حدیث نمبر: 4066M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ , حَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيى , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ , وَقَالَ فِيهِ مَرَّةً : فَيَقُولُ : هَذَا يَا مُؤْمِنُ , وَهَذَا يَا كَافِرُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´( امام ابن ماجہ کے شاگرد ) ابوالحسن قطان نے ( اپنی عالی سند سے بھی )` اس سے ملتی جلتی حدیث بیان کی ہے ۔ اور اس میں ایک مرتبہ فرمایا : تو یہ کہے گا : اے مومن ! اور یہ ( کہے گا ) اے کافر !

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4066M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث t
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3187

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3187 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب زمین سے) ایک جانور نکلے گا جس کے پاس سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی (مہر) اور موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہو گا، وہ اس عصا سے (لکیر کھینچ کر) مومن کے چہرے کو روشن و نمایاں کر دے گا، اور انگوٹھی کے ذریعہ کافر کی ناک پر مہر لگا دے گا یہاں تک کہ دستر خوان والے جب دستر خوان پر اکٹھے ہوں گے تو یہ کہے گا: اے مومن اور وہ کہے گا: اے کافر! ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3187]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مؤلف اس حدیث کو ارشاد باری ﴿وَأَلْقِ عَصَاكَ﴾ (النمل: 10) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔

نوٹ:
(سند میں ’’علی بن زید بن جدعان‘‘ ضعیف، اور ’’اوس بن خالد‘‘ مجہول ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3187 سے ماخوذ ہے۔