
اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ عورت کو غیر مردوں کی طرف دیکھنا جائز ہے بشرطیکہ بد نیتی اور شہوت کی راہ سے نہ ہو۔
اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ مساجد میں دنیا کی کوئی جائز بات کرنا منع نہیں ہے بشرطیکہ شور و غل نہ ہو۔
(1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کی تصویر کشی کی ہے کہ آپ بہت دیر تک مسجد میں کھڑے رہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خود بھی فن حرب (جنگی کرتب)
کا مشاہدہ کیا اور مجھے بھی دکھایا تا کہ ضرورت کے وقت عورتیں بھی مردوں کی شانہ بشانہ رہیں۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ انتہائی حسن سلوک سے پیش آتے تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ دیکھتے وقت میرا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار کے اوپر تھا، حتی کہ جب میں خود اکتا گئی تو آپ نے فرمایا: ’’تو سیر ہوگئی ہے؟‘‘ میں نے کہا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: ’’اب چلی جاؤ۔
‘‘ (صحیح البخاري، العیدین، حدیث: 950)
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاکیزہ جذبات کا کس قدر احترام کرتے تھے۔
يَزْفِنُوْنَ: اجھل کود رہے تھے۔
اور اس مظاہرہ کے قریب کے گھروں کی عورتیں، پردہ کی اوٹ میں اس جہادی مظاہرہ کو دیکھ سکتی ہیں۔
مقصد یہ جنگی مشقیں دیکھنا ہو مردوں کے خدوخال دیکھنا نہ ہو۔
لیکن گھر میں سے پردہ کی اوٹ میں جنگی ہتھیاروں کے مظاہرہ کے دیکھنے سے ہاکی۔
کرکٹ یا اس قسم کے اور کھیلوں کو کھیل کے میدان میں بن ٹھن کر بے حجاب دیکھنے اور کھلاڑیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے کا جواز کیسے پیدا ہوسکتا ہے جہاں کھیل کی بجائے اپنی نمائش کا مظاہرہ زیادہ ہوتا ہے اور شرم وحیا کو بالائے طاق رکھ کر حیا سوز کام کیے جاتے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عید کے دن حبشی لوگ آئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیل کود رہے تھے، آپ نے مجھے بلایا، تو میں انہیں آپ کے کندھے کے اوپر سے دیکھ رہی تھی میں برابر دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں (خود) ہی لوٹ آئی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1595]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے آڑ کئے ہوئے تھے، اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ میں خود ہی اکتا گئی، تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ ایک کم سن لڑکی کھیل کود (دیکھنے) کی کتنی حریص ہوتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1596]
ویسے جو لوگ نہ مسلمان ہوں اور نہ لڑائی جھگڑا کریں ان کے لئے اسلام کا اصول لا إکراہَ في الدینِ کا ہے یعنی دین اسلام کی اشاعت میں کسی پر زبردستی جائز نہیں ہے۔
یہ سب کی مرضی پر ہے‘ آزادی کے ساتھ جو چاہے قبول کرے جو نہ چاہے وہ قبول نہ کرے‘ اسلام نے مذہب کے بارے میں کسی بھی زبردستی کو روا نہیں رکھا۔
1۔
اس حدیث میں جنگ کی غایت لاإله إلااللہ کہنے کو قراردیا گیا ہے جبکہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق قتال کی غایت لَآ اِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ وَاَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ بیان کی گئی۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث 29(22)
اس کی توجیہ یہ ہے کہ پہلی روایت ان بت پرستوں کے متعلق ہے جو توحید کا اقرار ہی نہیں کرتے اور دوسری روایت ان لوگوں کے لیے ہے جو توحید کا اقرار تو کرتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے منکر ہیں۔
ان کے متعلق فرمایا: ’’مجھے ان سے قتال کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ شہادتیں کا اقرارکریں۔
‘‘ (فتح الباري: 137/6)
یعنی جس چیز کے منکر ہیں اس کا اقرار کرانے تک قتال جاری رہے گا لیکن حق اسلام کے لیے انھیں قتل کیا جاسکتا ہے۔
2۔
حق اسلام تین چیزیں ہیں:۔
کسی انسان کو بلاوجہ قتل کرنا۔
۔
شادی شدہ کا زنا کرنا۔
۔
دین اسلام سے مرتد ہوجانا۔
۔
انھیں اقرار شہادتین کے باوجود بھی قتل کیا جائے گا اور ان کی جانوں کا کوئی تحفظ نہیں ہے۔
(عمدة القاري: 266/10)
بعضوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب محمد بن مسلمہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو وہ ہر شخص سے زکوٰۃ کے جانور باندھنے کے لیے رسی بھی لیتے‘ اسی طرح تبعاً رسی بھی زکوٰۃ میں دی جاتی۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو گئے تھے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے: کچھ لوگ دین اسلام سے برگشتہ ہو کر (پھر کر)
کفر کی طرف لوٹ گئے اور شرائع اسلام کا انکار کر کے بت پرستی اختیار کر لی۔
بعض لوگ ختم نبوت کے منکر ہو گئے اور انھوں نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کو بطور متبنیٰ مان لیا۔
ان دونوں قسم کے لوگوں سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قتال کر کے ان کا خاتمہ کر دیا۔
ان سے جنگ کرنے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ہمنوا تھے۔
ایک تیسرا گروہ بھی تھا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرتا تھا۔
ان کا موقف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین کو زکاۃ دینا ضروری نہیں۔
ان کے خلاف قتال کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اختلاف کیا جس کا مذکورہ حدیث میں ذکر ہے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زکاۃ کو نماز پر قیاس کرتے ہوئے ان کے خلاف جنگ کرنے کا ارادہ کیا جبکہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عموم سے حدیث سے استدلال کیا۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث میں بیان ہونے والے "حَّقِ اسلام" کے الفاظ سے بھی اپنے موقف کو مضبوط کیا۔
اس وضاحت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مطمئن ہوگئے۔
2۔
واضح رہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ شہادتیں کا اقرار کر لیں، نماز پڑھیں اور زکاۃ ادا کریں۔
جب وہ یہ کام کرنے لگیں گے توانھوں نے مجھ سے اپنے مال اور جان کو محفوظ کر لیا سوائے حق اسلام کے پھر ان کا (باطنی)
حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہوگا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 25)
یہ حدیث حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یاد نہ تھی اگر یاد ہوتی تو وہ قیاس کے بجائے اسے پیش کرتے اور نہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے سامنے تھی وگرنہ وہ اس کے ہوتے ہوئے حدیث کے عموم سے فائدہ نہ اٹھاتے۔
عین ممکن ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن سے یہ فیصلہ کن حدیث مروی ہے بحث وتکرار کے وقت وہاں موجود نہ ہوں کیونکہ اگروہاں موجود ہوتے تو اسے پیش کرکے اس اختلاف کو فوراً ختم کیا جا سکتا تھا۔
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کے آخر میں (عناقا)
کے بجائے لفظ (عقلاً)
کو صحیح قرار دیا ہے کیونکہ زکاۃ میں بکری کا بچہ تو آجاتا ہے مگر رسی زکاۃ میں نہیں دی جاتی۔
واللہ أعلم۔
عِقَالٌ: اونٹ کا گھٹنا باندھنے کی رسی، زانو بند۔
فوائد ومسائل: (1)
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مدینہ منورہ سے دور رہنے والے قبائل جنہیں نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رفاقت کا زیادہ موقع نہیں ملا تھا اور اسلام کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے تھے، یا محض مسلمانوں کی قوت وطاقت سے خوف کھا کر مسلمان ہوئے تھے وہ اسلام سے پھر گئے، لیکن وہ لوگ جنہیں نبی اکرم ﷺ سے تعلیم وتربیت کا موقع ملا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کے لمحات میسر آئے اور انہوں نے اسلام کو دل کی گہرائیوں سے سمجھ لیا ان کے دل میں اسلام کے بارے میں کوئی شک وشبہ پیدا نہیں ہوا وہ اسلام پر قائم رہے، یہی لوگ اکثریت میں تھے اور تقریبا ہر قبیلہ میں کم وبیش موجود تھے۔
اسلام سےپھرنے والوں کے مختلف گروہ تھے (الف)
وہ لوگ جو اسلام سے بالکل مرتد ہو کر اپنے پہلے کفر کی طرف لوٹ گئے، دین شعائر، نماز، زکاۃ اور دوسرے احکام شرعیہ کو ترک کر کے، زمانہ جاہلیت کے طور طریقوں کو اختیار کر لیا۔
(ب)
وہ لوگ جنہوں نے مدعیان نبوت کے فریب میں آکر ان کی جھوٹی نبوت کو تسلیم کر لیا۔
(ج)
وہ لوگ جو کنارہ کش ہو کر، حالات کا انتظار کر نے لگے۔
(د)
وہ لوگ جو اسلام کے منکر نہیں تھے، صرف زکاۃ کا انکار کرتے تھے کہ یہ صرف رسول اللہ ﷺ ہی وصول کر سکتے تھے، اور ان میں سے بھی کچھ لوگ صرف خلیفہ کو زکاۃ ادا کرنے سے منکر تھے کہ ہم اپنے طور پر اپنے محتاجوں میں تقسیم کریں گے، بلکہ بنویربوع کے لوگو ں نے تو صدقات اکٹھے کر کے، خلیفہ کو دینا چاہا تھا۔
ان کے سردار، مالک بن نویرہ نے ان کو روک دیا، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا اختلاف اس چوتھے گروہ کے بارے میں تھا، اور پھر یہ اختلاف بھی ختم ہو گیا۔
(2)
نماز اور زکاۃ اسلام کے ایسے دو بنیادی ارکان ہیں کہ اسلام کا قیام وبقا ان پر منحصر ہے، اس لیے ان میں سے کسی ایک کا منکر کافر ہے بلکہ ضروریات دین، جن چیزوں کا دین ہونا ہر خاص وعام کو معلوم ہے ان کا منکر کافر ہے۔
(3)
جو انسان کلمہ شہادت کا اقرار کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی الوہیت کو تسلیم کرتا ہے تو گویا وہ پورے دین کو تسلیم کرتا ہے، اس لیے اس کا مال وجان محفوظ ہوں گے اور دین کے احکام پرعمل پیرا ہونے کا وہ پابند ہوگا۔
اس لیے اگر کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرے گا، جس سے اس کا مال یا جان محفوظ نہ رہے سکتے ہوں، تو اس کا محاسبہ ہوگا، زکاۃ اگر ادا نہ کرے تو زبردستی لی جائے گی، شادی شدہ ہو کر، زنا کرے گا یا کسی کو ناحق قتل کرے گا تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔
(4)
جو شخص کلمہ اسلام پڑھ کر ہمارے سامنے اپنے ایمان لانے کا اظہار کرتا ہے تو یہ دنیوی اور قانونی طور پر اس کو مسلمان تسلیم کر لیں گے اور اس کو مسلمانوں والے حقوق حاصل ہوں گے اور مسلمانوں کے فرائض کا وہ پابند ہوگا لیکن اگر یہ کام اس نے محض مسلمانوں سے ڈر کر یا کسی بد نیتی سے کیا ہے تو اللہ اس کا محاسبہ کرے گا، ہم تو ظاہر کے پابند ہیں، باطن کو عالم الغیب اور علیم بذات الصدور ذات ہی جانتی ہے۔
(5)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا: (مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ)
جو نماز اور زکاۃ میں فرق اور امتیاز کرے گا، ایک کو ادا کرے گا اور دوسری کا منکر ہوگا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت تھی جس میں جان ومال کی عصمت کو نماز اور زکاۃ پر موقوف کیا گیا ہے، یہ روایت آگے آرہی ہے اور متفق علیہ ہے۔
(فتح الباری: 1/103)
اس لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ نے دونوں یکساں اہمیت دی ہے تو پھر ان میں فرق کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے اور بعض تاریخی روایات میں اس روایت کے پیش کرنے کی تصریح موجود ہے۔
(الامارۃ والسیاسة: 1/17)
اس لیے کہ کہنا درست نہیں کہ شیخین کے سامنے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت نہ تھی، اس لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قیاس واستنباط سے کا م لینا پڑا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شبہ لاحق ہوا۔
(6)
الناس: سے مراد، صرف قریش مرد ہیں اس لیے کہا جاتا ہے (عامٌ أُريدَ به الخاصُ)
لفظ عام لیکن مراد خاص ہے یا (اختصَّ منه البعضُ)
عام لیکن دلائل کی روشنی میں اس کی تخصیص کر لی گئی یا الف لام عہد ذہنی کے لیے بے مراد قریش ہیں کیونکہ اہل کتاب اگرجزیہ ادا کر دیں تو ان سے لڑائی نہیں کی جائے گی ﴿حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ (سورة التوبة: 29)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی الله عنہ خلیفہ بنا دئیے گئے اور عربوں میں جنہیں کفر کرنا تھا کفر کا اظہار کیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے جنگ (جہاد) کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں: «لا إلہ الا اللہ» ، تو جس نے «لا إلہ الا اللہ» کہا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی ۱؎۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2607]
وضاحت:
1؎:
اب نہ اس کا مال لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے قتل کیا جا سکتا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ (جہاد) کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیں، پھر جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو اب انہوں نے اپنے خون اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، مگر کسی حق کے بدلے ۱؎، اور ان کا (مکمل) حساب تو اللہ تعالیٰ پر ہے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2606]
وضاحت:
1؎:
یعنی ان کی جان اور ان کا مال صرف اسی وقت لیا جائے گا جب وہ قول و عمل سے اپنے آپ کو اس کا مستحق اور سزاوار بنا دیں، مثلاً کسی نے کسی کو قتل کردیا تو ایسی صورت میں مقتول کے ورثاء اسے قتل کریں گے یا اس سے دیت لیں گے۔
2؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام ایک آفاقی اورعالمگیر مذہب ہے، اس کا مقصد دنیا سے تاریکی، گمرا ہی اورظلم وبربریت کا خاتمہ ہے، ساتھ ہی لوگوں کو ایک اللہ کی بندگی کی راہ پر لگانا اور انہیں عدل و انصاف مہیا کرنا ہے، دوسری بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ جو اسلام کو اپنے گلے سے لگالے اس کی جان مال محفوظ ہے، البتہ جرائم کے ارتکاب پراس پر اسلامی احکام لاگو ہوں گے، وہ اپنے مال سے زکاۃ ادا کرے گا، کسی مسلمان کو ناجائز قتل کردینے کی صورت میں اگر ورثاء اسے معاف نہ کریں اور نہ ہی دیت لینے پر راضی ہوں تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا، یہ بھی معلوم ہواکہ اس کے ظاہری حالات کے مطابق اسلامی احکام کا اجراء ہوگا، اس کا باطنی معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہو گئے، سوائے اس کے حق کے (یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا) اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2640]
1۔
اسلام بنی نوع انسان کے لئے امن سلامتی کا دین ہے۔
اس کی دعوت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کے اس دنیا میں کائنات کے خالق ومالک کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔
اور نہ کرنے دی جائے۔
اسی اصل بنیاد پرمنکرین سے حسب احوال وظروف قتال کا حکم ہے۔
جس کی معلوم ومعروف شرطیں اور آداب ہیں جواس کتاب الجہاد اور کتب فقہ اسلامی میں محفوظ ہیں۔
2۔
اگر کوئی قوم اسلام قبول کرنے پر راضی نہ ہو تو اس کو اہل اسلام کی اطاعت قبول کرنی ہوگی۔
اور جزیہ دینا ہوگا۔
3۔
اسلام میں اقرار توحید اور اقرار رسالت محمد رسول اللہ ﷺ کو مستلزم ہے۔
اس کے بغیر توحید کا اقرار قابل قبول نہیں، جیسے کہ درج ذیل حدیث میں آرہا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ الا اللہ “ نہ کہیں، جب وہ لوگ یہ کہنے لگیں تو اب انہوں نے اپنے خون، اپنے مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ پر ہے، پھر جب «ردت» کا واقعہ ہوا (مرتد ہونے والے مرتد ہو گئے) تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ ان سے جنگ کریں گے حالانکہ آپ نے رسول اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3976]
(2) ”تفریق کرے گا“ یعنی نماز کو تو فرض سمجھے گا لیکن زکوٰۃ کو فرض نہ سمجھے گا۔ یا حکومت کو زکوٰۃ ادا نہ کرے کیونکہ یہ بغاوت کے مترادف ہے۔
(3) اگر کوئی شخص کلمۂ توحید کا اقرار کر لے تو اس کی جان و مال محفوظ ہو جاتے ہیں اگرچہ یہ اقرار قتل کے خوف ہی سے کیا ہو۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں۔ تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم (مسلمانوں) سے محفوظ کر لیا (اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی (اپنی غلط روی سے) اس کا حق فراہم کر دے ۱؎، اور اس کا (آخری) حساب اللہ کے ذمہ ہے ۲؎۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3092]
(2) ”کسی کا حق“ اسلام کسی سابقہ حق کو ختم نہیں کرتا بلکہ اس کی مزید تاکید کرتا ہے۔ اسلام لانے سے سابقہ حقوق اللہ تو معاف ہوجاتے ہیں مگر حقوق العباد کی ادائیگی لازم رہتی ہے۔
(3) اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ جب تک کوئی شخص مسلمان نہ ہو، اس سے لڑائی جاری رکھی جائے یا اسے قتل کردیا جائے اور اس کا مال لوٹ لیا جائے، کیونکہ یہ مفہوم رسول اللہﷺ کی تیئیس سالہ زندگی نبوت کے طرز عمل کے بالکل خلاف ہے۔ اسلامی مملکت میں ذمیوں کا وجود متفقہ چیز ہے۔ رسول اللہﷺ کے دور میں بھی اور اس کے بعد کے ادوار میں بھی۔ اس کا انکار ممکن نہیں، لہٰذا اس حدیث سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں سے لڑائی شروع کریں۔ پھر انہیں اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے او ر وہ کلمہ اسلام پڑھ لیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ الا اللہ “ نہ کہیں، چنانچہ جس نے ” لا الٰہ الا اللہ “ کہہ لیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لیا مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے، اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ شعیب بن ابی حمزہ نے اپنی روایت میں دونوں حدیثوں کو جمع کر دیا ہے (یعنی: واقعہ ردت اور مرفوع حدیث)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3977]
