نا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ يَعْنِي ابْنَ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِضُبَاعَةَ وَهِيَ شَاكِيَةٌ ، فَقَالَ : " أَتُرِيدِينَ الْحَجَّ ؟ " ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحُجِّي وَاشْتَرِطِي ، وَقُولِي : اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے، جو بیمار تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم حج کا ارادہ رکھتی ہو؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم حج کا ارادہ کر لو اور ساتھ شرط بھی رکھو اور یہ کہو: اے اللہ! جہاں میں آگے جانے کے قابل نہ رہی، وہیں احرام کھول دوں گی۔“
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ ، فَقَالَ لَهَا : " اشْتَرِطِي عِنْدَ إِحْرَامِكِ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي فَإِنَّ ذَلِكَ لَكِ " . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَيُّوبُ ، وَخَالِدٌ ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ ، وَهِلالُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم احرام باندھنے کے وقت شرط عائد کر لینا کہ جہاں میں آگے جانے کے قابل نہ رہی، وہیں احرام کھول دوں گی، تو تمہیں اس کا اختیار ہو گا۔“ بعض دیگر راویوں نے اسی طرح نقل کیا ہے۔
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، نا هِلالُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِضُبَاعَةَ : " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ضباعہ سے یہ فرمایا تھا: ”تم حج کرنے کا ارادہ کر لو اور یہ شرط رکھو کہ جہاں میں آگے جانے کے قابل نہ رہی، وہیں احرام کھول دوں گی۔“
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الطَّيِّبِ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَأَنَا أَنْظُرُ فِي هَذَا الْكِتَابِ ، فَأَقَرَّ بِهِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لَبِسَ ثِيَابَهُ ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَى بَعِيرِهِ ، فَلَمَّا اسْتَوَى بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، پھر آپ نے اپنے کپڑے پہن لیے، پھر جب آپ ذوالحلیفہ تشریف لائے، تو وہاں آپ نے دو رکعت ادا کیں، پھر آپ اپنے اونٹ پر بیٹھے، جب آپ کی سواری کھڑی ہوئی، تو وہاں سے آپ نے حج کا احرام باندھا (یعنی اس کی نیت کی)۔
نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نا أَبُو مُوسَى ، نا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، نا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَغْتَسِلَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ بیان کرتے ہیں: ”یہ سنت ہے کہ آدمی جب احرام باندھنے لگے، تو غسل کرے، جب مکہ میں داخل ہونے لگے (اس وقت بھی غسل کرے)۔“
نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نا يَحْيَى بْنُ خَالِدٍ أَبُو سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اغْتَسَلَ لإِحْرَامِهِ " . قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مَا سَمِعْنَاهُ إِلا مِنْهُ .
محمد محی الدین
خارجہ بن زید اپنے والد (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے سے پہلے غسل کیا تھا۔ ابن صاعد بیان کرتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے، ہم نے اسے صرف (اپنے استاد یحییٰ بن خالد) سے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْيَمَانِ ، وأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالُوا : نا أَبُو غَزِيَّةَ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، نا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ، نا هَارُونُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اغْتَسَلَ بِفَخٍّ قَبْلَ دُخُولِهِ مَكَّةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ’’فسخ‘‘ کے مقام پر غسل کیا تھا۔
نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ، قَالا : نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ حُذَيْفَةَ قَالَ رَجُلٌ : كُنْتُ أَسْأَلُ النَّاسَ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِي لا أَسْأَلُهُ فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهْتُهُ ، ثُمَّ قُلْتُ : لَوْ أَتَيْتُهُ فَسَمِعْتُ مِنْهُ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ لِي : " يَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ لِي : " فَإِنَّ الظَّعِينَةَ سَتَرْحَلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِغَيْرِ جِوَارٍ " . مُخْتَصَرٌ ، كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین
ابوعبیدہ بن حذیفہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے یہ بات بیان کی: میں لوگوں سے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں دریافت کرتا رہا، وہ میرے پہلو میں موجود تھے، لیکن میں نے ان سے دریافت نہیں کیا، پھر میں ان کے پاس آیا، تو انہوں نے بتایا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، میں آپ کو پسند نہیں کرتا تھا، پھر میں نے سوچا کہ مجھے ان کی خدمت میں جا کر ان کی بات سننی چاہیے، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”عدی بن حاتم! تم اسلام قبول کر لو، تم سلامت رہو گے۔“ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: ”عنقریب کوئی عورت ’’حیرہ‘‘ (نامی جگہ) سے روانہ ہو گی، یہاں تک کہ وہ کسی کی پناہ میں آئے بغیر، بیت اللہ کا طواف کرے گی۔“ یہ روایت متصل ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ، قَالا : نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ الْمَرْأَةُ مِنَ الْحِيرَةِ بِغَيْرِ جِوَارِ أَحَدٍ ، حَتَّى تَحُجَّ الْبَيْتَ ، وَيُوشِكُ أَنْ يَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى يَغْتَمَ الرَّجُلُ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ " . قَالَ : فَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ تَخْرُجُ بِغَيْرِ جِوَارِ أَحَدٍ حَتَّى تَحُجَّ الْبَيْتَ ، مُخْتَصَرٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہرے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”عنقریب وہ وقت آئے گا، جب ایک عورت کسی شخص کی پناہ میں آئے بغیر ’’حیرہ‘‘ (نامی جگہ) سے روانہ ہو گی، یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کا حج کر لے گی اور عنقریب وہ وقت آئے گا، جب مال اتنا زیادہ ہو جائے گا کہ آدمی یہ آرزو کرے گا کہ اس صدقہ لینے والا کوئی شخص مل جائے۔“ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ کسی کی پناہ میں آئے بغیر روانہ ہوئی، یہاں تک کہ اس نے بیت اللہ کا حج کیا۔ یہ روایت مختصر ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ حُذَيْفَةَ شَكَّ ابْنُ عَوْنٍ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : نَتَحَدَّثُ بِحَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، وَكَانَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ ، قَالَ : قُلْتُ لَوْ أَتَيْتُهُ فَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَرَدْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا أَسْمَعُهُ مِنْكَ ، قَالَ : فَقَالَ : لَمَّا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَرْتُ حَتَّى كُنْتُ بِأَقْصَى أَرْضِ أَهْلِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ قُلْتُ : لآتِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلأَسْمَعَنَّ مِنْهُ ، فَلَمَّا جِئْتُ اسْتَشْرَفَ لِي النَّاسُ ، فَذَكَرَ لِي الْحَدِيثَ . قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي : " أَتَيْتَ الْحِيرَةَ ؟ " ، قُلْتُ : لا ، وَقَدْ عَلِمْتُ مَكَانَهَا ، قَالَ : " فَتُوشِكُ الظَّعِينَةُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْهَا بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ " . قَالَ : فَرَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَخْرُجُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ مُخْتَصَرٌ .
