کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غزوۂ احد میں مقامِ جنگ، صفوں کی تنظیم وترتیب، قائدین کا تقرر، امام کی اطاعت کے وجوب¤اور اس کے امر کی مخالفت کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10729
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَوَضَعَهُمْ مَوْضِعًا وَقَالَ إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَى الْعَدُوِّ وَأَوْطَأْنَاهُمْ فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ قَالَ فَهَزَمُوهُمْ قَالَ فَأَنَا وَاللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ عَلَى الْجَبَلِ وَقَدْ بَدَتْ سُوقُهُنَّ وَخَلَاخِلُهُنَّ رَافِعَاتٍ ثِيَابَهُنَّ فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ الْغَنِيمَةَ أَيْ قَوْمُ الْغَنِيمَةَ ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْظُرُونَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَسِيتُمْ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا إِنَّا وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ فَلَمَّا أَتَوْهُمْ صُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ فَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ فَذَلِكَ الَّذِي يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ فَلَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا فَأَصَابُوا مِنَّا سَبْعِينَ رَجُلًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أَصَابَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً سَبْعِينَ أَسِيرًا وَسَبْعِينَ قَتِيلًا فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ ثَلَاثًا فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِيبُوهُ ثُمَّ قَالَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَمَّا هَؤُلَاءِ فَقَدْ قُتِلُوا وَقَدْ كُفِيتُمُوهُمْ فَمَا مَلَكَ عُمَرُ نَفْسَهُ أَنْ قَالَ كَذَبْتَ وَاللَّهِ يَا عَدُوَّ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ عَدَدْتَ لَأَحْيَاءٌ كُلُّهُمْ وَقَدْ بَقِيَ لَكَ مَا يَسُوءُكَ فَقَالَ يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالٌ إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا وَلَمْ تَسُؤْنِي ثُمَّ أَخَذَ يَرْتَجِزُ اعْلُ هُبَلُ اعْلُ هُبَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تُجِيبُونَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا نَقُولُ قَالَ قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ قَالَ إِنَّ الْعُزَّى لَنَا وَلَا عُزَّى لَكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تُجِيبُونَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا نَقُولُ قَالَ قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ احد کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچاس تیر اندازوں پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا اور انہیں ایک مقام پر ٹھہرایا اور فرمایا: اگر تم دیکھو کہ پرندے ہماری لاشوں کو آکر کھا رہے ہیں تم تب بھی یہاں سے نہ ہٹنا، تاآنکہ میں خود تمہارے پاس پیغام بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم دشمن پر غالب آ چکے اور اسے روند چکے ہیں تم تب بھی یہاں سے اِدھر اُدھر نہ جانا، جب تک کہ میں خود تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:مسلمانوں نے کفار کو شکست سے دو چار کیا۔ اللہ کی قسم! میں نے عورتوں کو پہاڑ کے اوپر دوڑتے ہوئے یعنی گھبراہٹ میں تیز تیز چلتے دیکھا ان کی حالت یہ تھی کہ ان کی پنڈلیاں اور پازیبیں دکھائی دے رہی تھیں اور انہوں نے اپنے کپڑوں کو اٹھایا ہوا تھا۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے تیر انداز ساتھیوں نے کہا: لوگو! چلو مالِ غنیمت اکٹھا کریں، مسلمانوں کو فتح حاصل ہو چکی ہے، اب تم کس چیز کے منتظر ہو؟ سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بہت کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم سے جو فرمایا تھا، کیا تم اسے بھول گئے ہو؟ یہ لوگ جب میدان میں پہنچے، صورت حالات بدل گئی اور شکست خوردہ ہو کر واپس ہوئے۔ یہی وہ وقت تھا جب رسول ان کو ان کے پیچھے سے آوازیں دے دے کر بلا رہے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ محض بارہ آدمی رہ گئے تھے اور کفار نے ہمارے ستر آدمیوں کو قتل کیا تھا، جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام نے بدر کے دن ستر کافر وں کو قتل اور ستر کافروں کو قیدی بنایا تھا، لڑائی کے بعد ابو سفیان نے پکار کر دریافت کیا: کیا تمہارے اندر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہیں؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو اس کی بات کا جواب دینے سے منع فرما دیا۔ اس کے بعد اس نے پکار کر پوچھا کیا تمہارے ابن ابی قحافہ یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر ابو قحافہ کے بیٹے موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر ابن خطاب ہیں؟ کیا تمہارے اندر خطاب کا بیٹا ہے؟ پھر اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر خوشی سے کہا یہ سب لوگ مارے جا چکے ہیں اور ان کی بابت تمہارا کام مکمل ہو چکا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کییہ باتیں سن کر کنٹرول نہ کر سکے اور فرمایا: اے اللہ کے دشمن! تو جھوٹ کہہ رہا ہے، تو نے جن جن لوگوں کے نام لیے ہیں وہ سب زندہ ہیں، اور تیرے لیے بری خبر باقی ہے۔ ابو سفیان نے کہا: آج کا دن، بدر کا بدلہ ہے، اور لڑائی میں ایسا ہوتا رہتا ہے، کبھی کوئی غالب اورکبھی کوئی، تم دیکھوگے کہ تمہارے مسلمانوں کے مقتولین کا مُثلہ کیا گیا ہے، مگر میں نے کسی کو ایسا کرنے کانہیں کہا۔ مگر مجھے یہ کام بُرا بھی نہیں لگا، پھر وہ خوشی سے اس قسم کے رجز یہ کلمات کہنے لگا۔ اے ہُبل! تو سر بلند ہو، اے ہبل! تو سربلند ہو، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کی باتوں کا جواب نہ دو گے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا، اللہ کے رسول! اس کے جواب میں ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہو اَللَّہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ (اللہ ہی بلند وبالا اور بزرگی والا ہے)۔ ابو سفیان نے کہا: ہمارے پاس تو ایک عُزی ہے، جب کہ تمہارا کوئی عزی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے اس کی بات کا جواب کیوں نہیں دیتے ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہو: اَللّٰہُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ (ہمارا مدد گار تو اللہ ہے، تمہارا کوئی مدد گار نہیں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة / حدیث: 10729
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3039، 3986، 4061، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18794»
حدیث نمبر: 10730
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ مَا نَصَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي مَوْطِنٍ كَمَا نَصَرَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَيْنِي وَبَيْنَ مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كِتَابُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي يَوْمِ أُحُدٍ {وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ} يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْحَسُّ الْقَتْلُ {حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} وَإِنَّمَا عَنَى بِهَذَا الرُّمَاةَ وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُمْ فِي مَوْضِعٍ ثُمَّ قَالَ احْمُوا ظُهُورَنَا فَإِنْ رَأَيْتُمُونَا نُقْتَلُ فَلَا تَنْصُرُونَا وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا قَدْ غَنِمْنَا فَلَا تَشْرَكُونَا فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَاحُوا عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ أَكَبَّ الرُّمَاةُ جَمِيعًا فَدَخَلُوا فِي الْعَسْكَرِ يَنْهَبُونَ وَقَدِ الْتَقَتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهُمْ كَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْهِ وَالْتَبَسُوا فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاةُ تِلْكَ الْخَلَّةَ الَّتِي كَانُوا فِيهَا دَخَلَتِ الْخَيْلُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَالْتَبَسُوا وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ وَقَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ أَوَّلُ النَّهَارِ حَتَّى قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ سَبْعَةٌ أَوْ تِسْعَةٌ وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ جَوْلَةً نَحْوَ الْجَبَلِ وَلَمْ يَبْلُغُوا حَيْثُ يَقُولُ النَّاسُ الْغَارَ إِنَّمَا كَانُوا تَحْتَ الْمِهْرَاسِ وَصَاحَ الشَّيْطَانُ قُتِلَ مُحَمَّدٌ فَلَمْ يُشَكَّ فِيهِ أَنَّهُ حَقٌّ فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ مَا نَشُكُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ حَتَّى طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ السَّعْدَيْنِ نَعْرِفُهُ بِتَكَفُّئِهِ إِذَا مَشَى قَالَ فَفَرِحْنَا حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا قَالَ فَرَقِيَ نَحْوَنَا وَهُوَ يَقُولُ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ رَسُولِهِ قَالَ وَيَقُولُ مَرَّةً أُخْرَى اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَعْلُونَا حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَمَكَثَ سَاعَةً فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يَصِيحُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ اعْلُ هُبَلُ مَرَّتَيْنِ يَعْنِي آلِهَتَهُ أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُجِيبُهُ قَالَ بَلَى فَلَمَّا قَالَ اعْلُ هُبَلُ قَالَ عُمَرُ اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ قَدْ أَنْعَمَتْ عَيْنُهَا فَعَادِ عَنْهَا أَوْ فَعَالِ عَنْهَا فَقَالَ أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهَا أَنَا ذَا عُمَرُ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ الْأَيَّامُ دُوَلٌ وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لَا سَوَاءٌ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَزْعُمُونَ ذَلِكَ لَقَدْ خِبْنَا إِذَنْ وَخَسِرْنَا ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ أَمَّا إِنَّكُمْ سَوْفَ تَجِدُونَ فِي قَتْلَاكُمْ مُثْلًا وَلَمْ يَكُنْ ذَاكَ عَنْ رَأْيِ سَرَاتِنَا قَالَ ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ فَقَالَ أَمَّا إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَاكَ وَلَمْ نَكْرَهْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جیسے احد کے موقع پر مسلمانوں کی مدد کی، ایسی کسی بھی موقع پر نہیں کی، عبیداللہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کییہ بات سن کر ہم سب کو تعجب ہوا۔ انھوں نے کہا: جو لوگ اس بات کے انکاری ہیں ان کے اور میرے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے احد والے دن کے متعلق فرمایا ہے:{وَلَقَدْ صَدَقَکُمْ اللّٰہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُمْ بِإِذْنِہِ} … اللہ نے تمہارے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کیا تم ان کافروں کو قتل کر رہے تھے۔ یہاں الحسّ سے مراد قتل کرنا ہے۔ مزید فرمایا: {حَتّٰی اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَعَصَیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَآ اَرٰیکُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْھُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ وَاللّٰہُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ۔} … مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مالِ غنیمت اور دشمن کی شکست)تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے، اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیا کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔ اس سے وہ تیر انداز مراد ہیں جنہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مقام پر متعین کیا تھا، اور فرمایا تھا کہ تم ادھر سے یعنی ہماری پشت کی جانب سے ہماری حفاظت کرنا، اگر تم دیکھو کہ ہم مارے جا رہے ہیں تب بھی تم ہماری مدد کو نہ آنا، اگر تم دیکھو کہ ہم غنیمتیں جمع کر رہے ہیں تب بھی تم ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غنیمتیں جمع کرنے لگے اور انہوں نے مشرکین کے لشکر کو شکست سے دو چار کیا تو تمام تیر انداز اُدھر امڈ آئے اور لشکر میں شامل ہو کر لوٹ مار کرنے لگے، اصحاب رسول کی صفیں آپس میں اس طرح گڈ مڈ ہو گئیں اور ساتھ ہی ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے دکھایا، جب ان تیر اندازوں نے اس مقررہ مقام کو غیر محفوظ چھوڑ دیا جہاں انہیں متعین کیا گیا تھا تو دشمنوں کا لشکر ادھر ہی سے اصحاب نبی پر حملہ آور ہو گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے کو مارا اور گتھم گتھا ہو گئے اوربہت سے مسلمان شہید ہو گئے۔ دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کا پلہ بھاری رہا، یہاں تک کہ مشرکین کے سات یا نو جھنڈا بردار قتل ہوئے اور مسلمان پہاڑ کی جانب بڑھتے گئے، وہ اس غار تک نہیں پہنچے تھے جس کے متعلق لوگ بیان کرتے ہیں کہ مسلمان غار تک پہنچ گئے تھے بلکہ وہ مہر اس نامی چشمہ تک پہنچے تھے جس کے قریب ہی سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا تھا۔اور شیطان نے زور دار آواز سے چیخ کر کہا تھا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قتل ہو گئے۔ اس بات کے حق ہونے میں کسی کو شک بھی نہ گزرا، ہمیں بھی اس بات کا پورا یقین ہو چکا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سعدین کے درمیان سے نظر آئے۔ ہم آپ کو آپ کے چلنے کے انداز سے پہچان لیتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے وقت سامنے کی طرف تھوڑا سا جھک کر چلتے تھے، صحابہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر ہمیں اس قدر خوشی ہوئی گویا کہ ہمیں کوئی دکھ پہنچا ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑ کے اوپر ہماری طرف چڑھ آئے اور اس وقت آپ یوں کہہ رہے تھے: ان لوگوں پر اللہ کا سخت غضب ہو، جنہوں نے اس کے رسول کے چہرے کو خون آلود کیا۔ اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں کہا: یہ لوگ کبھی بھی ہم پر غالب نہیں ہو سکتے۔ آپ اسی طرح کے کلمات کہتے کہتے ہمارے پاس آن پہنچے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ پہاڑ کے نیچے سے ابو سفیان نے زور سے چیخ کر دو مرتبہ کہا، اے ہُبُل، تو سربلند ہو۔ ابن ابی کبشہ کہاں ہے؟(اس سے اس کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے) ابو قحافہ کا بیٹا ابوبکر کہاں ہے؟ خطاب کا بیٹا عمر کہاں ہے؟ اس کی باتیں سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کی باتوں کا جواب نہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور دو۔ ابو سفیان نے جب کہا کہ اے ہبل تو سر بلند ہو۔ تو اس کے جواب میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللّٰہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ (صرف اللہ ہی سب سے بلند اور بزرگ ترین ہے۔) ابو سفیان نے کہا: اے ابن خطاب! ہبل کی بات پوری ہو چکی ہے۔ اب تم اس کے ذکر کو چھوڑو، ابو سفیان نے کہا تھا: ابو کبشہ کا بیٹا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہاں ہے؟ ابو قحافہ کا بیٹا کہاں ہے؟ اور خطاب کا بیٹا کہاں ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، یہ ہیں ابو بکر رضی اللہ عنہ اور یہ میں ہوں عمر، ابو سفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، یہ ایام پانی کے ڈول کی مانند ہوتے ہیں کبھی کوئی غالب آتا ہے اور کوئی مغلوب اور لڑائی میں باریاں ہوتی ہیں، غالب ہونے والے کبھی مغلوب اور مغلوب ہونے والے کبھی غالب آجاتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، برابری نہیں ہے، ہمارے مقتول تو جنت میں جائیں گے اور تمہارے مقتول جہنمی ہیں۔ ابو سفیان بولا: یہ تو تمہارا خیال ہے، اگر بات ایسی ہی ہو تو ہم سراسر ناکام اور خسارہ پانے والے ہیں۔ پھر ابو سفیان نے کہا: اے عمر! تم دیکھو گے کہ تمہارے مقتولین کا مثلہ کیا گیا ہے۔ مگر یہ ہمارے لیڈروں کا فیصلہ قطعاً نہ تھا، یہ بات کرنے کے ساتھ ہی اسے جاہلی حمیتنے آن لیا اور کہنے لگا: اگر چہ بات ایسے ہی ہے کہ یہ ہمارے لیڈروں کا فیصلہ نہ تھا، تاہم ہم اس پر خوش ہیں اور اسے ناپسند نہیں کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک درّے پر پچاس تیر انداز صحابہ کو تعینات کیا،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنگی مہارت کا منہ بولتا ثبوت تھا، لیکنیہ دستہ حکم عدولی کر بیٹھا اور لشکر ِ اسلام کی فتح، شکست میں تبدیل ہو گئی، سبق یہ ملتا ہے کہ کسی حالت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے اور ہر حال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو مقدم رکھنا چاہیے۔
تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے۔ جن صحابہ نے دشمنوں کی شکست دیکھ کر غنیمت میں رغبت کی اور درّے سے اتر آئے، ان کو دنیا کا طالب قرار دیا گیا اور جو درّے پر سیدہ عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ڈٹے رہے، وہ آخرت کی خواہش رکھنے والے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة / حدیث: 10730
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني: 10731، والحاكم: 2/ 296 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2609»
حدیث نمبر: 10731
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النِّسَاءَ كُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ خَلْفَ الْمُسْلِمِينَ يُجْهِزْنَ عَلَى جَرْحَى الْمُشْرِكِينَ فَلَوْ حَلَفْتُ يَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يُرِيدُ الدُّنْيَا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ} [آل عمران: 152] فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَصَوْا مَا أُمِرُوا بِهِ أُفْرِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي تِسْعَةٍ سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ عَاشِرُهُمْ فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ سَاعَةً حَتَّى قُتِلَ فَلَمَّا رَهِقُوهُ أَيْضًا قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَا حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ اعْلُ هُبَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ فَقَالُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ لَنَا عُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا وَالْكَافِرُونَ لَا مَوْلَى لَهُمْ ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ يَوْمٌ لَنَا وَيَوْمٌ عَلَيْنَا وَيَوْمٌ نُسَاءُ وَيَوْمٌ نُسَرُّ حَنْظَلَةُ بِحَنْظَلَةَ وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا سَوَاءَ أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْيَاءٌ يُرْزَقُونَ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ يُعَذَّبُونَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ قَدْ كَانَتْ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةٌ وَإِنْ كَانَتْ لَعَنْ غَيْرِ مَلَإٍ مِنَّا مَا أَمَرْتُ وَلَا نَهَيْتُ وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا كَرِهْتُ وَلَا سَاءَنِي وَلَا سَرَّنِي قَالَ فَنَظَرُوا فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُهُ وَأَخَذَتْ هِنْدُ كَبِدَهُ فَلَاكَتْهَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْكُلَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَأَكَلَتْ مِنْهُ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُدْخِلَ شَيْئًا مِنْ حَمْزَةَ النَّارَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَجِيءَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَوُضِعَ إِلَى جَنْبِهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَرُفِعَ الْأَنْصَارِيُّ وَتُرِكَ حَمْزَةُ ثُمَّ جِيءَ بِآخَرَ فَوَضَعَهُ إِلَى جَنْبِ حَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ وَتُرِكَ حَمْزَةُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ صَلَاةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد کے دن خواتین مسلمانوں کے پیچھے تھیں اور وہ مشرکین کے زخمی لوگوں کی مرہم پٹی اور خدمت کر رہی تھیں، میں اس روز قسم اُٹھا کر کہہ سکتا تھا کہ ہم میں سے ایک بھی آدمی دنیا کا خواہش مند اور طالب نہ تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الْآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ} … اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ جب بعض صحابہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم عدولی کے مرتکب ہوئے اور حالات نے رخ بدلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات انصار اور دو قریشیوں کے ایک گروپ میں علیحدہ ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں دسویں فرد تھے، جب کفار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر چڑھ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی پر اللہ کی رحمت ہو جو ان حملہ آوروں کو ہم سے ہٹائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برابر یہ بات کہتے رہے تاآنکہ ان میں سے سات آدمی شہید ہو گئے اور صرف دو آدمی باقی بچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ان دونوں ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا (یعنی قریشیوں نے انصاریوں سے انصاف نہیں کیا کہ انصاری ہییکے بعد دیگرے نکل نکل کر شہید ہوتے گئے یا ہمارے جو لوگ میدان سے راہِ فرار اختیار کر گئے ہیں انہوں نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا)۔ ابو سفیان نے آکر کہا: اے ہبل! تو سربلند ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے جواب میں تم یوں کہو اَللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلُّ (اللہ ہی بلند شان والا اور بزرگی والا ہے۔) صحابہ نے بلند آواز سے کہا: اَللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلّ۔ُپھر ابو سفیان نے کہا: ہمارا تو ایک عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو اللہ ہمارا مدد گار ہے اور کافروں کا کوئی بھی مدد گار نہیں ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، آج ہمیں فتح ہوئی ہے، اس روز ہمیں شکست ہوئی تھی، ایک دن ہمیں برا لگا اور ایک دن ہمیں اچھا لگا، حنظلہ کے مقابلے میں حنظلہ، فلاں کے فلان مقابلے میں اور فلاں بالمقابل فلاں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے تمہارے درمیان کوئی برابری نہیں، ہمارے مقتولین زندہ ہیں، انہیں اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں، انہیں عذاب سے دو چار کیا جاتا ہے۔ ابو سفیان نے کہا: تمہارے یعنی مسلمانوں کے مقتولین کا مثلہ کیا گیا ہے ،یہ کام ہماری رائے یا مشاورت کے بغیر ہوا ہے، میں نے نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے روکا۔ اور میں نے اسے پسند یا نا پسند بھی نہیں کیا، مجھے اس کا نہ غم ہوا ہے اور نہ خوشی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے جب شہدائے کرام کو دیکھاتو سیّد نا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کیا گیا تھا، ابو سفیان کی بیوی ہند نے ان کا جگر نکال کر اسے چبایا، مگر وہ اسے کھا نہ سکی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس نے اس میں سے کچھ کھایا تھا؟ صحابہ نے عرض کیا: جی نہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ حمزہ کے جسم کے کسی بھی حصہ یا اس کے جزء کو جہنم میں داخل کرنے والا نہیں ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو سامنے رکھ کر ان کی نماز جنازہ ادا کی، بعد ازاں ایک انصاری رضی اللہ عنہ کی میت کو لایا گیا، اسے سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی، انصاری کی میت کو اُٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو وہیں رہنے دیا گیا، پھر ایک اور شہید کو لایا گیا، اسے بھی سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی، پھر اسے اُٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو وہیں رہنے دیا گیا،یہاں تک کہ اس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ستر بار ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة / حدیث: 10731
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 402 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4414»