کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 10586
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَقَدْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي أَمْلَى عَلَيَّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ عبد اللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے یہ حدیث سنی تھی، انھوں نے کسی اور مقام پر یہ حدیث مجھے لکھوائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: رَأٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہُ، قُلْتُ: أَلَیْسَ اللّٰہُ یَقُولُ: { لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ}؟ قَالَ: وَیْحَکَ ذَاکَ إِذَا تَجَلّٰی بِنُورِہِ الَّذِی ہُوَ نُورُہُ، وَقَالَ أُرِیَہُ مَرَّتَیْنِ۔ … محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے، میں عکرمہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح نہیں فرمایا: آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، جبکہ وہ آنکھوں کا ادرک کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اس آیت کا تعلق اس صورت سے ہے جب وہ اپنے نور سمیت تجلی فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا دو بار دیدار ہوا ہے۔ (ترمذی: ۳۲۹، شیخ البانی نے اس موقوف روایت کو ضعیف قرار دیا ہے)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأٰی} کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا: رَأیٰ مُحَمَّدٌ رَبَّہٗعَزَّوَجَلَّبِقَلْبِہٖمَرَّتَیْنِ۔ … محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دل سے ربّ تعالیٰ کو دو بار دیکھا ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۷۶، واللفظ لاحمد۱۹۵۶)
لیکن حدیث نمبر (۱۰۵۹۰) سے معلوم ہوا کہ سورۂ نجم کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ جبریل علیہ السلام کو دیکھنے کا ذکر ہے۔
البتہ حدیث نمبر (۸۹۷۸، ۸۹۷۹) سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10586
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف، حماد بن سلمة، الاحتياط ان لا يحتج به فيمايخالف الثقات، أخرجه البيھقي في الاسماء والصفات : ص 444، وعبد الله بن احمد في السنة : 563 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2580»
حدیث نمبر: 10587
حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ قَالَ وَمَا كُنْتَ تَسْأَلُهُ قَالَ كُنْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَإِنِّي قَدْ سَأَلْتُهُ فَقَالَ قَدْ رَأَيْتُهُ نُورًا أَنَّى أَرَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سوال کرتا، انھوں نے کہا: تو کون سا سوال کرتا؟ میں نے کہا: میں نے یہ سوال کرنا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا ، جس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو نور پایا ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10587
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 178 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21638»
حدیث نمبر: 10588
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ بَهْزٌ ثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ قَالَ عَنْ أَيِّ شَيْءٍ قُلْتُ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ قَالَ قَدْ سَأَلْتُهُ فَقَالَ نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ يَعْنِي عَلَى طَرِيقِ الْإِيجَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہوتا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سوال کرنا تھا، انھوں نے کہا: کس چیز کے بارے میں؟ میں نے کہا: یہ سوال کرنا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: وہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔یعنی مثبت جواب دیا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخر میں موجود الفاظ عَلَی طَرِیْقِ الْأِیْجَابِ امام احمد کے ہیںیا ان کے بیٹے کے۔ ان الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ اس حدیث کے الفاظ نُوْرٌ أَنّٰی اَرَاہ کو اس طرح پڑھا جائے: نُوْر انِّیْ اَرَاہ (میں اس اللہ کو نورانی دیکھتا ہوں)۔
قاضی عیاض نے کہا: لیکنیہ الفاظ نہ ہم تک پہنچے ہیں اور نہ میں نے ان کو اصول میں دیکھا ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا: یہ تصحیف ہیں۔
راجح بات یہ ہے کہ یہ حدیث دو جملوں پر مشتمل ہے، ایک نُوْرٌ اور دوسرا أَنّٰی اَرَاہ، امام نووی نے (شرح صحیح مسلم: ۳/ ۱۲) میں کہا: تمام رواۃ نے تمام اصول اور روایات میں اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا ہے اور اس کا معنییہ بنتا ہے کہ اس کا پردہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔
یہ معنی درج ذیل حدیث کی روشنی میں کیا گیا ہے: سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حِجَابُہُ النُّورُ لَوْ کَشَفَہُ لَأَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْہِہِ مَا انْتَہٰی إِلَیْہِ بَصَرُہُ مِنْ خَلْقِہِ۔)) … اس اللہ کا پردہ نور ہے، اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ساری مخلوقات کو جلا دیں، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۷۹)
