کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اہل بیت اطہار کا ذکر خیر
حدیث نمبر: 11388
عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ تَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهَا فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِبُرْمَةٍ فِيهَا خَزِيرَةٌ فَدَخَلَتْ بِهَا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا ”ادْعِي زَوْجَكِ وَابْنَيْكِ“ قَالَتْ فَجَاءَ عَلِيٌّ وَالْحُسَيْنُ وَالْحَسَنُ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَجَلَسُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تِلْكَ الْخَزِيرَةِ وَهُوَ عَلَى مَنَامَةٍ لَهُ عَلَى دُكَّانٍ تَحْتَهُ كِسَاءٌ لَهُ خَيْبَرِيٌّ قَالَتْ وَأَنَا أُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] قَالَتْ فَأَخَذَ فَضْلَ الْكِسَاءِ فَغَشَّاهُمْ بِهِ ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَهُ فَأَلْوَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا“ قَالَتْ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْبَيْتَ فَقُلْتُ وَأَنَا مَعَكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ وَحَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ مِثْلَ حَدِيثِ عَطَاءٍ سَوَاءً قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ وَحَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ أَبُو الْحَجَّافِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ہنڈیا لے کرآئیں، جس میں گوشت سے تیار شدہ خزیرہ تھا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے خاوند اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر لاؤ۔ اتنے میںسیدنا علی، سیدنا حسن اور سیدنا حسین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور وہ سارے خزیرہ کھانے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دکان نما جگہ پر تھے، جو آپ کی خواب گاہ تھی، نیچے خیبر کی بنی ہوئی چادر بچھا رکھی تھی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت اتاری: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} … اللہ تعالیٰ تو صرف یہ ارادہ کرتا ہے کہ اے اہل بیت ! تم سے پلیدی دور کر دیں اور تمہیں مکمل طور پر پاک کر دیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زائد چادر کے حصہ کو لیا اور انہیں ڈھانپ لیا، پھر اپنا ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا: اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔ اتنے میں ام سلمہ نے جو کمرہ سے باہر تھی نے اس چادر کے اندر سر داخل کیا اور کہا:اے اللہ کے رسول! میں بھی تمہارے ساتھ شامل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم خیر پر ہو، بلاشبہ تم خیر پر ہو۔
وضاحت:
فوائد: … درج ذیل آیات کے ذریعے مذکورہ بالا آیت کے سیاق و سباق کو سمجھیں: {یٰنِسَاء َ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء ِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہِ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۔ وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا۔ وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۔} … اے نبی کی بیویو! تم عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو، اگر تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں نرمی نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے طمع کر بیٹھے اور وہ بات کہو جو اچھی ہو۔ اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے، خوب پاک کرنا۔ اور تمھارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیںیاد کرو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے نہایت باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ (سورۂ احزاب: ۳۲، ۳۳، ۳۴)
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوںیعنی امہات المؤمنین سے خطاب کیا ہے۔
بہرحال اہل بیت سے کون مراد ہیں؟ اس کی تعیین میں کچھ اختلاف ہے، بعض نے ازواج مطہرات کو مراد لیا ہے، جیسا کہ یہاں قرآن مجید کے سیاق سے واضح ہے، قرآن نے یہاں امہات المؤمنین ہی کو اہل بیت کہا ہے، قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی بیوی کو اہل بیت کہا گیا ہے، ایکمقام درج ذیل ہے: جب فرشتوں نے ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے کی عمر میں اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت دی تو ان کی اہلیہ نے اس وقت جس تعجب کا اظہار کیا، اس کو اللہ تعالیٰ نے اس انداز میںبیان کیا اور اس کا جواب بھی دیا: {قَالَتْ یٰوَیْلَتٰٓی ئَ اَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ وَّھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْء ٌ عَجِیْبٌ۔ قَالُوْٓا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰتُہ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ اِنَّہ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔} … اس نے کہا ہائے میری بربادی! کیا میں جنوں گی، جب کہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرا خاوند ہے بوڑھا، یقینایہ تو ایک عجیب چیز ہے۔ انھوں نے کہا کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو! بے شک وہ بے حد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔ (سورۂ ہود: ۷۲، ۷۳)
اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کا اہل بیت ہونا نص قرآنی سے واضح ہو گیا۔
جبکہ بعض حضرات، بعض احادیث کی رو سے اہل بیت کا مصداق صرف سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو مانتے ہیں، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔
تاہم اعتدال کی راہ اور نقطۂ متوسطہ یہ ہے کہ دونوں ہی اہل بیت ہیں، امہات المؤمنین نص قرآن کی وجہ سے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا داماد اور اولاد ان احادیث کی رو سے، یہ آیت دراصل ازواجِ مطہرات کے بارے میں نازل کی گئی تھیں، لیکن مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باقی چار ہستیوں کو بھی اس کے مفہوم میں داخل کیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
اہل بیت کا اطلاق آل علی، آل عقیل، آل جعفر اور آل عباس سب پر ہوتا ہے۔
