کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
حدیث نمبر: 10537
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ وَصَعِدَ عَلَى مَنْكِبَيَّ فَذَهَبْتُ لِأَنْهَضَ بِهِ فَرَأَى مِنِّي ضَعْفًا فَنَزَلَ وَجَلَسَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبَيَّ قَالَ فَصَعِدْتُ عَلَى مَنْكِبِهِ قَالَ فَنَهَضَ بِي قَالَ فَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنِّي لَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ أُفُقَ السَّمَاءِ حَتَّى صَعِدْتُ عَلَى الْبَيْتِ وَعَلَيْهِ تِمْثَالُ صَفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ فَجَعَلْتُ أُزَاوِلُهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ حَتَّى إِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْذِفْ بِهِ فَقَذَفْتُ بِهِ فَتَكَسَّرَ كَمَا تَتَكَسَّرُ الْقَوَارِيرُ ثُمَّ نَزَلْتُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَسْتَبِقُ حَتَّى تَوَارَيْنَا بِالْبُيُوتِ خَشْيَةَ أَنْ يَلْقَانَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے، یہاں تک کہ ہم کعبہ کے پاس پہنچے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: بیٹھ جا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کندھے پر چڑھے، پھر میں نے اٹھنا چاہا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ میں کمزور ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کندھے سے نیچے اتر گئے اور خود بیٹھ کر فرمانے لگے: علی! میرے کندھے پر چڑھ جا۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر چڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، مجھے یوں لگا کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کے افق کو چھو لیتا، پس میں بیت اللہ کی عمارت پر چڑھ گیا، اس پر پیتلیا تانبے کا بنا ہوا مجسمہ تھا، میں نے اس کے دائیں، بائیں، سامنے اور پیچھے سے کوشش کی،یہاں تک کہ میں نے اس کو گرانے کی قدرت پا لی، اُدھر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھینک دے اس کو۔ پس میں نے اس کو پھینکا اور وہ اس طرح ٹوٹا جیسے شیشے ٹوٹتے ہیں، پھر میں وہاں سے اترا اور میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز تیز چلنے لگے، یہاں تک کہ ہم گھروں کے ساتھ چپ گئے، ہمیں یہ ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی بندے سے ملاقات ہو جائے (اور ہمارا یہ راز فاش ہو جائے)۔
حدیث نمبر: 10538
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ كَانَ عَلَى الْكَعْبَةِ أَصْنَامٌ فَذَهَبْتُ لِأَحْمِلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَسْتَطِعْ فَحَمَلَنِي فَجَعَلْتُ أَقْطَعُهَا وَلَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ السَّمَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کعبہ پر بت تھے، پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھانا چاہا تو مجھ میں اتنی طاقت نہیں تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اٹھایا اور میں نے ان کو توڑ دیا، اگر میں چاہتا تو آسمان کو چھو لیتا۔
وضاحت:
فوائد: … بتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر گرایا تھا، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دَخَلَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَکَّۃَ وَحَوْلَ الْکَعْبَۃِ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ یَطْعُنُہَا بِعُودٍ فِییَدِہِ وَجَعَلَ یَقُولُ: {وَقُلْ جَاء َ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔} … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، جبکہ بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ میںپکڑی ہوئی لکڑی سے انھیں کچوکے دے رہے تھے اور یہی آیت پڑھتے تھے: {وَقُلْ جَاء َ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔} … اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا تھا۔ [سورۂ اسرائ: ۸۱] (صحیح بخاری: ۲۲۹۸)