(2) ” لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھ لیا“ یہ مختصر ہے، ورنہ صرف اتنا پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ توحید کے ساتھ ساتھ رسالت کا اقرار بھی ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ نماز قائم کریں، مسلمانوں کا قبلہ اختیار کریں، ان کا ذبیحہ کھائیں، زکوٰۃ ادا کریں اور ہر اس چیز پر ایمان لائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں جیسا کہ دیگر احادیث میں صراحتاً ذکر ہے۔ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھنا اسلام قبول کرنے سے کنایہ ہے۔ (مزید دیکھئے، حدیث: 3092)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عرب کے جن لوگوں نے کفر (ارتداد) کی گود میں جانا تھا چلے گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ إلا اللہ “ نہ کہیں، تو جس نے ” لا الٰہ الا اللہ “ کہا اس نے مجھ سے اپنا مال، اپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3978]
(2) ”اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے“ کہ اس نے کلمہ صدق دل سے پڑھا ہے یا جان بچانے کے لیے۔
(3) اگر صرف ظاہری معنیٰ لیے جائیں تو اہل کتاب سے بھی قتال جائز نہیں کیونکہ وہ بھی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا اقرار کرتے ہیں، اس لیے تفصیل ضروری ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کہیں تو جس نے یہ کہہ دیا، اس نے اپنی جان اور اپنا مال مجھ سے محفوظ کر لیا مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے، اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔“ ولید بن مسلم نے عثمان کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3979]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ارتداد کا فتنہ ظاہر ہونے پر) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان مرتدین سے جنگ کرنے کی ٹھان لی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیوں کر لڑیں گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں، جب وہ یہ کہنے لگیں تو ان کے خون، ان کے مال مجھ سے محفوظ ہو گئے مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے “، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہر اس شخص سے لازم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3980]
(2) اگر صرف زکاۃ ادا نہ کریں تو وہ باغیوں میں شمار ہوں گے اور ان سے قتال واجب ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنا دیئے گئے، اور عربوں میں سے جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے ۱؎، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں، تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3093]
(2) ابو العباس مبرد [لو منَعوني عِقالًا کے متعلق سے وصول کرے جس کی زکاۃ دی جارہی ہو اور قیمت جب اصل چیز کے بجائے قیمت وصول کرے تو بولتے ہے، یعنی اگر وہ مجھ سے کسی قسم کا صدقہ روکیں گے (الكامل للمبرد: 2/ 508)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، اور عربوں میں سے جنہیں کافر مرتد ہونا تھا کافر ہو گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ یہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیں، تو جس نے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیا، اس نے مجھ سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2445]
(2) ”لا الٰہ الا اللہ پڑھ لیں۔“ مراد پورا کلمہ شہادت ہے۔ اور یہ متفقہ بات ہے، ورنہ یہودی اور عیسائی کو بھی مسلمان کہنا پڑے گا۔
(3) ”الا یہ کہ اس پر کوئی حق بنتا ہو۔“ یعنی اس نے کسی کے جان ومال کا نقصان کیا ہو تو اس کی سزا اسے بھگتنی ہوگی۔
(4) ”اندرونی حساب۔“ کہ اس نے کلمہ خلوص قلب سے پڑھا ہے یا جان ومال بچانے کے لیے۔
(5) ”زکاۃ مال کا حق ہے۔“ وہ نہ دیں تو ان سے زبردستی وصول کیا جائے گا، ورنہ حکومت کا نظام الٹ پلٹ ہو جائے گا اور بغاوت راہ پکڑے گی۔
(6) ”وہ رسی نہ دیں۔“ زور کلام کے لیے مبالغے سے کام لیا گیا ہے اور کلام میں ایسا عموماً ہوتا ہے۔ ورنہ زکاۃ میں رسی دینا لازم نہیں، صرف جانور دینا لازم ہے۔
(7) منکرین زکاۃ سے بھی کافروں کی طرح قتال کرنے پر صحابہ کا اجماع ہے۔
(8) یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علم وفضل اور شجاعت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ آپ نے اس نازک ترین موقع پر کمال ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بہت بڑے فتنے کو آغاز ہی میں اس کے عبرت ناک انجام تک پہنچا دیا۔ اس وقت ابتداء ً عمر رضی اللہ عنہ بھی آپ سے اتفاق رائے نہ رکھتے تھے کیونکہ اپنے علمی رسوخ کی بنا پر جہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے ہوئے تھے وہاں ابھی عمر رضی اللہ عنہ نہ پہنچے تھے۔ یہ بات ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علمی تفوق کی دلیل ہے۔ اس اور اس جیسے دیگر واقعات کی بنا پر اہل حق کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمی تفوق کی دلیل ہے۔ اس اور اس جیسے دیگر واقعات کی بنا پر اہل حق کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کے افضل ترین آدمی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔
(9) صحابہ کرامؓ قیاس جلی کے قائل تھے۔
(10) بات کو موکد کرنے کے لیے قسم اٹھانا جائز ہے اگرچہ اس کا مطالبہ نہ کیا گیا ہو۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ الا اللہ “ نہ کہیں، جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ کر لیے مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3981]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے جنگ کروں جب تک وہ «لا إله إلا الله» نہ کہہ دیں، جب وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیں (اور شرک سے تائب ہو جائیں) تو انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3927]
فوائد و مسائل:
(1)
کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے پر دنیا میں مسلمانوں کے احکام جاری ہوتے ہیں۔
اگر دل میں ایمان نہیں ہوگا تو اس کی سزا آخرت میں ملے گی۔
(2)
خون اور مال محفوظ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے جنگ کرکے انھیں قتل نہیں کیا جائے گا نہ ان کے مال پر بطور غنیمت یا فے قبضہ کیا جائے گا۔
(3)
جان میں حق کے ساتھ تصرف سے مراد اس سے سرزد ہونے والے جر م کی سزا دینا ہے مثلاً چوری کی صورت میں ہاتھ کا ٹنا، پاک دامن پر بدکاری کا الزام لگائے تو کوڑے مارنا، قتل کی صورت میں قصاص کے طور پر قتل کرنا وغیرہ، اور مال میں جائز تصرف زکاۃ اور لازمی خرچ وصول کرنا قتل عمد میں مقتول کے وارثوں کے مطالبے پر قاتل یا اس کے قبیلے سے دیت(خون بہا)
وصول کرنا وغیرہ
(4)
اگر دنیا میں کسی وجہ سے گناہ کی سزا نہ ملے تو آخرت میں سزا ملے گی البتہ کسی بڑے نیک کام کی وجہ سے معافی بھی مل سکتی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 71]
اللہ کی راہ میں جنگ کرنا مسلمانوں کا اجتماعی فریضہ ہے جس کا مقصد انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے ہٹا کر صرف اللہ کی عبادت پر قائم کرنا ہے۔
(2)
کسی شخص کے اسلام میں واقعی داخل ہو جانے کا ثبوت تین چیزیں ہیں: توحید و رسالت کا اقرار کرنا، نماز باقاعدی سے ادا کرنا
اور اسلام کے مالی حق یعنی زکاۃ کی ادائیگی کرنا۔
(3)
مذکورہ بالا آیات اور حدیث میں اسلام کے صرف تین ارکان کا ذکر کیا گیا ہے۔ (اقرار شہادتین، نماز اور زکاۃ)
اس کی وجہ یہ ہے کہ شہادتین کے بغیر تو اسلام میں داخل ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔
نماز ایسی اجتماعی عبادت ہے جو ہر مسلمان پر ہر حال میں ادا کرنا فرض ہے، اس لیے اسے اسلام اور کفر کے درمیان امتیازی علامت قرار دیا گیا ہے اور زکاۃ اگرچہ صرف مال داروں پر فرض ہے لیکن اسلامی حکومت دولت مندوں سے اس کی وصولی اور ناداروں میں اس کی تقسیم کا جس طرح اہتمام کرتی ہے، اس بنا پر یہ بھی مسلم اور غیر مسلم میں واضح امتیاز کا باعث بن جاتی ہے کیونکہ زکاۃ صرف مسلمانوں سے لی جاتی ہے اور مسلمانوں ہی میں تقسیم کی جاتی ہے۔
(4)
اس حدیث میں دو ارکان (روزہ اور حج)
کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ روزہ ایک پوشیدہ عبادت ہے اگر ایک شخص بغیر روزہ رکھے اپنے آپ کو روزے دار باور کرانا چاہے تو اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے۔
اور حج اول تو سب مسلمانوں پر فرض ہی نہیں، دوسرے صاحب استطاعت افراد پر بھی زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے۔
علاوہ ازیں جس قوم کے خلاف جنگ کی جا رہی ہو وہ اگر روزہ رکھنے اور حج کرنے کا اقرار بھی کریں تو اس کے عملی اظہار کے لیے انہیں خاص مہینوں کا انتظار کرنا پڑے گا، لہذا جنگ کرنے یا نہ کرنے کا تعلق ایسے کاموں سے قائم کرنا حکمت کے منافی ہے۔
واللہ أعلم.
کی بنا پر ان کو نجس کہا، شرک ایسی ہی نجاست ہے۔
مگر ہزار افسوس کہ آج کتنے نام نہاد مسلمان بھی اس نجاست میں آلودہ ہورہے ہیں۔
1۔
مطعم بن عدی وہ شخص ہے جس نے قریش کے اس معاہدے کو ختم کرانے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا جو بنو ہاشم اور بنو مطلب سے بائیکاٹ کے متعلق تھا نیز اس نے رسول اللہ ﷺ کو طائف سے واپسی کے وقت اپنے ہاں پناہ دی تھی۔
رسول اللہ ﷺ اسےبدلہ دینا چاہتے تھے۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام کو مال غنیمت اور خمس کے متعلق کلی اختیار ہے وہ قیدیوں کو معاوضے کے بغیر بھی رہا کر سکتا ہے۔
ان پر یہ احسان کرنا امام کی صوابدید پر موقوف ہے۔
3۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غنیمت کی تقسیم سے قبل مجاہدین کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔
البتہ ان کی تقسیم کے بعد ان کا مالک ہونا صحیح قرارپاتا ہےاگر قبل از تقسیم مجاہدین مالک ہو جائیں تو غنیمت میں وہ لوگ جو مجاہدین میں سے کسی کے باپ یا بھائی وغیرہ ہوں تو ان کا آزاد ہونا لازم ہوگا۔
حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔
معلوم ہوا کہ مجاہدین تقسیم سے پہلے مال غنیمت کے مالک نہیں ہوتے بہر حال امام کو مال غنیمت اور خمس میں پورا پورا اختیارحاصل ہوتا ہے وہ تقسیم سے پہلے اسے اپنی صوابدید پر خرچ کر سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا: ” اگر مطعم بن عدی ۱؎ زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے سلسلے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2689]
1۔
مذکورہ آیت قرآنی اور احادیث سے ثابت ہوا کہ حسب مصلحت قیدی کو فدیہ لئے بغیر احسان کرتے ہوئے رہا کردینا جائز ہے۔
2۔
مطعم بن عدی کا رسول اللہ ﷺ یہ احسان تھا کہ طائف سے واپسی پر آپﷺ اس کی حمایت اور پناہ سے مکہ میں آئے تھے۔
اور اس نے آپﷺ کا دفاع بھی کیا تھا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں آپ کی رائے پوچھی، میرا ارادہ اسے خرید لینے کا ہے، لیکن اس کے مالکان کی طرف سے (اپنے لیے) ولاء (میراث) کی شرط لگائی گئی ہے (پھر میں کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (اس شرط کے ساتھ بھی) تم اسے خرید لو (یہ شرط لغو و باطل ہے) ولاء (میراث) اس شخص کا حق ہے جو آزاد کرے۔“ راوی ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3484]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے تین سنتیں تھیں ۱؎، ایک یہ کہ وہ لونڈی تھیں آزاد کی گئیں، (آزادی کے باعث) انہیں ان کے شوہر کے سلسلہ میں اختیار دیا گیا (اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدگی اختیار کر لینے کا) اور (دوسری سنت یہ کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ولاء (میراث) آزاد کرنے والے کا حق ہے “، اور (تیسری سنت یہ کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3477]
(2) ”حق ولا“ سے مراد ہو حق ہے جو آزاد کرنے والے کو آزاد شدہ غلام پر ہوتا ہے کہ اسے اس کا مولیٰ کہا جاتا ہے۔ اور یہ آزاد شدہ غلام فوت ہوجائے اور اس کا کوئی نسبی وارث نہ ہو تو آزاد کرنے والا اس کا وارث بھی بنے گا۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی آزادی کے لیے حضرت عائشہؓ سے رابطہ کیا تو انہوں نے فرمایا: میں تمہیں یک مشت خرید کر آزاد کردیتی ہوں۔ مالک بیچنے پر تو راضی ہوگئے مگر ”حق ولا“ اپنے لیے مانگنے لگے‘ حالانکہ یہ حق تو اسی کا ہے جو غلام کو لوجہ اللہ آزاد کرے۔
(3) ”ہدیہ ہے“ اس سے یہ اصول سمجھ میں آیا کہ جو چیز بذات خود پلید اور حرام نہیں‘ ا س کی حیثیت بدلتی رہتی ہے‘ مثلاً: رشوت یا سود کا پیسہ اس شخص کے لیے حرام ہے جو رشوت یا سود لے رہا ہے‘ لیکن اگر رشوت یا سود لینے والا وہ رقم آگے کسی کو بطور اجرت یا قیمت دے تو لینے والے کے لیے جائز ہوگی‘ حرام نہیں ہوگی کیونکہ رقم بذات خود پلید یا حرام نہیں بلکہ اس کی حیثیت اسے حلال یا حرام بناتی ہے۔ زکاۃ کی رقم مال دار کے لیے حرام مگر فقیر کے لیے حلال ہے۔ یہ اصول بہت اہم ہے۔
(4) میاں بیوی غلام ہوں تو کسی ایک سے مکاتبت کر کے اسے آزاد کیا جاسکتا ہے۔ ضمناً یہ بات بھی سمجھ میں آئی کہ کسی ایک کو آگے بیچا جاسکتا ہے۔
(5) اگر کسی غلط اور غیر شرعی کام کاج لوگ ارتکاب کررہے ہوں تو علماء کو مسئلے کی وضاحت کرنی چاہیے اور اس کے متعلق شرعی احکام نمایاں کرنے چاہئیں‘ نیز جس شرعی کام اور رسم کا وہ مستقبل میں ارتکاب کرنے والے ہوں اس کے بارے میں بروقت اپنے خطبے میں وضاحت کردینی چاہیے۔
(6) نیک بیوی ہر معاملے میں اپنے خاوند کی خیر خواہ ہوتی ہے۔ حضرت عائشہؓ نے آپ کو گوشت کا سالن نہ دیا کیونکہ انہیں علم تھا کہ آپ صدقے کی چیز نہیں کھاتے‘ ورنہ آپ کو علم نہ تھا کیونکہ آپ عالم غیب نہ تھے۔
(7) صدقے اور ہدیے میں فرق ہے۔
(8) آزاد کرنے والا آزاد کردہ سے تحفہ قبول کرسکتا ہے۔ اس سے آزاد کرنے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے ولاء (میراث) خود لینے کی شرط رکھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ” اسے خرید لو اور آزاد کر دو کیونکہ ولاء (میراث) آزاد کرنے والے کا حق ہے ۱؎، اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانے کے لیے) گوشت لایا گیا اور بتا بھی دیا گیا کہ یہ اس گوشت میں سے ہے جو بریرہ رضی اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3480]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدا تو اس کے (بیچنے والے) مالکان نے اس کی ولاء (وراثت) کی شرط لگائی (کہ اس کے مرنے کا ترکہ ہم پائیں گے)، میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ” تم اسے آزاد کر دو کیونکہ ولاء (میراث) اس شخص کا حق ہوتا ہے جو پیسہ خرچ کرے (یعنی لونڈی یا غلام خرید کر آزاد کرے)، چنانچہ میں نے اسے آزاد کر دیا پھر (میرے آزاد۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3479]
(2) ”اس کا خاوند آزاد تھا“ یہ حضرت عائشہؓ کے الفاظ نہیں بلکہ حضرت اسود کے ہیں جو کہ تابعی ہیں اور وہ موقع پر موجود نہیں تھے جب کہ حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے غلام ہونے کی صراحت آتی ہے۔ یہ دونوں موقع کے گواہ ہیں۔ ظاپر ہے ان کی گواہی معتبر ہے۔ حضرت اسود کو غلطی لگی ہے۔ احناف کہہ دیتے ہیں کہ پہلے وہ غلام تھا‘ پھر بریرہ کی آزادی سے پہلے وہ آزاد ہو گیا تھا لیکن یہ تاویل صحیح نہیں کیونکہ حضرت عائشہ وحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بریرہ اور اس کی آزادی کے وقت کی بات کر رہے ہیں۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ بھی آزاد ہوگیا تھا۔ اس میں کوئی اشکال نہیں۔ واللہ أعلم۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا نے آ کر کہا: عائشہ! میں نے نو اوقیہ کے بدلے اپنے گھر والوں (مالکوں) سے مکاتبت کر لی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ دوں گی تو آپ میری مدد کریں۔ (اس وقت) انہوں نے اپنی کتابت میں سے کچھ بھی ادا نہ کیا تھا۔ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اور ان میں دلچسپی لے رہی تھیں: جاؤ اپنے لوگوں (مالکوں) کے پاس اگر وہ پسند کریں کہ میں انہیں یہ رقم ادا کر دوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4660]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، اپنی کتابت کے سلسلے میں ان کی مدد چاہتی تھیں، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم اپنے گھر والوں (مالکوں) کے پاس لوٹ جاؤ، اب اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت (کی رقم) ادا کر دوں اور تمہارا ولاء (حق وراثت) میرے لیے ہو گا تو میں ادا کر دوں گی، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ اپنے گھر والوں سے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا: اگر وہ تمہارے سات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4659]
(2) اس روایت کے مفصل فوائد و مسائل کے لیے ملا حظہ فرما ئیں فوائد و مسائل، حدیث: 4646
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدا تو ان کے گھر والوں نے ولاء (وراثت) کی شرط لگائی، میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ” اسے آزاد کر دو، کیونکہ ولاء (وراثت) اس کا حق ہے جس نے درہم (روپیہ) دیا ہے “، چنانچہ میں نے انہیں آزاد کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور انہیں ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا ۱؎ تو بریرہ ر [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4646]