محمد محی الدین
محمد بن حذیفہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث ایک دوسرے کو سنایا کرتے تھے، وہ کوفہ کی ایک کنارے والی آبادی میں رہا کرتے تھے، میں نے یہ سوچا کہ اگر میں ان کے پاس جاؤں اور اگر میں خود ان سے یہ حدیث سن لوں، تو یہ مناسب ہو گا، تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: آپ کے حوالے سے ایک حدیث مجھ تک پہنچی ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ آپ سے سن لوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عدی نے فرمایا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، تو میں فرار ہو کر اسلامی سلطنت کے دور دراز کے حصے میں چلا گیا، پھر میں نے یہ سوچا کہ مجھے ان صاحب کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے، اگر وہ سچے ہوں گے، تو میں ان کی بات مان لوں گا، جب میں (آپ کی خدمت میں) آیا، تو لوگ میرے لیے کھڑے ہوئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: (اس کے بعد انہوں نے مجھے پوری حدیث سنائی، جس میں یہ بیان ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم حیرہ گئے ہو؟“ میں نے عرض کی: ”نہیں! لیکن مجھے اس کی جگہ کا پتہ ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب وہ وقت آئے گا، جب کوئی عورت وہاں سے کسی کی پناہ میں آئے بغیر نکلے گی، یہاں تک کہ (مکہ پہنچ کر) خانہ کعبہ کا طواف کرے گی۔“ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر میں نے ایک عورت کو دیکھا، جو حیرہ سے روانہ ہوئی اور اس نے (مکہ پہنچ کر) خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ یہ روایت مختصر ہے۔
نا أحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ، قَالا : نا إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا سلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نا حمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ حُذَيْفَةَ : قَالَ رَجُلٌ : كُنْتُ أَسْأَلُ النَّاسَ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِي لا أَسْأَلُهُ فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " يَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَالَ لِي : " فَإِنَّ الظَّعِينَةَ سَتَرْحَلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِغَيْرِ جِوَارٍ " ، مُخْتَصَرٌ.
محمد محی الدین
عبیدہ بن حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے یہ بات بیان کی: میں لوگوں سے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں دریافت کر رہا تھا، اور وہ میرے پہلو میں موجود تھے، لیکن میں نے ان سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا، پھر میں ان کے پاس آیا، تو انہوں نے بتایا: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اے عدی بن حاتم! اسلام قبول کر لو، سلامت رہو گے۔“ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی، جس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ایک عورت عنقریب حیرہ سے سفر پر روانہ ہو گی، یہاں تک کہ کسی کی پناہ کے بغیر (مکہ پہنچ کر) بیت اللہ کا طواف کرے گی۔“ یہ روایت مختصر ہے۔
نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، نا أَبُو حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَجَّاجًا ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ نزلت ؟ " ، قَالَ : عَلَى فُلانَةَ ، قَالَ : " أَغْلَقْتَ عَلَيْكَ بَابَهَا لا تَحُجَّنَّ امْرَأَةٌ إِلا وَمَعَهَا ذُو مُحْرِمٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص مدینہ منورہ آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے کہاں پڑاؤ کیا ہے؟“ اس نے بتایا: ”فلاں خاتون کے ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس نے تمہاری اولاد کو دروازہ بند کر لیا ہے؟ کوئی بھی عورت صرف اس وقت حج کر لے، جب اس کے ساتھ کوئی محرم عزیز موجود ہو۔“
نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقِرْمِيسِينِيُّ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُجَاشِعٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، نا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ ، قَالَ : قَالَ نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي امْرَأَةٍ لَهَا زَوْجٌ وَلَهَا مَالٌ وَلا يَأْذَنُ لَهَا فِي الْحَجِّ : " لَيْسَ لَهَا أَنْ تَنْطَلِقَ إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی خاتون کو حج کی اجازت نہیں دی تھی، جس کا شوہر موجود تھا، حالانکہ اس کے پاس مال موجود تھا، ایسی عورت سے بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ (شوہر کی اجازت کے بغیر) حج کے لیے جائے۔
نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : نا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا تُسَافِرِ امْرَأَةٌ سَفَرًا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَحُجَّ إِلا وَمَعَهَا زَوْجُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی بھی عورت تین دن کا سفر نہ کرے یا حج کے لیے نہ جائے، جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر موجود نہ ہو۔“
نا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ السَّفَّاحِ بْنِ مُطَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمُ عَرَفَةَ الْيَوْمُ الَّذِي يُعْرَفُ النَّاسُ فِيهِ " .
محمد محی الدین
عبدالعزیز بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”عرفہ کا دن وہ دن ہے، جس میں لوگ پہچانتے ہیں۔“
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نا الْوَاقِدِيُّ ، نا ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَرَفَةُ يَوْمَ يُعْرَفُ النَّاسُ " .
