کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی
حدیث نمبر: 10553
عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ بِإِنَاءٍ مَعَهَا فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ فَإِذَا أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خدیجہ ایک برتن میں سالن یا کھانا یا مشروب لے کر آ رہی ہیں، جب وہ آپ کے پاس پہنچیں تو ان کو ان کے ربّ کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہنا اور ان کو جنت میںیاقوت والے موتیوں کے ایسے گھر کی خوشخبری سنانا کہ اس میں شور و غل ہو گا نہ تعب و تکان۔
حدیث نمبر: 10554
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو ایسے گھر کی خوشخبری سناؤں جو یاقوت والے موتیوں سے بنا ہوا ہے اور اس میں شور وغل ہے نہ تعب و تکان۔
حدیث نمبر: 10555
عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ خَدِيجَةَ قَالَ نَعَمْ بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ قَالَ يَعْلَى وَقَالَ مَرَّةً لَا صَخَبَ أَوْ لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اسماعیل بن ابی خالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے صحابی ٔ رسول سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو خوشخبری دی تھی؟ انھوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جنت میںیاقوت کے موتیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی خوشخبری دی تھی، اس گھر میں شور ہو گا نہ تھکاوٹ، ایک روایت میں ہے: اس میں شور یا لغو بات نہیں ہو گی اور نہ تھکاوٹ۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ خدیجہ کے جنت والے گھر کی صفات بھی بیان کر دی گئی ہیں۔
حدیث نمبر: 10556
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِي فِي خُلَّتِهَا مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کسی عورت پر اتنی غیرت نہیں کی، جتنی مجھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر غیرت آئی، حالانکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میرے ساتھ شادی کرنے سے تین سال پہلے وفات پا گئی تھیں، اس غیرت کی وجہ یہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے سنتی تھی اور ربّ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جنت میںیاقوت والے موتیوں کے گھر کی خوشخبری دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تھے تو اس میں کچھ حصہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو ارسال کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم کی دعوت پر سب سے پہلے لبیک کہنے والی، گھبراہٹوں میںآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سہارا بننے والی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنا سرمایا لٹا دینے والی آپ کی وفادار بیوی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کی قدر کی اور انھیں جنت میں گھر کی بشار ت سنوا دی۔
حدیث نمبر: 10557
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ قَالَ تَدْرُونَ مَا هَذَا فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، کون ہے سیدہ خدیجہ، جب لوگ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس وقت سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں، جب تکبر کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رک رہے تھے، تب سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی، جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بخل کر رہے تھے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخاوت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اجنبیت طاری تھی، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انس کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام کی پہلی آمد پر پریشان ہوئے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل حمیدہ کا ذکر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پا س لے گئیں۔
حدیث نمبر: 10558
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا متن یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَسْبُکَ مِنْ نِسَاء ِ الْعَالَمِینَ مَرْیَمُ ابْنَۃُ عِمْرَانَ وَخَدِیجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ وَفَاطِمَۃُ ابْنَۃُ مُحَمَّدٍ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ۔)) … جہانوں کی خواتین میں چار عورتیں تجھے کافی ہیں: مریم بنت عمران، خدیجہ بنت ِ خویلد، فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آسیہ، جو کہ فرعون کی بیوی تھیں۔
کیا عظمت ہے ان چار عظیم خواتین کی،سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمُلَ مِنْ الرِّجَالِ کَثِیرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَاء ِ إِلَّا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَاء ِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) … مردوں میں تو بہت زیادہ نے کمال حاصل کیا، لیکن خواتین میں صرف سیدہ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ علیہما السلام درجۂ کمال تک پہنچ سکیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی خواتین پر اس طرح ہے، جیسے ثرید کی باقی کھانوں پر ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۹۹۸، صحیح مسلم: ۴۴۵۹
کیا عظمت ہے ان چار عظیم خواتین کی،سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمُلَ مِنْ الرِّجَالِ کَثِیرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَاء ِ إِلَّا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَاء ِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) … مردوں میں تو بہت زیادہ نے کمال حاصل کیا، لیکن خواتین میں صرف سیدہ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ علیہما السلام درجۂ کمال تک پہنچ سکیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی خواتین پر اس طرح ہے، جیسے ثرید کی باقی کھانوں پر ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۹۹۸، صحیح مسلم: ۴۴۵۹
