کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اور ان میں ایک ابو جہل تھا
حدیث نمبر: 10518
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ لَئِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ لَآتِيَنَّهُ حَتَّى أَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ قَالَ فَقَالَ ((لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوُا الْمَوْتَ لَمَاتُوا وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ فِي النَّارِ وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ مَالًا وَلَا أَهْلًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابو جہل نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس کی گردن کو روند دوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اس بات پر فرمایا: اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اس کو لوگوں کے سامنے پکڑ لیتے، اگر یہودیوں نے موت کی تمنا کی ہوتی تو وہ واقعی مر جاتے اور جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتے اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مباہلہ کرنے والے نکلتے تو وہ اس حال میںلوٹتے کہ ان کا مال ہوتا اور نہ اہل و عیال۔
وضاحت:
فوائد: … ابوجہل کا مزید ذکر اگلی حدیث میں ہے۔
یہودیوں کا موت کی تمنا کرنا، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ وَاللّٰہُ عَلِیْم’‘ بِالظّٰلِمِیْنَ۔} … کہہ دے اگر آخرت کا گھر اللہ کے ہاں سب لوگوں کو چھوڑ کر خاص تمھارے ہی لیے ہے تو موت کی آرزو کرو، اگر تم سچے ہو۔اور وہ ہر گز اس کی آرزو کبھی نہیں کریں گے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۴، ۹۵)
اور مباہلہ کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَاجَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَاَبْنَآئَ کُمْ وَنِسَآئَ نَا وَنِسَآئَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ۔} … پھر جو شخص تجھ سے اس کے بارے میں جھگڑا کرے، اس کے بعد کہ تیرے پاس علم آ چکا تو کہہ دے آؤ! ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمھاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمھیں بھی، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔ (سورۂ آل عمران: ۶۱)
یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے، مباہلہ کا معنییہ ہے: دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بددعا کرنا، مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقوں میں سے کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف و نزاع ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہوتو دونوں بارگاہِ الہی میں یہ دعا کریںکہیا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے، اس پر لعنت فرما۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10518
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4958 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2225»
حدیث نمبر: 10519
عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَالَ فَقِيلَ نَعَمْ قَالَ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى يَمِينًا يَحْلِفُ بِهَا لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لَيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ قَالَ فَمَا فَجَأَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ قَالَ قَالُوا لَهُ مَا لَكَ قَالَ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَوْ دَنَا مِنِّي لَخَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا)) قَالَ فَأُنْزِلَ لَا أَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْءٍ بَلَغَهُ {إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى} يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ {أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ} قَالَ يَدْعُو قَوْمَهُ {سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ} قَالَ يَعْنِي الْمَلَائِكَةَ {كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا: کیا تمہارے مابین محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سجدہ کرتا ہے؟ کسی نے کہا: ہاں، اس نے کہا: لات اور عزی کی قسم! اب اگر میں نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو اس کی گردن روند دوں گا یا اس کے چہرے کو مٹی میں لت پت کر دوں گا، پس اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے آئے، اِدھر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن کو روندنے کے لیے ابوجہل بھی چل پڑا، لیکن اچانک اس نے ایڑھیوںکے بل ہٹنا شروع کر دیا اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنا بچاؤ کر رہا تھا، لوگوں نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میرے اور آپ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ہولناکی اور پَر تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگروہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے۔ پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ بھلا تو نے اسے بھی دیکھا جو بندے کو روکتا ہے، جبکہ وہ نماز ادا کرتا ہے، بھلا بتلا تو سہی اگر وہ ہدایت پر ہو، یا پرہیز گاری کا حکم دیتا ہو، بھلا دیکھو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو۔ اس سے ابو جہل مراد ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے، یقینا اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے، ایسی پیشانی جو جھوٹی خطاکار ہے، یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے۔ یعنی وہ اپنیقوم کو بلائے، ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلا لیں گے۔ یعنی فرشتوں کو، خبردار! اس کا کہنا نہ مان اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔راوی کہتا ہے: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ ان آیات کا ذکر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں تھا، یا کسی اور سند سے اس کا علم ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10519
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2797 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8817»
حدیث نمبر: 10520
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابو جہل کا نام عمرو بن ہشام تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10520
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث رقم: (10518 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»