کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
حدیث نمبر: 10616
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَازِبٍ سَرْجًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِلَى مَنْزِلِي فَقَالَ لَا حَتَّى تُحَدِّثَنَا كَيْفَ صَنَعْتَ حِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ مَعَهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ خَرَجْنَا فَأَدْلَجْنَا فَأَحْثَثْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا حَتَّى أَظْهَرْنَا وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ فَضَرَبْتُ بِبَصَرِي هَلْ أَرَى ظِلًّا نَأْوِي إِلَيْهِ فَإِذَا أَنَا بِصَخْرَةٍ فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا فَإِذَا بَقِيَّةُ ظِلِّهَا فَسَوَّيْتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفَرَشْتُ لَهُ فَرْوَةً وَقُلْتُ اضْطَجِعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاضْطَجَعَ ثُمَّ خَرَجْتُ أَنْظُرُ هَلْ أَرَى أَحَدًا مِنَ الطَّلَبِ فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ فَقُلْتُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَسَمَّاهُ فَعَرَفْتُهُ فَقُلْتُ هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي قَالَ نَعَمْ فَأَمَرْتُهُ فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْهَا ثُمَّ أَمَرْتُهُ فَنَفَضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ ثُمَّ أَمَرْتُهُ فَنَفَضَ كَفَّيْهِ مِنَ الْغُبَارِ وَمَعِيَ إِدَاوَةٌ عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ فَحَلَبَ لِي كُثْبَةً مِنَ اللَّبَنِ فَصَبَبْتُ يَعْنِي الْمَاءَ عَلَى الْقَدَحِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَافَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَقُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ثُمَّ قُلْتُ أَنَى الرَّحِيلُ قَالَ فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَا فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا فَقَالَ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَّا فَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ قَدْرُ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا وَبَكَيْتُ قَالَ لِمَ تَبْكِي قَالَ قُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى نَفْسِي أَبْكِي وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَيْكَ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ فَسَاخَتْ قَوَائِمُ فَرَسِهِ إِلَى بَطْنِهَا فِي أَرْضٍ صَلْدٍ وَوَثَبَ عَنْهَا وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُنْجِيَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي مِنَ الطَّلَبِ وَهَذِهِ كِنَانَتِي فَخُذْ مِنْهَا سَهْمًا فَإِنَّكَ سَتَمُرُّ بِإِبِلِي وَغَنَمِي فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا قَالَ وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُطْلِقَ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَتَلَقَّاهُ النَّاسُ فَخَرَجُوا فِي الطَّرِيقِ وَعَلَى الْأَجَاجِيرِ فَاشْتَدَّ الْخَدَمُ وَالصِّبْيَانُ فِي الطَّرِيقِ يَقُولُونَ اللَّهُ أَكْبَرُ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَتَنَازَعَ الْقَوْمُ أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْزِلُ اللَّيْلَةَ عَلَى بَنِي النَّجَّارِ أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لِأُكْرِمَهُمْ بِذَلِكَ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا حَيْثُ أُمِرَ قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ أَوَّلُ مَنْ كَانَ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا ابْنُ آمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى أَخُو بَنِي فِهْرٍ ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي عِشْرِينَ رَاكِبًا فَقُلْنَا مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ عَلَى أَثَرِي ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ قَالَ الْبَرَاءُ وَلَمْ يَقْدَمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَرَأْتُ سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ قَالَ إِسْرَائِيلُ وَكَانَ الْبَرَاءُ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرے باپ سیدنا عازب سے تیرہ درہم کی ایک زین خریدی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے میرے باپ سے کہا: براء کو کہہ دینا کہ میرے گھر چھوڑ آئے، انھوں نے کہا: جی نہیں، جب تک تم مجھے یہ بیان نہیں کرو گے کہ تم نے اس وقت کیا کیا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے نکلے تھے اور تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم (غار سے) نکلے اور رات کے پہلے حصے میںچلتے رہے، ہم اس رات اور دن کو تیزی سے چلتے رہے، یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیا، میں نے دور دور تک دیکھا کہ آیا کوئی سائے والی جگہ ہے، جس میں سستا سکیں، پس اچانک مجھے ایک چٹان نظر آئی، میں اس کی طرف جھکا، اس کا جو سایہ باقی تھا، اس جگہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے برابر کیا اور اس پر چمڑا بچھایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ لیٹ جائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے اور میں وہاں سے نکل پڑا تاکہ دیکھ سکوں کہ آیا کوئی تلاش کرنے والا پہنچ تو نہیں گیا، اچانک میری نظر بکریوں کے ایک چرواہے پر پڑی، میں نے اس سے پوچھا: او لڑکے! تو کس کا چرواہا ہے؟ اس نے کہا: فلاں قریشی کا، اس نے اس کا نام لیا اور میں نے اس کو پہچان لیا، پھر میں نے کہا: کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: کیا تو مجھے دوہ کر دے گا؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس میں نے اس کو حکم دیا، اس نے بکری کی ٹانگوں کو باندھا، پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ تھنوں سے گرد و غبار کو صاف کر دے، پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے بھی غبار کو صاف کر دے، میرے پاس ایک برتن تھا، اس پر منہ پر ایک چیتھڑا تھا، پس اس نے میرے لیے تھوڑی مقدار میں دودھ دوہا، پھر میں نے پیالے پر پانی بہایا،یہاں تک کہ اس کے نیچے والا حصہ ٹھنڈا ہو گیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس حال میںپایا کہ آپ بیدار ہو چکے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ دودھ نوش فرمائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا،یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا، پھر میں نے کہا: کوچ کرنے کا وقت ہو چکا ہے، پس ہم وہاں سے چل پڑے، اُدھر لوگوں نے ہم کو تلاش تو کیا، لیکن صرف سراقہ بن مالک بن جعشم ہم تک پہنچ سکا، وہ گھوڑے پر سوار تھا، جب میں نے اس کو دیکھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تلاش کرنے والا ہم تک پہنچ چکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پریشان نہ ہو، بیشک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ جب وہ اس قدر ہمارے قریب ہو گیا کہ ایکیا دو یا تین نیزوں کے فاصلے پر تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ متلاشی بالکل ہمارے پاس پہنچ چکا ہے ، ساتھ ہی میں رونے لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں روتے ہو؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنی ذات کے لیے نہیں، آپ کی ذات کے لیے رو رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر بد دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! اپنی چاہت کے مطابق کسی چیز کے ساتھ اس سے کفایت کر۔ پس اس کے گھوڑے کی ٹانگیں سخت زمین میں پیٹ تک گھس گئیں اور وہ کود کر اس سے پرے ہٹ گیا اور اس نے کہا: اے محمد! میں جانتا ہوں کہ تمہاری کاروائی ہے، اب اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دلا دے، اللہ کی قسم ہے، میں اپنے پیچھے آنے والے متلاشیوں کو تم لوگوں سے اندھا بنا دوں گا، یہ میرا ترکش ہے، اس میں سے ایک تیر آپ لے لیں، کیونکہ آپ عنقریب فلاں جگہ سے گزرنے والے ہیں، وہاں میرے اونٹ اور بکریاں ہیں، (میرے چرواہے کو یہ تیر دکھا کر) وہاں سے اپنی ضرورت کے مطابق جو چاہیں لے لینا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی، پس اس کو آزاد کر دیا گیا، پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے چل دیئے، جبکہ میں (ابو بکر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے، پس لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملے اور لوگ راستوں پر اور چھتوں پر موجود تھے اور راستے میں خادموں اور بچوں نے ہجوم کیا ہوا تھا اور وہ کہہ رہے تھے: اللہ اکبر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ گئے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچ گئے ہیں، اب لوگوں میں یہ اختلاف پیدا ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس کے گھر اتریں گے، اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں آج رات عبد المطلب کے ماموؤں بنو نجار کے پاس اتروں گا، میں ان کو یہ شرف دینا چاہتا ہوں۔ جب صبح ہوئی تو جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم ہوا، اس کے مطابق چل پڑے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے پاس سب سے پہلے آنے والے مہاجر بنو عبد الدار کے بھائی سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد بنو فہر کے بھائی سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ پہنچے، پھر بیس افراد سمیت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آ گئے، ہم نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کر رہے ہیں، انھوں نے کہا: وہ میرے پیچھے تشریف لا رہے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگئے، جبکہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ابھی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف نہیں لائے تھے کہ میں نے بعض مفصل سورتوں کی تعلیم حاصل کر لی تھی، اسرائیل راوی نے کہا: سیدنا براء رضی اللہ عنہ ، بنو حارثہ کے انصار میں سے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10616
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3615، 3652، ومسلم: 4/ 2310 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3»
حدیث نمبر: 10617