خزیرہ: ایک کھانا جو قیمہ اور آٹے سے تیار کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11388
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 2665، والحاكم: 2/ 416، والبيھقي: 2/ 150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27041»
حدیث نمبر: 11389
عَنْ أَبِي الْمُعَذَّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي يَوْمًا إِذْ قَالَتِ الْخَادِمُ إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ قَالَتْ فَقَالَ لِي ”قُومِي فَتَنَحَّيْ لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي“ قَالَتْ فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيبًا فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَمَعَهُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَهُمَا صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُمَا قَالَ وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَفَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَى فَقَبَّلَ فَاطِمَةَ وَقَبَّلَ عَلِيًّا فَأَغْدَفَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً سَوْدَاءَ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي“ قَالَتْ فَقُلْتُ وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”وَأَنْتِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو معذل عطیہ طفاوی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بیان کرتے ہوئے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے کہ خادم نے کہا: سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دروازے پر آئے ہوئے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سلمہ! تم اٹھ کر میرے اہل بیت سے ذرا الگ ہو جاؤ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں:میں اٹھ کر ان کے قریب ہی کمرے میں ایک طرف ہوگئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ آئے، ان کے ہمراہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما بھی تھے، وہ ابھی چھوٹے بچے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں بچوں کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیا، ان کو بوسے دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اور دوسرے ہاتھ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ ملا لیا اور آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بوسے دیئے اور ایک سیاہ چادر ان سب کے اوپر ڈال دی اور فرمایا: یا اللہ! میں اور میرے اہل بیت تیری طرف آتے ہیں، جہنم کی طرف نہیں۔ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور تم بھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11389
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو المعذل عطية الطفاوي، وابوه من رجال التعجيل، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 73، والطبراني في الكبير : 2667 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27075»
حدیث نمبر: 11390
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ ”ائْتِينِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ“ فَجَاءَتْ بِهِمْ فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً فَدَكِيًّا قَالَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ إِنَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَرَفَعْتُ الْكِسَاءَ لِأَدْخُلَ مَعَهُمْ فَجَذَبَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ ”إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ ان کوبلا کر لے آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدک (خیبر کے علاقے) کی تیار شدہ ایک چادر ان کو اوڑھا دی اور اپنا ہاتھ سب کے اوپر رکھ کر فرمایا: یا اللہ! یہ لوگ آل محمد ہیں، تو اپنی رحمتیں اور برکتیںمحمد اور آل محمد پر نازل فرما، بے شک تو ہی قابل تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے چادر اٹھا کر ان کے ساتھ اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ سے چادر کو کھینچ لیا اور فرمایا: تم تو پہلے ہی خیر اور بھلائی پر ہو۔
وضاحت:
فوائد: … بیشک تم خیر پر ہو۔ ان الفاظ کا ظاہری مفہوم تو یہ ہے کہ وہ ان میں داخل نہیں ہیں، جبکہ قرآن مجید کے ظاہری مفہوم کا تقاضا یہ ہے کہ بیویاں داخل ہیں، ممکن ہے کہ حدیث ِ مبارکہ کے اس جملے کا معنییہ ہو کہ وہ تو بہر صورت ان میں داخل ہونے کی وجہ سے خیرو بھلائی پر ہی ہے۔
یہی دوسرا مفہوم ہی واضح ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11390
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 3871 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27282»
حدیث نمبر: 11391
عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَلَمَّا قَامُوا قَالَ لِي أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أَتَيْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ عَلِيٍّ قَالَتْ تَوَجَّهَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ آخِذٌ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِهِ حَتَّى دَخَلَ فَأَدْنَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ فَأَجْلَسَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ أَوْ قَالَ كِسَاءً ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] وَقَالَ ”اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَأَهْلُ بَيْتِي أَحَقُّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عمار شداد کہتے ہیں: میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، ان کے ہاں بہت سے لوگ بیٹھے تھے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر چھیڑا دیا۔ (یعنی ان کے بارے میں ناگوار اور ناپسندیدہ باتیں کرنے لگے)، جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک چشم دید واقعہ بیان نہ کر دوں؟ میں نے عرض کیا: جی ضرور بیان فرمائیں۔ انہوں نے کہا: میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور ان سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے ہوئے ہیں، میں ان کی انتظار میں بیٹھ گیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔آپ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک ہاتھ میں اٹھایا ہوا تھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر چلے آئے اور آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے سامنے بٹھا لیا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ دونوں کو اپنی ران پر بٹھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر یا اپنا کپڑا ان سب کے اوپر ڈال دیا۔پھر یہ آیت تلاوت کی:{إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} … کہ اللہ تم سے یعنی نبی کے اہل بیت سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور کرکے مکمل طور پر پاک صاف کرنا چاہتا ہے۔ (سورۂ احزاب:۳۳) ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت اس سعادت کے زیادہ حق دار ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11391
