کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
حدیث نمبر: 10541
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں جو آدمی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ پس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ دعا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں قبول ہوئی اور پھر واقعی ان کے ذریعے اسلام کو غلبہ ملا۔
حدیث نمبر: 10542
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجْتُ أَتَعَرَّضُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ أُسْلِمَ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْحَاقَّةِ فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مِنْ تَأْلِيفِ الْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ هَذَا وَاللَّهِ شَاعِرٌ كَمَا قَالَتْ قُرَيْشٌ قَالَ فَقَرَأَ {إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ} [الحاقة: 40-41] قَالَ قُلْتُ كَاهِنٌ قَالَ {وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ} [الحاقة: 42-47] الْخَ السورة قَالَ فَوَقَعَ الْإِسْلَامُ فِي قَلْبِي كُلَّ مَوْقِعٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قبولیتِ اسلام سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درپے ہوتا تھا، ایک دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میںپایا کہ آپ مجھ سے پہلے مسجد میں پہنچ گئے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ حاقہ کیتلاوت شروع کی، مجھے قرآن مجید کی تالیف و ترتیب سے بڑا تعجب ہونے لگا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو قریش کے کہنے کے مطابق شاعر لگتا ہے، میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر دی: {اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِیْلًا مَاتُؤْمِنُوْنَ} … بیشک یہ عزت والے قاصد کی بات ہے، یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے، مگر کم ہی تم ایمان لاتے ہو۔ میں نے کہا: یہ نبی تو نجومی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: {وَلَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ قَلَیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ، تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ، فَمَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِیْنِ} … اور نہ یہ قرآن کسی کاہن اور نجومی کا قول ہے، افسوس بہت کم نصیحت لے رہے ہو، یہ تو رب العالمین کا اتارا ہوا ہے، اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا تو البتہ ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے، اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے، پھر تم میں سے کوئی بھی اس سے روکنے والے نہ ہوتے، یقینایہ قرآن پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے، ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں، بیشک یہ جھٹلانا کافروں پر حسرت ہے، اور بے شک و شبہ یہیقینی حق ہے، پس تو اپنے ربّ عظیم کی پاکی بیان کر۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: (پس قرآن کا یہ حصہ سننا تھا کہ) اسلام میرے دل میں گھر کر گیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے تین ہی دن بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہو گئے، یہ اسلام لانے سے پہلے جس قدر مسلمانوں کے خلاف سخت گیر تھے، اتنا ہی ان کی وجہ سے عزت ِ اسلام میں اضافہ ہوا، تقریبا۶یا۷ سنہ نبوت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قبولیت ِ اسلام کا شرف حاصل ہوا۔