کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
حدیث نمبر: 10613
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُهَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ وَهُوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ فَقَالَ ابْنُ الدَّغِنَةِ أَيْنَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ قَدْ رَأَيْتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ رَأَيْتُ سَبْخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ وَهُمَا حَرَّتَانِ فَخَرَجَ مَنْ كَانَ مُهَاجِرًا قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِلَى اللَّهِ أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَتَرْجُو ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ نَعَمْ فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصُحْبَةٍ وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ مِنْ وَرَقِ السَّمَرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَبَيْنَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسًا فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِدَاءٌ لَهُ أَبِي وَأُمِّي إِنْ جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْرٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ لِأَبِي بَكْرٍ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَالصَّحَابَةَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَى رَاحِلَتَيَّ هَاتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالثَّمَنِ قَالَتْ فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَبَّ الْجِهَازِ وَصَنَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ نِطَاقِهَا فَأَوْكَتِ الْجِرَابَ فَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ ثُمَّ لَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ فَمَكَثَا فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالی، اس وقت سے میں نے اپنے والدین کو دینِ اسلام پر پایا، کوئی دن نہیں گزرتا تھا، مگر اس کے صبح و شام کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آتے تھے، جب اسلام کی وجہ سے مسلمانوں پر مصائب ڈھائے گئے تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے نکل پڑے، جب (مکہ سے پانچ دنوں کی مسافت پر واقع) برک الغماد مقام پر پہنچے تو ابن دَغِنّہ ان کو ملے، جو کہ قارہ قبیلے کے سردار تھے، ابن دغنہ نے کہا: ابوبکر! کہاں جا رہے ہو، انھوں نے کہا: میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے، … … باقی حدیث ذکر کی، اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: تمہاری ہجرت گاہ مجھے دکھائی جا چکی ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کھجوروں والی شور والی زمین ہے اور دو حرّوں کے درمیان واقع ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے لوگ نکل پڑے، اور جو لوگ اللہ تعالیٰکے لیے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر گئے تھے، وہ مدینہ منورہ کی طرف لوٹ آئے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی تیاری شروع کر دی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ذرا ٹھیر جاؤ، مجھے امید ہے کہ مجھے بھی اجازت دے دی جائے گی۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا آپ بھی اس چیز کی امید رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو روک لیا اور چارماہ تک اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے درخت کے پتوں کا چارہ دیتے رہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دن ہم ابتدائے زوال کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر ڈھانپا ہوا ہے اور ایسے گھڑی میں تشریف لا رہے کہ پہلے اس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں آیا کرتے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی خاص معاملے کی وجہ سے اس وقت میں تشریف لا رہے ہیں، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچ گئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت دے دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داخل ہوتے ہی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اپنے پاس والے افراد کو باہر نکال دو۔ انھوں نے کہا: حضور! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ آپ کے اہل ہی ہیں، (ایک آپ کی بیوی عائشہ ہے اور ایک آپ کی سالی اسماء ہے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں بھی آپ کی صحبت کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، ان دو اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی آپ لے لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیمت سے لوں گا۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم نے بہت خوبصورت انداز میں ان دو اونٹنیوں کو تیار کیا، چمڑے کے تھیلے میں زادِ راہ رکھا، پھر سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا نے اپنیپیٹی سے ایک ٹکڑا کاٹ کر اس تھیلے کو باندھا، اسی وجہ سے ان کو ذَاتُ النِّطَاقَیْنِ کہتے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ثور پہاڑ کی ایک غار میں پہنچ گئے اور اس میں تین دنوں تک ٹھہرے رہے۔
وضاحت:
فوائد: … ذَاتَ النِّطَاقَیْنِ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی پیٹی کو دو حصوں میں پھاڑ دیا، ایک سے زادِ راہ والا تھیلا باندھا اور ایک سے مشکیزے کا منہ باندھا، اس وجہ انکا یہ لقب پڑ گیا۔
صحیح بخاری میں اس حدیث کا بقیہ حصہ یہ ہے: یَبِیتُ عِنْدَہُمَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَہُوَ غُلَامٌ شَابٌّ ثَقِفٌ لَقِنٌ فَیُدْلِجُ مِنْ عِنْدِہِمَا بِسَحَرٍ فَیُصْبِحُ مَعَ قُرَیْشٍ بِمَکَّۃَ کَبَائِتٍ فَـلَا یَسْمَعُ أَمْرًا یُکْتَادَانِ بِہٖإِلَّاوَعَاہُحَتَّییَأْتِیَہُمَا بِخَبَرِ ذَلِکَ حِینَیَخْتَلِطُ الظَّلَامُ وَیَرْعٰی عَلَیْہِمَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ مَوْلَی أَبِی بَکْرٍ مِنْحَۃً مِنْ غَنَمٍ فَیُرِیحُہَا عَلَیْہِمَا حِینَ تَذْہَبُ سَاعَۃٌ مِنْ الْعِشَاء ِ فَیَبِیتَانِ فِی رِسْلٍ وَہُوَ لَبَنُ مِنْحَتِہِمَا وَرَضِیفِہِمَا حَتّٰییَنْعِقَ بِہَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ بِغَلَسٍ یَفْعَلُ ذٰلِکَ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْ تِلْکَ اللَّیَالِی الثَّلَاثِ وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِی الدِّیْلِ وَہُوَ مِنْ بَنِی عَبْدِ بْنِ عَدِیٍّ ہَادِیَا خِرِّیتًا وَالْخِرِّیتُ الْمَاہِرُ بِالْہِدَایَۃِ قَدْ غَمَسَ حِلْفًا فِی آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّہْمِیِّ وَہُوَ عَلٰی دِینِ کُفَّارِ قُرَیْشٍ فَأَمِنَاہُ فَدَفَعَا إِلَیْہِ رَاحِلَتَیْہِمَا وَوَاعَدَاہُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَیَالٍ بِرَاحِلَتَیْہِمَا صُبْحَ ثَلَاثٍ وَانْطَلَقَ مَعَہُمَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ وَالدَّلِیلُ فَأَخَذَ بِہٖمْطَرِیقَ السَّوَاحِلِ۔ … عبداللہ بن ابی بکر جو نوجوان ہوشیار اور ذکی لڑکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرات کے پاس رات گزارتے اور علی الصبح اندھیرے منہ ان کے پاس سے جا کر مکہ میں قریش کے ساتھ اس طرح صبح کرتے جیسے انہوں نے یہیں رات گزاری ہے اور قریش کی ہر وہ بات جس میں ان دونوں حضرات کے متعلق کوئی مکر و تدیبر ہوتییہ اسے یاد کرکے جب اندھیرا ہوجاتا تو ان دونوں حضرات کو آکر بتا دیتے تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ ان کے پاس ہی دن کے وقت بکریاں چراتے اور تھوڑی رات گئے وہ ان دونوں کے پاس بکریاں لے جاتے اور یہ دونوں حضرات ان بکریوں کا دودھ پی کر اطمینان سے رات گزارتے حتیٰ کہ عامر بن فہیرہ صبح اندھیرے منہ ان بکریوں کو ہانک لے جاتے اور ان تین راتوں میں ایسا ہی کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر نے (قبیلہ) بنو ویل کے ایک آدمی کو جو بنی عبد بن عدی میں سے تھا مزدور رکھا وہ بڑا واقف کار رہبر تھا اور آل عاص بن وائل سہمی کا حلیف تھا اور قریش کے دین پر تھا ان دونوں نے اسے امینبنا کر اپنی دونوں سواریاں اس کے حوالہ کردیں اور تین راتوں کے بعد صبح کو ان دونوں سواریوں کو غار ثور پر لانے کا وعدہ لے لیا (چنانچہ وہ حسب وعدہ آ گیا) اور ان دونوں حضرات کے ساتھ عامر بن فہیرہ اور رہبر ان کو ساحل کے راستہ پر ڈال کر لے چلا۔