محمد محی الدین
یعقوب بن زید نے اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”عرفہ وہ دن ہے، جس میں لوگ پہچانتے ہیں۔“
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ ، وعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ ، قَالا : نا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ ، وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تمہارا عید الفطر کا دن وہ ہے، جب تم عید الفطر کرتے ہو اور عید الاضحیٰ کا دن وہ ہے، جب تم عید الاضحیٰ کرتے ہو۔“
نا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ ، قَالا : نا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ ، وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ " . لَفْظُ ابْنِ صَاعِدٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تمہارا عید الفطر کا دن وہ ہے، جب تم عید الفطر کرتے ہو اور عید الاضحیٰ کا دن وہ ہے، جب تم عید الاضحیٰ کرتے ہو۔“ یہ الفاظ ابن صاعد نامی راوی کے ہیں۔
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ أَبُو هِشَامٍ : أَظُنُّهُ رَفَعَهُ ، قَالَ : " الْفِطْرُ يَوْمَ يُفْطِرُ النَّاسُ ، وَالأَضْحَى يَوْمَ تُضَحِّي النَّاسُ " .
محمد محی الدین
محمد بن منکدر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کیا ہے، ابوہشام نامی راوی یہ بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے یہ مرفوع حدیث ہے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا): ”عید الفطر اس دن ہوتی ہے، جب لوگ عید الفطر کرتے ہیں اور عید الاضحیٰ اس دن ہوتی ہے، جس دن لوگ عید الاضحیٰ کرتے ہیں۔“
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْفَضْلِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ میں یہ الفاظ شامل تھے: ”میں حاضر ہوں، اے حقیقی معبود!۔“
نا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، قَالا : نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، وعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : تَلَقَّفْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيكَ لَكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کے الفاظ کو احتیاط سے) جلدی سے لیا، آپ یہ پڑھ رہے تھے: ”اے اللہ! میں حاضر ہوں! اے اللہ! میں حاضر ہوں! میں حاضر ہوں! تیرا کوئی شریک نہیں ہے، میں حاضر ہوں! بیشک ہر طرح کی حمد اور تعریف تیرے لیے مخصوص ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔“
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : نا يُوسُفُ ، نا جرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَزَادَ فِيهِ : وَيُرَدِّدُهُنَّ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے، جس میں ان کے یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا، اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے، جس میں یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کو دہرا رہے تھے۔
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحَكَمِ بْنِ سَعِيدٍ الْبَزَّازُ أَبُو جَعْفَرٍ الْحُبُلِيُّ ، نا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ غَسَلَ رَأْسَهُ بِخِطْمِيٍّ وَأَشْنَانٍ ، وَدَهَنَهُ بِزَيْتٍ غَيْرِ كَثِيرٍ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تھے، تو آپ اپنے سر مبارک کو خطمی اور اشنان کے ذریعے دھوتے تھے اور اسے زیتون کا تیل لگایا کرتے تھے، ایسا کئی مرتبہ ہوا۔
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ . ح وَنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، قَالا : نا وَكِيعٌ ، نا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أَشْهُرُ الْحَجِّ شَوَّالٌ ، وَذُو الْقَعْدَةِ ، وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حج کے مہینے یہ ہیں: شوال، ذی القعدہ اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن۔
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا عُثْمَانُ ، نا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، نا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَشْهُرُ الْحَجِّ شَوَّالٌ ، وَذُو الْقَعْدَةِ ، وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: حج کے مہینے شوال، ذی القعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ، نا عُثْمَانُ ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : " أَشْهُرُ الْحَجِّ شَوَّالٌ ، وَذُو الْقَعْدَةِ ، وَعَشْرٌ مِنَ ذِي الْحِجَّةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حج کے مہینے شوال، ذی القعدہ اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا عُثْمَانُ ، نا وَكِيعٌ ، نا بَيْهَسُ بْنُ فَهْدَانَ ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ ، فَقَالَ : " شَوَّالٌ ، وَذُو الْقَعْدَةِ ، وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ " .
