کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
حدیث نمبر: 10526
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ دَعَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (فَذَكَرَ الْحَدِيثَ) ثُمَّ قَالَ فَقَالَ عُثْمَانُ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ يَعْنِي عَمَّارًا أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ الدَّهْرُ هَكَذَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اصْبِرْ ثُمَّ قَالَ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ کو بلایا، ان میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے، … … ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو عمار کے بارے میں بتلاؤں، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں چلتے ہوئے آ رہا تھا، جبکہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے باپ (سیدنایاسر رضی اللہ عنہ ) اور ماں (سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا ) کے پاس سے گزرے، جبکہ ان کو عذاب دیا جا رہا تھا، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے والد نے کہا: اے اللہ کے رسول! زمانہ اس طرح بھی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: صبر کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! آلِ یاسر کو بخش دے اور تحقیق میں نے کر دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے اور تحقیق میں نے کر دیا ہے۔ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول کی اور ان کو بخش دیا۔ سیدنا عمار کے والد مکرم کا نام یاسر اور والدہ ماجدہ کا نام سمیہ بنت خیاط تھا، دنیا کییہ اذیتیں جس قدر تکلیف دہ تھیں، اتنا ہی اللہ تعالیٰ نے بہترین صلہ دیا اور چند دنوں کی آزمائشوں کے عوض ہمیشہ کی زندگی کو پرسکون بنا دیا۔
حدیث نمبر: 10527
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنْهُ شَتْمُ قُرَيْشٍ كَيْفَ يَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَيَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو تعجب نہیں ہوتا کہ قریش کے گالی گلوچ کو مجھ سے کیسے دفع کر دیا جاتا ہے، وہ مُذَمّم پر لعنت کرتے ہیں، وہ تو مُذَمَّم کو برا بھلا کہتے ہیں، میں تو محمد ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … قریشی کفار چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت ناپسند کرتے تھے، اس لیے وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ نام ہی ذکر نہیں کرتے تھے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح لازم آتی تھی، لیکن جب اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے دوسرا نام لیتے تھے، تو وہ سرے سے آپ کا نام ہی نہیں ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 10528
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينًا قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ فَقَالَ لَهُ مَا لَكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ وَفَعَلُوا قَالَ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً قَالَ نَعَمْ قَالَ فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي فَقَالَ ادْعُ بِتِلْكَ الشَّجَرَةِ فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَسْبِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمزدہ ہو کر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خون لگا ہوا تھا، کیونکہ بعض اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مارا تھا، جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ کاراوئی کی ہے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے وادی سے پرے ایک درخت کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اس درخت کو بلاؤ، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوبلایا اور وہ چلتا ہوا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: اب اس کو حکم دیں کہ یہ لوٹ جائے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا اور وہ اپنی جگہ لوٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے کافی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا جبریل علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ اس معجزہ کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حوصلہ ہو جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غم کم ہو جائے گا، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ معجزہ دیکھنے کے بعد فرمایا: مجھے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 10529
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ مَرَّ وَصَاحِبٌ لَهُ بِأَيْمَنَ وَفِئَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ حَلُّوا أُزُرَهُمْ فَجَعَلُوهَا مَخَارِيقَ يَجْتَلِدُونَ بِهَا وَهُمْ عُرَاةٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَمَّا مَرَرْنَا بِهِمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلَاءِ قِسِّيسُونَ فَدَعُوهُمْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا أَبْصَرُوهُ تَبَدَّدُوا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا حَتَّى دَخَلَ وَكُنْتُ أَنَا وَرَاءَ الْحُجْرَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ لَا مِنَ اللَّهِ اسْتَحْيَوْا وَلَا مِنْ رَسُولِهِ اسْتَتَرُوا وَأُمُّ أَيْمَنَ عِنْدَهُ تَقُولُ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبِلَاءٍ مَا اسْتَغْفَرَ لَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ اور اس کا ایک دوست سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہاں قریشیوںکے چند لوگوں نے اپنے ازار اتارے ہوئے تھے اور ان کو بٹ کر وہ ایک دوسرے کو مار رہے تھے، جبکہ وہ ننگے تھے، جب ہم لوگ اُن کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ہمارے بارے میں کہا: یہ پادری لوگ ہیں، چھوڑو ان کو، پھر اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے آئے، جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ تتر بتر ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں واپس آ گئے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا، جبکہ میں حجرے کے پیچھے سے سن رہا تھا: سبحان اللہ! نہ ان لوگوں کو اللہ سے شرم آئی اور نہ ان لوگوں نے اس کے رسول سے پردہ کیا۔ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیں، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے لیے بخشش طلب کرو، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشقت اور تاخیر کے بعد ان کے لیے مغفرت طلب کی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کا نام برکت تھا، یہ حبشن تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد کی لونڈی تھیں،یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گود کھلایا کرتی تھیں، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دورِ نبوت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایمان لائیں، سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے شادی کی تھی، ان ہی سے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تھے،سیدہ ام ایمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے پانچ چھ ماہ بعد فوت ہو گئیں، روایت میں مذکورصحابی سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ ان ہی کا بیٹا تھا، یہ غزوۂ حنین میں شہید ہو گئے تھے۔
حدیث نمبر: 10530
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ قَيْنًا بِمَكَّةَ فَكُنْتُ أَعْمَلُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ فَاجْتَمَعَتْ لِي عَلَيْهِ دَرَاهِمُ فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لَا أَقْضِيَنَّكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ فَإِذَا بُعِثْتُ كَانَ لِي مَالٌ وَوَلَدٌ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِنِّي إِذَا مِتُّ ثُمَّ بُعِثْتُ وَلِيَ ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأُعْطِيكَ) قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا} [سورة مريم: 77] حَتَّى بَلَغَ {فَرْدًا} [سورة مريم: 80]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مسروق سے مروی ہے کہ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں مکہ میں لوہار تھا، میں نے عا ص بن وائل کا کام کیا اور میرے کچھ درہم اس پر جمع ہوگئے، ایک دن میں ان کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس آیا، لیکن اس نے کہا: میں تجھے اس وقت تک یہ درہم نہیں دوں گا، جب تک تو محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ساتھ کفر نہیں کرے گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر نہیںکروں گا، یہاں تک کہ ایسا نہیں ہو جاتاکہ تو مر جائے اور پھر تجھے اٹھا دیا جائے، اس نے آگے سے کہا:جب مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو میرے لیے مال اور اولاد ہو گی، ایکروایت میں ہے: اس نے کہا: پس بیشک جب میں مر جاؤں گا اور پھر مجھے اٹھایا جائے گا تو وہاں میرا مال ہو گا اور میری اولاد ہوگی، اُس وقت میں تجھے یہ قرض چکا دوں گا، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے اس کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی، کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟ ہر گز نہیں،یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے، یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے، اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہو گا۔(سورۂ مریم: ۷۷ تا ۸۰)
وضاحت:
فوائد: … عمرو بن عاص کا یہ جواب طنز اور استہزاء پر مشتمل تھا۔
ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ عمر و بن عاص یہ جو دعوی کر رہا ہے، کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہاں بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہو گی؟یا اللہ سے اس کا کوئی عہد ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے، یہ صرف آیات ِ الہی کا استہزاء و تمسخر ہے، یہ جس مال و اولاد کی بات کر رہا ہے، اس کے وارث تو ہم ہیں،یعنی مرنے کے ساتھ ان سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا اور ہماری بارگاہ میں یہ اکیلا آئے گا، نہ مال ساتھ ہو گا نہ اولاد اور نہ کوئی جتھہ، البتہ عذاب ہو گا، جو اس کے لیے اور ان جیسے لوگوں کے لیے ہم بڑھاتے رہیں گے۔
ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ عمر و بن عاص یہ جو دعوی کر رہا ہے، کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہاں بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہو گی؟یا اللہ سے اس کا کوئی عہد ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے، یہ صرف آیات ِ الہی کا استہزاء و تمسخر ہے، یہ جس مال و اولاد کی بات کر رہا ہے، اس کے وارث تو ہم ہیں،یعنی مرنے کے ساتھ ان سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا اور ہماری بارگاہ میں یہ اکیلا آئے گا، نہ مال ساتھ ہو گا نہ اولاد اور نہ کوئی جتھہ، البتہ عذاب ہو گا، جو اس کے لیے اور ان جیسے لوگوں کے لیے ہم بڑھاتے رہیں گے۔
حدیث نمبر: 10531
عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَةً لَهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَنَا وَاسْتَنْصِرْهُ قَالَ فَاحْمَرَّ لَوْنُهُ أَوْ تَغَيَّرَ فَقَالَ لَقَدْ كَانَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ حُفْرَةٌ وَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخْشَى إِلَّا اللَّهَ تَعَالَى وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر تشریف فرما تھے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور اس سے مدد طلب کریں،یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ سرخ ہوگیایا بدل گیا (راوی کو الفاظ کے متعلق شک ہے) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ تم سے پہلے تھے، ان کو گڑھے میں دبایا جاتا، پھر آری لا کر ان کے سر کو چیر دیا جاتا تھا،لیکن یہ تکلیف بھی ان کو اللہ تعالیٰ کے دین سے دور نہ کر سکی اور اسی طرح لوہے کی کنگھیوں سے لوگوں کی ہڈیوں سے گوشت اور پٹھوں کو نوچ لیا جاتا تھا،لیکن یہ آزمائش بھی ان کو دین سے نہ پھیر سکی، سنو، اللہ تعالیٰ ضرور ضرور اس دین کو اس طرح مکمل کرے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک چلے گا اور وہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اور اپنی بکریوں کے بارے میں بھیڑئیے سے ڈرے گا ، لیکن تم جلدی کرتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ اکبر! کتنی قابل غور بات ہے کہ اتنی تکالیف اور آزمائشوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کو ڈانٹ رہے ہیں کہ تم لوگ جلد بازی سے کام لے رہے ہو، تمہیں چاہیے کہ تم صبر کرو۔