نا أحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ، قَالا : نا إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا سلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نا حمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ حُذَيْفَةَ : قَالَ رَجُلٌ : كُنْتُ أَسْأَلُ النَّاسَ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِي لا أَسْأَلُهُ فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " يَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَالَ لِي : " فَإِنَّ الظَّعِينَةَ سَتَرْحَلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِغَيْرِ جِوَارٍ " ، مُخْتَصَرٌ.عبیدہ بن حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے یہ بات بیان کی: میں لوگوں سے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں دریافت کر رہا تھا، اور وہ میرے پہلو میں موجود تھے، لیکن میں نے ان سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا، پھر میں ان کے پاس آیا، تو انہوں نے بتایا: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اے عدی بن حاتم! اسلام قبول کر لو، سلامت رہو گے۔“ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی، جس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ایک عورت عنقریب حیرہ سے سفر پر روانہ ہو گی، یہاں تک کہ کسی کی پناہ کے بغیر (مکہ پہنچ کر) بیت اللہ کا طواف کرے گی۔“ یہ روایت مختصر ہے۔