کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
حدیث نمبر: 10630
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ يَرُدُّهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ عَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا دَامَ الْعَدُوُّ يُقَاتَلُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْهِجْرَةَ خَصْلَتَانِ إِحْدَاهُمَا أَنْ تَهْجُرَ السَّيِّئَاتِ وَالْأُخْرَى أَنْ تُهَاجِرَ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا تُقُبِّلَتِ التَّوْبَةُ وَلَا تَزَالُ التَّوْبَةُ مَقْبُولَةً حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ فَإِذَا طَلَعَتْ طُبِعَ عَلَى كُلِّ قَلْبٍ بِمَا فِيهِ وَكَفَى النَّاسُ الْعَمَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی۔ سیدنا معاویہ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصf سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہجرت کی دو قسمیں ہیں: ایکیہ کہ تو برائیوں کو چھوڑ دے اور دوسرییہ کہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر جائے، ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک توبہ قبول ہوتی رہے گی اور اس وقت تک توبہ کی قبولیت ہوتی رہے گی، جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے، جب اُس سمت سے طلوع ہو جائے گا تو ہر دل کے اندر جو کچھ ہو گا، اس سمیت اس پر مہر لگا دی جائے گی اور لوگ عمل سے کافی ہو جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ہر دل کے اندر جو کچھ ہو گا، اس سمیت اس پر مہر لگا دی جائے گی …۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا تو اس کے بعد والا ایمان اور نیکی مقبول نہیں ہو گی، اس علامت کے ظہور سے پہلے دل کے اندر ایمانیا کفر کی جو صورت ہو گی، اسی کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 10631
عَنْ أَبِي هِنْدٍ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ وَقَدْ غَمَّضَ عَيْنَيْهِ فَتَذَاكَرْنَا الْهِجْرَةَ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ قَدِ انْقَطَعَتْ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ لَمْ تَنْقَطِعْ فَاسْتَنْبَهَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ مَا كُنْتُمْ فِيهِ فَأَخْبَرْنَاهُ وَكَانَ قَلِيلَ الرَّدِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَذَاكَرْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابوہند بَجَلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ اپنی چارپائی پر اونگھ کی وجہ سے آنکھوں کو بند کر کے تشریف فرما تھے، ہم نے وہاں ہجرت کا تذکرہ کیا، کسی نے کہا: ہجرت منقطع ہو چکی ہے اور کسی نے کہا کہ ابھی تک وہ منقطع نہیں ہوئی، اتنے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جاگ گئے اور کہا: تم لوگ کیا بات کر رہے تھے؟ ہم نے ان کو تفصیل بتائی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کم احادیث منسوب کرتے تھے، بہرحال اس بار انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گفتگو کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک توبہ منقطع نہیں ہو جاتی اور توبہ اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔
حدیث نمبر: 10632
عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَنْبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا لَهُ احْفَظْ رِحَالَنَا ثُمَّ تَدْخُلُ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَضَى لَهُمْ حَاجَتَهُمْ ثُمَّ قَالُوا لَهُ ادْخُلْ فَدَخَلَ فَقَالَ حَاجَتُكَ قَالَ حَاجَتِي تُحَدِّثُنِي أَنْقَضَتِ الْهِجْرَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجَتُكَ خَيْرٌ مِنْ حَوَائِجِهِمْ لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو مالک بن حنبل کا ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، چونکہ وہ لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے، اس لیے لوگوں نے اس سے کہا: تو ہمارے کجاووں اور سامانِ سفر کی حفاظت کر، پھر اندر آ جانا، پس اس نے ان کی ضرورت پوری کی، پھر انھوں نے اس سے کہا: اب تو اندر چلا جا، پس اندر داخل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: تیری ضرورت کیا ہے؟ اس نے کہا: میری ضرورت یہ ہے کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا ہجرت منقطع ہو چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری ضرورت باقی لوگوں کی ضرورتوں سے بہتر ہے، جب تک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی، اس وقت تک ہجرت منقطع نہیں ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … دشمن سے لڑائی جاری رہنے کا مطلب یہ ہو گا کہ دار الکفر موجود ہے اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دار الکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام میںپہنچے، اگر اس کو طاقت ہوتو۔
حدیث نمبر: 10633
عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الرَّسُولِ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ لَا تَنْقَطِعُ مَا جُوهِدَ الْعَدُوُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حیوہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں سوال کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک دشمن سے جہاد جا ری رہے گا، اس وقت تک ہجرت منقطع نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 10634
عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَاخْتَلَفُوا فِي ذَلِكَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا كَانَ الْجِهَادُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرامf میں ایک بحث ہونے لگی، کسی نے کہا کہ ہجرت منقطع ہو چکی ہے، بہرحال اس بارے میں ان کا اختلاف ہو گیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہجرت منقطع ہو چکیہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک جہاد جاری رہے گا۔
حدیث نمبر: 10635
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرْنَا عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ طَلَعَ عَلَى الْمِنْبَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہجرت کی، ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پھر وہ منبر پر چڑھ گئے۔
وضاحت:
فوائد: … جب تک دنیا میں دار الکفر موجود ہے، اس وقت تک ہجرت اور جہاد کا حکم باقی رہے گا۔