مازری نے کہا: اَرَاہُ میں ہ ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کا معنییہ ہے کہ نور نے مجھے اللہ کی رؤیت سے روک دیا، جیسا کہ عام عادت بھییہی ہے کہ نور آنکھوں کو ڈھانپ لیتا ہے اور دیکھنے والے اور دوسری چیز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔
ابن قیم نے ابن تیمیہ سے نقل کرتے ہوئے کہا: نُوْرٌ أَنّٰی اَرَاہ کا معنییہ ہے کہ وہاں نور تھا، جو رؤیت کے سامنے حائل ہو گیا، پس میں اس کو کیسے دیکھ سکتا، اس معنی پر دلالت کرنے والے بعض روایات کے الفاظ بھی موجود ہیں، مثلا ایک روایت میں ہے: ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ؟ (کیا آپ نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا فرمایا: ((رَاَیْتُ نُوْرًا)) … میں نے تو نور دیکھا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ نے بہت سارے لوگوں کو پریشان کر دیا، اس لیے انھوں نے ان الفاظ کی تصحیف کرتے ہوئے ان کو نُوْرانِّیْ اَرَاہ پڑھ دیا اور اس حدیث کی عبارت کو ایک جملہ بنا دیا، جبکہ یہ لفظی طور پر بھی غلطی ہے اور معنوی طور پر بھی۔ مزید آپ زاد المعاد: ۳/ ۳۷ اور مجموع الفتاوی: ۳/ ۳۸۶۔ ۳۸۹ کا مطالعہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10588
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21720»
حدیث نمبر: 10589
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ ثَنَا عَامِرٌ قَالَ أَتَى مَسْرُوقٌ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ قَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ قَفَّ شَعْرِي لِمَا قُلْتَ أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ كَذَبَ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ} [الأنعام: 103] {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الشورى: 51] وَمَنْ أَخْبَرَكَ بِمَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ} [لقمان: 34] وَمَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ} [المائدة: 67] وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عامر بیان کرتے ہیں کہ مسروق، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا: اے ام المؤمنین! کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، تیری بات سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، تجھے کوئی پتہ نہیں ان تین چیزوں کا کہ جو آدمی ان کو بیانکرے گا، وہ جھوٹا ہو گا، (۱)جو آدمی تجھے یہ بیان کرے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا، پس اس نے جھوٹ بولا، پھر سیدہ نے یہ آیات پڑھیں: اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی، اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے۔ (سورہ انعام: ۱۰۳) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ناممکن ہے کہ کسی بندہ سے اللہ تعالیٰ کلام کرے، مگر وحی کے ذریعہیا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے، بیشک وہ برتر ہے، حکمت والا ہے۔ (سورۂ زخرف: ۵۱) (۲) جو آدمی تجھے کل کی بات بتلائے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر سیدہ نے یہ آیت پڑھی: بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کا علم ہے، وہ بارش نازل کرتا ہے اور اس چیز کو جانتا ہے، جو رحموں کے اندر ہوتی ہے۔ اور (۳) جو آدمی تجھے یہ بات بتلائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شریعت کا کوئی حصہ چھپا لیا ہے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: اے رسول! جو کچھ تیرے ربّ کی طرف سے تجھ پر نازل کیا گیا ہے، اس کو آگے پہنچا دے۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل کو اس کی اصل صورت میں دوبار دیکھا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: تو پھر اس آیت کا کیا مطلب ہوا: {ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی۔ فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہِ مَآ اَوْحٰی۔} … پھر وہ نزدیک ہوا، پس اتر آیا۔ پھر وہ دو کمانوں کے فاصلے پر ہو گیا، بلکہ زیادہ قریب۔ پھر اس نے وحی کی اس (اللہ) کے بندے کی طرف جو وحی کی۔ (سورۂ نجم: ۸، ۹، ۱۰)؟ سیدہ نے کہا: اس میں تو جبریل علیہ السلام کا ذکر ہے، وہ مردوں کی صورت میں آتے رہتے تھے، اس بار وہ اپنی اصل شکل میں آئے اور آسمان کے افق کو بھر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10589
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بتمامه ومختصرا البخاري: 4612، 4855، 7380، 7531، ومسلم: 177، 289 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24731»
حدیث نمبر: 10590