حدیث نمبر: 10559
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔
حدیث نمبر: 10560
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَثْنَى عَلَيْهَا فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ قَالَتْ فَغِرْتُ يَوْمًا فَقُلْتُ مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُهَا حَمْرَاءَ الشِّدْقِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا قَالَ مَا أَبْدَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهَا قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِي النَّاسُ وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ وَرَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَهَا إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تو ان کی تعریف کرتے اور بہت اچھی تعریف کرتے، ایک دن مجھے بڑی غیرت آئی اور میں نے کہا: آپ اس سرخ باچھ والی بڑھیا کا اس قدر زیادہ تذکرہ کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا بہترین متبادل عطا کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر متبادل نہیں دیا، خدیجہ تو وہ تھی جو اس وقت ایمان لائی، جو لوگ میرے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس نے اس وقت میری تصدیق کی، جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے، اس نے اپنے مال کے ساتھ اس وقت میری ہمدردی کی، جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے اس وقت اولاد عطا کی، جب وہ مجھے عورتوں کی اولاد سے محروم کر رہا تھا۔
حدیث نمبر: 10561
عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَطْنَبَ فِي الثَّنَاءِ عَلَيْهَا فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ النِّسَاءَ مِنَ الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ لَقَدْ أَعْقَبَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ حَمْرَاءِ الشَّدْقَيْنِ قَالَتْ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا لَمْ أَرَهُ تَغَيَّرَ عِنْدَ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ وَعِنْدَ الْمَخِيلَةِ حَتَّى يَعْلَمَ رَحْمَةٌ أَوْ عَذَابٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا اور کافی دیر تک ان کی تعریف کی، مجھ پر وہی غیرت غالب آ گئی، جو عورتوں پر غالب آ جاتی ہے اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو قریش کی اس سرخ باچھوں والی بڑھیا کا متبادل تو دے دیا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اس قدر بدلا کہ میں نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس انداز میں نہیں دیکھا تھا، ما سوائے نزولِ وحی کے وقت یا بادل کے نمودار ہوتے وقت، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چل جاتا کہ وہ رحمت ہے یا عذاب۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ کی سرخ باچھوں سے مراد یہ ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئی تھیں،یہاں تک کہ ان کے دانت گر گئے تھے اور اس وجہ سے منہ میں سفیدی ختم ہو گئی تھی اور بس مسوڑھوں کی سرخی باقی رہ گئی تھی، جواباً نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ کو بے مثال ام المؤمنین قرار دیتے ہوئے ان کے خصائلِ حمیدہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معیار سیدہ کے عظیم کارنامے تھے۔
علمائے کرام نے اس موقع پر ایک بڑی خوبصورت بات کی ہے اور وہ یہ کہ خواتین کے ساتھ ان کی جلن اور غیرت کے معاملے میں نرمی برتی گئی ہے، کیونکہ عام خواتین کییہ فطرت ہے، ان کی برداشت اور عدم برداشت کا کوئی کلیہ ضابطہ نہیں ہے، ان کا مزاج بڑی سے بڑی نیکیوں کو نظر انداز کر دیتا اور بڑی سے بڑی برائیوں کو معاف کردیتا ہے، صبح کو ایکخاتون کی تعریف کر رہی ہوں گی اور شام کو اسی کے خلاف محاذ آراہوں گی،یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں ڈانٹا۔
بادل کے نمودار ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پریشانی کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہبادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ وہ اپنے ربّ کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گا، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ صرف ان کے گھر نظر آ رہے تھے، ہم مجرم قوم کو ایسا ہی بدلہ چکھاتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۴،۲۵)
علمائے کرام نے اس موقع پر ایک بڑی خوبصورت بات کی ہے اور وہ یہ کہ خواتین کے ساتھ ان کی جلن اور غیرت کے معاملے میں نرمی برتی گئی ہے، کیونکہ عام خواتین کییہ فطرت ہے، ان کی برداشت اور عدم برداشت کا کوئی کلیہ ضابطہ نہیں ہے، ان کا مزاج بڑی سے بڑی نیکیوں کو نظر انداز کر دیتا اور بڑی سے بڑی برائیوں کو معاف کردیتا ہے، صبح کو ایکخاتون کی تعریف کر رہی ہوں گی اور شام کو اسی کے خلاف محاذ آراہوں گی،یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں ڈانٹا۔
بادل کے نمودار ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پریشانی کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہبادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ وہ اپنے ربّ کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گا، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ صرف ان کے گھر نظر آ رہے تھے، ہم مجرم قوم کو ایسا ہی بدلہ چکھاتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۴،۲۵)