کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
حدیث نمبر: 10596
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ عِبَادٍ الدَّيْلِيَّ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ بِمِنًى فِي مَنَازِلِهِمْ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ يَقُولُ هَذَا يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَدَعُوا دِينَ آبَائِكُمْ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ فَقِيلَ هَذَا أَبُو لَهَبٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے موسم میں مِنٰی میں لوگوں کی رہائش گاہوں میں ان کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی ہوتا، وہ کہتا: یہ شخص تم کو حکم دے رہا ہے کہ تم اپنے آباء کا دین چھوڑ دو، میں نے پوچھا کہ پیچھے والا آدمی کون ہے؟ جواب دیا گیا کہ یہ ابو لہب ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فکر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام عام کیا جائے اور لوگوں کی راہِ ہدایت کی طرف رہنمائی کی، اس مقصد کی تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منصوبہ بندی کرتے رہتے تھے، ایک منصوبے کا بیان اس حدیث میں ہے کہ حج کے موقع پر دور دراز کے علاقوں سے لوگ آتے تھے، ان کو آپ تبلیغ کرتے تھے، ممکن تھا کہ وہ خود اسلام قبول کر لیتےیا ان کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام عام ہو جاتا۔
حدیث نمبر: 10597
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ أَيْضًا قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَذْكُرُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى الْمَنَازِلِ بِمِنًى وَأَنَا مَعَ أَبِي غُلَامٌ شَابٌّ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ قَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَقُولُ الَّذِي خَلْفَهُ إِنَّ هَذَا يَدْعُوكُمْ إِلَى أَنْ تُفَارِقُوا دِينَ آبَائِكُمْ وَأَنْ تَسْلُخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَحُلَفَاءَكُمْ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ أُقَيْشٍ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي مَنْ هَذَا قَالَ عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھی طرح یاد ہیں کہ آپ مِنٰی میں لوگوں کے پاس جاتے، جبکہ میں اس وقت جوان تھا اور اپنے باپ کے ساتھ ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا، وہ خوبصورت چہرے والا، بھینگی آنکھ والا اور دو چٹیوں والا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی قوم کے پاس کھڑے ہو کر فرماتے: میں اللہ کا رسول ہوں، وہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور پیچھے والا آدمی کہتا: یہ تمہیں اس چیز کی دعوت دیتا ہے کہ تم اپنے آباء کے دین سے باز آ جاؤ، لات و عزی کو اور بنو مالک بن اُقیش میں سے اپنے حلیفوں کو چھوڑ دو اور اس کی لائی ہوئی بدعت و ضلالت کو اختیار کر لو۔ میں نے اپنے باپ سے کہا: یہ شخص کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ابو لہب عبد العزی بن عبد المطلب ہے ۔
حدیث نمبر: 10598
عَنْ أَشْعَثَ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا قَالَ وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ وَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ وَتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى قَالَ وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ مَرْبُوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ حَسَنُ الْوَجْهِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ أَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ سَابِغُ الشَّعْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اشعث کہتے ہیں: بنو مالک بن کنانہ کے ایک بزرگ نے مجھے بیان کیا کہ اس نے ذو مجاز بازار میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں گھستے جا رہے تھے اور فرما رہے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ اُدھر ابوجہل اپنے آپ پر مٹی ڈالتے ہوئے کہہ رہا تھا، لوگو! یہ تم کو تمہارے دین کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے، یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں اور لات و عزی کو چھوڑ دو، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے تھے، ہم نے اس بزرگ سے کہا: تم ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کرو، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ رنگ کی دو چادریں زیب ِ تن کر رکھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قد معتدل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گوشت تھے، خوبصورت چہرے والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال سخت سیاہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بہت سفید تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال بھرپور تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