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 72، وابويعلي: 7486، والطبراني في الكبير : 22/ 160 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17113»
حدیث نمبر: 11392
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَيْتِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْفَجْرِ فَيَقُولُ ”الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چھ ماہ تک یہ معمول رہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازفجر کے وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس سے گزرتے تو فرماتے: اے اہل بیت! نماز ادا کرو۔ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم (اہل بیت) سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور کرکے مکمل طور پر پاک صاف کرنا چاہتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11392
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 127، وابويعلي: 3979، والطيالسي: 2059 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13728 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13764»
حدیث نمبر: 11393
عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيِّ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبُرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ مَعَهُ لَقَدْ رَأَيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي وَاللَّهِ لَقَدْ كَبُرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوا وَمَا لَا فَلَا تُكَلِّفُونِيهِ ثُمَّ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَطِيبًا فِينَا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا يَعْنِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ ”أَمَّا بَعْدُ أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَأُجِيبُ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ“ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ قَالَ ”وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي“ فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ إِنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ وَمَنْ هُمْ قَالَ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ أَكُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ قَالَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یزید بن حیان تیمی کہتے ہیں: میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے کہا: اے زید! تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سنی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں، زید! بس تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، زید! تم نے جو احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہیں، وہ ہمیں بھی بیان کرو، انھوں نے کہا: اے بھتیجے! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کو بھی کافی عرصہ گزر چکا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو احادیثیاد کی تھیں، ان میں سے بعضوں کو بھول بھی گیا ہوں، اس لیے میں تم کو جو کچھ بیان کر دوں، اس کو قبول کر لو اور جو نہ کر سکوں، اس کی مجھے تکلیف نہ دو۔ پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غدیر خم، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، کے مقام پر خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت کیا اور پھر یہ بھی فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! خبردار! اے لوگو! میں ایک بشر ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے ربّ کا قاصد میرے پاس آ جائے اور میں اس کی بات قبول کر لوں، بات یہ ہے کہ میں تم میں دو بیش قیمت اور نفیس چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ چمٹ جاؤ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر آمادہ کیا اور اس کے بارے میں ترغیب دلائی، اور پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰیاد کرواتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے حق میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں۔ حصین نے کہا: اے زید! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں بھی اہل بیت میں سے ہیں؟ انھوں نے کہا: بیشک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت وہ ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔ حصین نے کہا: وہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ آلِ علی، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔ اس نے کہا: کیا اِن سب پر صدقہ حرام ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … ثَقَل کے معانی بیش قیمت نفیس چیز اور سامان کے ہیں، قرآن مجید اور اہل بیت کی شان و عظمت یا اس نصیحت کے مطابق کیے جانے والے عمل کے بھاری ہونے کی وجہ سے ان دو چیزوں کو ثَقَلَیْن کہا گیا ہے۔
امہات المؤمنین اس اعتبار سے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے کفیل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان سے نکاح نہیں کیا جا سکتا، نیز ان کے احترام و اکرام اور حقوق کے تقاضوں کو پورا کرنے کا خاص حکم دیا گیا ہے، لیکنیہ اس آل میں داخل نہیں ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11393
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2408 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19479»
حدیث نمبر: 11394
