حدیث نمبر: 10521
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَا جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ (أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ شُعْبَةُ الشَّاكُّ) قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ (أَوْ أُبَيًّا) انْقَطَعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد قریشی لوگ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں عقبہ بن ابی معیط ذبح شدہ اونٹنی کی بچہ دانی لے کر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر پر پھینک دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر نہ اٹھایا، اتنے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر سے ہٹایا اور یہ کام کرنے والوں کے لیے بد دعا کی، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ میں اِن پر دعا کی: اے اللہ! قریشیوں کے سرداروں ابو جہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابو معیط اور امیہ بن خلف (یا ابی بن خلف) کی گرفت فرما۔ پس میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ بدر والے دن ان کو قتل کیا گیا اور پھر کنویں میں ڈال دیا گیا، ما سوائے امیہیا ابی کے، اس کے جوڑ اکھڑ گئے تھے، اس لیے اس کو کنویںمیں نہیں ڈالا گیا۔
حدیث میں اس جگہ سَلَاجزور کے الفاظ ہیں نسلا کا معنی وہ جھلی (بچہ دانی) ہے جس کے اندر بچہ لیٹا ہوتا ہے اور مادہ کے رحم سے بچے کی ولادت کے بعد باہر آتی ہے۔ جزور: مادہ اور نر دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ بلکہ ہر ذبح کیے جانے والے جانور پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ بخاری کی ایک روایت (۵۲۰) میں یہ الفاظ ہیںیعمرانی مرثھا ودمھا وسلاھا یعنی اس کے گوبر، خون اور بچہ دانی کو لائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوجھڑی بھی ساتھ لاکر آپ پر پھینکی گئی۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث میں اس جگہ سَلَاجزور کے الفاظ ہیں نسلا کا معنی وہ جھلی (بچہ دانی) ہے جس کے اندر بچہ لیٹا ہوتا ہے اور مادہ کے رحم سے بچے کی ولادت کے بعد باہر آتی ہے۔ جزور: مادہ اور نر دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ بلکہ ہر ذبح کیے جانے والے جانور پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ بخاری کی ایک روایت (۵۲۰) میں یہ الفاظ ہیںیعمرانی مرثھا ودمھا وسلاھا یعنی اس کے گوبر، خون اور بچہ دانی کو لائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوجھڑی بھی ساتھ لاکر آپ پر پھینکی گئی۔ (عبداللہ رفیق)
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی بعض روایات (۵۲۰) میں ہے: جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ کاروائی کی تو وہ ہنسنے لگے اور ایک دوسرے پر گرنے لگے، … جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس مواد کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹایا تووہ ان پر متوجہ ہوئیں اور ان کو برا بھلا کہا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر بد دعا کی، جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا سنی تو وہ خاموش ہوگئے اور وہ ڈر گئے۔
امیہ بن خلف (یا ابی بن خلف) یہ امیہ بن خلف ہی تھا،جو غزوۂ بدر میں قتل ہوا، اس کا بھائی ابی بن خلف تو غزوۂ احد میں قتل ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا پوری ہوئی اور ان سب سرداروں کو غزوۂ بدر میں واصل جہنم ہونا پڑا۔
امیہ بن خلف (یا ابی بن خلف) یہ امیہ بن خلف ہی تھا،جو غزوۂ بدر میں قتل ہوا، اس کا بھائی ابی بن خلف تو غزوۂ احد میں قتل ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا پوری ہوئی اور ان سب سرداروں کو غزوۂ بدر میں واصل جہنم ہونا پڑا۔
حدیث نمبر: 10522
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ ثَنَا خَلَفٌ ثَنَا إِسْرَائِيلُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَمْرَو بْنَ هِشَامٍ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ وَزَادَ وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس طریق میں راوی نے کہا: عمرو بن ہشام اور امیہ بن خلف اور عمارہ بن ولید کا نام زائد ذکر کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس روایت کو اکثر پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ عقبہ بن ابی معیط کو قید کر کے عرق الظبیہ مقام پر قتل کیا گیا اور امیہ بن خلف کو کنویں میں نہیں پھینکا گیا، جیسا کہ پچھلی روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔
حدیث نمبر: 10523
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَدَعَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَبْعَةٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ وَقَدْ غَيَّرَتْهُمُ الشَّمْسُ وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور قریش کے سات افراد پر بد دعا کی، ان میں ابو جہل، امیہ بن خلف، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط شامل تھے، پس تحقیق میں نے ان سب افراد کو دیکھا کہ ان کو بدر کے کنویں میں پچھاڑ دیا گیا، چونکہ وہ سخت گرمی والا دن تھا، اس لیے سورج کی وجہ سے بھی ان میں کچھ تبدیلی پیدا ہو گئی تھی۔
حدیث نمبر: 10524
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِفَنَاءِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوَّى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ بِهِ خَنْقًا شَدِيدًا فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ وَدَفَعَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ {أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ} [سورة غافر: 28]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہا: تم مجھے یہ بتلاؤ کہ سب سے بڑی ایذا کون سی ہے، جو مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچائی؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے صحن میں نماز ادا کر رہے تھے، عقبہ بن ابی معیط وہاں آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کو پکڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن میں کپڑا ڈال کر اس کوبل دیئے اور سختی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاگلا دبایا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے، انھوں نے اس بد بخت کا کندھا پکڑا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹایا اور کہا: کیا تم اس شخص کو قتل کرتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ اس کا ربّ اللہ ہے اور وہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہارے پاس واضح نشانیاں لایا ہے۔
