کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ابو لہب تھا
حدیث نمبر: 10514
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ جَاهِلِيًّا أَسْلَمَ فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَصَرَ عَيْنَيَّ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَقُولُ ((أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا)) وَيَدْخُلُ فِي فِجَاجِهَا وَالنَّاسُ مُتَقَصِّفُونَ عَلَيْهِ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا يَقُولُ شَيْئًا وَهُوَ لَا يَسْكُتُ يَقُولُ ((أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا)) إِلَّا أَنَّ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْوَلَ وَضِيءَ الْوَجْهِ ذَا غَدِيرَتَيْنِ يَقُولُ إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَذْكُرُ النُّبُوَّةَ قُلْتُ مَنْ هَذَا الَّذِي يُكَذِّبُهُ قَالُوا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ قُلْتُ إِنَّكَ كُنْتَ يَوْمَئِذٍ صَغِيرًا قَالَ لَا وَاللَّهِ إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَعْقِلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ ، ان کا تعلق دورِ جاہلیت سے تھا، پھر یہ مسلمان ہو گئے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، میری آنکھ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذو مجاز کے بازار میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما تے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔پھر آپ اس بازار کی گلیوں میں داخل ہو جاتے، جبکہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہجوم کیا ہوا تھا، میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ کچھ کہہ رہا ہو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش نہیں ہو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے جا رہے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا، وہ بھینگی آنکھ والا، خوبصورت چہرے والا اور دو چٹیوں والا تھا، وہ یہ کہہ رہا تھا: یہ بے دین اور جھوٹا شخص ہے، میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ محمد بن عبد اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہیں اور یہ نبوت کا اعلان کر رہے ہیں، میں نے کہا: یہ ان کو جھٹلانے والا کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ ان کا چچا ابو لہب ہے، میں نے کہا: تو ان دنوں کم سن تھا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! بیشک میں اس دن عقل والا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10514
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16119»
حدیث نمبر: 10515
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ إِنِّي لَمَعَ أَبِي رَجُلٌ شَابٌّ أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الْقَبَائِلَ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ وَضِيءٌ ذُو جُمَّةٍ يَقِفُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبِيلَةِ وَيَقُولُ ((يَا بَنِي فُلَانٍ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ آمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تُصَدِّقُونِي حَتَّى أُنْفِذَ عَنِ اللَّهِ مَا بَعَثَنِي بِهِ)) فَإِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَقَالَتِهِ قَالَ الْآخَرُ مِنْ خَلْفِهِ يَا بَنِي فُلَانٍ إِنَّ هَذَا يُرِيدُكُمْ أَنْ تَسْلُخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَحُلَفَاءَكُمْ مِنَ الْحَيِّ بَنِي مَالِكِ بْنِ أُقَيْشٍ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالَةِ فَلَا تَسْمَعُوا لَهُ وَلَا تَتَّبِعُوهُ فَقُلْتُ لِأَبِي مَنْ هَذَا قَالَ عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نوجوان آدمی تھا اور اپنے باپ کے ساتھ چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلوں کے پاس جاتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بھینگی آنکھ والا خوبصورت آدمی تھا، اس کی مونڈھوں تک لٹکی ہوئی زلفیں تھیں، اللہ کے رسول ہر قبیلہ کے پاس رک کر فرماتے: اے بنی فلاں! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میری تصدیق کرو تاکہ میں اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام پہنچا دوں، جس کے ساتھ اس نے مجھے مبعوث کیا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بات سے فارغ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے والا بندہ یہ کہنا شروع کر دیتا: اے بنو فلاں! اس شخص کا ارادہ یہ ہے کہ تم لات و عزی اور اپنے حلیفوں بنو مالک بن اُقیش کو چھوڑ کر اس بدعت و ضلالت کو اپنا لو، جو یہ لے کر آیا ہے، لہٰذا نہ اس کی بات سنو اور نہ اس کی پیروی کرو، میں نے اپنے باپ سے کہا: یہ شخص کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ابو لہب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10515
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16121»
حدیث نمبر: 10516
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ بِمِنًى فِي مَنَازِلِهِمْ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ الْخَ الْحَدِيثَ كَمَا تَقَدَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، آپ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مِنٰی میں لوگوں کے پاس ان کی رہائش گاہوں میں جاتے اور کہتے: اے لوگو! … … ۔ پھر سابقہ روایت ذکر کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10516
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16120»
حدیث نمبر: 10517
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا لَهَبٍ بِعُكَاظٍ وَهُوَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا قَدْ غَوَى فَلَا يُغْوِيَنَّكُمْ عَنْ آلِهَةِ آبَائِكُمْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ عَلَى أَثَرِهِ وَنَحْنُ نَتْبَعُهُ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَحْوَلَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ أَبْيَضَ النَّاسِ وَأَجْمَلَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ابو لہب کو عکاظ میں دیکھا، جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیچھا کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ شخص خود بھی گمراہ ہو گیا ہے اور تم کو بھی اپنے آباء کے معبودوں سے گمراہ کرنا چاہتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے آگے کو بھاگ جاتے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پہنچ جاتا، ہم لڑکے بھی اس کے ساتھ ساتھ چلتے، گویا کہ میں اب بھی ابو لہب کی طرف دیکھا رہا ہوں، وہ بھینگی آنکھ اور دو چٹیوں والا تھا اور لوگوں سے سب سے زیادہ سفید رنگ والا اور سب سے زیادہ خوبصورت تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ابو لہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا تھا، اس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب اورکنیت ابو عتبہ تھی، اس کے چہرے کی خوبصورتی اور چمک دمک کی وجہ سے اسے ابو لہب یعنی شعلے والا کہا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10517
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16116»