صحیح بخاری میں اس حدیث کا بقیہ حصہ یہ ہے: یَبِیتُ عِنْدَہُمَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَہُوَ غُلَامٌ شَابٌّ ثَقِفٌ لَقِنٌ فَیُدْلِجُ مِنْ عِنْدِہِمَا بِسَحَرٍ فَیُصْبِحُ مَعَ قُرَیْشٍ بِمَکَّۃَ کَبَائِتٍ فَـلَا یَسْمَعُ أَمْرًا یُکْتَادَانِ بِہٖإِلَّاوَعَاہُحَتَّییَأْتِیَہُمَا بِخَبَرِ ذَلِکَ حِینَیَخْتَلِطُ الظَّلَامُ وَیَرْعٰی عَلَیْہِمَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ مَوْلَی أَبِی بَکْرٍ مِنْحَۃً مِنْ غَنَمٍ فَیُرِیحُہَا عَلَیْہِمَا حِینَ تَذْہَبُ سَاعَۃٌ مِنْ الْعِشَاء ِ فَیَبِیتَانِ فِی رِسْلٍ وَہُوَ لَبَنُ مِنْحَتِہِمَا وَرَضِیفِہِمَا حَتّٰییَنْعِقَ بِہَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ بِغَلَسٍ یَفْعَلُ ذٰلِکَ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْ تِلْکَ اللَّیَالِی الثَّلَاثِ وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِی الدِّیْلِ وَہُوَ مِنْ بَنِی عَبْدِ بْنِ عَدِیٍّ ہَادِیَا خِرِّیتًا وَالْخِرِّیتُ الْمَاہِرُ بِالْہِدَایَۃِ قَدْ غَمَسَ حِلْفًا فِی آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّہْمِیِّ وَہُوَ عَلٰی دِینِ کُفَّارِ قُرَیْشٍ فَأَمِنَاہُ فَدَفَعَا إِلَیْہِ رَاحِلَتَیْہِمَا وَوَاعَدَاہُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَیَالٍ بِرَاحِلَتَیْہِمَا صُبْحَ ثَلَاثٍ وَانْطَلَقَ مَعَہُمَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ وَالدَّلِیلُ فَأَخَذَ بِہٖمْطَرِیقَ السَّوَاحِلِ۔ … عبداللہ بن ابی بکر جو نوجوان ہوشیار اور ذکی لڑکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرات کے پاس رات گزارتے اور علی الصبح اندھیرے منہ ان کے پاس سے جا کر مکہ میں قریش کے ساتھ اس طرح صبح کرتے جیسے انہوں نے یہیں رات گزاری ہے اور قریش کی ہر وہ بات جس میں ان دونوں حضرات کے متعلق کوئی مکر و تدیبر ہوتییہ اسے یاد کرکے جب اندھیرا ہوجاتا تو ان دونوں حضرات کو آکر بتا دیتے تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ ان کے پاس ہی دن کے وقت بکریاں چراتے اور تھوڑی رات گئے وہ ان دونوں کے پاس بکریاں لے جاتے اور یہ دونوں حضرات ان بکریوں کا دودھ پی کر اطمینان سے رات گزارتے حتیٰ کہ عامر بن فہیرہ صبح اندھیرے منہ ان بکریوں کو ہانک لے جاتے اور ان تین راتوں میں ایسا ہی کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر نے (قبیلہ) بنو ویل کے ایک آدمی کو جو بنی عبد بن عدی میں سے تھا مزدور رکھا وہ بڑا واقف کار رہبر تھا اور آل عاص بن وائل سہمی کا حلیف تھا اور قریش کے دین پر تھا ان دونوں نے اسے امینبنا کر اپنی دونوں سواریاں اس کے حوالہ کردیں اور تین راتوں کے بعد صبح کو ان دونوں سواریوں کو غار ثور پر لانے کا وعدہ لے لیا (چنانچہ وہ حسب وعدہ آ گیا) اور ان دونوں حضرات کے ساتھ عامر بن فہیرہ اور رہبر ان کو ساحل کے راستہ پر ڈال کر لے چلا۔
حدیث نمبر: 10614
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْغَارِ وَقَالَ مَرَّةً وَنَحْنُ فِي الْغَارِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا، جبکہ ہم غار میں تھے، کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا تو وہ اپنے پاؤں کے نیچے سے ہم کو دیکھ لے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! ان دو ہستیوں کے بارے میں تیرا کیاگمان ہے، جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اسی اعزاز کو درج ذیل آیت میں بیان کیا گیا ہے: {اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَــصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖلَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا } … اگر تم اس کی مدد نہ کرو گے تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (سورۂ توبہ: ۴۰)
