کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس خواب کا بیان جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احد سے قبل دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 10726
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَأَيْتُ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا يَكُونُ فِيكُمْ وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذوالفقار تلوار جنگ بدر کے دن بطور نفل حاصل کییہ وہی تلوار ہے جس کے بارے میں آپ نے احد کے دن خواب دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی اس تلوار ذوالفقار میں ایک دندانہ دیکھا ہے اس کی تعبیریہ ہے کہ تمہیں شکست ہوگی میں نے دیکھا ہے کہ میں نے مینڈھے کو پیچھے سوار کیا ہوا ہے میں نے تاویل کی ہے کہ لشکر کا بہادر شہید ہوگا میں نے دیکھا ہے کہ میں نے محفوظ زرہ پہنی ہوئی ہے میں نے اس کی تاویلیہ کی ہے کہ مدینہ محفوظ رہے گا میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے اللہ کی قسم یہ بہتر ہے۔ وہی ہوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … تلوار میں دندانہ یہ تھا، جو احد میں مسلمانوں کو پہلے شکست ہوئی بعد میں سنبھل گئے تھے اور مینڈھے کے ذبح ہونے کی صورت میں سیدنا طلبہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت دکھائی گئی، جنہوں نے اس دن جھنڈا اٹھایا ہوا تھا اور گائے ذبح ہونے کی صورت میں حضرات صحابہ کرام میں سے ستر آدمیوں کی شہادت کی نشاندہی کی گئی تھی اور مدینہ بہترین پناہ گاہ ثابت ہوا، شکست و شہادت کے بعد مسلمان سرخرو ہوئے تھے اور آپ کے گھر والوں میں سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت مینڈھے کے ذبح ہونے کی صورت میں دکھائی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة / حدیث: 10726
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرج أوله الي قوله يوم احد : الترمذي: بعد الحديث: 1561، وابن ماجه: 2808، وأخرج بأطول مما ھنا الحاكم: 2/ 128، والبيھقي: 7/ 41 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2445»
حدیث نمبر: 10727
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ وَرَأَيْتُ بَقَرًا مُنَحَّرَةً فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِينَةَ الْمَدِينَةُ وَأَنَّ الْبَقَرَ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ قَالَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ فَإِنْ دَخَلُوا عَلَيْنَا فِيهَا قَاتَلْنَاهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا دُخِلَ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكَيْفَ يُدْخَلُ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ شَأْنَكُمْ إِذًا قَالَ فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ قَالَ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ رَدَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْيَهُ فَجَاءُوا فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ شَأْنَكَ إِذًا فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں ایک محفوظ مضبوط قلعہ کے اندر ہوں، اور میں نے ایک ذبح شدہ گائے دیکھی، میں نے اس کی تعبیریہ کی کہ مضبوط ومحفوظ قلعہ سے مراد مدینہ منورہ ہے، اور اللہ کی قسم گائے کا دیکھنا بھی بہتر ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ہم مدینہ میں ٹھہریں، پھر اگر دشمن ہم پر حملہ آور ہو تو ہم ان سے قتال کریں، اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دشمن ہم پر ہمارے شہر میں اس وقت بھی نہیں آیا تھا، جب ہم کافر تھے، اب جب کہ ہم اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، وہ ہمارے اوپر ہمارے شہر میں کیونکر آسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کی بات سن کر فرمایا: چلو ٹھیک ہے، جیسے چاہو کر لو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہتھیار اپنے جسم پر سجالئے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ منظر دیکھ کر انصاریوں نے آپس میں کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رائے کے برعکس عمل کیا ہے۔ (اللہ خیر کرے) چنانچہ انہوں نے آکر عرض کیا کہ اللہ کے نبی! آپ اپنی رائے پر ہی عمل کریں، لیکن اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی کے لیےیہ روا نہیں کہ جب وہ ہتھیاروں سے مسلح ہو جائے تو دشمن سے قتال کیے بغیر انہیں اتار دے۔
وضاحت:
فوائد: … ذبح شدہ گائے سے مراد غزوۂ احد میں ہونے والی ستر صحابۂ کرام کی شہادت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة / حدیث: 10727
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الدارمي: 2159، وابن ابي شيبة: 11/ 68 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14847»
حدیث نمبر: 10728
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا وَكَأَنَّ ظُبَةَ سَيْفِي انْكَسَرَتْ فَأَوَّلْتُ أَنِّي أَقْتُلُ صَاحِبَ الْكَتِيبَةِ وَأَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُقْتَلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے گویا کہ ایک مینڈھا میرے پیچھے ہے اور گویا میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے، تو میں نے ان خوابوں کی تعبیریہ کی کہ میں مشرکین کے جھنڈا بردار (طلحہ بن ابی طلحہ) کو قتل کروں گا اور میرےاہل بیت میں سے ایک آدمی قتل ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة / حدیث: 10728
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 69، والحاكم: 3/ 198 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13861»