حدیث نمبر: 11382
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ“ قَالَ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ وَقَدِ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا قَالَ فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَيْفٍ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمْسَكَ قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ قَالَ فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ وَاللَّهِ إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آج رات مجھے بیٹا عطا فرمایا ہے، میں نے اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نام پر اس کا نام رکھا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو رضاعت کے لیے مدینہ کے ایک لوہار سیدنا ابو سیف رضی اللہ عنہ کی اہلیہسیدہ ام سیف رضی اللہ عنہا کے حوالے کیا، ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیکھنے کے لیے چل کر گئے، میں بھی آپ کے ساتھ گیا، جب میں وہاں پہنچا تو ابو سیف اپنی بھٹی میں پھونک مار رہا تھا اور کمرہ دھوئیں سے بھر چکا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے آگے جلدی چل کر گیا اور میں نے ان سے کہا: ابو سیف! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔ تو وہ اپنے کام سے رک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ آپ نے بچے کو بلوا کر اسے سینے سے لگایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس حال میں دیکھا کہ وہ اپنی جان اللہ کے سپرد کر رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آنکھ آنسو بہا رہی ہے، اور دل غمگین ہے، لیکن ہم زبان سے وہی بات کہیں گے، جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اے ابراہیم ہم تیری جدائی پر بہت زیادہ غمگین ہیں۔
حدیث نمبر: 11383
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ قَالَ عَمْرٌو فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ فَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ يُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر اپنے اہل و عیال کے حق میں مہربان کسی کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی بالائی بستیوں میں رضاعت کے لیے بھیجے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جاتے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہو جاتے، حالانکہ اس گھر میں دھواں اٹھ رہا ہوتا تھا، کیونکہ ان کا رضاعی والد لوہار تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے، اسے بوسے دیتے اور پھر واپس تشریف لے آتے۔ عمرو راوی کہتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ابراہیم میرا بیٹا ہے، چونکہ یہ دودھ پینے کی مدت کے اندر اندر فوت ہوا ہے، اس لیے اس کی جنت میں دو رضاعی مائیںہوں گی، جو اس کی رضاعت کو پورا کریں گی۔
وضاحت:
فوائد: … سید الاوّلین والآخرین نے اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لیے لوہار کے گھر بھیج دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لوہار کے گھر جانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے، یہی بندگی ہے، یہی بندگی ہے۔
حدیث نمبر: 11384
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْفَنَ فِي الْبَقِيعِ وَقَالَ ”إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا يُرْضِعُهُ فِي الْجَنَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پسر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا سولہ ماہ کی عمر میں انتقال ہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے جنت البقیع میں دفن کرنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے جنت میں ایک دایہ دودھ پلائے گی۔
حدیث نمبر: 11385
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَقَدْ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کا اٹھارہ ماہ کی عمر میں انتقال ہوا تھا، آپ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … کتاب الجنائز میں بچے کی نمازِ جنازہ کا حکم بیان ہو چکا ہے۔
حدیث نمبر: 11386
عَنِ السُّدِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہتے تو وہ سچے نبی ہوتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع کی موقوف روایات کو بھی مرفوع کا حکم دیا جائے گا، کیونکہ ان کا رائے اور اجتہاد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا: وہ چھوٹی عمر میں ہیفوت ہوگئے تھے، اگر یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی نے آنا ہے تو ان کو زندگی عطا کر دی جاتی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۱۹۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ لَہٗمُرْضِعًافِیْ الْجَنَّۃِ وَلَوْ عَاشَ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا۔)) یعنی: بیشک اس کو دودھ پلانے والی جنت میں ہے، اور اگر یہ (میرا بیٹا) زندہ رہتا تو صِدِّیق اور نبی ہوتا۔ (ابن ماجہ: ۱۵۱۱، ولھذا القدر من الحدیث شواہد)
قادیانی ذہن کے لوگوں نے اس حدیث اور ان اقوال کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا انکار کیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان واضح ترین شرعی دلائل کا کیا جائے گا، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت و رسالت کے ختم ہو جانے کی وضاحت کی گئی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ تعلیق بالمحال کا نتیجہ بھی محال ہوتا ہے، یعنی نہ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہے اور نہ ان کو نبوت ملی۔ اس قسم کی تعلیق تو قرآن مجید میں بھی کثرت سے استعمال ہوئی ہے۔ مثلا: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ۔} (سورۂ زمر: ۶۵) یعنی: (اے محمد!) اگر تو نے شرک کیا توتیرے عمل ضائع ضرور ضرور ضائع ہو جائیں گے اور ضرور ضرور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔
مزید ارشاد ہوا: {وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَائَ ھُمْ بَعْدَ مَا جَائَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ۔} (سورۂ بقرہ: ۱۲۰) یعنی: (اے محمد!) اگر تو نے اپنے پاس علم آ جانے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہو گا۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ امور ہونے تھے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا انجامِ بد بھگتنا تھا، اسے تعلیق بالمحال کہتے ہیں، قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ سے متعلقہ اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا کہ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہیں تو وہ صِدِّیق اور نبی ہوتے، لیکن چونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے ارادے نے یہ تقاضا کیا کہ وہ بچپنے میں ہی فوت جائیں، لہٰذا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کی نفی نہیں ہوتی۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: یہ روایات اگرچہ موقوف ہیں، لیکن ان کا حکم مرفوع کا ہے، کیونکہ ان کا تعلق ایسے غیبی امور سے ہے کہ جن میں رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بہرحال ان کی معرفت کے بعد ان سے قادیانیوں کا نبوت کے جاری رہنے کا استدلال کرنا باطل ہو جاتا ہے، بلکہ یہدلیل الٹا ان کے خلاف جا رہی ہے، کیونکہ اس میں تو یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی بچپنے میں وفات کا سبب ہییہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا۔
(سلسلہ ضعیفہ: ۲۲۰)
اس قسم کی ایک مثال یہ ہے: سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْ کَانَ بَعْدِيْ نَبِيٌّ، لَکَانَ عُمَرَ۔)) (جامع الترمذی: ۲/۲۹۳، الصحیحۃ:۳۲۷)
یعنی: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر (رضی اللہ عنہ) ہوتا۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا تھا، اس لیے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس درجے پر فائز نہ ہو سکے، دراصل اس حدیث میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صلاحیت، لیاقت، قابلیت، اہلیت، حق گوئی اور حق کے قریب ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ لَہٗمُرْضِعًافِیْ الْجَنَّۃِ وَلَوْ عَاشَ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا۔)) یعنی: بیشک اس کو دودھ پلانے والی جنت میں ہے، اور اگر یہ (میرا بیٹا) زندہ رہتا تو صِدِّیق اور نبی ہوتا۔ (ابن ماجہ: ۱۵۱۱، ولھذا القدر من الحدیث شواہد)
قادیانی ذہن کے لوگوں نے اس حدیث اور ان اقوال کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا انکار کیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان واضح ترین شرعی دلائل کا کیا جائے گا، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت و رسالت کے ختم ہو جانے کی وضاحت کی گئی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ تعلیق بالمحال کا نتیجہ بھی محال ہوتا ہے، یعنی نہ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہے اور نہ ان کو نبوت ملی۔ اس قسم کی تعلیق تو قرآن مجید میں بھی کثرت سے استعمال ہوئی ہے۔ مثلا: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ۔} (سورۂ زمر: ۶۵) یعنی: (اے محمد!) اگر تو نے شرک کیا توتیرے عمل ضائع ضرور ضرور ضائع ہو جائیں گے اور ضرور ضرور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔
مزید ارشاد ہوا: {وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَائَ ھُمْ بَعْدَ مَا جَائَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ۔} (سورۂ بقرہ: ۱۲۰) یعنی: (اے محمد!) اگر تو نے اپنے پاس علم آ جانے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہو گا۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ امور ہونے تھے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا انجامِ بد بھگتنا تھا، اسے تعلیق بالمحال کہتے ہیں، قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ سے متعلقہ اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا کہ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہیں تو وہ صِدِّیق اور نبی ہوتے، لیکن چونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے ارادے نے یہ تقاضا کیا کہ وہ بچپنے میں ہی فوت جائیں، لہٰذا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کی نفی نہیں ہوتی۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: یہ روایات اگرچہ موقوف ہیں، لیکن ان کا حکم مرفوع کا ہے، کیونکہ ان کا تعلق ایسے غیبی امور سے ہے کہ جن میں رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بہرحال ان کی معرفت کے بعد ان سے قادیانیوں کا نبوت کے جاری رہنے کا استدلال کرنا باطل ہو جاتا ہے، بلکہ یہدلیل الٹا ان کے خلاف جا رہی ہے، کیونکہ اس میں تو یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی بچپنے میں وفات کا سبب ہییہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا۔
(سلسلہ ضعیفہ: ۲۲۰)
اس قسم کی ایک مثال یہ ہے: سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْ کَانَ بَعْدِيْ نَبِيٌّ، لَکَانَ عُمَرَ۔)) (جامع الترمذی: ۲/۲۹۳، الصحیحۃ:۳۲۷)
یعنی: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر (رضی اللہ عنہ) ہوتا۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا تھا، اس لیے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس درجے پر فائز نہ ہو سکے، دراصل اس حدیث میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صلاحیت، لیاقت، قابلیت، اہلیت، حق گوئی اور حق کے قریب ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 11387
ثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ لَوْ كَانَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ مَا مَاتَ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسماعیل بن ابی خالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی آنا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم علیہ السلام فوت نہ ہوتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب سے معلوم ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک فرزند کا نام ابراہیم تھا، یہ سیدہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رضاعت کے لیے سیدنا ابو سیف کی اہلیہ سیدہ ام سیف کے حوالے کیا تھا، یہ اٹھارہ ماہ کی عمر میں وفات پا گئے۔