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ ”مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ وَأَبَاهُمَا كَانَ مَعِيَ فِي دَرَجَتِي فِي الْجَنَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: جس نے مجھ سے اور ان دونوں سے اور ان کے باپ سے محبت کی وہ جنت میں میرے درجہ میں میرے ساتھ ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11394
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف، علي بن جعفر بن محمد روي عنه جمع، ولكنه لايعرف بجرح ولا تعديل، اخرجه الترمذي: 3733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 576»
حدیث نمبر: 11395
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو باقی رہنے والی چیزیں چھوڑ رہا ہوں، ایک تو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، یہ ایک رسی ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان لٹکی ہوئی ہے اور میرا خاندان جو کہ میرے اہل بیت ہیں، لوگوں کے حوض کو ثر پر آنے تک یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11395
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بشواھده دون قوله وانھما لن يتفرقا حتييردا علي الحوض وھذا اسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، اخرجه الطبراني: 4921، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21911»
حدیث نمبر: 11396
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعِتْرَتِي كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُونِي هُمْ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: بیشک قریب ہے کہ مجھے بلایا جائے ا ور میں اس دعوت کو قبول کر لوں، میں تمہارے درمیان دو اہم اور مضبوط چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک تو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور دوسری چیز میراخاندان، اللہ کی کتاب وہ رسی ہے، جو آسمان سے زمین کی طرف لٹک رہی ہے اور میرا خاندان میرے اہل بیت ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت باریک بیں اور ہر چیز سے باخبر ہے، اس نے مجھے اطلاع دی ہے کہ یہ دونوں حوض پر آنے تک یعنی قیامت تک ایک دوسری سے جدا نہ ہوں گی، تم میرا خیال رکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہو؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11396
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بشواھده دون قوله: وان اللطيف الخبير اخبرني انھما لن يتفرقا حتييردا علي الحوض وھذا اسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، اخرجه الترمذي: 3788 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11148»
حدیث نمبر: 11397
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى الْمَنَامَةِ فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَاةٍ لَنَا بَكِيءٍ فَحَلَبَهَا فَدَرَّتْ فَجَاءَهُ الْحَسَنُ فَنَحَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ قَالَ ”لَا وَلَكِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ“ ثُمَّ قَالَ ”إِنِّي وَإِيَّاكِ وَهَذَيْنِ وَهَذَا الرَّاقِدَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں بستر پر سویا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے پینے کے لیے کوئی چیز طلب کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری ایک بکری کی طرف کھڑے ہوئے، جس کا دودھ بہت ہی قلیلتھا یا بالکل ختم ہو گیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دوہنے لگے تو اس نے دودھ اتار دیا، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک طرف کر دیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں میں سے آپ کو حسن رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔لیکن اس (حسن رضی اللہ عنہ ) نے پہلے طلب کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں، تم، یہ دونوں بچے اور یہ سویا ہوا آدمییعنی سیدنا علی قیامت کے دن ہم سب ایک ہی جگہ ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … مسند بزار کی روایت میں فَاسْتَسْقَی الْحَسَنُ أَوْ الْحُسَیْنُ کے بجائے فَاسْتَسْقَی الْحَسَنُ کے الفاظ ہیں، ان الفاظ کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ فَجَائَہُ الْحَسَنُ والے الفاظ کی اصل صورت یہ ہے: فَجَائَہُ الْحُسَیْنُ، اس طرح معنی درست ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11397
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، قيس بن الربيع مضطرب الحديث وضعّفه غير واحد، وآفته من ابن له كان يأخذ حديثَ الناس، فيدخله في كتاب قيس ولا يعرف الشيخ ذالك ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: )792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 792»
حدیث نمبر: 11398
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَفَاطِمَةَ فَقَالَ ”أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناحسن ، سیدنا حسین اور سیدہ فاطمہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: جو کوئی تمہارا مخالف ہو میں اس کا مخالف ہوں اور جو تم لوگوں سے صلح رکھے گا میری بھی اس سے صلح ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11398
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، تليد بن سليمان اتفقوا علي ضعفه، واتّھم بالكذب، اخرجه الحاكم: 3/ 149، والطبراني في الكبير : 2621 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9698 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9696»
حدیث نمبر: 11399
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قُرَيْشًا إِذَا لَقِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَقُوهُمْ بِبِشْرٍ حَسَنٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا قَالَ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قریش جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو خندہ روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو بے رخی اور ترش روئی سے ملتے ہیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شدید غضب ناک ہو کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کسی بھی آدمی کے دل میں ایمان اس وقت تک جاگزیں نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی کے لیے تمہارے ساتھ دلی محبت نہیں رکھے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11399
