کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: قریشیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
حدیث نمبر: 10610
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ} [الأنفال: 30] قَالَ تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلِ اقْتُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ أَخْرِجُوهُ فَأَطْلَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ عَلَى ذَلِكَ فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسِبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ فَقَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ خَلَطَ عَلَيْهِمْ فَصَعَدُوا فِي الْجَبَلِ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ فَقَالُوا لَوْ دَخَلَهَا هُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت {وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ}کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریشیوں نے مکہ میں ایک رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں آپس میں مشورہ کیا، کسی نے کہا: جب صبح ہو تو اس (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو بیڑیوں سے باندھ دو، کسی نے کہا: نہیں، بلکہ اس کو قتل کردو، کسی نے کہا: بلکہ اس کو نکال دو، اُدھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان باتوں پر مطلع کر دیا، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر وہ رات گزاری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے نکل کر غارِ ثور میں پناہ گزیں ہوگئے، مشرکوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری، ان کا خیال تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہرہ دے رہے ہیں، جب صبح ہوئی تو وہ ٹوٹ پڑے، لیکن انھوں نے دیکھا کہ یہ تو علی ہیں، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا مکر ردّ کر دیا، انھوں نے کہا: علی! تیرا ساتھی کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: میں تو نہیں جانتا، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کے نشانات کی تلاش میں چل پڑے، جب اُس پہاڑ تک پہنچے تو معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا، پس یہ پہاڑ پر چڑھے اور غارِ ثور کے پاس سے گزرے، لیکن جب انھوں نے اس کے دروازے پر مکڑی کا جالہ دیکھا تو انھوں نے کہا: اگر وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس غار میں داخل ہوا ہوتا تو مکڑی کا یہ جالہ تو نہ ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی غار میں تین دنوں تک ٹھہرے رہے۔
حدیث نمبر: 10611
عَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَبِسَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ قَالَ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلِيٌّ نَائِمٌ قَالَ وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونٍ فَأَدْرِكْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ قَالَ وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ كَمَا كَانَ يُرْمَى نَبِيُّ اللَّهِ وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ كَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالُوا إِنَّكَ لَلَئِيمٌ كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ فَلَا يَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ وَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے پہنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر سو گئے، مشرک لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مارا کرتے تھے، اُدھر سے جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے، جبکہ ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آگے سے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو بئر میمون کی طرف نکل گئے ہیں، تم ان کو جا ملو، پس سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اُدھر چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہو گئے۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مارے جاتے تھے، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پتھر مارے جانے لگے، لیکن وہ تکلیف سے تڑپ اٹھتے تھے اور انھوں نے اپنے سر پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا، انھوں نے سر کو باہر نہ نکالا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، پھر جب انھوں نے سر سے کپڑا اتارا تو مشرکوں نے کہا: بیشک تو گھٹیا درجے کا ہے، جب ہم تیرے ساتھی کو مارتے تھے تو وہ نہیں تڑپتے تھے اور تو تڑپ اٹھتا تھا، ہم پہلے سے اس چیز کا انکار کر چکے ہیں (یعنی ہمیں پتہ چل گیا تھا کہ یہ سونے والا آدمی محمد نہیں ہے)۔
حدیث نمبر: 10612
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا} [الإسراء: 80]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور یہ آیت آپ پر اتاری گئی: اور دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ اور امداد مقرر فرما۔ (سورۂ بنو اسرائیل: ۸۰)