کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: غزوۂ خیبر کی غنیمتوں کی تقسیم اور اس امر کا بیان کہ یہ غنیمتیں اہلِ حدیبیہ کے لیے مختص تھیں
حدیث نمبر: 10826
عَنْ مُجَمِّعِ ابْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ قَالَ شَهِدْنَا الْحُدَيْبِيَةَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْهَا إِذَا النَّاسُ يُنْفِرُونَ الْأَبَاعِرَ فَقَالَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ مَا لِلنَّاسِ قَالُوا أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ حَتَّى وَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ عِنْدَ كُرَاعِ الْغَمِيمِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا [الفتح: 1] فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ وَفَتْحٌ هُوَ قَالَ أَيْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ فَقُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُدْخِلْ مَعَهُمْ فِيهَا أَحَدًا إِلَّا مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ فِيهِمْ ثَلَاثُ مِائَةِ فَارِسٍ فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ ،جو ان قراء میں سے تھے، جنھوں نے قرآن پڑھا ہوا تھا،سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حدیبیہ میں حاضر ہوئے، جب ہم وہاں سے واپس ہوئے تو لوگ اچانک اپنے اپنے اونٹوں کو تیز تیز چلانے لگے، لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھا: کیا بات ہوئی؟ تو دوسروں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول ہوا ہے، ہم بھی اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے دوسرے لوگوں کے ساتھ چل دئیے، ہم نے کراع غمیم مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سواری پر موجود پایا، لوگ آپ کے اردگرد جمع تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سامنے {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنَا۔} یعنی سورۂ فتح کی تلاوت کی۔ صحابہ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول ! کیایہ ہمارے حق میں واقعی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! یہیقینا فتح ہے۔ اس کے بعد غزوۂ خیبر کی غنیمتیں صرف ان لوگوں میں تقسیم کی گئیں، جو حدیبیہ میں حاضر تھے، ان کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان غنیمتوں کو اٹھارہ حصوں میں بانٹ دیا، لشکر میں پندرہ سو آدمی تھے، ان میں سے تین سو گھڑ سوار بھی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑ سواروں کو دو دو حصے اور پیدل لوگوں کو ایک ایک حصہ دیا۔
حدیث نمبر: 10827
عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَغْنَمًا قَطُّ إِلَّا قَسَمَ لِي إِلَّا خَيْبَرَ فَإِنَّهَا كَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ خَاصَّةً وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو مُوسَى جَاءَا بَيْنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَخَيْبَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمار بن ابی عمار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوۂ خیبر کے علاوہ جس غزوہ میں بھی حاضر ہوا، آپ نے مجھے مالِ غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا، غزوۂ خیبر کی غنیمتیں اہلِ حدیبیہ کے لیے مختص تھیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حدیبیہ اور خیبر کے درمیانی عرصہ میں آئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اگلے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی آمد کی تفصیل موجود ہے۔