کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں کس طرح داخل ہوئے؟ اور یہ کہ خیبر کو حملہ کر کے فتح کیا گیا تھا، نیز بنو قریظہ اور بنو نضیر کے رئیس حیی بن اخطب کی دختر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ¤آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی کا بیان
حدیث نمبر: 10811
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتَيَّ لَتَمَسُّ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا الْخُمُسُ قَالَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجُمِعَ السَّبْيُ قَالَ فَجَاءَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ قَالَ اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً قَالَ فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ وَاللَّهِ مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ادْعُوهُ بِهَا فَجَاءَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا ثُمَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا فَقَالَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ وَبَسَطَ نِطَعًا فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ قَالَ فَحَاسُوا حَيْسًا وَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر پر حملہ آور ہوئے تو ہم نے خیبر کے قریب جا کر منہ اندھیرے نمازِ فجر ادا کی، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوئے، میں اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ایک سواری پر سوار ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر خیبر کی گلیوں میں چلنے لگے، چلتے وقت میرا گھٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ران کو چھو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر آپ کی رانوں سے ذرا ہٹی ہوئی تھی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رانوں کی سفیدی کو دیکھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب خیبر کی بستی میں داخل ہوئے تو فرمایا: اللہ اکبر، خیبر ویران ہو گیا۔ ہم جب کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح ان کے حق میں بری ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ الفاظ تین مرتبہ دہرائے، یہودی لوگ اپنے کاموں کے سلسلہ میں باہر نکلے تو یہ منظر دیکھ کر کہنے لگے یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کا لشکر ہے، پس ہم نے خیبر کو حملہ کر کے فتح کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیدیوں کو ایک جگہ جمع کیا۔ تو سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے قیدیوں میں سے ایک لونڈی عنایت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر ایک لونڈی لے لو۔ انہوں نے صفیہ بنت حیی کو اپنے قبضے میں لے لیا، لیکن ایک آدمی نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے رئیس کی دختر دحیہ کو دے دی ہے، اللہ کی قسم! وہ تو صرف آپ ہی کے لائق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دحیہ رضی اللہ عنہ کو بلاؤ اور کہو کہ وہ اسے ساتھ لے کر آئے۔ سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ صفیہ کو ساتھ لیے حاضر ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو دیکھا تو فرمایا: دحیہ! تم قیدیوں میں سے کوئی اور لے لو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو آزاد کر کے اس سے نکاح کر لیا، جب راستے ہی میں تھے کہ سیّدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کو تیار کیا اور رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پیش کیا، صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی ہو چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: جس آدمی کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ لے آئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چمڑے کا دستر خوان بچھا دیا، کوئی پنیر لے آیا، کوئی کھجور لایا اور کوئی گھی لے آیااور کوئی ستو لے کر حاضر ہو گیا۔ صحابہ نے ان سب چیزوں کو ملا کر کھانا تیار کیا،یہی کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
وضاحت:
فوائد: … بنو قریظہ اور بنو نضیر کے سردار حیی بن اخطب کی بیٹی صفیہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شایان شان تھیں اور پھر ایسے ہی ہوا، غزوۂ خیبر کا انجام سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے حق میں بہت اچھا رہا کہ نہ صرف یہودیت سے جان چھوٹی، بلکہ اسلام بھی نصیب ہوا اور پھر ام المؤمنین کا عظیم لقب بھی مل گیا۔