کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 10571
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ الْجَنَّةَ فَسَمِعَ مِنْ جَانِبِهَا وَجْسًا قَالَ ((يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا)) قَالَ هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ إِلَى النَّاسِ ((قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا)) قَالَ فَلَقِيَهُ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ بِهِ وَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْأُمِّيِّ قَالَ فَقَالَ وَهُوَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِيلٌ سَبْطٌ شَعْرُهُ مَعَ أُذُنَيْهِ أَوْ فَوْقَهُمَا فَقَالَ ((مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ)) قَالَ هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ فَمَضَى فَلَقِيَهُ عِيسَى فَرَحَّبَ بِهِ وَقَالَ ((مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ)) قَالَ هَذَا عِيسَى قَالَ فَمَضَى فَلَقِيَهُ شَيْخٌ جَلِيلٌ مَهِيبٌ فَرَحَّبَ بِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَكُلُّهُمْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ قَالَ ((مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ)) قَالَ هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ فَنَظَرَ فِي النَّارِ فَإِذَا قَوْمٌ يَأْكُلُونَ الْجِيفَ فَقَالَ ((مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ)) قَالَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَرَأَى رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ جَعْدًا شَعِثًا إِذَا رَأَيْتَهُ قَالَ ((مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ)) قَالَ هَذَا عَاقِرُ النَّاقَةِ قَالَ فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى قَامَ يُصَلِّي فَالْتَفَتَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا النَّبِيُّونَ أَجْمَعُونَ يُصَلُّونَ مَعَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ جِيءَ بِقَدَحَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنِ الْيَمِينِ وَالْآخَرُ عَنِ الشِّمَالِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ عَسَلٌ فَأَخَذَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْهُ فَقَالَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ الْقَدَحَ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ایک طرف سے ہلکی سی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ آواز کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ہے،میں نے اس کے لیےیہ کچھ دیکھا ہے۔ اُدھر سفرِ معراج میں موسی علیہ السلام آپ کو ملے اور اُمّی نبی کو مرحبا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمیتھے، ان کے بال سیدھے تھے اور کانوں تک یا کانوں سے اوپر تک آ رہے تھے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ حضرت موسی علیہ السلام ہیں، پھر آپ آگے چلے اور عیسی علیہ السلام آپ کو ملے اور مرحبا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ عیسی علیہ السلام ہیں، پھر آگے چلے اور ایک بزرگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملے، وہ بڑے جلال اور ہیبت والے تھے، انھوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مرحبا کہا اور آپ کو سلام کہا، بلکہ تمام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ کے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ میں دیکھا تو کچھ لوگوں کو مردہ لاشیں کھاتے ہوئے پایا اور پوچھا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ وہ لو ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے، یعنی ان کی غیبت کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایکاور شخص دیکھا، وہ سرخ رنگ کا تھا، اس کی آنکھیں نیلی تھیں، وہ کوتاہ قد تھا اور اس کے بال پراگندہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : جبریل! یہ کو ن ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد ِ اقصی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے، پس جب متوجہ ہوئے اور پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ سارے کے سارے انبیائے کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے، ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ لے کر اس کو پی لیا، جس فرشتے کے پاس پیالہ تھا، اس نے کہا: تو نے فطرت کو اختیار کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن اس معنی میں دوسری احادیث ِ صحیحہ ثابت ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10571
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، قابوس مختلف فيه، وقد ورد في معني ھذا الحديث احاديث عن انس وغيره من الصحابة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2324»