کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
حدیث نمبر: 10645
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَدْوِ فَأَذِنَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دیہات میں رہنے کی اجازت طلب کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔
حدیث نمبر: 10646
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَيَّاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَهُ بُرَيْدَةُ بْنُ الْحَصِيبِ فَقَالَ ارْتَدَدْتَ عَنْ هِجْرَتِكَ يَا سَلَمَةُ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنِّي فِي إِذْنٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((ابْدُوا يَا أَسْلَمُ تَنَسَّمُوا الرِّيَاحَ وَاسْكُنُوا الشِّعَابَ)) فَقَالُوا إِنَّا نَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَضُرَّنَا ذَلِكَ فِي هِجْرَتِنَا فَقَالَ ((أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مدینہ منورہ آئے اور سیدنا بریدہ بن حصیب کو ملے، انھوں نے کہا: اے سلمہ! کیا تم نے اپنی ہجرت کو چھوڑ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی پناہ! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے کر آیا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہو، ہواؤں کی بو سوسنگھ کر لطف اٹھاؤ اور گھاٹیوں میں رہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ڈرتے ہیں کہ اس سے ہماری ہجرت کا نقصان نہ ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔
حدیث نمبر: 10647
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَنْ بَقِيَ مَعَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَقِيَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ رَجُلٌ أَمَّا سَلَمَةُ فَقَدِ ارْتَدَّ عَنْ هِجْرَتِهِ فَقَالَ جَابِرٌ لَا تَقُلْ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((ابْدُوا يَا أَسْلَمُ)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ نَرْتَدَّ بَعْدَ هِجْرَتِنَا فَقَالَ ((إِنَّكُمْ أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عمر بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کون کون سے افراد اب تمہارے ساتھ باقی ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما ، اس آدمی نے کہا: سلمہ تو اپنی ہجرت سے واپس پلٹ گیا ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس طرح نہ کہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہ سکتے ہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی ہجرت کو چھوڑ بیٹھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے ان لوگوں کو ہجرت کا ثواب ملے گا، اگرچہ وہ اس شہر میں سکونت اختیار نہ کریں۔
حدیث نمبر: 10648
عَنِ الْفَرَزْدَقِ بْنِ حَنَّانَ الْقَاصِّ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ خَرَجْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حِيْدَةَ فِي طَرِيقِ الشَّامِ فَمَرَرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِكُمَا أَعْرَابِيٌّ جَافٍ جَرِيءٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ الْهِجْرَةُ إِلَيْكَ حَيْثُمَا كُنْتَ أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ أَوْ لِقَوْمٍ خَاصَّةٍ أَمْ إِذَا مِتَّ انْقَطَعَتْ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ ((أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْهِجْرَةِ)) قَالَ هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ وَآتَيْتَ الزَّكَاةَ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ وَإِنْ مِتَّ بِالْحَضْرَمَةِ)) يَعْنِي أَرْضًا بِالْيَمَنِيَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ فرزدق بن حنان قاص کہتے ہیں: کیا تم کو ایسی حدیث بیان کروں، جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے، میرے دل نے اس کو یاد کیا ہے اور میں ابھی تک اس کو نہیں بھولا، میں اور عبد اللہ بن حِیدہ شام کے راستے پر نکلے اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، … … باقی حدیث ذکر کی، پھر کہا تمہاری قوم کا ایک سخت اور جری بدو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہجرت آپ کی طرف ہو گی، آپ جہاں کہیں بھی ہوں، یا کسی خاص زمین کی طرف ہو گی،یا کسی خاص قوم کی طرف ہو گی اور جب آپ وفات پا جائیں گے تو کیا ہجرت منقطع ہو جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر فرمایا: ہجرت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے تو تو مہاجر ہی ہو گا، اگرچہ تو حضرمہ میں فوت ہو جائے۔ یہ مقامیمانیہ کے علاقے میں ہے۔
حدیث نمبر: 10649
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الْبِلَادُ بِلَادُ اللَّهِ وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ فَحَيْثُمَا أَصَبْتَ خَيْرًا فَأَقِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام علاقے اللہ تعالیٰ کے علاقے ہیں اور تمام بندے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، لہٰذا جہاں بھی تجھے خیر ملے، تو وہیں اقامت اختیار کر۔
وضاحت:
فوائد: … جب انسان کی روزی کا کوئی نہ کوئی سلسلہ چل رہا ہو اور وہ اپنے دین اور جان کے معاملے میں امن میں ہوتو ٹھیک، وگرنہ وہ کسی ایسے شہر کی طرف ہجرت کر جائے، جہاں اس کی جان اور دین محفوظ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 10650
عَنِ الْقَلُوصِ أَنَّ شِهَابَ بْنَ مُدْلِجٍ نَزَلَ الْبَادِيَةَ فَسَابَّ ابْنُهُ رَجُلًا فَقَالَ يَا ابْنَ الَّذِي تَعَرَّبَ بِهَذِهِ الْهِجْرَةِ فَأَتَى شِهَابٌ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَمِعَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَفْضَلُ النَّاسِ رَجُلَانِ رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَهْبِطَ مَوْضِعًا يَسُوءُ الْعَدُوَّ وَرَجُلٌ بِنَاحِيَةِ الْبَادِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَيُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ)) فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُهُ قَالَ نَعَمْ فَأَتَى بَادِيَتَهُ فَأَقَامَ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ قلوص کہتے ہیں: سیدنا شہاب بن مدلج نے ایک دیہات میں اقامت اختیار کی، جب اس کے بیٹے نے ایک آدمی کو برا بھلا کہا تو اس آدمی نے آگے سے کہا: اے اس باپ کے بیٹے، جس نے ہجرت ِ مدینہ کو باطل کر کے دیہات میں سکونت اختیار کر لی،یہ سن کر شہاب مدینہ میں آیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے افضل دو آدمی ہیں، ایک وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کیا،یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر اترا کہ جس سے دشمن کو تکلیف ہوئی اور دوسرا وہ آدمی جو کسی دیہات کے کونے میں مقیم ہے، پانچ نمازیں ادا کرتا ہے ، اپنے مال کا حق ادا کرتا ہے اور اپنے ربّ کی عبادت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا شہاب رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھے اور کہا: اے ابو ہریرہ! کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنے دیہات کی طرف لوٹ آئے اور وہاں سکونت اختیار کی۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے ثواب کو دیہاتوںکی طرف نکل جانے نے ضائع نہیں کیا۔ حالات کو دیکھ کر حدیث ِ مبارکہ کے دوسرے حصے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا،یہ اجازت ہر آدمی کے لیے نہیں ہے۔