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلَجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ يَقُولُ جَاءَنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دِيَّةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا أَوْ أَسَرَهُمَا فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ يَا سُرَاقَةُ إِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ إِنِّي أَرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَالَ سُرَاقَةُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ وَلَكِنْ رَأَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلَقَا آنِفًا قَالَ ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً حَتَّى قُمْتُ فَدَخَلْتُ بَيْتِي فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ لِي فَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ وَأَخَذْتُ رُمْحِي فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ فَخَطَطْتُ بِرُمْحِي الْأَرْضَ وَخَفَضْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا فَرَفَعْتُهَا تَقَرَّبُ بِي حَتَّى رَأَيْتُ أَسْوِدَتَهُمَا فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُمْ حَيْثُ يَسْمَعُهُمُ الصَّوْتُ عَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدَيَّ إِلَى كِنَانَتِي فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا أَضُرُّهُمْ أَمْ لَا فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ فَرَكِبْتُ فَرَسِي وَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ فَرَفَعْتُهَا تَقَرَّبُ بِي إِذَا دَنَوْتُ مِنْهُمْ عَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدَيَّ إِلَى كِنَانَتِي فَأَخْرَجْتُ الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ فَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ وَرَكِبْتُ فَرَسِي فَرَفَعْتُهَا تَقَرَّبُ بِي حَتَّى إِذَا سَمِعْتُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الْالْتِفَاتَ سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتِ الرُّكْبَتَيْنِ فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَزَجَرْتُهَا فَنَهَضَتْ فَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذْ لَا أَثَرَ بِهَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ مِثْلُ الدُّخَانِ قُلْتُ لِأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ مَا الْعُثَانُ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ هُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ فَنَادَيْتُهُمَا بِالْأَمَانِ فَوَقَفُوا فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مَا لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَّةَ وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ سَفَرِهِمْ وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ يَرْزَؤُونِي شَيْئًا وَلَمْ يَسْأَلُونِي إِلَّا أَنْ أَخْفِ عَنَّا فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ آمَنُ بِهِ فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَتَبَ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدِيمٍ ثُمَّ مَضَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سراقہ بن مالک سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے نکل گئے تو) کافروں کے قاصد ہمارے پاس آئے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ میں ہر ایک کی دیت (سو اونٹ) کے بارے میں بتایا کہ جو ان کو قتل کر کے یا قید کر کے لائے گا، اس کویہ دیت ملے گی، میں اپنی قوم بنو مدلج کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آ کر ہمارے پاس کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے سراقہ! میں نے ابھی ساحل کے پاس کچھ افراد دیکھے ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور اس کے ساتھ ہیں، سراقہ نے کہا: میں پہچان تو گیا کہ یہ وہی ہیں، لیکن میں نے ظاہر یہ کیا کہ یہ افراد وہ لوگ نہیں ہیں، تو نے تو فلاں فلاں کو دیکھا ہے، وہ تھوڑی دیر پہلے جا رہے تھے، میں کچھ دیر تک اسی مجلس میں بیٹھا رہا، پھر وہاں سے کھڑا ہوا، اپنے گھر میں داخل ہوا اور اپنی لونڈی کو حکم دیا کہ وہ میرا گھوڑا نکالے، وہ ٹیلے کے پیچھے تھا، اور میرے آنے تک اس کو روک کر رکھے، اُدھر میں نے اپنے نیزے نکالے اور گھر کے پچھلی طرف سے نکل گیا، میں نے اپنے نیزے سے زمین پر لکیر لگائی اور ان کے اوپر والے حصے زمین کی طرف کر دیئے (تاکہ دور سے دیکھنے والا ان کی چمک کو دیکھ کر معاملے کو تاڑ نہ جائے)، پھر میں گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کو دوڑایا،یہاں تک کہ مجھے وہ وجود نظر آنے لگے، جب میں ان کے اتنے قریب پہنچا کہ میری آواز ان تک پہنچ سکتی تھی تو میرا گھوڑا پھسلا اور میں گر پڑا، میں نے اپنے ہاتھ ترکش میں ڈالے، تیر نکالے اورقسمت آزمائی کی کہ میں ان کو نقصان پہنچا سکتا ہوں یا نہیں، وہ تیر نکلا کہ جس کو میں ناپسند کرتا تھا، یعنی میں ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، لیکن میں گھوڑے پر سوار ہوا اور تیروں کی نافرمانی کی، میں نے پھر گھوڑے کو دوڑایا، جب میں ان کے قریب ہوا تو میرا گھوڑا پھر پھسل پڑا اور میں گر گیا، میں کھڑا ہوا، اپنا ہاتھ ترکش میں ڈالا اور تیر نکال کر قسمت آزمائی کی، پھر وہی تیر نکلا، جس کو میں ناپسند کرتا تھا کہ میں ان کو نقصان نہیں پہنچا سکوں گا، لیکن میں نے پھر تیروں کی نافرمانی کی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کو دوڑایا اور ان کے اتنے قریب ہو گیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاوت کی آواز سننے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف کوئی توجہ نہ کی، البتہ ابو بکر بار بار میری طرف دیکھتے تھے، جب میں ان کے قریب ہوا تو میرے گھوڑے کی اگلی ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں،یہاں تک کہ اس کے گھٹنوں تک پہنچ گئیں، میں پھر گر پڑا اور گھوڑے کو ڈانٹ ڈپٹ کی، پس وہ کھڑا ہو گیا، لیکن لگتا ایسے تھا وہ اپنی ٹانگیںنہیں نکال سکے گا، جب وہ کھڑا ہو گیا تو اس پر کوئی اثر نہیں تھا، لیکن آگ والے دھویں کی طرح آسمان میں بلند ہونے والا آگ کے بغیر دھواں تھا۔ میں نے ابو عمرو سے پوچھا: عُثَان سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر کہا: اس سے مراد آگے کے بغیر دھواں ہے، امام زہری نے اپنی حدیث میں کہا: سراقہ نے کہا: پس جب میں نے تیروں کے ساتھ قسمت آزمائی کی تو وہ تیر نکلا جس کو میں ناپسند کرتا تھا، یعنی میں ان کو نقصان نہیں پہنچا سکوں گا، پس میں نے ان کو امان کے ساتھ آواز دی، وہ رک گئے، میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور ان کے پاس پہنچ گیا، جس انداز میں مجھے رکنا پڑا، اس سے میرے نفس میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ عنقریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معاملہ غالب آ جائے گا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: بیشک آپ کی قوم نے آپ کی دیت مقرر کر رکھی ہے، پھر میں نے ان کو سفر کے سارے واقعات بیان کیے اور یہ بھی بتلایا کہ لوگ ان کے بارے میں کیا چاہتے ہیں، پھر میں نے ان پر زادِ راہ اور سامان پیش کیا، لیکن انھوں نے میری کسی چیز میں کمی نہیں کی اور مجھ سے کسی قسم کا سوال نہیں کیا، البتہ اتنا کہا کہ تو نے ہمارے معاملے کو مخفی رکھنا ہے، پھر میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مجھے مصالحت کا پیغام لکھ کر دیں، جس کے ذریعے مجھے امن ملے گا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ میرے لیے چمڑے کے ایک ٹکڑے میں یہ امان لکھ دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے چل پڑے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10617
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه البخاري: 3906 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17734»
حدیث نمبر: 10618
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ قَالَ فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ يَا أَبَا بَكْرٍ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ فَيَقُولُ هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي إِلَى السَّبِيلِ فَيَحْسَبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ أَنَّمَا يَهْدِيهِ إِلَى الطَّرِيقِ وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا قَالَ فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ فَصَرَعَتْهُ فَرَسُهُ ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ قِفْ مَكَانَكَ لَا تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا قَالَ فَكَانَ أَوَّلُ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ وَكَانَ آخِرَ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ قَالَ فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ جَانِبَ الْحَرَّةِ ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَاءُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا وَقَالُوا ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطْمَئِنَّيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے، سیدنا ابو بکر بڑی عمر کے تھے، انکو پہنچان لیا جاتا تھا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوجوان لگتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں پہچانا جاتا تھا، اس لیے لوگ سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ کو ملتے اور کہتے: یہ آپ کے آگے بیٹھا ہوا آدمی کون ہے؟ وہ کہتے: یہ راستے کی طرف میری رہنمائی کرنے والا آدمی ہے، سائل یہ خیال کرتا کہ وہ ان کا راستہ بتلانے والا ہے، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مراد خیر و بھلائی والا راستہ تھی، جب ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے کو متوجہ ہوئے تو کیا دیکھا کہ ایک گھوڑ سوار ان کو آ ملا ہے، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ ایک گھوڑ سوار ہم تک پہنچ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! اس کو گرا دے۔ پس اس کے گھوڑے نے اس کو گرا دیا، پھر وہ گھوڑا کھڑا ہو کر ہنہنانے لگا، اس گھوڑ سوار نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ جو چاہتے ہیں، مجھے حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی کھڑا ہو جا اور کسی کو نہ چھوڑ کہ وہ ہمیں پا سکے۔ یہ شخص دن کے شروع میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑنے والا تھا، لیکن دن کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرنے والا بن گیا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرّہ کی ایک جانب اترے اور انصاریوں کو بلا بھیجا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان دونوں ہستیوں کو سلام کیا اور پھر کہا: امن اور اطمینانکے ساتھ سوار ہو جاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … سراقہ بن جعشم کا سارا قصہ متن سے ہی واضح ہورہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10618
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3911 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13237»