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف،يزيد بن ابي زياد القرشي ضعيف، اخرجه الترمذي: 3758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1772»
حدیث نمبر: 11400
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ إِنَّا لَنَخْرُجُ فَنَرَى قُرَيْشًا تُحَدِّثُ فَإِذَا رَأَوْنَا سَكَتُوا فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ إِيمَانٌ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِقَرَابَتِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:ہم باہر نکلیں تو ہم قریش کو آپس میں باتیں کرتے دیکھتے ہیں، لیکن جب وہ ہمیں دیکھتے ہیں تو خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر غضب ناک ہوگئے کہ آ پ کی آنکھوں کے درمیان سے پسینہ بہنے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم!کسی آدمی کے دل میں ایمان اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اللہ کے لیے اور میرے ساتھ قرابت کا لحاظ کرتے ہوئے تم لوگوں سے محبت نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11400
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1777»
حدیث نمبر: 11401
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ وَاللَّهِ مَا أُرْسِلَ بِهِ وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ لَيْسَ ثَلَاثًا أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَأَنْ لَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ قَالَ مُوسَى فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَسَنٍ فَقُلْتُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ إِنَّ الْخَيْلَ كَانَتْ فِي بَنِي هَاشِمٍ قَلِيلَةً فَأَحَبَّ أَنْ تَكْثُرَ فِيهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند بندے تھے۔ اللہ کی قسم! آپ کو اللہ کی طرف سے جو پیغام دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اسی طرح آگے پہنچا دیا اور عام امت سے ہٹ کر تین باتوں کے سوا ہمیں علیحدہ کوئی خاص حکم نہیں دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم مکمل وضو کیا کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گدھوں سے گھوڑ یوں سے جفتی نہ کرائیں۔ موسیٰ بن سالم کہتے ہیں کہ جب میری عبدالرحمن بن حسن سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا: عبداللہ بن عبید اللہ بن عباس نے مجھے یوں بیان کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ بنو ہاشم میں گھوڑے کم تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاہا کہ ان کے ہاں گھوڑوں کی تعدادمیں اضافہ ہو جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس عمل سے منع فرمایا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … وضو مکمل کرنا اور گھوڑیوں کی گدھوں سے جفتی کرانا، یہ دو حکم عام امت کے لیے بھییہی ہیں، جو اس حدیث میں بیان ہوئے ہیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل صدقہ نہیں کھا سکتے۔
گھوڑیوں کی گدھوں سے جفتی کروانے کا حکم کیاہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۹۵) اور اس سے پہلے والی احادیث۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11401
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 808،والترمذي: 1701،وابن ماجه: 426،والنسائي: 1/89 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1977»
حدیث نمبر: 11402
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ جِئْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو هَاشِمٍ لَا يُنْكَرُ فَضْلُهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي وَصَفَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ مِنْهُمْ أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ ”إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونِي فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَإِنَّمَا هُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ“ قَالَ ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں :جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تو میں (جبیر) اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ہاشم ہیں، ان کی فضیلت کا انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان سے اس مقام کی وجہ سے، جو اللہ تعالیٰ نے بیان کیا، لیکن آپ غور کریں کہ یہ جو ہمارے بھائی بنو مطلب ہیں، آپ نے ان کو دے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا، جبکہ ہم اور بنو مطلب آپ سے ایک مقام پر ہیں، (یعنی آپ سے ہمارا اور ان کا رشتہ داری کا درجہ ایک ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ نہ مجھ سے جاہلیت میں جدا ہوئے ہیں اور نہ اسلام میں، بس بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں میں تشبیک ڈالی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11402
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3140، 3502 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16741 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16862»
حدیث نمبر: 11403
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”خَيْرُ عَطَاءٍ هَذَا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ وَيَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنْ كَانَ لَكُمْ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ فَلَأَعْرِفَنَّ مَا مَنَعْتُمْ أَحَدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ أَيَّ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بنو عبد مناف کو کوئی چیز دی اور) فرمایا: اے بنی عبدمناف! یہ بہترین عطیہ ہے اور اے بنو عبدالمطلب! اگر تمہیں حکومت اور اقتدار مل جائے تو تم کسی کو بھی دن رات کی کسی گھڑی میں بیت اللہ کا طواف کرنے سے نہ روکنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11403
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابوداود:1894 ،والترمذي: 868،وابن ماجه: 1254،والنسائي: 1/ 284 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16864»