(2) اس حدیث کے بہت سے طرق ہیں اور مختلف روایت میں مختلف الفاظ مذکور ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث بیان کرنے والے راویوں نے کہیں تفصیلی روایت بیان کی ہے اور کہیں اختصار سے کام لیا ہے اور یہ سب کچھ ضرورت کے مطابق کیا گیا ہے۔ روائ حدیث کے اس قسم کے تصرف کو تمام محدثین عظام نے من و عن قبول کیا ہے اور حق بھی یہی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ احادیث سے مختلف احکام و مسائل اخذ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ (لہٰذا یہاں بھی مذکورہ حدیث سے علماء نے متعدد مسائل استنباط کیے ہیں جو درج ذیل ہیں۔)
(3) مکاتبت جائز ہے۔ مکاتبت اس عہد و پیمان کو کہا جاتا ہے جو مالک اور اس کے غلام یا لونڈی کے درمیان، متعین رقم یک مشت دینا اور اس کی قسطیں کرنا، دونوں طرح جائز ہے۔ لونڈی یا غلام کی مکاتبت کی رقم دوسرا شخص دے سکتا ہے۔ اگر کوئی دوسرا شخص مکاتبت کی طے شدہ رقم ادا کر دے اور لونڈی و غلام کو آزاد کر دے تو وہ آزاد ہو جائیں گے، البتہ اس صورت میں اس لونڈی یا غلام کے ولاء کا حق دار آزاد کرنے والا ہو گا نہ کہ پہلا مالک۔
(4) ولاء اس ربط و تعلق کو کہتے ہیں جو آزاد کرنے والے اور آزاد کردہ کے مابین، آزاد کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ تعلق نہ تو بیچا جا سکتا ہے اور نہ کسی کو ہبہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ تعلق بالکل اسی طرح کا ہوتا ہے جیسا کہ باپ اور بیٹے کے درمیان والا تعلق ہوتا ہے جو نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ کسی کو ہبہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس تعلق کا فائدہ یہ ہے کہ اگر آزاد کردہ شخص کے عصبہ اور ذوی الفروض (جن کا حصہ میراث مقرر ہے) نہ ہوں تو اس کی تمام جائداد کا مالک آزاد کرنے والا ہوتا ہے۔
(5) اگر کوئی لونڈی یا غلام اپنی مکاتبت کی رقم کی ادائیگی کے لیے دستِ سوال دراز کرے تو یہ سوال کرنا درست ہے اور اس سلسلے میں اس کی مدد بھی کرنی چاہیے، نیز اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مستحق آدمی کا اپنی جائز ضرورت یا ضروریات پوری کرنے کی خاطر سوال کرنا درست ہے۔
(6) اس حدیث مبارکہ سے باہمی مشاورت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے خصوصاً میاں بیوی کی باہمی مشاورت کا اثبات ہوتا ہے، نیز اگر بیوی خاوند سے کسی مسئلے میں مشورہ طلب کرے تو خاوند کے لیے ضروری ہے کہ اسے درست مشورہ دے۔
(7) اگر لونڈی یا غلام اپنی مکاتبت کی طے شدہ رقم ادا نہ کر سکتے ہوں تو انھیں بیچا جا سکتا ہے۔ اس کی دلیل رسول اللہ ﷺ کے الفاظ مبارک اشتريها وَ أعتقيها ہیں، یعنی اسے خریدو اور آزاد کر دو۔ دیکھیے: (صحيح البخاري، المكاتب، باب المكاتب و نحوه۔۔۔۔۔۔الخ، حديث:2560،و صحيح مسلم، العتق، باب ذكر سعاية العبد، حديث:1504)
(8) اگر میاں بیوی دونوں غلام ہوں تو ان میں سے کسی ایک کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ ضروری نہیں کہ دونوں اکٹھے ہی بیچے جائیں۔
(9) اس حدیث بریرہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس لونڈی یا غلام کے پاس مال وغیرہ نہ ہو، اس سے مکاتبت کرنا، یعنی اسے مکاتب بنانا درست ہے، خواہ اس کے پاس مال کمانے کے وسائل ہوں یا نہ ہوں۔
(10) مکاتب لونڈی یا غلام اس وقت تک آزاد نہیں ہوں گے جب تک مکاتبت کے بابت طے شدہ ساری رقم ادا نہ کردیں۔ جب تک ان کے ذمے ایک درہم بھی باقی ہے وہ غلام ہی رہیں گے اور اسی اصل کے مطابق ان پر دیگر احکام جاری ہوں گے، یعنی نکاح، طلاق اور حدود وغیرہ کے احکام غلاموں والے ہی ان پر لاگو ہوں گے۔
(11) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ظابر ہوتا ہے کہ شادی شدہ لونڈی کی فروخت اور آزادی نہ طلاق ہو گی اور نہ فسخ نکاح ہی، اس لیے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بعد ازاں اختیار دیا گیا تھا کہ چاہے تو وہ اپنے خاوند مغیث کے نکاح میں رہے اور چاہے تو اس سے الگ ہوجائے۔ اس اختیار کے بعد انھوں نے اپنے خاوند سے علیحدگی کو اختیار کیا۔
(12) لونڈی سے اس کا مالک جماع کر سکتا ہے، تاہم اگر وہ کسی کی بیوی ہو تو پھر جائز نہیں، نیز لونڈی کو محض بیچ دینے سے، اس کے ساتھ جماع کرنا حلال نہ ہو گا۔ سیدہ بریرہ کو خاوند کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دینا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ابھی تک خاوند کے ساتھ ان کا تعلق باقی تھا۔ اگر کوئی تعلق باقی نہ رہتا تو پھر اختیار کس چیز کا تھا؟
(13) اگر بوقت سوال، سائل مجبور نہیں ہے تو سوال کر سکتا ہے، یعنی مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے وقت ضرورت کے آنے سے پہلے بھی اس ضرورت کی بابت سوال ہو سکتا ہے۔
(14) شادی شدہ عورت سے مدد اور مالی تعاون مانگا جا سکتا ہے جیسا کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی مکاتبت کی بابت مالی تعاون مانگا تھا اور انھوں نے اس کی درخواست قبول فرما لی تھی اور بریرہ کو خرید کر اسے آزاد کر دیا تھا۔
(15) شادی شدہ خاتون، اپنے مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے بشر طیکہ وہ تصرف کسی جائز ضرورت کی خاطر ہو۔
(16) طلب اجر کی خاطر مال خرچ کرنا بلکہ زائد از ضرورت خرچ کرنا درست ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کی مکاتبت کی ساری رقم جو نو قسطوں کی نو سال میں ادائیگی کی صورت میں طے ہوئے تھی، یکمشت ادا کر دی اور انھیں اسی وقت آزاد کر دیا۔
(17) غلام اور لونڈی کے لیے اپنی آزادی کی خاطر محنت اور کوشش کرنا جائز ہے، خواہ اس مقصد کے لیے اسے کسی ایسے شخص سے سوال کرنا پڑے جو اسے خرید کر آزاد بھی کر دے۔ ایسا کرنے سے اس کے مالک کا اگر چہ نقصان بھی ہوتا ہو تو بھی کوئی حرج نہیں۔ یہ اس لیے کہ شارع ﷺ نے غلام کی آزادی کو سراہا اور اس عظیم نیکی کا شوق بھی دلایا ہے، اس لیے اس کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
(18) اگر کوئی شخص لونڈی یا غلام بیچے لیکن یہ شرط لگا لے کہ یہ میری خدمت کرتا رہے گا تو یہ شرط باطل ہو گی۔
(19) اگر مکاتب اپنی قسط کی رقم اس مال سے ادا کرے جو اس پر صدقہ کیا گیا ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں، مالک کو ایسی رقم قبول کرنے سے تامل نہیں کرنا چاہیے اگرچہ وقت مقررہ سے قبل ہی وہ رقم کی ادائیگی کر رہا ہو۔ مکاتب دراصل غلام ہی ہوتا ہے جب تک کہ وہ تمام رقم ادا نہ کر دے اور غلام پر صدقہ کرنا درست ہے۔ جب صدقہ اصل محل تک پہنچ جائے تو وہ مالدار شخص کے استعمال کے لیے جائز ہو جاتا ہے۔
(20) رسول اللہ ﷺ کو جب یہ معلوم ہوا کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالک ایسی شرط لگا رہے ہیں جو شرعاً درست نہیں تو آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور کسی کا نام لیے بغیر مسئلے کی وضاحت فرمائی اور ایسی ہر شرط کو باطل قرار دیا جو قرآن و حدیث کے منافی ہو۔ اس سے معلوم ہوا جب کوئی اہم شرعی معاملہ در پیش ہو تو کھڑے ہو کر خطبہ دینا مشروع ہے۔
(21) جس شخص سے کوئی غیر شرعی اور منکر کام سرزد ہو تو اس صورت میں غلط کام کرنے والے شخص کا نام لیے بغیر ہی اس کی اصلاح کی جائے۔ اس طرح کرنا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے نہ کہ کسی کو شرمندہ اور رسوا کرنا۔
(22) اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اجنبی عورتیں کسی شخص کے گھر میں آ سکتی ہیں، خواہ گھر کا مالک مرد اپنے گھر میں موجود ہو یا نہ ہو۔
(23) رسول اللہ ﷺ کے لیے صدقہ مطلقاً حرام ہے۔ آپ پر نہ صدقہ کیا جا سکتا ہے اور نہ آپ صدقے کا مال کھا ہی سکتے ہیں۔ ہاں، اگر صدقہ کسی مستحق پر کر دیا جائے اور وہ نبی ﷺ کو بطور ہد یہ پیش کر دے تو یہ درست ہے۔
(24) غنی اور مالدار شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ محتاج و فقیر کا دیا ہوا ہد یہ قبول کر لے، نیز معلوم ہوا کہ صدقے اور ہدیے کا حکم الگ الگ ہے۔
(25) اگر کسی شخص کو اپنے ہاں کسی شخص کے کھانے سے خوشی ہو تو وہ شخص بلا اجازت بھی اس کے گھر سے کھا پی سکتا ہے۔
(26) ایسا سوال کرنا مستحب ہے جس سے علم حاصل ہوتا ہو یا اس سے ادب ملتا ہو یا کسی قسم کا حکم واضح ہوتا ہو یا اس سے کوئی شبہ رفع ہوتا ہو۔
(27) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی پر تھوڑی چیز صدقہ کی جائے تو اس کو قبول کر لینا چاہیے۔ اس پر ناراضی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔
(28) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو خوش کرنا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے۔ صحیح احادیث کی روشنی میں ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب عمل ہے۔
(29)یہ حدیث مبارکہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے حسن ادب پر بھی دلالت کرتی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی سفارش واضح انداز میں رد نہیں کی بلکہ یہ کہا ہے کہ مجھے اپنے خاوند مغیث کی حاجت نہیں۔
(30) سفارش کرنے والے کو یقینا اس کی جائز سفارش کرنے کا اجرو ثواب مل جاتا ہے، خواہ اس کی سفارش قبول ہو یا رد کر دی جائے۔
(31) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرطِ محبت انسان کے لیے بڑی آزمائش کا سبب بنتی ہے۔ بسا اوقات اسے بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند حضرت مغیث رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حالت سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مدینے کی گلیوں میں ان کے پیچھے پیچھے ہوتے تھے۔أعاذنا الله منه۔
(32) دو باہم نفرت کرنے والوں کے مابین صلح صفائی کرانا مستحب ہے، خواہ وہ دونوں میاں بیوی ہی ہوں۔ میاں بیوی ہونے کی صورت میں یہ ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے تاکہ بچے والدین کی باہمی نفرت و اختلاف کے اثرات سے محفوظ رہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بریرہ کو حضرت مغیث رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بابت سفارش کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا تھا: إنَّهُ أبو ولدِكِ ”وہ تیرے بچے کا باپ ہے۔“
(33) بچے کی نسبت اس کی ماں کی طرف کرنا بھی جائز ہے۔
(34)شوہر دیدہ خاتون کو مجبور نہیں کرنا چاہیے، خواہ وہ آزاد کردہ ہی کیوں نہ ہو۔
(35) نکاح فسخ ہونے کی صورت میں رجوع نہیں ہو سکتا لیکن نیا نکاح ہو سکتا ہے۔
(36) اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے نفرت کرتی ہو تو اس کے سر پرست کو چاہیے کہ وہ اس عورت کو خاوند کے ساتھ رہنے پر مجبور نہ کرے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو کہ عورت اپنے خاوند سے محبت کرتی ہو تو سر پرست اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان جدائی اور تفریق نہ ڈالے۔
(37) شارحینِ حدیث نے اس حدیث مبارکہ سے کم و بیش ڈیڑھ سو (150) فوائد و مسائل کا استنباط کیا ہے لیکن ہم نے بغرض اختصار مذکورہ بالا فوائد و مسائل ہی پر اکتفا کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملا حظہ فرمایے: (ذخيرة العقبىٰ، شرح سنن النسائي للأتيوبي:9/29-19) اس روایت پر مزید بحث کے لیے دیکھیے، احادیث 3477تا3484۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دینا چاہا، لیکن ان کے مالکان نے ولاء (ترکہ) خود لینے کی شرط لگائی۔ تو انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ” اسے خرید لو، اور آزاد کر دو، ولاء (ترکہ) اسی کا ہے جو آزاد کرے “، اور جس وقت وہ آزاد کر دی گئیں تو انہیں اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں۔ (اسی درمیان) رسول ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2615]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ (لونڈی) کو خریدنا چاہا، تو بریرہ کے مالکوں نے ولاء ۱؎ کی شرط لگائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ سے فرمایا: ” تم اسے خرید لو، (اور آزاد کر دو) اس لیے کہ ولاء تو اسی کا ہو گا جو قیمت ادا کرے، یا جو نعمت (آزاد کرنے) کا مالک ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1256]
وضاحت:
1؎:
ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑکر مرے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بائع کے لیے ولاء کی شرط لگانا صحیح نہیں، ولاء اسی کا ہوگا جو خرید کر آزاد کرے۔
گیا غلام آزاد ہونے کے بعد بھی اصل مالک سے کچھ نہ کچھ متعلق رہتا تھا۔
اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو اس شخص کا حق ہے جو اسے خرید کر آزاد کرا رہا ہے۔
اب بھائی چارے کا تعلق اصل مالک کی بجائے اس خرید کر آزاد کرنے والے سے ہوگا۔
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
(1)
غلام کو آزاد کر دینے کے بعد جو تعلق آزاد کنندہ اور آزاد کردہ کے درمیان قائم ہوتا ہے اسے ولاء کہتے ہیں۔
یہ تعلق اصل مالک کے بجائے آزاد کرنے والے سے قائم ہوتا ہے، اس کا فائدہ یہ ہے کہ آزاد شدہ غلام کے مرنے کے بعد اگر اس کا کوئی نسبی وارث نہ ہو تو اس کا ترکہ آزاد کنندہ کو ملتا ہے۔
(2)
حضرت بریرہ ؓ چونکہ حضرت عائشہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی تھیں، اس لیے ان کے لیے صدقہ جائز تھا اور جب صدقہ اپنے محل پر پہنچ جائے تو اس کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔
اب دوسروں کے لیے استعمال کرنا جائز ہوتا ہے جو پہلے اسے استعمال کرنے کے مجاز نہیں ہوتے کیونکہ جو چیز کسی علت کے باعث حرام ہوئی ہو اس علت کے زائل ہونے سے حلال ہو جاتی ہے، اس لیے صدقہ کردہ گوشت رسول اللہ ﷺ استعمال کر لیتے تھے۔
(3)
صدقے میں ثواب کے ساتھ عبادت کا پہلو غالب ہوتا ہے جبکہ ہدیہ میں ثواب کے ساتھ باہمی محبت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
واللہ أعلم
كاتبوني: کتابت معنی ہے کہ غلام اپنے آقا کو کہتا ہے، میں آپ کو اتنی رقم، اتنی قسطوں میں، اتنے عرصہ میں ادا کروں گا اور آپ مجھے آزاد کر دیں، قسطوں کی مکمل ادائیگی کے بعد غلام آزاد ہو جائے گا، اگر آقا نے اس کی بات کو مان لیا، آقا خود بھی یہ پیشکش کر سکتا ہے۔
فوائد ومسائل: آپﷺ کسی کی غلطی اور گناہ پر تمام کے سامنے رو برو نام لے کر آگاہ نہیں کرتے تھے۔
بلکہ نام لیے بغیر اس کام سے ٹوک دیتے تھے اور آپﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو شرط کے قبول کر لینے کا حکم اس لیے دیا۔
تاکہ اس طرح اس سے روکنے اور سب کو آگاہ کرنے کی صورت پیدا ہو جائے اور پھر وہ خود بخود ہی اس شرط سے دستبردار ہو جائیں گے، اس کا مطالبہ چھوڑدیں گے اور لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ کے حکم کے منافی شروط کالعدم ہیں ان کے لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
ایسی شرط جو شرعی حکم کے منافی ہو، اور وہ حکم شرعی واضح ہو تو ایسی شرط لغو ہوگی۔
اس کا لگانا اور نہ لگانا برابر ہے اور وہ کالعدم ہو گی، کیونکہ ایسی شرط کا پورا کرنا شرعی طورپر ان کے بس میں نہیں۔
2۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ کہنا کہ میں تمھارا بدل کتابت ادا کر دیتی ہوں، اس سے ان کا اصل مقصد، بریرہ کو خرید کر آزاد کرنا تھا۔
جیسا کہ پہلی روایت میں: (ارادت ان تَشتَري جَارِيَة)
کہ آزاد کرنے کے ارادہ سے لونڈی خریدنی چاہی کیونکہ اگر مقصود محض بدل کتابت کی ادائیگی ہوتا تو یہ تو محض ایک نیکی اور تبرع کا کام ہوتا، اور اس صورت میں نسبت آزادی مکاتبت کرنے والے مالک کی طرف ہوتی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابتَاعِي فَاعتَقِي)
’’خریدکر آزادکرو‘‘3۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
مکاتب غلام یا لونڈی اگر اس بات پر آمادہ ہو کہ اس کو دوسرا فرد خرید کر آزاد کر دے، تو اس کو خریدنا جائز ہے، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو نخعی کا یہی موقف ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مکاتب غلام یا لونڈی کو خریدنا جائز نہیں ہے جب تک وہ بدل کتابت کی ادائیگی سے عاجز ہو کر دوبارہ غلام نہ بن جائے، لیکن امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر غلام بیع پر آمادہ ہو تو پھر جائز ہے وگرنہ نہیں۔
4۔
(لَيسَ فِي كِتَابِ الله)
کا معنی ہے شرط جو اللہ کے قانون اور حکم کے منافی ہو وہ حکم قرآنی سے ثابت ہو یا سنت سے یا جس کا جواز اللہ کے حکم سے ثابت نہ ہو۔
آئمہ ثلاثہ اس کے بریرہ کی آزادی کے وقت غلام ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اگرچہ بعد میں وہ بھی آزاد ہو گیا تھا، اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا جب کسی محتاج اور فقیر کو کوئی چیز صدقہ میں ملے تو وہ اس کا مالک بن کر جو چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے اور اب اگر وہ دوسرے کو تحفہ دیتا ہے یا بیچتا ہے تو وہ صدقہ نہیں رہے گا، اور اس صورت میں اس کو ہاشمی اور مال دار بھی اگر وہ کھانے کی چیز ہے کھا سکے گا۔
حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ان تینوں واقعات سے علماء نے چار سو مسائل کا استنباط کیا ہے اور بعض آئمہ نے اس حدیث پر مستقل کتابیں لکھی ہیں اور سنن دارقطنی میں ایک چوتھے فیصلہ کا ذکر ہےکہ آپﷺ نے آزاد عورت والی عدت پوری کرنے کا حکم دیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا، اور ان کے شوہر غلام تھے، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کر دیتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ” وہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے “، تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا: ” حق ولاء (غلام یا لونڈی کی میراث) اس کا ہے جو آزاد کرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2076]
فوائد و مسائل:
(1)
ملکیت بدلنے سے چیز کاحکم بدل جاتا ہے۔