محمد محی الدین
ابوشیخ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حج کے مہینوں کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے جواب دیا: یہ شوال، ذی القعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔
ثنا ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا عُثْمَانُ ، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ ، قَالَ : " شَوَّالٌ ، وَذُو الْقَعْدَةِ ، وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”حج کے مہینے طے شدہ ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ شوال، ذی القعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔
نا عبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي ، نا طاهِرُ بْنُ عِيسَى التَّمِيمِيُّ ، نا زهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ ، نا مصْعَبُ بْنُ مَاهَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے۔
نا عبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدٍ الْعَتَكِيُّ ، نا زهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ ، نا أبُو نُصَيْرٍ حَمْزَةُ بْنُ نُصَيْرٍ ، عَنْ مُقَاتِلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے۔
نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الصَّابُونِيِّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِصْمَةَ الرَّمْلِيُّ ، نا سَوَّارُ بْنُ عُمَارَةَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الصَّلْتِ الشَّيْبَانِيُّ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَطَبَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ " ، يَعْنِي يَوْمَ النَّفْرِ الأَوَّلِ .
محمد محی الدین
عبدالعزیز بن ربعی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے وسط میں خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اس سے مراد یہ ہے پہلی مرتبہ روانگی کے دن۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : " فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ سورة البقرة آية 197 ، قَالَ : أَهَلَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”تو جو شخص ان میں حج کو فرض کر لے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ وہ احرام کی نیت کر لے۔
نا نا عَبْدُ اللَّهِ ، نا عُثْمَانُ ، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : " فَرْضُ الْحَجِّ الإِحْرَامُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حج کو فرض کرنے سے مراد احرام باندھنا ہے۔
نا نا عَبْدُ اللَّهِ ، نا عُثْمَانُ ، نا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ عُثْمَانُ قَالَ لِي أَصْحَابُنَا : هُوَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " فَرْضُ الْحَجِّ الإِحْرَامُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: حج کو فرض کرنے سے مراد احرام باندھنا (یعنی اس کی نیت کرنی ہے)۔
نا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ، نا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، أنا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْمُجَالِدِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " وَلَتَخْرُجَنَّ الظَّعِينَةُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِهَذَا الْبَيْتِ مَا تَخَافُ إِلا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”عنقریب کوئی عورت حیرہ سے روانہ ہو گی، یہاں تک کہ وہ اس گھر کا طواف کرے گی اور اسے صرف اللہ تعالیٰ کا خوف ہو گا (اس کے علاوہ اور کسی کا خوف نہیں ہو گا)۔“
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْحَكَمِ ، نا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، نا شُعْبَةُ . ح وَثنا عَبْدُ اللَّهِ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، نا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ، يَقُولُ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص کے پاس جوتے نہ ہوں، وہ موزے پہن لے اور جس شخص کے پاس تہبند نہ ہو، وہ شلوار پہن لے۔“
نا أبُو بَكْرٍ ، نا أحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، نا عارِمٌ ، نا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ ، نا أَبُو مَعْمَرٍ ، نا عَبْدُ الْوَارِثِ ، نا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي الْمُحْرِمِ إِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب اس کے پاس جوتے نہ ہوں، تو وہ موزے پہن لے اور جب اس کے پاس تہبند نہ ہو، تو وہ شلوار پہن لے۔“
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا ابْنُ هَانِئٍ ، نا أَبُو غَسَّانَ ، نا زُهَيْرٌ ، نا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وَثنا أَبُو بَكْرٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، نا أَبُو نُعَيْمٍ ، نا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کے پاس جوتے نہ ہوں، وہ موزے پہن لے اور اگر اس کو تہبند نہ ملے، تو وہ شلوار پہن لے۔“
…