کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
حدیث نمبر: 10569
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ أَتَيْتُ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ لَيْلَةٍ أُسْرِيَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ ((فَانْطَلَقْتُ أَوِ انْطَلَقْنَا فَلَقِينَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ)) فَلَمْ يَدْخُلَاهُ قَالَ قُلْتُ بَلْ دَخَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ وَصَلَّى فِيهِ قَالَ مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُكَ قَالَ قُلْتُ أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ قَالَ فَمَا عِلْمُكَ بِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ لَيْلَتَئِذٍ قَالَ قُلْتُ الْقُرْآنُ يُخْبِرُنِي بِذَلِكَ قَالَ مَنْ تَكَلَّمَ بِالْقُرْآنِ فَلَجَ اقْرَأْ قَالَ فَقَرَأْتُ {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} قَالَ فَلَمْ أَجِدْهُ صَلَّى فِيهِ قَالَ يَا أَصْلَعُ هَلْ تَجِدُ صَلَّى فِيهِ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ لَوْ صَلَّى فِيهِ لَكُتِبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِيهِ كَمَا كُتِبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِي الْبَيْتِ الْعَتِيقِ وَاللَّهِ مَا زَايَلَا الْبُرَاقَ حَتَّى فُتِحَتْ لَهُمَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ ثُمَّ عَادَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا قَالَ ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ قَالَ وَيُحَدِّثُونَ أَنَّهُ رَبَطَهُ لِئَلَّا يَفِرَّ مِنْهُ وَإِنَّمَا سَخَّرَهُ لَهُ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ قَالَ قُلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَيُّ دَابَّةٍ الْبُرَاقُ قَالَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ هَكَذَا خَطْوُهُ مَدُّ الْبَصَرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زِرّ بن حبیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ اسراء والی رات کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں چلا یا ہم چلے، اور اسی طرح چلنے پر بر قرار رہے، یہاں تک کہ ہم بیت المقدس کے پاس پہنچ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جبریل علیہ السلام اس میں داخل نہیں ہوئے، میں (زِرّ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے اور اس میں نماز بھی پڑھی تھی، انھوں نے کہا:او گنجے! تیرا نام کیا ہے؟ میں تجھے چہرے سے تو پہچانتا ہوں، لیکن تیرے نام کو نہیں جانتا۔ میں نے کہا: میں زِرّ بن حبیش ہوں، انھوں نے کہا: تجھے کیسے علم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رات کو وہاں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا: قرآن مجید نے مجھے یہ خبر دی ہے، انھوں نے کہا: جس نے قرآن کے ساتھ بات کی وہ تو غالب آ جاتا ہے، اچھا دلیل کی تلاوت کرو، میں نے یہ آیت تلاوت کی: {سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ … } انھوں نے کہا: اس آیت میں تو اس قسم کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہے، او گنجے! کیا اس آیت میں تجھے ایسی کوئی چیز نظر آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہو؟ میں نے کہا: نہیں، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ دونوں ہستیاں براق سے ہٹی ہی نہیں کہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور ان دونوں نے جنت، جہنم اور آخرت کے تمام وعدے دیکھے، اور پھر وہ وہاں لوٹ آئے، جہاں سے انھوں نے سفر شروع کیا تھا، پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اتنے ہنسے کہ میں نے ان کی داڑھیں دیکھ لیں۔ پھر انھوں نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براق کو اس لیے باندھا تھا کہ وہ بھاگ نہ جائے، حالانکہ مخفی اور ظاہری چیزوں کو جاننے والی ذات نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس براق کو مسخر کیا تھا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد اللہ! کون سا جانور براق ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اس طرح کا سفید رنگ کا لمبا سا جانور ہوتا ہے اور اس کاقدم منتہائے نگاہ تک جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کے ابتدائی الفاظ فَلَقِیْنَا کی درست صورت یہ ہے فَبَقِیْنَا، کیونکہ دوسرے طریق میں فَلَمْ نُزَایِلْ ظَھْرَہ کے الفاظ ہیں، ہم نے درست الفاظ کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10569
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 3147 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23674»
حدیث نمبر: 10570
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ يَضَعُ حَافِرَهُ مُنْتَهَى طَرَفِهِ فَلَمْ نُزَايِلْ ظَهْرَهُ أَنَا وَجِبْرِيلُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَفُتِحَتْ لَنَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَرَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ)) قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَلَمْ يُصَلِّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ زِرٌّ فَقُلْتُ لَهُ بَلَى قَدْ صَلَّى قَالَ حُذَيْفَةُ مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ وَلَا أَعْرِفُ اسْمَكَ فَقُلْتُ أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ قَالَ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهُ قَدْ صَلَّى قَالَ فَقَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} قَالَ فَهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى لَوْ صَلَّى لَصَلَّيْتُمْ فِيهِ كَمَا تُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ زِرٌّ وَرَبَطَ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ قَالَ حُذَيْفَةُ أَوَ كَانَ يَخَافُ أَنْ تَذْهَبَ مِنْهُ وَقَدْ آتَاهُ اللَّهُ بِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا زِرّ بن حبیش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق کو لایا گیا،یہ سفید رنگ کا لمبا سا جانور تھا، اپنے منتہائے نگاہ تک اپنا قدم رکھتا تھا، میں اور جبریل اس کی کمر سے جدا نہ ہوئے، یہاں تک کہ میں بیت المقدس آیا اور پھر ہمارے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور ہم نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی، جبکہ سیدنا زِرّ رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی ہے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: او گنجے! تیرا نام کیا ہے، میں تجھے چہرے سے تو پہچانتا ہوں، البتہ تیرے نام کی پہچان نہیں ہے، میں نے کہا: میں زِرّ بن حبیش ہوں، انھوں نے کہا: تجھے کیسے پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا اِنَّہُ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ} انھوں نے کہا: تو اس آیت میں کوئی ایسی چیز پاتا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی ہے؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہوتی تو تم کو بھی وہاں نماز ادا کرنا پڑتی، جیسا کہ تم مسجد ِ حرام میں نماز پڑھتے ہو، سیدنا زِرّ نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کو اس کنڈے کے ساتھ باندھا تھا، جس کے ساتھ انبیائے کرامR باندھتے تھے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ڈر تھا کہ وہ بھاگ جائے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ دوسرے صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھائی تھی، اس لیے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی نفی کو ان کے علم نہ ہونے پر محمول کریں گے، فقہی قانون یہ ہے کہ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10570
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23721»