کسی غریب آدمی کو صدقے میں کوئی چیز ملے اور وہ کسی دولت مند کو تحفے کے طور پر پیش کردے یا دولت مند اس سے وہ چیز خرید لے تو دولت مند کے لیے وہ چیز صدقے کے حکم میں نہیں ہوگی۔
(2)
’’ولاء‘‘ سے مراد وہ تعلق ہے جو آزاد کرنے والے اور آزاد ہونے والے کے درمیان آزاد کرنے کی وجہ سے قائم ہوتا ہے۔
اس تعلق کی وجہ سے آزاد ہونےوالا اسی خاندان کا فرد سمجھا جاتا ہے جس سے آزاد کرنےوالے کا تعلق ہے۔
آزاد ہونےوالے کا اگر کوئی اور وارث نہ ہو تو آزاد کرنےوالا اس کا وارث ہوتا ہے۔
اس کو حق ولاء کہا جاتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ کو خریدنے (اور آزاد کرنے) کا ارادہ کیا تو بریرہ کے گھر والوں نے ولاء (میراث) کی شرط رکھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ولاء (میراث) کا حق اسی کو حاصل ہے جو قیمت ادا کرے یا آزاد کرنے کی نعمت کا مالک ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الولاء والهبة/حدیث: 2125]
وضاحت:
1؎:
ولاء سے مراد وہ حقوق ہیں جو آزاد کرنے والے کو آزاد کئے ہوئے کی نسبت سے حاصل ہیں۔
علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «ومطابقۃ حدیث ابن عمر للترجمۃ فى قولہ: ”سَاوَمَت“ فأمنا ساومت أہل بریرۃ، وہو البیع والشراء بین الرجال و النساء» [عمدۃ القاری، ج 8، ص: 258]
یعنی ”ترجمہ الباب سے حدیث کی مطابقت اس قول سے ہے کہ ”قیمت لگا رہی تھیں“ (یعنی امی عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی قیمت لگا رہی تھیں تاکہ انہیں خرید کر آزاد کر دیں)، پس امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے قیمت لگائی سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں سے اور یہی ہے «البیع و الشراء بین الرجال و النساء» کہ مردوں اور عورتوں میں بیع کا ہونا۔“
امام قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ترجمۃ الباب سے مناسبت کچھ یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”آپ بریرہ کو خرید لیں“ اور یہ خطاب امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھا۔ بیع میں شراء سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ جب ان کے مالکوں سے امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خریدا۔ [ارشاد الساری، ج 4، ص: 250]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «اور د فیہ حدیث عائشۃ و ابن عمر فى قصۃ شراء بریرۃ، وشاہد الترجمۃ قولہ: مابال رجال یشترطون لیست فى کتاب اللہ، لاشعارہ بأن قصۃ المبایعۃ کانت مع رجال۔۔۔۔۔» [فتح الباری، ج 3، ص: 370]
یعنی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ خرید و فروخت جائز ہے کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا لونڈی کو (ایک مرد سے) خریدا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز رکھا۔ چنانچہ فرمایا کہ ”اس کو خرید لے“ اور شاہد ہے اس کے لیے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ایسی شرائط طے کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں“، اس واسطے یہ مشعر ہے اس چیز کے ساتھ کہ خرید و فروخت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی۔ لہٰذا یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ہوگی۔
فائدہ نمبر 1: مندرجہ بالا حدیث سے امام الفقہاء والمحدثین امام بخاری رحمہ اللہ نے کئی اہم مسائل ثابت فرمائے ہیں، جس کا ذکر مختلف ابواب کے ساتھ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے تھے کہ ولاء کی شرط باطل ہے اور یہ اصول مشہور تھا کہ اہل بریرہ سے بھی مخفی نہ تھا، پھر جب انہوں نے اس شرط کے بطلان کو جاننے کے باوجود اس کی اشراط پر اصرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہدید کے طور پر مطلق امر فرما دیا کہ ”بریرہ کو خرید لیا جائے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ﴾» ”تم جو چاہو عمل کرو“ [فصلت: 40] یہ بطور تہدید فرمایا گیا ہے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ان کے لیے ولاء کی شرط لگا لو وہ عنقریب جان لیں گے کہ اس شرط سے ان کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا“، اور اس مسئلے کی تائید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اشارہ سے بھی ہوتی ہے کہ ”لوگوں کا کیا حال ہے وہ ایسی شرائط لگاتے ہیں جو کتاب اللہ سے ثابت نہیں“، پس ایسی جملہ شروط باطل ہیں خواہ وہ ان کو نافذ بھی کیا جائے مگر اسلامی قانون کی رو سے ان کا کوئی مقام نہیں ہے۔ [نیل الأوطار شرح منتقی الاخیار، ج 5، ص: 236، 237]
فائدہ نمبر 2: مذکورہ بالا حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں“، اور جو علم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا کہ ”ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے“، اب اگر غور کیا جائے تو یہ شرط جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لگائی ہے یہ شرط قرآن میں نہیں ہے بلکہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے بایں طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ شریعت میں کتاب اللہ کا اطلاق صرف قرآن مجید پر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کتاب پر ہوتا ہے جو دو گتوں میں «بین الدفتین» ہو بلکہ کتاب اللہ کا اطلاق شریعت کے تمام قوانین پر ہوتا ہے چاہے وہ قرآنی بیان میں ضم ہوں یا وہ حدیثی بیانات ہوں۔ امت مسلمہ میں علم کی کمی بے انتہا ہے اور صحیح حدیث کی معرفت بے انتہا پست ہے، ان حالات میں عام و خاص الا ماشاء اللہ کا یہی عقیدہ اور نظریہ ہے کہ کتاب اللہ کا اطلاق صرف قرآن مجید پر ہی ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کے برعکس گہرائی اور بصیرت کی نگاہ سے غور کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ”کتاب اللہ“ کا حکم مکمل شریعت پر لگتا ہے۔ اور مذکورہ بالا حدیث بھی اس کی مؤید ہے۔ دوسری حدیث جس کا ذکر امام بخاری رحمہ اللہ صحیح بخاری ہی میں کرتے ہیں کہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے در میان کتاب اللہ سے فیصلہ کر دیجئے۔ دوسرے نے بھی یہی کہا: کہ اس نے سچ کہا: ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیں۔ دیہاتی نے کہا: کہ میرا لڑکا اس کے ہاں مزدور تھا، پھر اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا، قوم نے کہا: کہ تمہارے لڑکے کو رجم کیا جائے گا، لیکن میں نے اپنے لڑکے کے اس جرم کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دے دی، پھر میں نے علم والوں سے پوچھا: تو انہوں نے بتایا کہ اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے ملک بدر کر دیا جائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ ہی سے کروں گا، باندی اور بکریاں تمہیں واپس لوٹا دی جاتی ہیں، البتہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کیا جائے گا، اور اے انیس اس عورت کے گھر جاؤ اور اسے رجم کردو (اگر وہ زنا کا اقرار کر لے)۔“ چنانچہ انیس گئے اور اسے رجم کر دیا (کیوں کہ اس نے زناکا اقرار کر لیا تھا)۔ [صحیح البخاری، کتاب الصلح، رقم 2695]
مذکورہ بالا واقعہ کی طرف نگاہ دوڑانے سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا کہ ”بکریاں اور باندی کو لوٹا لیا جائے“ یہ حکم پورے قرآن مجید میں کہیں نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلفیہ طور پر یہ فرمایا تھا کہ ”میں تم میں ضرور کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا“، تو معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کا اطلاق قرآن مجید کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر بھی ہوتا ہے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتاب اللہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (واللہ اعلم) اللہ کا حکم مراد لیا ہے۔ اگرچہ وہ حکم کتاب اللہ (قرآن مجید) میں بالتصریح مذکور نہیں ہے۔ لیکن ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم کتاب اللہ (قرآن مجید) کے ساتھ قبول کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: ”جو کچھ تمہیں رسول دے اس کو لے لو اور جس سے تمہیں منع کرے تو باز آجاؤ۔“ لہٰذا جب وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی) کتاب اللہ کی وجہ سے ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم قبول کرنا بھی واجب ہوا۔ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فیصلہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صادر فرمایا پس وہ کتاب اللہ کے ساتھ ہے، اگرچہ وہ حکم کتاب اللہ (قرآن مجید) میں بالتصریح مذکور نہ ہو۔ [ذم الکلام وأہلہ للہروی، ج 2، ص: 91]
اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں بارہ ماہ کی تعداد کے بارے میں فرمایا کہ «﴿فِی کِتَابِ اللّٰہِ﴾» [التوبۃ: 36] کہ یہ بارہ مہینوں کی گنتی کتاب اللہ میں موجود ہے۔ حالانکہ مکمل قرآن مجید کے مطالعہ سے ہمیں بارہ مہینوں کی گنتی معلوم نہیں ہوتی بلکہ اس کی جگہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بارہ ماہ اور مزید حرمت والے چار مہینوں کی بھی گنتی اور اس کی ترتیب ہمیں موصول ہوتی ہے۔ مذکورہ آیت سے بھی حدیث کا مبینہ طور پر کتاب اللہ ہونا ثابت ہے اور ان دلائل کی موجودگی میں کہیں اور طرف التفات کرنا محض ہٹ دھرمی ہی ہو گی۔
محمد بن ابوبکر الرازی مسائل رازی میں فرماتے ہیں: «وإنما ہو أمر أنزلہ اللہ فى کتبہ على ألسنۃ رسلہ۔» [مسائل الرازی، ص: 113]
”یہ ایک حکم ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل کیا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر۔“
یعنی یہ حکم حدیث کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا۔
ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «و المراد بکتاب اللہ أى بحکمہ، إذ لیس فى الکتاب ذکر الرجم، وقد جاء الکتاب بمعنی الفرض۔» [التوضیح لشرح الجامع الصحیح، ج 17، ص: 29]
”یہاں پر کتاب اللہ سے مراد (قرآن نہیں ہے بلکہ) اللہ کا حکم ہے جبکہ رجم کا حکم قرآن میں موجود نہیں ہے، اور یقیناً کتاب سے مراد فرض ہے (یعنی رجم کا حکم بھی اللہ کا حکم ہے، مگر قرآن میں نہیں ہے، سنت میں موجود ہے)۔“
محمد اسمٰعیل سلفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض آیات قرآن عزیز میں اس طرح مذکورہ ہوئی ہیں کہ قرآن کا مفہوم حدیث کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ یہ قرآن کی آواز ہے جو ضرورت حدیث کو ثابت کر رہی ہے۔ اشارۃ النص کے طور پر قرآن مجید ضرورت حدیث کو ثابت فرماتا ہے۔ منکرین حدیث سے مؤدبانہ استدعا ہے کہ بحیثیت طالب علم قرآن میں اس طریق پر بھی غور کی تکلیف گوارا کریں۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ دلوں کو کھول دے اور قوت فہم کو استفادہ کا موقع ملے۔
«﴿إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِی کِتَابِ اللّٰہِ۔۔۔۔۔ الآیۃ﴾» [التوبۃ: 36]
”تحقیق گنتی مہینوں کی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں کتاب اللہ میں جس دن اس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو ان میں چار مہینے حرام ہیں۔“
ان چار ماہ کا ذکر قرآن میں اجمالا آیا ہے، ان میں لڑائی جھگڑے کی ممانعت فرمائی گئی ہے، ان میں ابتداء لڑائی حرام ہے۔ لیکن قرآن میں بارہ مہینوں کے نام مذکورہ ہیں اور نہ چار ماہ کا کوئی تفصیلی ذکر موجود ہے۔ یہ تذکرہ احادیث میں ملتا ہے یا عرب کی تاریخ میں، معلوم نہیں ہمارے اہل قرآن کون سا مقدس ذخیرہ قبول فرمائیں گے۔ [حجیت حدیث از محمد اسمٰعیل سلفی رحمہ اللہ، ص: 167]
قلت: تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ قرآنی بیان سے اور تاریخی حوالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اہل عرب مہینوں کی گنتی آگے پیچھے کر دیتے تھے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: «﴿إِنَّمَا النَّسِیءُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ﴾» [التوبۃ: 37] ”مہینوں کا آگے پیچھے کرنا کفر ہے۔“
لیکن اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث و سنت کے مجموعے کے بارے میں اور اس کی صداقت پر قرآن نے برملا اعلان فرما دیا کہ وہ ہر قسم کی تبدیلی و تغیرات سے محفوظ ہوں گی اور قیامت تک قرآن کی طرح ہدایت کا سرچشمہ رہیں گے، مگر اس کے باوجود تاریخ پر اعتبار کیا جا سکتا ہے لیکن احادیث پر نہیں، تعجب ہے ایسی تنگ نظری پر۔
بہت سارے لوگوں کو یہ بھی مغالطہ لگ گیا کہ کتاب کہتے ہی اسی شیٔ کو جو ضخامت میں ہو کیوں کہ عہد نبوی میں احادیث کو کسی ایک کتاب کی صورت میں مدون نہیں کیا گیا (حالانکہ بعین یہی اعتراض قرآن پر بھی وارد ہوتا ہے) اسی لیے کتاب کا حکم احادیث پر صادر نہیں آتا۔
جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کو اپنا خط بھیجا تو قرآن یوں ارشاد فرماتا ہے: «﴿اذْہَبْ بِکِتَابِی ہَذَا فَأَلْقِہْ إِلَیْہِمْ﴾» [النمل: 28]
”یہ میری کتاب (خط) لے جا اور انکی طرف پھینک دے۔“
پھر جب یہ خط ان کو دیا گیا تو بلقیس نے کہا: «﴿یَا أَیُّہَا الْمَلَأُ إِنِّی أُلْقِیَ إِلَیَّ کِتَابٌ کَرِیمٌ﴾» [النمل: 29]
”اے اہل دربار! میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے۔“
ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ ضروری نہیں ہے کہ کسی ضخیم شئ کو ہی کتاب کا نام دیا جائے، اسی کتاب کی مزید صراحت سورہ انعام میں کچھ اس طرح سے ہے: «﴿وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَابًا فِی قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوہُ بِأَیْدِیہِمْ لَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ ہَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِینٌ﴾» [الانعام: 7]
”اور اگر ہم اتارتے آپ کی طرف کتاب کو نازل کرتے کاغذ پر پھر یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے، یہی کہتے ہیں کہ یہ صاف جادو ہے۔“
مذکورہ آیت میں بھی «قرطاس» ”کاغذ“ کو کتاب کہا: گیا ہے لہٰذا منکرین حدیث کا یہ شوشہ کہ وحی ہمیشہ کتاب کی صورت میں نازل ہوتی ہے باطل ٹھہرا۔ دراصل کتاب کے معنی یہ ہیں کہ اس میں کسی چیز کا حکم دیا گیا ہو یا کسی چیز کو فرض کیا گیا ہو، یہ تمام اقسام قرآن مجید کے ساتھ ساتھ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وارد ہوتی ہیں۔
عربی زبان کی معرکہ آراء کتاب لسان العرب میں ابن منظور رقمطراز ہیں: «وقال، کَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا أَیْ فَرَضْنَا، وَمِنْ ہٰذَا قَوْلُ النَّبِیِّ صَلَّى اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِرَجُلَیْنِ احْتَکَمَا إِلَیْہِ۔۔۔۔۔» [لسان العرب، ج 12، ص: 23]
”یعنی یوں کہا: کہ ہم نے ان پر لکھ دیا اس میں یعنی (لکھنے سے مراد) فرض کیا ہم نے، اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان جب دو شخص فیصلے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”میں ضرور تم دونوں کے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا“ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب یا اپنے بندے پر اتارا ہے۔ (ابن منظور کہتے ہیں) یہ جو فیصلہ تھا رجم کے بارے میں اور اس کا حکم قرآن میں وارد نہیں۔۔۔۔۔۔ اور یہ بھی کیا گیا ہے (کتاب کے معنی) کسی چیز کو فرض کرنا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا یا کسی چیز کا حکم جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بیان کیا گیا ہو (یعنی وہ بھی کتاب ہی کا حکم رکھتی ہے)۔“
ابن منظور کی وضاحت نے واضح کیا کہ ہر وہ شئ کتاب ہے جس میں کسی چیز کا حکم دیا گیا ہو یا کسی چیز کو فرض کیا گیا جو، چاہے وہ قرآن میں لکھا ہوا ہو یا احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں۔
ابن اثیر رحمہ اللہ کتاب اللہ کے بارے میں وضاحت فرماتے ہیں: سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کہ ”جو کوئی ایسی شرط عائد کرے جو کتاب اللہ میں نہیں“، یعنی وہ حکم کتاب میں نہیں اور نہ ہی موجب پر اس کی قضا ہو کتاب میں، کیوں کہ کتاب اللہ سے (مراد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت مراد ہے، اور جان لو کہ سنت قرآن کا بیان ہے۔ اور یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء اسی کو قرار دیا جو آزاد کرے، اور یہ ولاء کا حکم قرآن میں مذکورہ نہیں ہے۔ (یعنی حدیث میں ہے اور یہ بھی کتاب اللہ ہے)۔ [النہایہ فى غریب الحدیث والأثر، ج 4، ص: 128]
امام ابن الثیر رحمہ اللہ نے بھی واضح فرمایا کہ کتاب سے مراد حکم، فرض کے ہیں اور اس کا اطلاق قرآن مجید کے ساتھ ساتھ سنت پر بھی ہوتا ہے۔
شہاب الدین ابوعمرو «القاموس الوافی» میں فرماتے ہیں: ”کتاب سے مراد مجموعہ، رسائل، کتابیں، قرآن مجید، تورات، انجیل۔۔۔۔۔ احکامات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”میں ضرور تم دونوں کے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا۔“ (یہ واقعہ عسیف ہے جس کو بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا)۔“ [القاموس الوافی، ص: 922]
شہاب الدین ابوعمرو نے بھی کتاب کی وضاحت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا ذکر فرمایا جس میں یہ ہے کہ ”میں تم دونوں میں کتاب اللہ سے ضرور فیصلہ کروں گا۔“ یعنی حدیث بھی کتاب اللہ میں شامل ہے۔
مصباح اللغات میں ہے: ”الکتاب، جس میں لکھا جائے، خط، صحیفہ، فرض، حکم، اندازہ، ہر وہ کتاب جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی۔“ [مصباح اللغات، ص: 723]
یہی الفاظ المنجد میں بھی نقل کیے گئے ہیں۔ [دیکہئے المنجد، ص: 860]
یہ ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ایک منکرین حدیث کا سرچشمہ غلام احمد پرویز نے بھی نہ کیا، بلکہ وہ بھی اس کا معترف رہا۔ مسٹر پرویز صاحب فرماتے ہیں: ”کتاب کے معنی فیصلہ اور حکم کے بھی آتے ہیں۔“ [لغات القرآن، ص: 1414]
حیرت کی بات ہے کہ کتاب کے معنی حکم اور فیصلہ کو آپ پرویز بھی مانتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکمل اسوہ انسانیت کے لیے نمونہ ہے جو کہ مکمل طریقے سے قرآن مجید میں مذکور نہیں بلکہ اس کے کئی ایک پہلو سنت رسول (احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم) میں اجاگر ہیں۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود بھی اس حقیقت سے انحراف چہ معنی وارد ہے؟
لہٰذا ان اقتباسات سے واضح ہوا کہ کتاب سے مراد حکم اور فرائض ہیں، جس میں قرآن مجید کے ساتھ ساتھ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہے۔ مزید تفصیل کے لیے چند احادیث پیش خدمت ہیں: ➊ مسند احمد بن حنبل میں روایت ہے کہ ایک صحابی سیدنا طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقہ کے متعلق کچھ لکھنے کی گزارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی گزارش کو قبول فرما لیا، لہٰذا ان صحابی کا بیان ہے کہ: «فَکَتَبَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہَذَا الْکِتَابْ» [مسند أحمد، ج 3، ص: 23] ”پس ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کتاب لکھوائی۔“
مندرجہ بالا حدیث میں بھی ایک حکم کو لکھوانے پر اسے کتاب کہا: گیا ہے، لہٰذا اس حدیث سے واضح ہوا کہ جس میں فرض احکامات ہوتے ہیں اسے کتاب کہا: جاتا ہے۔
➋ موسی بن طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «عِنْدَنَا کِتَابٌ مَعَاذ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَبِیِّ صَلَّى اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ» [سنن الدارقطنی، کتاب الزکوۃ، رقم: 1898]
”ہمارے پاس سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی ایک کتاب ہے جو انہوں نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھوائی۔“
حالانکہ اس نوشتہ میں صرف صدقہ کے مسائل درج تھے، اس کے باوجود اس نوشتہ کو کتاب کا نام دیا گیا کیوں کہ اس میں فرائض و احکامات تھے۔
➌ «قَالَ: أَتَانَا کِتَابُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِإِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ» [سنن النسائی، کتاب الفرع والعتیرہ، رقم: 4256 - سنن الترمذی، کتاب اللباس، رقم: 1729 - صحیح ابن حبان: 1278 - مسند عبد بن حمید: 488]
”عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں: ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب آئی کہ مردے کے چمڑے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“
مذکورہ حدیث میں بھی صرف ایک حکم لکھا ہوا تھا جس کو راوی نے کتاب کے نام سے تعبیر فرمایا۔
فائدہ نمبر 3: اسی باب کے تحت حدیث نمبر 2156 میں امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ حسان بن ابی عباد ہیں، جن کے متعلق امام ابن عدی رحمہ اللہ نے لکھا ہے: حسان دو ہیں، ایک حسان بن حسان البصری اور دوسرے حسان بن ابی عباد البصری، دیکھیے ابن عدی کی کتاب: «أسامی من روى عنہم البخاری فى جامعہ الصحیح، ص: 117» ، در اصل یہ وہم ہے جو انہیں ہوا ہے۔ کیونکہ حسان بن حسان بن ابی عباد ہیں۔ علامہ علاء الدین مغلطائی (المتوفی 764ھ) نے صراحت فرمائی ہے کہ یہ حسان ایک ہی ہیں دو نہیں ہیں۔ [دیکہئے: اکمال تہذیب الکمال، ج4، ص: 61]
ابن عدی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کے شیوخ حسان بن حسان کو حسان بن ابی عباد سے الگ ذکر فرمایا ہے۔ حالانکہ صحیح یہ ہے کہ (یہ دونوں) ایک ہی آدمی ہیں۔
آپ کا مکمل نام ”حسان بن حسان البصری ابوعلی بن ابی عباد“ ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سے امام بخاری رحمہ اللہ نے صرف دو احادیث نقل فرمائی ہیں۔ [ہدى الساری، الفصل التاسع، ص: 559]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا یہ قول محل نظر ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے حسان بن حسان سے دو احادیث روایت نہیں کیا، بلکہ آپ سے تقریبا چھ احادیث صحیح بخاری میں روایت کی ہیں، علامہ مغلطائی فرماتے ہیں: روی عنہ محمد بن اسماعیل ستۃ أحادیث، یعنی امام بخاری رحمہ اللہ نے آپ سے چھ احادیث روایت کی ہیں۔ تلاش کے بعد الحمد للہ میں نے ان چھ احادیث کو پایا ہے۔ ان سے روایات امام بخاری رحمہ اللہ نے درج ذیل مقامات پر فرمایا ہے، ایک کا ذکر ہم کر چکے ہیں، باقی پانچ احادیث یہ ہیں: ① «کتاب البیوع، رقم الحدیث: 2156، باب البیع والشراء مع النساء۔»
② «کتاب الوصایا، رقم الحدیث: 2746، باب إذا أومأ المریض برأسہ إشارۃ بینۃ جازت۔»
③ «کتاب المغازی، رقم الحدیث: 4048، باب غزوۃ أحد۔»
④ «کتاب العمرۃ، رقم الحدیث: 1778، باب کم أعتمر النبى صلى اللہ علیہ وسلم۔»
⑤ «کتاب الاستئذان، رقم الحدیث: 6296، باب إغلاق الأبواب باللیل۔»
کیوں کہ جو کچھ حدیث میں ہے وہ بھی اللہ ہی کا حکم ہے۔
یہ خطبہ آپ ﷺ نے اس وقت سنایا جب بریرہ ؓ کے مالک حضرت عائشہ ؓ سے یہ شرط لگاتے تھے کہ ہم بریرہ ؓ کو اس شرط پر بیچتے ہیں کہ اس کا ترکہ ہم لیں گے۔
اور اس شرط کے پورا کرنے کے بعد وہ آزاد ہوجائے گا۔
تو اگر وہ شرط پوری کردی گئی اب وہ آزاد ہو گیا۔
بریرہ ؓ نے بھی اپنے مالکوں سے ایسی ہی صورت طے کی تھی۔
جس کا ذکر انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے کیا۔
جس پر حضرت عائشہ ؓ نے یکمشت سارا روپیہ ادا کرنے کی پیش کش کی۔
اس شرط پر کہ بریرہ ؓ کی ولاءحضرت عائشہ ؓ ہی سے قائم ہو اور مالکوں کو اس بارے میں کوئی مطالبہ نہ رہے۔
ولاءکے معنی یہ کہ غلام آزاد ہونے کے بعد بھائی چارہ کا رشتہ اپنے سابقہ مالک سے قائم رکھے۔
خاندانی طور پر اسی کی طرف منسوب رہے۔
حتی کہ اس کے مرنے پر اس کے ترکہ کا حقدار بھی اس کا مالک ہی ہو۔
چنانچہ حضرت عائشہ ؓ کی پیش کش کو انہوں نے سلسلہ ولاءکے ختم ہوجانے کے خطرہ سے منظور نہیں کیا۔
جس پر آنحضرت ﷺ نے یہ خطبہ ارشاد فرما کر اس مسئلہ کی وضاحت فرمائی کہ یہ بھائی چارگی تو اس کے ساتھ قائم رہے گی۔
جو اسے خرید کر آزاد کرے نہ کہ سابق مالک کے ساتھ۔
چنانچہ حضرت عائشہ ؓ نے حضرت بریرہ ؓ کو خریدا اور آزاد کردیا، اور سلسلہ ولاءسابقہ مالک سے توڑ کر حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ قائم کر دیا گیا۔
اس حدیث سے بہت سے مسائل ثابت ہوتے ہیں۔
جن کا استخراج امام الفقہاءو المحدثین حضرت امام بخاری ؒ نے اپنی جامع الصحیح میں جگہ جگہ کیا ہے۔
امام شوکانی اس سلسلہ میں مزید وضاحت یوں فرماتے ہیں: أن النبي صلی اللہ علیه وسلم قد کان أعلم الناس أن اشتراط الولاءباطل و اشتهر ذلك بحیث لا یخفی علی أهل بریرة فلما أرادوا أن یشرطوا ما تقدم لهم العلم ببطلانه أطلق الأمر مریدا به التهدید کقوله تعالیٰ (اعملوا ماشتئم)
فکأنه قال اشترطي لهم الولاءفسیعلمون أن ذلك لا ینفعهم و یؤید هذا ما قاله صلی اللہ علیه وسلم ذلك ما بال رجال یشترطون شروطا الخ (نیل)
یعنی نبی کریم ﷺ خوب جانتے تھے کہ ولاء کی شرط باطل ہے اور یہ اصول اس قدر مشتہرہو چکا تھا کہ اہل بریرہ سے بھی یہ مخفی نہ تھا۔
پھر جب انہوں نے اس شرط کے بطلان کو جاننے کے باوجود اس کی اشتراط پر اصرار کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تہدید کے طور پر مطلق امر فرما دیا کہ بریرہ کو خرید لیا جائے، جیسا کہ قرآن آیت اعملوا ما شئتم (فصلت: 40)
میں ہے کہ تم عمل کرو جو چاہو۔
یہ بطور تہدید فرمایا گیا ہے۔
گویا آپ نے فرمایا کہ ان کے ولاءکی شرط لگا لو وہ عنقریب جان لیں گے کہ اس شرط سے ان کو کچھ فائدہ حاصل نہ ہوگا اور اس مفہوم کی تائید آپ ﷺ کے اس ارشاد سے ہوتی ہے جو آپ ﷺ نے فرمایا۔
کہ لوگوں کا کیا حال ہے وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ سے ثابت نہیں ہیں۔
پس ایسی جملہ شروط باطل ہیں، خواہ ان کو لگا بھی لیا جائے مگراسلامی قانون کی رو سے ان کا کوئی مقام نہیں ہے۔
(1)
ولاء اس تعلق کو کہتے ہیں جو کسی آزاد کردہ غلام اور اس کے آزا دکرنے والے کے درمیان قائم ہوتا ہے۔
اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غلام مرتے دم تک خاندانی طور پر اپنی نسبت اپنے محسن آزاد کرنے والے کی طرف کرتا ہے اور مرنے کے بعد اس کے ترکے کا حق دار بھی وہی محسن ہوتا۔
دور جاہلیت میں اس نسبت کا حق دار سابقہ مالک ہوتا تھا،خواہ آزاد کرنے والا کوئی دوسرا ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت بریرہ ؓ کے مالکان اسی شرط جاہلیت پر اصرار کرتے تھے جس کی رسول اللہ ﷺ نے برسرما تردیدد فرمائی۔
(2)
اس حدیث سے حضرت عائشہ ؓ کا حضرت بریرہ ؓ کو خریدنے کا ثبوت ملتا ہے اور عنوان کے ساتھ مطابقت بھی یہی ہے کہ عورتیں خریدوفروخت کرسکتی ہیں۔
اس میں شرعاً کو ئی قباحت نہیں ہے۔
(3)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے متعدد مسائل واحکام اخذ کیے ہیں جن کی موقع ومحل کے اعتبار سے وضاحت ہوتی رہے گی۔
(4)
اس روایت کے آخر میں حضرت بریرہ ؓ کے خاوند حضرت مغیث ؓ کے متعلق حضرت نافع نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ حضرت بریرہ ؓ کی آزادی کے وقت وہ غلام تھا یا آزاد،اسی طرح ایک روایت میں شعبہ نے اپنے شیخ عبدالرحمٰن بن قاسم سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے بھی فرمایا کہ مجھے علم نہیں۔
(صحیح البخاري، الھبة، حدیث: 2578)
البتہ حضرت ابن عباس ؓ نے صراحت بیان کی ہے کہ حضرت بریرہ ؓ کی آزادی کے وقت اس کا خاوند غلام تھا اور وہ اپنی شریکہ حیات کے فراق پر مدینے کے گلی کوچوں میں روتا اور آنسو بہاتا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کی اس کیفیت پر بڑے تعجب کا اظہار کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت بریرہ ؓ کو اسے بطور خاوند قبول کرنے کے متعلق مشورہ بھی دیا لیکن انھوں نے علیحدگی کو اختیار کیا۔
(صحیح البخاري، الطلاق، حدیث: 5283،5282)
وہ غلام تھا۔
لونڈی جب آزاد ہوجائے تو اس کو اپنے خاوند کی نسبت جو غلام ہو اختیار ہوتا ہے خواہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کردے۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ مغیث آزاد تھا مگر قسطلانی نے اس کے غلام ہونے کو صحیح کہا ہے۔
یہ مغیث بریرہ کی جدائی پر روتا پھرتا تھا۔
آنحضرت ﷺ نے بھی بریرہ ؓ سے سفارش فرمائی کہ مغیث کا نکاح باقی رکھے مگر بریرہ نے کسی طرح اس کے نکاح میں رہنا منظور نہیں کیا۔
(1)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ولاء اس شخص کے لیے ہے جو قیمت ادا کر کے اسے آزاد کرتا ہے۔
‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ولاء قابل انتقال حق نہیں ہے، یعنی فروخت اور ہبہ کرنے سے دوسرے کو منتقل نہیں ہو سکتا، عنوان کا یہی مقصد ہے۔
(2)
علامہ خطابی فرماتے ہیں: ولاء نسب کی طرح ہے، جس نے آزاد کیا ولاء اسی کا حق ہے، جیسے کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو تو نسب بھی اسی کا ثابت ہو گا۔
اگر وہ غیر کی طرف منسوب ہو تو اس کے والد سے یہ نسب منتقل نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح ولاء بھی اپنے محل سے منتقل نہیں ہو گی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’ولاء بھی نسب کی طرح ایسا رشتہ ہے جسے فروخت نہیں کیا جا سکتا اور نہ اسے بطور ہبہ ہی دیا جا سکتا ہے۔
‘‘ (صحیح ابن حبان، البیوع، حدیث: 4929)
کیوں کہ کبھی بیع میں کفالت کی شرط ہوتی ہے۔
کبھی ثمن میں یہ شرط ہوتی ہے کہ اس قسم کے روپے ہوں یا اتنی مدت میں دئیے جائیں یہ شرطیں صحیح ہیں۔
گو اللہ کی کتاب میں ان کا ذکر نہ ہو کیوں کہ یہ شرطیں مشروع ہیں۔
(1)
مکاتب کی شرائط یہ ہیں کہ وہ عاقل بالغ ہو اور عقد کتابت کو قبول کرے۔
اس میں کتابت کی رقم ذکر کی جائے کہ وہ یکمشت ادا ہو گی یا قسطوں میں ادا کی جائے گی۔
اس میں کوئی ایسی شرط نہ رکھی جائے جو کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور اجماع امت کے خلاف ہو۔
ایسی تمام شرائط ناقابل قبول ہوں گی۔
(2)
’’جو شرائط اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں‘‘ حافظ ابن حجر ؒ نے امام ابن خزیمہ ؒ کے حوالے سے اس کا مفہوم ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کا جواز یا وجوب ثابت نہ ہو۔
یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو شرط اللہ کی کتاب میں مذکور نہ ہو اس کا لگانا باطل ہے کیونکہ کبھی بیع میں کفالت کی شرط ہوتی ہے۔
کبھی قیمت میں یہ شرط ہوتی ہے، یعنی اس قسم کے روپے ہوں گے یا اتنی مدت میں ادا کیے جائیں گے، یہ شرطیں صحیح ہیں اگرچہ اللہ کی کتاب میں ان کا ذکر نہیں ہے۔
(فتح الباري: 232/5)
رسول کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی۔
یہ فتح مکہ کے سال اسلام لائے۔
حضرت بریرہ ؓ نے خود حضرت عائشہ ؓ سے اپنے کو خریدنے اور آزاد کردینے کی درخواست کی تھی۔
اسی سے مضمون کا باب ثابت ہوا۔
الحمد للہ کہ کعبہ شریف میں 5 اپریل (1970ء)
کو یہاں تک متن بخاری شریف کے پڑھنے سے فارغ ہوا۔
ساتھ ہی دعاءکی کہ اللہ پاک خدمت بخاری شریف میں کامیابی بخشے اور ان سب دوستوں بزرگوں کے حق میں اسے بطور صدقہ جاریہ قبول کرے جو اس عظیم خدمت میں خادم کے ساتھ ہر ممکن تعاون فرمارہے ہیں۔
جزاهم اللہ أحسن الجزاء في الدنیا والآخرہ۔
آمین سند میں ایمن ؒ کا نام آیا ہے۔
حافظ صاحب فرماتے ہیں۔
هو أیمن الحبشي المکي نزیل المدینة والد عبدالواحد وهو غیر أیمن بن نایل الحبشي المکي نزیل عسقلان وکلاهما من التابعین ولیس لوالد عبدالواحد في البخاري سوی خمسة أحادیث هذا وآخران عن عائشة وحدیثان عن جابر وکلها متابعة ولم یروعنه غیرولدہ عبدالواحد (فتح الباري)
(1)
اس حدیث کے مطابق حضرت بریرہ ؓ نے خود حضرت عائشہ ؓ سے درخواست کی کہ اسے خرید کر آزاد کر دیں۔
اس سے امام بخاری ؒ کا عنوان ثابت ہوتا ہے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ خریدوفروخت کے وقت اس طرح شرط لگانا جائز ہے اور عقد معاملہ کے منافی نہیں۔
یہ واقعہ اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے خریدنے سے مکاتبت کا معاہدہ خودبخود فسخ ہو گیا۔
(فتح الباري: 242/5) (2)
شادی شدہ لونڈی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عقد کتابت کر سکتی ہے اگرچہ اس کا نتیجہ ان میں جدائی اور فراق ہو، نیز وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر آزادی حاصل کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ شارح بخاری ابن بطال کے قول کے مطابق بعض متاخرین نے حدیث بریرہ سے سو سے زائد مسائل کا استنباط کیا ہے۔
امام نووی ؒ کہتے ہیں کہ امام ابن خزیمہ اور امام ابن جریر نے اس حدیث کے متعلق مستقل کتابیں تصنیف کی ہیں۔
بعض حضرات نے حدیث بریرہ کے فوائد چار سو تک پہنچا دیے ہیں لیکن تکلف سے کام لیا گیا ہے۔
امام بخاری ؒ نے "کتاب المکاتب" کے جملہ مسائل اسی ایک حدیث سے اخذ کیے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت سے نوازا ہے۔
امید ہے کہ قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ انہیں رسول اللہ ﷺ کی رفاقت و معیت نصیب فرمائے گا۔
بندۂ عاجز بھی اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت کا طلبگار اور اس کی مغفرت کا امیدوار ہے۔
حضرت بریرہ ؓ تین شرعی احکام کا ذریعہ بنیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ غلام لونڈی کی ولاء کا حقدار وہی ہے جو اسے آزاد کرے۔
٭ صدقے کی چیز جب کوئی غریب کسی کو ہدیہ دے تو وہ صدقہ نہیں رہتا بلکہ اس کا حکم بدل جاتا ہے۔
٭ غلامی سے نجات پا کر شادی شدہ لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ خاوند سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے بشرطیکہ اس کا خاوند غلام ہو۔
بہرحال اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اسے اپنے استعمال میں لاتے تھے۔
امام بخاری ؒ نے خریدوفروخت میں شرط کے جائز یا ناجائز ہونے کی وضاحت نہیں کی بلکہ اسے مطلق رکھا ہے کیونکہ اس میں اختلاف ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اسے خرید لو اور ان کے لیے ولا کی شرط بھی کر لو۔
بلاشبہ ولا تو اسی کی ہے جس نے آزاد کیا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2168)
اس روایت کے مطابق اگر خریدوفروخت کرتے وقت کوئی ناجائز شرط رکھی گئی تو بیع صحیح اور شرط باطل ہو گی جبکہ بعض فقہاء کے ہاں بیع اور شرط دونوں باطل ہوں گی۔
اس طرح یہ حدیث عنوان کے مطابق ہو گی۔
(عمدة القاري: 611/9)
حضرت بریرہ ؓ نے اپنے مالکان سے مکاتبت کا معاہدہ کر رکھا تھا۔
اس نے ام المومنین عائشہ ؓ سے عرض کی کہ وہ اسے خرید لیں لیکن یہ شرط رکھی کہ خریدنے کے بعد اسے آزاد کرنا ہو گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ مکاتب اس شرط پر فروخت ہونے کے لیے راضی ہو جائے کہ اسے خرید کر آزاد کر دیا جائے گا تو ایسا کرنا جائز ہے۔
شرعاً اس میں کوئی خرابی نہیں ہے، البتہ غلط شرائط کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے وہ ہرگز قابل تسلیم نہ ہوں گی جیسا کہ حضرت بریرہ ؓ کے مالکان نے ایک غلط شرط لگائی تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے اس شرط کو کالعدم قرار دیا۔
«. . . عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ عَتَقَتْ فَخُيِّرَتْ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبُرْمَةٌ عَلَى النَّارِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" لَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ؟" فَقِيلَ: لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، قَالَ:" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ . . .»
”. . . عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ کے ساتھ تین سنت قائم ہوتی ہیں، انہیں آزاد کیا اور پھر اختیار دیا گیا (کہ اگر چاہیں تو اپنے شوہر سابقہ سے اپنا نکاح فسخ کر سکتی ہیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں) فرمایا کہ ولاء آزاد کرانے والے کے ساتھ قائم ہوئی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو ایک ہانڈی (گوشت کی) چولہے پر تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (چولہے پر) ہانڈی (گوشت کی) بھی تو میں نے دیکھی تھی۔ عرض کیا گیا کہ وہ ہانڈی اس گوشت کی تھی جو بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور اب ہمارے لیے ان کی طرف سے تحفہ ہے۔ ہم اسے کھا سکتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ: 5097]
باب اور حدیث میں مناسبت:
ترجمتہ الباب کے ذریعے امام بخاری رحمہ اللہ نے آزاد عورت کا نکاح غلام مرد سے جائز ہونا قرار دیا ہے اور اس مسئلے پر اشارہ بھی فرمایا ہے، لیکن تحت الباب جو حدیث ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پیش فرمائی ہے اس میں غلام خاوند کا کوئی ذکر نہیں ہے، لہٰذا بظاہر باب اور حدیث میں مناسبت نہیں دکھائی دیتی۔
ابن المنیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «قلت: رضي الله عنك! ليس فى حديث بريرة هذا ما يدل أن زوجها كان عبداً.»
”حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کی جو حدیث نقل فرمائی ہے اس میں یہ واضح نہیں ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند (سیدنا مغیث) غلام تھے۔“
مزید فرماتے ہیں کہ: «وقد خرج حديثها أتم من هذا، وفيه التصريح بأنه عبد.» [المتوري: ص 290]
”یقیناً امام بخاری رحمہ اللہ نے (دوسری حدیث) نکالی ہے، جو اس سے مکمل ہے، جس میں صراحت کے ساتھ واضح ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند مغیث رضی اللہ عنہ غلام تھے۔“
دراصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرتے وقت سیدنا مغیث رضی اللہ عنہ آزاد تھے یا غلام؟ بعض روایات سے ان کا آزاد ہونا ثابت ہوتا ہے اور بعض روایات کے مطابق ان کا غلام ہونا۔
ترجمۃ الباب کے ذریعے امام بخاری رحمہ اللہ کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ غلام تھے۔
چنانچہ زکریا کاندھلوی لکھتے ہیں: «وميل المصنف الي مسلك الجمهور وقد ترجم فيما سياتي ”باب خيار الأمة تحت العبد“» [الابواب و التراجم لصحیح البخاری: 482/5]
امام بخاری رحمہ اللہ کا میلان جمہور کے مسلک کی طرف ہے، (کہ سیدنا مغیث رضی اللہ عنہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی آزادی کے وقت غلام تھے) اور یقیناً امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمتہ الباب قائم فرمایا اس بارے میں میں کہ: «باب خيار الأمة تحت العبد»
علامہ بدر الدین بن جماعۃ رحمہ اللہ ترجمتہ الباب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے فرماتے ہیں: «ليس فى الروايه التى ذكرها ان مغيثاً كان عبداً لكنه صح ذالك من طريق أخريٰ اانه كان عبداً وقد خيرها النبى صلى الله عليه وسلم فدل على جواز الحرة تحت العبد.» [مناسبات تراجم البخاري: ص 98]
اس روایت میں تصریح موجود نہیں ہے کہ سیدنا مغیث رضی اللہ عنہ غلام تھے، (تو پھر باب اور حدیث میں مناسبت کس طرح؟) لیکن صحیح یہ ہے کہ جو دوسرے طریق سے ثابت ہے کہ وہ غلام تھے، یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا تھا، (کہ وہ مغیث سے نکاح قائم رکھیں، یا پھر ختم کر دیں) پس یہ جواز ہے کہ آزاد کے نکاح میں غلام شوہر رہ سکتا ہے، لہٰذا یہی سے ترجمہ ترجمتہ الباب اور حدیث میں مناسبت ہو گی۔
(1)
حضرت بریرہ رضی اللہ عنہما کو جب آزادی ملی تو انھیں اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں تو اپنے شوہر سے اپنا نکاح فسخ کرسکتی ہیں اور اگر چاہیں تو اس کے ہاں رہ سکتی ہیں۔
یہ اختیار اس بنا پر دیا گیا کہ آزادی کے وقت ان کا شوہر غلام تھا جیسا کہ ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے۔
(صحيح البخاري، الطلاق، حديث: 5282)
جب حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا گیا تو انھوں نے اپنے خاوند مغیث سے علیحدگی کو اختیار کیا، وہ گلی کوچوں میں ان کے پیچھے روتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفارش فرمائی: ’’تم اسے خاوند کی حیثیت سے قبول کرلو۔
‘‘ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر آپ کا حکم ہے تو سر آنکھوں پر، اگر سفارش ہے تو میں معذرت کرتی ہوں۔
آپ نے اس کا برا نہ منایا۔
(صحيح البخاري، الطلاق، حديث: 5283)
اگر آزاد عورت کا غلام کے نکاح میں رہنا ناجائز ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی سفارش کیوں فرماتے؟ (2)
اس سفارش سے امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے کہ آزاد عورت کا غلام کے نکاح میں رہنا جائز ہے۔
اس کی تفصیل ہم کتاب الطلاق میں بیان کریں گے۔
بإذن الله تعاليٰ
«. . . عن عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم انها قالت: كان فى بريرة ثلاث سنن، فكانت إحدى السنن الثلاث انها اعتقت فخيرت فى زوجها. وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الولاء لمن اعتق. . .»
”. . . نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں تین سنتیں ہیں ان تین میں سے ایک سنت یہ ہے کہ جب وہ آزاد کی گئیں تو انہیں اپنے خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا (جو کہ غلام تھے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشتہَ ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 288]
تفقہ:
➊ لونڈی جب آزاد ہو جائے تو اسے اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ اپنے سابقہ خاوند کے ساتھ رہے یا جدا ہو جائے بشرطیکہ لونڈی کی آزادی کے بعد خاوند نے (اس کی مرضی سے) اس کے ساتھ جماع نہ کیا ہو۔
➋ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آزاد شدہ لونڈی کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک اس کا سابق خاوند اسے چھو نہ لے۔ [موطأ امام مالك 2/562 ح1224، وسنده صحيح]
➌ اگر کوئی فقیر مسکین صدقے یا زکوٰۃ کے مال کا مالک ہو جائے اور پھر وہ اس میں سے کسی امیر کو تحفہ دے تو یہ مال اس امیر کے لئے حلال ہوجاتا ہے۔
➍ مالدار اور ہٹے کٹے کمانے والے شخص کے لئے صدقہ و خیرات اور زکواۃ حلال نہیں بلکہ حرام ہے۔
➎ اگر کوئی چیز کسی خاص علت کی وجہ سے حرام ہو اور پھر وہ علت ختم ہو جائے تو وہ چیز حرام نہیں رہتی۔
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل و اولاد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یہ حکم فرض و واجب صدقات کے بارے میں ہیں اور نفلی صدقہ جائز ہے۔ واللہ اعلم
➐ رشتۂ ولاء کا مطلب ہے مولیٰ ہونا۔
➑ گھر میں اگر پسندیدہ کھانا موجود ہے تو گھر سے طلب کرنا جائز ہے۔
➒ فقراء و مساکین کو صدقات دینا اہل ایمان کا وطیرہ ہے۔
➓ گھر میں کھانا پکانے اور پینے پلانے والے برتن رکھنا جائز ہے۔
تابعین میں سے سعید بن مسیب اور حسن اور مجاہد بھی اسی کے قائل ہیں۔
عروہ نے کہا طلاق خریدارکے اختیار میں رہے گی۔
حدیث سے باب کا مطلب یوں نکلا کہ جب آپ نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد ہونے کے بعد اختیار دیا کہ اپنے خاوند کو رکھ یا جدا ہو جا۔
تو معلوم ہوا کہ کہ لونڈی کا آزاد ہونا طلاق نہیں ہے ورنہ اختیار کے کیا معنی ہوتے اور جب آزادی طلاق نہیں ہوتی تو بیع بھی طلاق نہ ہوگی۔
حضرت ا مام بخاری رحمہ اللہ کی باریکی استنباط اور تفقہ کی دلیل ہے۔
بے وقوف ہیں وہ جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت کے قائل نہیں ہیں۔
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ مجتہد مطلق اور فقہ الحدیث میں امام الفقہاء ہیں۔
گر نہ بیند بر وز شپرئہ چشم چشمہ آفتاب راجہ گناہ
(1)
ایک روایت میں ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں چار مسئلے معلوم ہوئے: ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد عورت کی طرح عدت گزارنے کا حکم دیا۔
(مسند Eحمد: 361/1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو تین حیض بطور عدت گزارنے کا حکم دیا گیا۔
(سنن ابن ماجة، الطلاق، حدیث: 2077)
جب حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئیں تو انھیں اپنے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا، اگر محض بیع سے طلاق واقع ہو جاتی تو اختیار دینے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔
اختیار دینے کا مطلب ہے کہ وہ ابھی اپنے خاوند کے نکاح میں ہے، جب آزاد ہونے سے طلاق واقع نہیں ہوتی تو بیچنے سے بطریق اولی طلاق نہیں ہوگی۔
(2)
بہرحال منکوحہ لونڈی کا مالک حق طلاق سے محروم ہے۔
اسے طلاق دینے کا اختیار اس کے خاوند کو ہے جو فروخت کرنے سے ختم نہیں ہوگا۔
والله اعلم
انہیں ان کے شوہر کے متعلق اختیار دیا گیا (کہ چاہیں ان کے پاس رہیں اور اگر چاہیں ان سے اپنا نکاح توڑ لیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس باب کو بلا عنوان رکھا ہے کیونکہ یہ پہلے باب سے متعلق ہے۔
یہ حدیث کئی مرتبہ پہلے گزر چکی ہے اور اس سے بے شمار فقہی احکام ثابت ہوتے ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بہت سے احکام کی نشاندہی کی ہے جو آٹھ صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔
اہل علم حضرات کو ان کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔
اس سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے اسلاف کس قدر وسعت علم رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے ساتھ جنت الفردوس میں جمع کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے سالن کے بجائے گوشت کو پسند فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ آپ کو گوشت پسند تھا۔
دنیا اور آخرت میں گوشت تمام سالنوں کا سردار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے آپ کی دعوت کی تو انہوں نے ایک بکری ذبح کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’گویا تجھے معلوم ہے کہ ہمیں گوشت محبوب ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 303/3)
اور جن اسلاف سے گوشت پر دوسری اشیاء کی ترجیح منقول ہے، اس سے مراد ان کی قناعت پسندی ہے تاکہ انسان عمدہ چیزوں کا عادی نہ بن جائے۔
بہرحال گوشت ایک بہترین سالن ہے اگر کوئی اسراف و تبذیر سے بالاتر ہو کر اس کا اہتمام کرتا ہے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(فتح الباري: 688/9)
ولاء اس تعلق کو کہتے ہیں جو مالک اور غلام کے درمیان قائم ہوتا ہے۔
جب غلام مر جاتا ہے تو اس کا ترکہ ولاء کی وجہ سے مالک کو ملتا ہے۔
اگر کوئی کسی مالک سے خرید کر اسے آزاد کرتا ہے تو ولاء آزاد کرنے والے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔
اگر کفارۂ قسم میں کوئی غلام کسی سے خرید کر آزاد کرتا ہے تو اس صورت میں بھی ولاء اس کی ہو گی جو اسے آزاد کرتا ہے۔
اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
واللہ أعلم
(1)
اس حدیث کے مطابق ولا کا حق آزاد کرنے والے کو دیا گیا ہے۔
یہ ایک ایسا تعلق ہے جسے اپنی مرضی سے ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ نسب کی طرح ہے جسے ہبہ یا فروخت بھی نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اگر کوئی اپنے غلام سے کہتا ہے کہ تو سائبہ کے طور پر آزاد ہے، تو اپنا مال جہاں چاہے رکھ لے، تیری ولا کا تعلق کسی سے نہیں ہوگا تو یہ فضول حرکات ہیں، اصل ضابطے پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے یہی ثابت کیا ہے کہ سائبہ کی رسم دور جاہلیت کی یاد گار ہے، اصل ضابطے کے مطابق ولا کا تعلق اسی شخص سے قائم ہوگا جس نے اسے آزاد کیا ہے، اس کے ختم کرنے سے یہ تعلق ختم نہیں ہوگا۔
واللہ أعلم
(1)
اہل کوفہ کا موقف ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ہاتھوں مسلمان ہوتا ہے، پھر مر جاتا ہے اور اس کا کوئی دوسرا وارث نہیں ہے تو اس کی جائیداد کا وہی حق دار ہے جس کے ہاتھوں اس نے اسلام قبول کیا۔
اس سلسلےمیں حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی جاتی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی آدمی دوسرے کے ہاتھوں اسلام قبول کر کے مرجائے تو اسلام میں اس کی جائیداد کا وارث کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’وہی اس کی زندگی اور موت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
‘‘ لیکن اس روایت کو کئی محدثین نے ضعیف کہا ہے، چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث ثابت نہیں ہے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے جمہور اہل علم کی تائید میں دور روایات پیش کی ہیں جن میں ہے کہ ولا کا حق دار وہی ہے جو کسی کو آزاد کرتا ہے۔
اس حدیث میں "لام" اختصاص کے لیے ہے، یعنی ولا اس شخص کے ساتھ خاص ہے جو آزاد کرے اور اس کے متعلق مال خرچ کرے۔
(3)
حاصل کلم یہ ہے کہ جو کوئی دوسرے کے ہاتھوں اسلام قبول کر کے فوت ہو جائے، اس کی ولا اس شخص کے لیے نہیں ہے جس کے ہاتھوں اس نے اسلام قبول کیا ہے کیونکہ ولا تو آزاد کرنے والے کے ساتھ خاص ہے۔
واللہ أعلم
(1)
''ولي النعمة'' کا مطلب یہ ہے کہ قیمت ادا کرنے کے بعد اس غلام یا لونڈی کو آزاد کر دیا جائے۔
ولا کا استحقاق آزادی سے پیدا ہوتا ہے۔
یہ استحقاق جہاں آزاد کرنے والے مرد کے لیے ہے وہاں آزاد کرنے والی عورت کے لیے بھی ہے، لہٰذا اگر مرد اور عورت دونوں مل کر غلام آزاد کریں تو دونوں کے لیے ولا ثابت ہوگی۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن بطال کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ حدیث اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ولا کا حق دار غلام کو آزاد کرنے والا ہے، خواہ وہ مرد ہویا عورت، اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔
(فتح الباري: 58/12)
چونکہ ان مسائل کا عملی طور پر کوئی وجود نہیں ہے صرف نظری طور پر پڑھے پڑھائے جاتے ہیں، اس لیے ہم ان کی تفصیل ذکر نہیں کرتے۔
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ . . .»
”ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کا ذکر ہر وقت کیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 18]
کسی بھی مسلمان کو مرد ہو یا عورت کسی حال میں بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہیں رہنا چاہئیے (سوائے بیت الخلاء وغیرہ کے) باوضو ہو یا بےوضو، طاہر ہو یا جنبی۔ قرآن مجید بھی اللہ کا ذکر ہے مگر حالت جنابت میں ناجائز ہے۔ خواتین کو بھی ایام مخصوصہ میں عام ذکر اذکار کی پابندی کرنی چاہیے۔ مگر ان کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کے مسئلہ میں اختلاف ہے۔ امام مالک، طبری، ابن المنذر، داؤد اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہم کا میلان مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں یہ ہے کہ مباح اور جائز ہے۔ بالخصوص ایسی خواتین جو قرآن مجید کی حافظہ ہوں یا علوم شرعیہ کے درس و تدریس سے متعلق ہوں ان کے لیے یہ تعطل انتہائی حارج ہوتا ہے۔ جبکہ جنابت کا حدث بہت مختصر وقت کے لیے ہوتا ہے۔ اگرچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ جنبی کے لیے بھی تلاوت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [صحيح البخاري وفتح الباري، كتاب الحيض، باب تقضي الحائض المناسك كلها....]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر وقت کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 302]
تمام اوقات سے مراد یہ ہے کہ خواہ باوضو ہو یا نہ ہوں اللہ کا ذکر فرماتے تھے۔
یعنی زبانی ذکر کے لیے طہارت کا وہ اہتمام ضروری نہیں جو نماز وغیرہ کے لیے ضروری ہے۔
تمام اوقات کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح نماز کے لیے بعض اوقات مکروہ ہیں اللہ کے ذکر کے لیے اس طرح کوئی وقت مکروہ نہیں۔
(2)
بعض علماء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ تلاوت قرآن مجید کے لیے جس طرح حدث اصغر سے پاک ہونا یعنی باوضو ہونا ضروری نہیں۔
اسی طرح حدث اکبر یعنی جنابت سے پاک ہونا بھی شرط نہیں۔
کیونکہ قرآن مجید بھی ذکر ہے۔
لیکن اولاً تو اللہ کے ذکر کا متبادر مفہوم سُبْحَانَ اللهِ، اَلحَمدُلِلهِ وغیرہ جیسے اذکار ہیں جن کے زبان سے ادا کرنے کو تلاوت قرآن نہیں سمجھاجاتا۔
ثانیاً حالت جنابت میں تلاوت ممنوع ہونے کی متعدد احادیث مروی ہیں۔
جو اگرچہ الگ الگ ضعیف ہیں لیکن علماء کے ایک گروہ کے نزدیک باہم مل کر وہ قابل استدلال ہوجاتی ہیں کیونکہ ان کا ضعف شدید نہیں اس لیے ان کے نزدیک احتیاط اس میں ہے کہ جنابت کی حالت میں تلاوت سے حتی الامکان اجتناب کیا جائے الا یہ کہ کوئی ناگزیر صورت پیش آجائے۔
لیکن علماء کا ایک دوسرا گروہ جس میں امام بخاری ؒ امام ابن تیمیہ ؒ اور امام ابن حزم ؒ جیسے حضرات بھی شامل ہیں کہتا ہے کہ ممانعت کی تمام احادیث ضعیف ہیں، اس لیے جنبی اور حائضہ بھی قرآن مجید کی تلاوت کرسکتے ہیں۔
واللہ أعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3384]
وضاحت:
1؎:
سبھی اوقات سے یہ اوقات مستثنیٰ ہیں مثلاً: پاخانہ، پیشاب کی حالت اور جماع کی حالت، کیوں کہ ان حالات میں ذکر الٰہی نہ کرنا، اسی طرح ان حالتوں میں موذن کے کلمات کا جواب نہ دینا اور چھینک آنے پر (اَلحَمدُ لِلّٰه) نہ کہنا اور سلام کا جواب نہ دینا بہتر ہے۔
«وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: كل واشرب والبس وتصدق فى غير سرف ولا مخيلة. اخرجه ابو داود واحمد وعلقه البخاري.»
”عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا (عبد اللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھا، پی، پہن اور صدقہ کر جس میں فضول خرچی نہ ہو اور تکبر نہ ہو۔“ اسے ابوداود اور احمد نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیقًا (دانستہ سند حذف کر کے) روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1251]
[بخاري تعليقًا اللباس باب Q5783]، [احمد 181/2، 182]، [ابو داود؟]
مفردات:
«سَرَفٌ» اور «إِسْرَافٌ» کسی بھی قول یا فعل میں حد سے گزرنا، خرچ میں حد سے تجاوز کرنے میں یہ لفظ زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے مقتول کے وارثوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: «فَلَا يُسْرِف فِّي الْقَتْلِ» قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے اور فرمایا: «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا» ”کھاؤ پیو اور حد سے نہ بڑھو۔“ [فتح]
«مخيلةٌ» مصدر میمی ہے بروزن «مفعلة خيلاء» کا ہم معنی ہے یعنی تکبر۔ آدمی جب اپنے آپ میں کسی خوبی کا خیال جما لیتا ہے تو یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ تخیل نفس میں کسی چیز کے خیال کی نقش بندی کو کہتے ہیں۔ [راغب]
فوائد:
➊ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے دنیا کی ہر طیب چیز حلال فرما دی ہے کھانے کی ہو یا پینے کی ہو یا رہنے کی یا کوئی سواری ہو۔ صرف وہ چیزیں حرام فرمائیں جو خبیث ہیں اور انسان کے جسم یا عقل یا مال یا عزت یا دین کے لیے نقصان دہ ہیں کیونکہ یہ پانچوں چیزیں انسان کی عزیز ترین چیزیں ہیں اور ان کی حفاظت ضروری ہے۔
«وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ» [7-الأعراف:157]
”وہ پاکیزہ چیزیں ان کے لئے حلال کرتا ہے اور گندی چیزیں ان پر حرام کرتا ہے۔“
➋ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا کی ہر مباح چیز انسان استعمال کر سکتا ہے اور جتنی چاہے استعمال کر سکتا ہے یہ نہیں کہ فلاں تو کر سکتا ہے اور فلاں نہیں اور اتنی کر سکتا ہے اور اتنی نہیں: «هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا» [2-البقرة:29]
”وہی ذات ہے جس نے دنیا کی سب چیزیں تمہارے لیے بنائیں۔“
«قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّـهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ» [7-الأعراف:32]
”تو کہہ جس زینت کو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا اس کو اور پاکیزہ رزق کو کس نے حرام کیا ہے۔“
➌ یہ حلال چیزیں اس وقت ناجائز ہوں گی جب وہ ضرورت کی حد سے تجاوز کر جائیں مثلاً اتنا کھانا یا پینا جو جسم کے لئے وبال بن جائے اور صحت کو نقصان پہنچائے یا کھانے پینے یا صدقہ کرنے میں اتنا خرچ کر دینا جو استطاعت سے زیادہ ہو پھر زیربار ہو کر پریشان رہنا یا کھانے پینے، پہننے یا صدقہ کرنے میں نمود و نمائش اور لوگوں سے اونچا ہونے کا مقصد دل میں رکھنا ان سب چیزوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: ➍ کھانے پینے کی حد جس سے گزرنا نہیں چاہئیے ترمذی کی ایک حدیث میں بیان ہوئی ہے مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ما ملا آدمي وعاء شرا من بطن بحسب ابن آدم اكلات يقمن صلبه فإن كان لا محالة فثلث لطعامه وثلث لشرابه وثلث لنفسه»
”کسی آدمی نے کوئی برتن نہیں بھرا جو پیٹ سے زیادہ برا ہو ابن آدم کے لئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں پس اگر اسے (زیادہ کھائے بغیر) کوئی چارہ ہی نہ ہو تو تیسرا حصہ کھانے کے لئے ہے اور تیسرا پینے کے لئے اور تیسرا سانس کے لیے۔“ [ترمذي/الزهد 47 حديث صحيح ديكهيے صحيح الترمذي 1939]
اگر زیادہ دیر کا بھوکا پیاسا ہو تو زیادہ بھی کھا پی سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سخت بھوک کے بعد بار بار دودھ پینے کے لیے کہا یہاں تک کہ انہوں نے کہا «لا والذي بعثك بالحق ما اجد له مسلكا» اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس کے داخل ہونے کے لئے (پیٹ میں) کوئی جگہ نہیں پاتا۔ [صحيح بخاري 6452]
➎ لباس میں حد سے گزرنا یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو یا ریشم کا ہو یا عورتوں کے مشابہ ہو یا اس میں کفار سے مشابہت ہو۔
➏ صدقے میں اسراف کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا» [17-الإسراء:29]
”اور نہ اپنے ہاتھ کو گردن کی طرف طوق سے بندھا ہوا بنا لو اور نہ اسے پورا ہی کھول دو ورنہ اس حال میں بیٹھ رہو گے کہ ملامت کئے ہوئے تھک کر رہ جانے والے ہو گے۔“
حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں صدقہ کے علاوہ کھانے پینے، پہننے اور دوسرے کاموں میں خرچ کی وہ حد بیان کی گئی ہے جس سے آدمی بڑھتا ہے تو اسراف میں داخل ہو جاتا ہے۔
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کھا، پی اور لباس پہن اور صدقہ کر لیکن اسراف اور فخر کے بغیر۔ “ اس کو ابوداؤد اور احمد نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے معلق بیان کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1251»
«أخرجه أحمد:2 /181، 182«والترمذي الأدب، حديث:2819 بلفظ آخر وحديثه صحيح» ، والنسائي، الزكاة، حديث:2560، وابن ماجه، اللباس، حديث:3605، والبخاري تعليقًا، اللباس، قبل حديث:5783، قتادة مدلس عنعن.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے‘ نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اپنی صحیح میں اسے تعلیقاً بیان کیا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱۱ /۲۹۴‘ ۲۹۵‘ وھدایۃ الرواۃ:۴ /۲۱۷‘ ۲۱۸) 2. اس حدیث میں اسراف اور تکبر سے منع کیا گیا ہے‘ خواہ اس کا تعلق کھانے پینے سے ہو‘ لباس سے ہو یا صدقہ و خیرات سے۔
یہ دونوں بہر آئینہ ناجائز ہیں کیونکہ کسی بھی چیز میں اسراف‘ جسم وجان اور معیشت کے لیے ضرر رساں ہوتا ہے اور انسان کو ہلاکت کے دہانے پر پہنچا دیتا ہے اور اس سے انسان کا نفس برباد ہو جاتا ہے۔
اور تکبر بھی انسان میں چونکہ خود پسندی اور اتراہٹ پیدا کرتا ہے‘ اس لیے یہ بھی دنیا و آخرت میں نقصان دہ ہے۔
آخرت کے اعتبار سے تو اس طرح کہ انسان کبیرہ گناہ کا مرتکب ٹھہرتا ہے اور دنیا میں اس طرح کہ ایسا انسان لوگوں کی نظروں میں مبغوض اور حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔
(1)
کپڑا گھسیٹ کر چلنا انتہائی معیوب ہے۔
اس میں چادر، قمیص، شلوار، جبہ، کوٹ اور پگڑی وغیرہ شامل ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’حد سے زیادہ کپڑا لٹکانا تہ بند، قمیص اور پگڑی تمام میں ممنوع ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4094)
یہ اسراف ہے اور تکبر کی علامت قرار دیا گیا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا تھا: ’’ٹخنوں سے نیچے چادر لٹکانے سے بچنا کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4084)
البتہ عورتوں کو ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کی اجازت ہے۔
(2)
گویا اس انداز میں نسوانیت کا پہلو بھی ہے جو مردوں کو زیب نہیں دیتا۔
مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنے لباس میں مردانہ صفات کا اظہار کریں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ تہ بند اور شلوار وغیرہ ٹخنوں سے اونچی ہو۔
اس کی مزید وضاحت آئندہ ہو گی۔
بہرحال مسلمانوں کو اپنے لباس میں اسراف اور تکبر سے بچنا چاہیے۔
واللہ أعلم
«. . . عَنْ عَطَاءٍ،" أَنَّهُ كَرِهَ الْوُضُوءَ بِاللَّبَنِ وَالنَّبِيذِ، وَقَالَ: إِنَّ التَّيَمُّمَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهُ . . .»
”. . . عطاء سے روایت ہے کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے: اس سے تو مجھے تیمم ہی زیادہ پسند ہے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 86]
➊ پانی میں کوئی پاک چیز مل جائے تو اس کے پاک رہنے میں کوئی شبہ نہیں، مگر لازمی ہے کہ اس اختلاط سے پانی پانی ہی رہے۔ اگر وہ مائع پانی کے بجائے شربت، لسی یا شوربے وغیرہ سے موسو م ہو جاتا ہے تو وہ پانی نہ رہا اور اس سے وضو یا غسل کا کوئی معنیٰ نہیں۔
➋ ’’نبیذ‘‘ عرب کا خاص مشروب ہے جو وہ خشک کھجور یا منقیٰ کو پانی میں بھگوئے رکھنے سے تیار کرتے تھے جیسے ہمارے ہاں املی اور آلو بخارے سے شربت بنایا جاتا ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں کی طرح جنوں کی طرف بھی مبعوث کیے گئے تھے، کئی ایک مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تبلیغ اور وعظ بھی فرمایا تھا۔ قرآن مجید میں سورہ جن بالخصوص اس مسئلے کو واضح کرتی ہے۔
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " . . . .»
”. . . عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پینے کی ہر وہ چیز جو نشہ لانے والی ہو حرام ہے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ لاَ يَجُوزُ الْوُضُوءُ بِالنَّبِيذِ وَلاَ الْمُسْكِرِ:: 242]
نبیذ کھجور کے شربت کو کہتے ہیں جو میٹھا ہو اور اس میں نشہ نہ آیا ہو۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے وضو جائز رکھا ہے جب پانی نہ ملے اور امام شافعی و امام احمد و دیگر جملہ ائمہ اہل حدیث کے نزدیک نبیذ سے وضو جائز نہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ حسن کے اثر کو ابن ابی شیبہ نے اور ابوالعالیہ کے اثر کو دارقطنی اور عطاء کے اثر کو ابوداؤد نے موصولاً روایت کیا ہے۔ حدیث الباب کا مقصد یہ ہے کہ نشہ آور چیز حرام ہوئی تو اس سے وضو کیوں کر جائز ہو گا۔
حضرت امام ابوحنیفہ ؒ نے اس سے وضو جائز رکھا ہے، جب پانی نہ ملے اور امام شافعی وامام احمد ودیگر جملہ ائمہ اہل حدیث کے نزدیک نبیذ سے وضو جائز نہیں۔
امام بخاری ؒ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔
حسن کے اثر کو ابن ابی شیبہ نے اور ابوالعالیہ کے اثر کو دارقطنی اور عطاء کے اثر کو ابوداؤد نے موصولاً روایت کیا ہے۔
حدیث الباب کا مقصد یہ ہے کہ نشہ آور چیز حرام ہوئی تو اس سے وضو کیوں کر جائز ہوگا۔
1۔
پانی میں شامل ہونے والی چیزیں دوطرح کی ہوتی ہیں: ناپاک اور پاک۔
پھر پاک کی دوقسمیں ہیں: ایک وہ جو پاک ہونے کے باوجود قابل نفرت ہوتی ہیں، جیسے تھوک یا بلغم وغیرہ۔
دوسری وہ جو قابل نفرت نہیں ہوتیں، جیسے کھجور وغیرہ۔
امام بخاری ؒ کا فیصلہ ہے کہ اگر پانی میں کوئی ناپاک چیز شامل ہوگئی اور اس نے تغیر پیدا کردیا تو اس سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے۔
اور پاک مگر قابل نفرت چیزوں کے متعلق اس سے پہلے باب میں وضاحت کرآئے ہیں۔
اب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر پانی میں کوئی چیز مل جائے جوپاک ہونے کے ساتھ ساتھ قابل نفرت نہ ہو اور اس نے پانی کے تینوں اوصاف میں سے کوئی وصف بدل دیا اس پر پانی کا اطلاق نہ ہوسکے تو اس سے وضو جائز نہیں۔
امام بخاری ؒ کا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ اگر پانی میں ملنے والی کسی چیز سے نہ پانی کا نام بدلا اور نہ اس کے اوصاف ہی میں کوئی تبدیلی آئی، ایسی صورت میں اس سے وضو کرنا ناجائز نہیں ہوگا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے حدیث عائشہ ؓ کو بیان فرمایا ہے کہ ہروہ مشروب جو نشہ آور ہوحرام ہے۔
وضو ایک عبادت ہے جس میں کسی حرام چیز کو استعمال نہیں کیا جاسکتا، لہذا نشہ آور چیز سے وضو کرنا حرام ہے۔
امام بخاری ؒ کا استدلال بایں طور ہے کہ سکر(نشہ آورچیز)
میں تعمیم ہے: سکر بالفعل ہو، جیسے شراب وغیرہ یا بالقوہ ہو، جیسے نبیذ وغیرہ، ان سے وضو کرنا درست نہیں ہے۔
نبیذ میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ اگر سے زیادہ دیر تک رکھا جائے یا اسے زیادہ جوش دیا جائےتو اس میں نشہ پیدا ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ نبیذ تیار ہوجانے کے بعد اس سے لفظ’’پانی‘‘ زائل ہوجاتا ہے، یعنی اس پر پانی کالفظ نہیں بولا جاتا جبکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾’’جب تم پانی نہ پاؤ تو پاکیزہ مٹی سے تیمم کرلو۔
‘‘(المائدہ۔
5۔
6)
امام بخاری ؒ نے اس سے بھی استدلال کیا ہے کہ نبیذ کی موجودگی میں تیمم تو ہوسکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس پانی نہیں۔
واضح رہے کہ جن روایات میں نبیذ سے وضو کرنے کی اجازت مروی ہے وہ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتیں، لہٰذا انھیں بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔
3۔
امام تدبر نے اس مقام پر بھی تدبر سے کام نہیں لیا اور جھٹ سے امام بخاری ؒ پراعتراض جڑ دیا ہے، ملاحظہ فرمائیں: ’’معلوم نہیں اس باب کے باندھنے کی کیا ضرورت تھی؟ پانی کے علاوہ کسی اور چیز سے وضو کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
‘‘(تدبرحديث: 334/1)
فقہائے احناف نے نبیذ سے وضو کرنے کے لیے ا پنی تمام ترعلمی اورفکری توانائیوں کو صرف کرڈالا ہے۔
فقہ کی ہرکتاب میں اسے بڑی شدومد سے بیان کیا گیا ہے۔
امام بخاری ؒ ان حضرات کی یہاں تردید فرمارہے ہیں، لیکن اصلاحی صاحب اس سے بے خبر ہیں نہ معلوم کیوں؟
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا (لونڈی) میرے پاس آئی اور کہنے لگی میں نے اپنے مالک سے نو اوقیہ چاندی پر مکاتبت (یعنی میں نو اوقیہ دے کر آزادی لے لوں گی) کر لی ہے کہ ہر سال میں ایک اوقیہ ادا کرتی رہوں گی۔ لہٰذا میری (اس بارے میں) مدد کریں۔ میں نے (اسے) کہا کہ اگر تیرے مالک کو یہ پسند ہو کہ میں تیری مجموعی قیمت یکمشت ادا کر دوں اور تیری ولاء میری ہو جائے تو میں ایسا کرنے کو تیار ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا یہ تجویز لے کر اپنے مالک کے پاس گئی اور ان سے یہ کہا تو انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس سے واپس آئی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے اپنے مالکوں کے سامنے وہ تجویز پیش کی تھی، مگر انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ولاء ان کے لئے ہے۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس واقعہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باخبر کیا۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اسے لے لو اور ان سے ولاء کی شرط کر لو، کیونکہ ولاء کا حقدار وہی ہے جو اسے آزادی دے۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطاب فرمانے کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا ’’ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں۔ (یاد رکھو!) جو شرط کتاب اللہ میں نہیں ہے وہ باطل ہیں، خواہ سینکڑوں شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ نہایت برحق ہے اور اللہ کی شرط نہایت ہی پختہ اور پکی ہے۔ ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔ “ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ مسلم کے ہاں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے خرید لو اور آزاد کر دو اور ان سے ولاء کی شرط کر لو۔ “ (بخاری و مسلم)۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 657»
«أخرجه البخاري، المكاتب، باب ما يجوز من شروط المكاتب، حديث:2561، ومسلم، العتق، باب إنما الولاء لمن أعتق، حديث:1504.»