حدیث نمبر: 10525
عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قُلْتُ لَهُ مَا أَكْثَرُ مَا رَأَيْتَ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ قَالَ حَضَرْتُهُمْ وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ يَوْمًا فِي الْحِجْرِ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ سَفَّهَ أَحْلَامَنَا وَشَتَمَ آبَاءَنَا وَعَابَ دِينَنَا وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا وَسَبَّ آلِهَتَنَا لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ أَوْ كَمَا قَالُوا قَالَ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِهِمْ غَمَزُوهُ بِبَعْضِ مَا يَقُولُ قَالَ فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ مَضَى فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ مَضَى ثُمَّ مَرَّ بِهِمُ الثَّالِثَةَ فَغَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَقَالَ تَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ فَأَخَذَتِ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا كَأَنَّمَا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ حَتَّى إِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَصَاةً قَبْلَ ذَلِكَ لَيَرْفَؤُهُ بِأَحْسَنِ مَا يَجِدُ مِنَ الْقَوْلِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ انْصَرِفْ رَاشِدًا فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولًا قَالَ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ حَتَّى إِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ إِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَأَحَاطُوا بِهِ يَقُولُونَ لَهُ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا كَمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ عَنْهُ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ قَالَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ قَالَ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَهُ يَقُولُ وَهُوَ يَبْكِي {أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ} [سورة غافر: 28] ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ فَإِنَّ ذَلِكَ لَأَشَدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا: وہ کون سی سخت تکلیف ہے، جو قریشیوں نے اپنی دشمنی کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچائی ہو؟ انھوں نے کہا: میں خود ایک دفعہ موجود تھا، اشرافِ قریش حطیم میںجمع تھے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ کیا اور کہا: ہم نے اس شخص (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر جتنا صبر کر لیا ہے، اتنا صبر تو کبھی بھی نہیں کیا تھا، اس نے ہمارے عقلاء کو بیوقوف بنادیا ہے، ہمارے آباء کو گالیاں دی ہیں، ہمارے دین کو معیوب قرار دیا ہے، ہماری جماعت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے معبودوںکو برا بھلا کہا ہے، بس ہم نے بہت بڑی چیز پر صبر کیا ہوا ہے، وہ یہ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے ہوئے آگے بڑھے، حجرِ اسود کا استلام کیا اور پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو انھوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض باتوں کی وجہ سے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کااستہزاء کرتے ہوئے) آپس میں آنکھوں اور ابروؤں سے اشارے کیے، میں نے اس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے میں محسوس کیا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی ان باتوں کو بھانپ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار نظر آنے لگے) ، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے چلے گئے، جب دوسری بار گزرے تو پھر انھوں نے آنکھوں سے اشارے کیے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر اس چیزکو پہنچان لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیسری دفعہ گزرے اور انھوں نے آنکھوں سے اشارے کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریشیوں کی جماعت! سن لو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں ہلاکت کو لے کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ اس کلمے نے ان لوگوں پر اس قدر اثر کیا کہ ان میں سے ہر بندہ یوں خاموش ہو گیا، جیسے کے اس کے سرپر پرندہ بیٹھ گیا ہو، یہاں تک کہ ان میں جو آدمی اس سے پہلے وصیت کرنے میں سب سے سخت تھا، وہ بہترین الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح کرنے لگا اور کہنے لگا: اے ابو القاسم! آپ آگے چلیں، آپ آگے چلیں، اس حال میں کہ آپ ہدایتیافتہ ہیں، اللہ کی قسم! آپ جاہل نہیں ہیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے چل دیئے، جب اگلا دن آیا اور یہ لوگ حطیم میں جمع ہوئے، جبکہ میں بھی ان کے ساتھ تھا، تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: تم نے پہلے تو ان امور کا ذکرکیا جو تم کو اس (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے اور اس کو تم سے پہنچے ہیں، پھر جب اس نے تمہارے سامنے آکر ان ہی چیزوں کا تذکرہ کیا، جن کو تم ناپسند کر رہے تھے تو تم نے اس کو چھوڑ دیا، پس وہ اسی قسم کی باتوں میں مگن تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وہاں پہنچ گئے، اب کی بار تو وہ یک مشت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کود پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیر لیا اور کہا: تو وہی ہے جو ہمارے معبودوں اور دین کے معیوب ہونے کی اس قسم کی باتیں کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میں ہی ہوں ایسی باتیں کرنے والا۔ پھر میں نے ان میں سے ایک آدمی کودیکھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر کو پکڑا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور انھوں نے کہا: کیا تم ایسے شخص کوقتل کرتے ہو، جو یہ کہتاہے کہ اس کا ربّ اللہ ہے۔ پھر وہ لوگ وہاں سے چلے گئے، یہ سب سے سخت ایذا تھی، جو قریشیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچائی، میں نے اس قسم کی تکلیف کبھی نہیں دیکھی تھی۔