سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ كَمْ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ باب: چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟
وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ هَذَا الْحَدِيثَ نَحْوَ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَكَمِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، نَحْوَ رِوَايَةِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَقَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ : " أَنْتَ مَزْكُومٌ " ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ .´اور شعبہ نے` اس حدیث کو عکرمہ بن عمار سے یحییٰ بن سعید کی روایت کی طرح روایت کیا ہے ۔ بیان کیا اسے ہم سے احمد بن حکم بصریٰ نے ، انہوں نے کہا : بیان کیا ہم سے محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں : بیان کیا ہم سے شعبہ نے اور شعبہ نے عکرمہ بن عمار سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے عکرمہ بن عمار سے ابن مبارک کی روایت کی طرح روایت کی ہے ۔ اس روایت میں ہے کہ آپ نے اس سے تیسری بار چھینکنے پر فرمایا : ” تمہیں زکام ہو گیا ہے “ ۔ اسے بیان کیا مجھ سے اسحاق بن منصور نے ، وہ کہتے ہیں : بیان کیا مجھ سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے ۲؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا: «يرحمك الله» ” اللہ تم پر رحم فرمائے “ اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: ” آدمی کو زکام ہوا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5037]
پہلی بار چھینک کا جواب دینا لازم ہے۔
اس کے بعد نہیں جیسے صحیح مسلم سے بھی اشارہ ملتا ہے۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، الزھد۔
حدیث: 2993)