تشریح: اس حدیث سے کئی مسائل ثابت ہوتے ہیں: مثلاً: 1.غلام اور اس کے مالک و آقا کے درمیان متعین رقم اور مقرر مدت کی صورت میں مکاتبت جائز ہے۔
2.اگر کوئی دوسرا شخص غلام کی طے شدہ رقم ادا کر دے اور اسے آزادی دے دے تو ایسا بھی جائز ہے۔
اس کے ترکہ و میراث کا حقدار یہ آزاد کرنے والا ہوگا۔
3.اگر غلام اپنی مکاتبت کی رقم ادا کرنے کے لیے کسی صاحب حیثیت سے سوال کرے تو یہ جائز ہے۔
4.مکاتبت کی رقم قسط وار ادا کی جا سکتی ہے۔
5. اگر مستحق آدمی سوال کرے تو اس کی مدد کرنی چاہیے۔
6. ناجائز شرط اگر عائد کرنے کی کوشش کی جائے تو اس شرط کی کوئی شرعی حیثیت نہیں‘ اعتبار صرف شرعی شرط کا ہوگا۔
7. اس حدیث سے باہمی مشورہ کرنا بھی ثابت ہوتا ہے۔
بیوی شوہر سے مشورہ طلب کرے تو شوہر کو صحیح مشورہ دینا چاہیے۔
8. جس مسئلے کا لوگوں کو علم نہ ہو وہ مسئلہ عوام کے سامنے بیان کرنا چاہیے۔
مسئلہ کسی کا نام لے کر نہیں بلکہ عمومی صورت میں بیان کرنا چاہیے۔
9. عوام سے خطاب کرنے کے موقع پر سب سے پہلے خالق کائنات کی حمد و ثنا کرنی چاہیے‘ پھر اپنا مدعا و مقصد بیان کرنا چاہیے۔
10.کسی سے درخواست و استدعا کرنے کا بھی یہی اسلوب و انداز ہونا چاہیے۔
11.مکاتب لونڈی اور غلام کو فروخت کرنا جائز ہے۔
امام احمد و امام مالک رحمہما اللہ کا یہی مذہب ہے۔
وضاحت: «حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا» ’’با‘‘ پر فتحہ اور ’’را‘‘ کے نیچے کسرہ ہے‘ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی اور مغیث‘ جو کہ آل ابو احمد بن جحش کے غلام تھے‘ کی بیوی تھی۔
جب یہ آزاد ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا تو اس نے اپنے خاوند مغیث (جو کہ ابھی غلام ہی تھا) کو چھوڑ دیا تھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو جب آزادی ملی تو اس وقت ان کو خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا۔ (بخاری و مسلم) یہ لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔ اور مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند غلام تھا اور ان ہی سے ایک روایت میں ہے کہ وہ آزاد تھا۔ پہلی روایت زیادہ پختہ ہے۔ بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہا سے صحیح قول یہ ہے کہ وہ غلام تھا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 858»
«أخرجه البخاري، النكاح، باب الحرة تحت العبد، حديث:5097، ومسلم، العتق، باب بيان أن الولاء لمن أعتق، حديث:1504.»
تشریح: یہ حدیث دلیل ہے کہ عورت آزاد ہو جانے کے بعد‘ جبکہ اس کا خاوند ابھی تک غلام ہو‘ شوہر کے بارے میں خودمختار ہے‘ چاہے اس کی زوجیت میں رہے چاہے نہ رہے۔
اس پر سب کا اجماع ہے۔
اختلاف اس صورت میں ہے کہ جب وہ شوہر آزاد ہو۔
ایک قول کے مطابق عورت کے لیے کوئی اختیار نہیں‘ اسے اسی خاوند کی زوجیت میں رہنا ہوگا۔
یہ رائے جمہور کی ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے بہرحال اختیار حاصل ہے اگرچہ خاوند آزاد ہی ہو‘ اسے ابن قیم رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے۔
معلوم رہے کہ یہ حدیث بڑی عظیم الشان ہے۔
علماء نے اپنی کتابوں میں کئی مقامات پر اس کا ذکر کیا ہے اور خود مصنف رحمہ اللہ نے اس سے بہت سے مسائل کا استنباط کیا ہے جن کی تعداد ایک سو بائیس تک پہنچتی ہے۔
(سبل السلام)
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسیران بدر کے متعلق فرمایا ’’ اگر مطعم بن عدی بقید حیات ہوتا پھر وہ میرے پاس آ کر ان مرداروں کے متعلق بات چیت کرتا تو میں ان کو اس کی خاطر چھوڑ دیتا۔“ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1107»
«أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ما منّ النبي صلي الله عليه وسلم علي الأساري من غير أن يخمس، حديث:3139.»
تشریح: 1. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہ ثابت ہوا کہ احسان کا بدلہ دینا مسنون ہے‘ خواہ کافر کا احسان ہی کیوں نہ ہو۔
2. مسلمان کے احسان کا بدلہ تو بطریق اولیٰ دینا چاہیے۔
3. اچھے کام میں کسی کے لیے سفارش کرنا بھی جائز ہے۔
اور جائز کام کی سفارش کو قبول کرنا بھی مسنون ہے۔
«. . . وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى عليه وسلم يذكر الله على كل أحيانه. رواه مسلم، وعلقه البخاري. . . .»
”. . . ´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔ “
اسے مسلم نے روایت کیا اور بخاری نے اس کو تعلیقاً نقل کیا ہے۔ . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/باب نواقض الوضوء: 73]
➊ اس کا مطلب یہ ہے کہ جماع اور بول و براز وغیرہ کی حالت میں ذکر سے اجتناب کرنا ہے باقی اوقات میں ذکر کی اجازت ہے۔
➋ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جنابت کی حالت کے علاوہ قرآن پڑھا کرتے تھے۔ چونکہ زبان پاک ہے اس لیے زبانی ذکر الہی ہر وقت کیا جا سکتا ہے۔
«. . . عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّهُ رَأَى بِلَالًا يُؤَذِّنُ، فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا بِالْأَذَانِ . . .»
”. . . عون بن ابی حجیفہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے کہ انھوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ: 634]
باب اور حدیث میں مناسبت:
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب میں اذان کے وقت اِدھر اُدھر منہ کرنے کو پیش فرمایا ہے یہاں مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ نماز کے لئے وضو شرط ہے اور بندہ نماز میں التفات اِدھر اُدھر اپنے منہ نہیں کر سکتا اس لئے کہ نماز میں قبلہ رو ہونا شرط ہے، لہٰذا جب اذان میں اِدھر اُدھر بندہ اپنا منہ کر سکتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کے لئے وضو شرط نہیں ہے جیسا کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل نقل کیا کہ آپ علیہ السلام ہر حالت میں ذکر فرماتے تھے تو معلوم ہوا کہ ہر حالت میں ذکر کرنے کے لئے وضو شرط نہیں اور اذان دینا بھی ایک ذکر ہے اور اس پر بھی وضو شرط نہیں ہے۔
◈ ابوجحیفہ سے جو اثر منقول ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان میں اِدھر اُدھر منہ کیا کرتے تھے یہ بھی اسی مسئلہ پر دال ہے۔ «والله اعلم»
◈ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «غرضه اثبات ان الأذان غير ملحق بالصلاة فى الاحكام ولا يشترط فيه الاستقبال، وبهذا يتحقق المناسبة بين الترجمة والاثار الواردة فيه» [شرح تراجم ابواب البخاري، ص202]
”امام بخاری رحمہ اللہ کی غرض یہ ہے کہ آپ ثابت کر رہے ہیں کہ اذان نماز کے ساتھ ملحق نہیں ہے اور نہ ہی اس میں (بیت اللہ کی طرف منہ کرنا) استقبال کی کوئی شرط ہے۔“
لہٰذا یہی مناسبت ہے ترجمۃ الباب کی ان آثار کے ساتھ جو وارد ہوئے ہیں۔
◈ امام عبدالله بن سالم البصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لأن الأذان من جملة الاذكار فلا يشترط فيه ما يشترط فى الصلاة من الطهارة ولا من استقبال القبلة كما لا يستحب فيه الخشوع الذى ينافيه الالتفات» [ضياء الباري فى مالك ابواب البخاري، ج7، ص74]
”اذان دراصل اذکار میں سے ہے اس (کی ادائیگی کے لئے) وہ شرائط نہیں ہیں جو نماز کی ہیں۔ جیسے کہ طہارت کا ہونا، قبلہ رو ہونا اور اس میں خشوع کا ہونا بھی مستحب نہیں ہے جو التفات کے منافی ہو (یعنی اذان میں التفات کر سکتے ہیں)۔“
”امام بخاری رحمہ اللہ کا ترجمۃ الباب میں یہ مقصود ہے کہ مؤذن دائیں اور بائیں طرف التفات کر سکتا ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ میں (اذان دیتے ہوئے) اپنے منہ کو ادھر ادھر یعنی دائیں اور بائیں پھیرتا «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» پر۔
ان تصریحات کا حاصل یہ ہے کہ اذان میں جب التفات ہو سکتا ہے تو اس کا حکم نماز کا نہیں ہے کیونکہ نماز میں خشوع اور خضوع کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ بس جب اذان کا حکم نماز جیسا نہیں تو اس کے لئے طہارت بھی شرط نہیں۔ یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ہو گی۔
مثلاً مؤذن کو حي علی الصلوٰة، حي علی الفلاح کے وقت دائیں بائیں منہ پھیرنا درست ہے نیز کانوں میں انگلیاں داخل کرنا بھی جائز ہے تاکہ آواز میں بلندی پیدا ہو۔
کوئی کانوں میں انگلیاں نہ ڈالیں توبھی کوئی حرج نہیں۔
وضو کر کے اذان کہنا بہتر ہے مگراس کے لیے وضو شرط نہیں ہے جن لوگوں نے وضو ضروری قرار دیا ہے، انھوں نے فضیلت کا پہلواختیار کیا ہے۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ اذان دیتے ہوئے چہرے کو دائیں بائیں کیا جاسکتا ہے، نماز کی طرح قبلے کی طرف منہ کیے رکھنا ضروری نہیں۔
ایک روایت میں اس وقت کی تعیین بیان ہوئی ہے جب مؤذن اپنے چہرے کو دائیں بائیں پھیرے، یعنی حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے موقع پر اپنا چہرہ دائیں بائیں پھیرنا چاہیے۔
امام ابن خزیمہ ؒ نے اس روایت پر جو عنوان قائم کیا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ پورے بدن کو پھیرنے کے بجائے صرف اپنے چہرے کو پھیرنا چاہیے۔
مصنف عبدالرزاق کی روایت میں دو اضافے ہیں: ایک پورے بدن کو پھیرنا اور دوسرا اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالنا۔
ترمذی کی روایت سے بھی پتہ چلتا ہےکہ دائیں بائیں چہرہ پھیرنے کے بجائے پورے جسم سے گھومتے تھے لیکن بعض روایات میں گھومنے کی نفی بھی آئی ہے۔
ان کے درمیان بایں طور تطبیق دی گئی ہے کہ جن روایات میں گھومنے کا اثبات ہے اس سے مراد صرف چہرے کا پھیرنا ہے اور جن روایات میں گھومنے کی نفی ہے اس سے مراد پورے جسم کا پھیرنا ہے۔
(فتح الباري: 151/2)
بہرحال امام بخاری ؒ نے عنوان میں لفظ هل لا کر اشارہ کیا ہے کہ ان مسائل میں متقدمین کے ہاں اختلاف ہے، پھر آثار و احادیث سے اپنے رجحان کو واضح کیا ہے۔
والله أعلم.
باب: کیا مؤذن اذان میں اپنا منہ ادھر ادھر (دائیں بائیں) پھرائے اور کیا اذان کہتے وقت ادھر ادھر دیکھ سکتا ہے؟
فوائد:
➊ اس باب میں امام صاحب نے تین مسائل بیان کیے ہیں: ایک یہ کہ کیا مؤذن اذان میں دائیں اور بائیں جانب اپنا منہ پھیر سکتا ہے؟ دوسرا یہ کہ کیا مؤذن اذان کہتے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالے گا؟ اور تیسرا یہ کہ کیا اذان کے لیے وضو ضروری ہے؟ ان تمام مسائل کا اصل یہ ہے کہ اذان نماز سے الگ ایک عبادت ہے، اس میں وہ پابندیاں نہیں ہیں جو نماز میں ہیں، مثلاً نماز کے لیے باوضو ہونا، قبلہ رخ رہنا، ادھر ادھر نہ دیکھنا، کسی سے بات نہ کرنا، ہنسنے سے اجتناب کرنا اور خشوع و خضوع لازم ہے اور ان سب باتوں کی دلیل قرآن یا حدیث میں موجود ہے جب کہ اذان کے لیے ان میں سے کوئی پابندی قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔
➋ اذان کے دوران دائیں بائیں طرف پھرنے اور دیکھنے کے بارے میں آئندہ حدیث کے تحت بات ہو گی۔
➌ اذان کے دوران کانوں میں انگلیاں ڈالنے سے متعلق امام صاحب نے دو آثار نقل کیے ہیں: ایک یہ کہ بلال رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں ڈالیں۔ دوسرا یہ کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کانوں میں انگلیاں نہیں ڈالتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس میں وسعت ہے، کانوں میں انگلیاں ڈالے یا نہ ڈالے دونوں طرح ٹھیک ہے۔ البتہ ایک بات قابلِ توجہ ہے کہ انھوں نے بلال رضی اللہ عنہ کے اثر کو «يُذْكَرُ» (ذکر کیا جاتا ہے) کے الفاظ سے بیان کیا ہے، جو وہ عام طور پر ایسی روایت کے متعلق استعمال کرتے ہیں جس میں کوئی کمزوری ہوتی ہے، جب کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اثر کو ایسے الفاظ سے بیان کیا ہے جن میں جزم و یقین ہے، اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ان کے نزدیک ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل راجح ہے، اگرچہ دوسرا بھی جائز ہے۔ البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کچھ آثار و شواہد کے ساتھ اسے قوی بنایا ہے، جن میں سے ایک ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ترمذی کی حدیث ہے کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہتے ہوئے دیکھا، وہ گھوم رہے تھے اور منہ کو اِدھر اور اُدھر لے جا رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے کانوں میں تھیں۔ [ترمذي: 197] ترمذی نے اسے حسن صحیح اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کانوں میں انگلیاں ڈالنے کے دو فائدے ہیں: ایک یہ کہ اس سے آواز بلند ہو جاتی ہے، دوسرا یہ کہ یہ اذان کی علامت ہے، دور والا یا بہرا آدمی اسے دیکھ کر جان لیتا ہے کہ مؤذن اذان کہہ رہا ہے۔ آج کل لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں ڈالنے یا دائیں بائیں پھرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہی، اس لیے اگر یہ عمل نہ بھی کیے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
➍ اذان باوضو ہو کر کہنے کے متعلق امام صاحب نے ایک قول ابراہیم نخعی کا بیان کیا ہے کہ وضو کے بغیر اذان کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ دوسرا عطاء کا کہ وضو حق اور سنت ہے مگر ساتھ ہی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ذکر کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی بات کو ترجیح دے رہے ہیں کہ اذان کے لیے وضو ضروری نہیں۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ باوضو اذان کہنا یا اللہ تعالی کا کوئی بھی ذکر کرنا بےبوضو سے افضل ہے، کیونکہ وضو اپنی جگہ خود ایک عبادت ہے۔
فائدہ:
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت کا کچھ حصہ حدیث (187) میں گزر چکا ہے۔ اس حدیث میں مؤذن کے منہ کو ادھر ادھر پھیرنے کا ذکر ہے۔ صحیح مسلم میں اس کے راوی سفیان سے وکیع کی روایت مفصل ہے۔ اس کے لفظ یہ ہیں: «فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا - يَقُولُ: يَمِينًا وَشِمَالًا - يَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» [مسلم: 503/249] ”تو میں بھی ان کے منہ کی پیروی کرتے ہوئے ادھر ادھر یعنی دائیں اور بائیں طرف اپنا منہ پھیرنے لگا، جب وه «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَي الْفَلَاحِ» کہہ رہے تھے۔“ اس میں اذان میں منہ ادھر ادھر پھیرنے کا موقع بھی بیان ہوا ہے کہ وہ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کے وقت ہے اور یہ کہ ادھر ادھر صرف منہ پھیرنا ہے، پورا جسم نہیں پھیرنا۔ ابن خزیمہ نے اس حدیث (387) پر ان دونوں باتوں کا باب قائم کیا ہے۔ پھر اس بات میں اختلاف ہے کہ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» میں دونوں دفعہ دائیں طرف اور «حَيَّ عَلَى الفَلَاحِ» میں دونوں دفعہ بائیں طرف منہ پھیرنا چاہیے یا «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَي الْفَلَاح» دونوں میں ایک دفعہ دائیں اور ایک دفعہ بائیں طرف منہ پھیرنا چاہیے۔ ابن بطال نے [شرح صحيح بخاري] میں فرمایا: پہلی صورت حدیث کے الفاظ کے زیادہ قریب ہے جب کہ دوسری صورت میں دونوں کلموں کو دائیں اور بائیں جانب کا حصہ مل جاتا ہے۔
واضح رہے کہ اس منہ پھیرنے کا فائدہ اس وقت ہے جب کسی اونچی جگہ اذان کہہ رہا ہو اور دائیں اور بائیں دونوں جانب آواز دور تک پہنچانا مقصود ہو۔ لاؤڈ سپیکر میں اس کی ضرورت نہیں، ہاں! بلال رضی اللہ عنہ سے مشابہت کا شرف حاصل کرنے کے لیے منہ پھیر لے تو بہتر ہے۔ اس حدیث سے بھی اذان اور نماز کا فرق واضح ہو رہا ہے کہ نماز میں نہ دائیں بائیں منہ پھیرنا جائز ہے نہ ادھر ادھر دیکھنے کی اجازت ہے جب کہ اذان میں بلال رضی اللہ عنہ یہ دونوں کام کرتے تھے۔
یہاں اذان سے متعلقہ مسائل ختم ہیں، اس کے بعد نماز با جماعت کے مسائل ذکر ہوں گے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کفار گندے اور بدبو دار لوگ ہوتے ہیں، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ کفار کو بدبو دار کہنا ٹھیک ہے، نیز اس حدیث میں مطعم بن عدی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں احترام ثابت ہوتا ہے، اگر چہ وہ کفر کی حالت میں ہی مرے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے احسان کی وجہ سے ان کا ذکر خیر کیا ہے۔