حدیث نمبر: 10615
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ احْتَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَالَهُ كُلَّهُ مَعَهُ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ قَالَتْ وَانْطَلَقَ بِهَا مَعَهُ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيْنَا جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ قَالَتْ قُلْتُ كَلَّا يَا أَبَتِ إِنَّهُ قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا قَالَتْ فَأَخَذْتُ أَحْجَارًا فَتَرَكْتُهَا فَوَضَعْتُهَا فِي كَوَّةٍ بِبَيْتٍ كَانَ أَبِي يَضَعُ فِيهَا مَالَهُ ثُمَّ وَضَعْتُ عَلَيْهَا ثَوْبًا ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا أَبَتِ ضَعْ يَدَكَ عَلَى هَذَا الْمَالِ قَالَتْ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَا بَأْسَ إِنْ كَانَ قَدْ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا فَقَدْ أَحْسَنَ وَفِي هَذَا لَكُمْ بَلَاغٌ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَنَا شَيْئًا وَلَكِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُسْكِنَ الشَّيْخَ بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نکل پڑے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال اپنے ساتھ اٹھا لیا، وہ پانچ چھ ہزار درہم تھا، وہ اپنا سارا مال اپنے ساتھ لے گئے، اُدھر جب ہمارا دادا ابو قحافہ ہمارے پاس آیا، وہ نابینا ہو چکا تھا، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ اس آدمی نے تم کو اپنے مال و جان کے ذریعے تم کو تکلیف دی ہے، میں نے کہا: ہر گزنہیں، اے ابو جان! وہ ہمارے لیے بہت مال چھوڑ گئے ہیں، پھر میں نے پتھر پکڑے اور ان کو گھر کے اس روشندان میں رکھا، جہاں میرے باپ اپنا مال رکھتے تھے، پھر میں نے ان پر کپڑا رکھا اور پھر اپنے دادے کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ابو جان! اس مال پر اپنا ہاتھ رکھو، پس انھوں نے اپنا ہاتھ رکھا اور کہا: چلو کوئی حرج نہیں ہے، اگر وہ اتنا مال چھوڑ گئے ہیں تو انھوں نے بہت اچھا کیا ہے، اس سے تمہاری گزر بسر ہوتی رہے گی۔سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نہیں،اللہ کی قسم! سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا،اس کاروائی سے میرا ارادہ یہ تھا کہ اس بزرگ کو اطمینان ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد اس وقت مسلمان نہیں تھے، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے ساتھ یہ حکمت ِ عملی اختیار کی۔
تین دن غارِ ثور میں قیام کیا، پھر سوموار کی رات ربیع الاول ۱ھکی چاند رات، رہنما عبد اللہ بن اُرَیقط لیثی، وعدے کے مطابق سواریاں لے کر جبل ثور کے دامن میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کوچ فرمایا، راہنما پہلے جنوب کی جانب یمن کے رخ پر دور تک چلا، پھر پچھم (مغرب) کی طرف مڑا اور ساحل سمندر کا رخ کیا، ساحل کے قریب پہنچ کر شمال کی طرف مڑ گیا اور ایک ایسے راستے پر چلا، جس پر شاذ و نادر ہی کوئی چلتا تھا۔
تین دن غارِ ثور میں قیام کیا، پھر سوموار کی رات ربیع الاول ۱ھکی چاند رات، رہنما عبد اللہ بن اُرَیقط لیثی، وعدے کے مطابق سواریاں لے کر جبل ثور کے دامن میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کوچ فرمایا، راہنما پہلے جنوب کی جانب یمن کے رخ پر دور تک چلا، پھر پچھم (مغرب) کی طرف مڑا اور ساحل سمندر کا رخ کیا، ساحل کے قریب پہنچ کر شمال کی طرف مڑ گیا اور ایک ایسے راستے پر چلا، جس پر شاذ و نادر ہی کوئی چلتا تھا۔