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ مَسْرُوقٍ أَيْضًا قَالَ كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ قَالَ ذَلِكَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ فِيهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) مسروق کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، سیدہ نے کہا: اے ابو عائشہ! میں وہ پہلا فرد ہوں، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل تھے، میں نے صرف دو بار اس کو اس کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، جب میں نے اس کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو اس کے بڑے وجود نے آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت اس اعتبار سے واضح ہے کہ سورۂ نجم کی آیات کا تعلق اللہ تعالیٰ کی رؤیت سے نہیں ہے، ان آیات کے مصداق جبریل علیہ السلام ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10590
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26521»
حدیث نمبر: 10591
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ ادْعُ رَبَّكَ قَالَ فَدَعَا رَبَّهُ فَطَلَعَ عَلَيْهِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ قَالَ فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيَنْتَشِرُ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَعِقَ فَأَتَاهُ فَنَعَشَهُ وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ ان کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں، انھوں نے کہا: اپنے ربّ سے دعا کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ سے دعا کی، پس مشرق کی طرف سے سیاہ رنگ کا ایک وجود اٹھا، پھر وہ بلند ہونے اور پھیلنے لگا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیہوش ہو گئے، جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھڑا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوشۂ دہن سے لعاب کو صاف کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10591
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ادريس بن منبه، وھو ادريس بن سنان اليماني، قال ابن عدي: ھو من الضعفاء الذينيكتب حديثھم، وقال الدار قطني: متروك، أخرجه الطبراني: 11033، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2965 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2965»
حدیث نمبر: 10592
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ حِجَابُهُ النَّارُ لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ {نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [النمل: 8]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک نہ اللہ تعالیٰ سوتا ہے اور نہ سونا اس کے شایانِ شان ہے، وہ کسی کے حق میں ترازو کو جھکاتا ہے اور کسی کے حق میں اٹھا دیتا ہے، اس کا پردہ آگ کا ہے، اگر وہ اس پردے کو چاک کر دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ہر اس چیز کو جلا دیں گے، جہاں تک اس کی نگاہ کا ادراک ہے۔ پھر ابو عبیدہ راوی نے اس آیت کی تلاوت کی: جب موسی وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے، وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (سورۂ نمل: ۸)
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا میں مخلوق کے لیے اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی احادیث بھی عدم رؤیت پر دلالت کرتی ہیں۔
ابو عبیدہ راوی نے جو آیت تلاوت کی، وہ پورا مضمون یوں ہے: {اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَہْلِہٖٓاِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَــبَرٍ اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ۔ فَلَمَّا جَاء َہَا نُوْدِیَ اَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ یٰمُوْسٰٓی اِنَّہٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔} … جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے گھر والوں سے کہا بلاشبہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے، میں عنقریب تمھارے پاس اس سے کوئی خبر لاؤں گا، یا تمھارے پاس اس سے سلگایا ہوا انگارا لے کر آؤں گا، تاکہ تم تاپ لو۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی کہ برکت دی گئی ہے اسے جو آگ میں ہے اور جو اس کے
ارد گرد ہے اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اے موسیٰ! بے شک حقیقتیہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔(سورۂ نمل: ۷، ۸، ۹)
یہ اس وقت کا واقعہ ہے، جب موسی علیہ السلام مدین سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس آ رہے تھے، رات کو اندھیرے میں راستے کا علم نہیں تھا اور سردی سے بچاؤ کے لیے آگ کی بھی ضرورت تھی، جس چیز کو موسی علیہ السلام نے آگ محسوس کیا،یہ کوہ طور کا مقام تھا، جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ سر سبز درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، اللہ تعالیٰ کا نور تھا، جس کی تجلی آگ کی طرح محسوس ہوتی تھی۔
جو آگ میں ہے، اس کو برکت دی گئی اس سے مراد اللہ تعالیٰ تھا، آگ سے مراد اس کانور تھا اور اس کے ارد گرد سے مراد موسی علیہ السلام خود اور فرشتے تھے۔
ابو عبیدہ راوی نے یہ آیت پڑھ کر حدیث ِ مبارکہ کے مضمون کو واضح کیا، کیونکہ آیت مقدسہ کے مطابق بھی اللہ تعالیٰ اور موسی علیہ السلام کے درمیان نور حائل تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10592
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 179 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19816»