کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
حدیث نمبر: 10838
عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَلَالٌ بَعْدَ مَا رَجَعْنَا مِنْ مَكَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے واپسی پر مجھ سے نکاح کیا، جب کہ ہم احرام کی حالت میں نہیں تھے۔
حدیث نمبر: 10839
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ فِي بَعْثٍ مَرَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {اذْهَبْ فَأْتِنِي بِمَيْمُونَةَ} فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي فِي الْبَعْثِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {أَلَسْتَ تُحِبُّ مَا أُحِبُّ} قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ {اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَا} فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ایک دستے میں میرے نام کا بھی اندراج کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر میمونہ کو لے آؤ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرا نام تو فلاں دستے میں لکھا جا چکا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں وہ کام پسند نہیں، جو مجھے پسند ہے؟ میں نے عرض کیا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم جا کر میمونہ کو میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ میں گیا اور ان کو لے آیا۔
حدیث نمبر: 10840
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا اور جب ان کے ساتھ خلوت اختیار کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال تھے یعنی احرام کی حالت میں نہ تھے اور میں ان دونوں کے درمیان قاصد تھا۔
وضاحت:
فوائد: … منگنی کا پیغام بھیجنا، نکاح کرنا اور نکاح کروانا، یہ سب امور محرِم کے لیے حرام ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے احرام سے پہلے شادی کی تھی، اس معاملے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو حقیقت ِ حال کا علم نہ ہو سکا تھا اور انھوں نے کسی وہم کی بنا پر یہ سمجھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں نکاح کیا تھا، ممکن ہے کہ جب یہ نکاح مشہور ہوا ہو تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں ہوں اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہی سمجھ لیا ہو کہ ابھی نکاح ہوا ہے۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا صاحب القصہ تھیں اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ اس نکاح کے قاصد تھے، ان دونوں کا بیانیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام سے پہلے نکاح کیا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرِم کے لیے نکاح کرنے کو حرام بھی قرار دیا ہے، اس لیےیہ قرائن اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ نکاح احرام سے پہلے ہوا تھا۔
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا اصل نام بَرّہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام میمونہ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرۂ قضاء کے موقع پر ذوالحجہ ۷ھمیں احرام سے پہلے ان سے نکاح کیا تھا اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد حق زوجیت ادا کیا تھا۔
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا اصل نام بَرّہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام میمونہ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرۂ قضاء کے موقع پر ذوالحجہ ۷ھمیں احرام سے پہلے ان سے نکاح کیا تھا اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد حق زوجیت ادا کیا تھا۔