کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وحی کی ابتدائ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
حدیث نمبر: 10488
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِخَدِيجَةَ إِنِّي أَرَى ضَوْءًا وَأَسْمَعُ صَوْتًا وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي جُنُونٌ قَالَتْ لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ يَكُ صَادِقًا فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلُ نَامُوسِ مُوسَى فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَيٌّ فَسَأُعَزِّزُهُ وَأَنْصُرُهُ وَآمِنُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: بیشک میں روشنی دیکھتا ہوں، آواز سنتا ہوں اور میں ڈرتا ہوں کہ مجھے کوئی جنون لاحق ہو گیا ہے۔ آگے سے سیدہ نے کہا: اے عبد اللہ کے بیٹے! اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ اس طرح نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور اس کو ساری بات بتلائی، اس نے کہا: اگر آپ سچے ہیں تو یہ موسی علیہ السلام کے ناموس کی طرح کا ناموس ہے، اگر آپ کو میری زندگی میں مبعوث کیا گیا تو میں آپ کو تقویت پہنچاؤں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تائید کروں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاؤں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10488
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده علي شرط مسلم الا انه اختلف في وصله وارساله ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2846 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2846»
حدیث نمبر: 10489
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ فَكَانَ يَأْتِي غَارَ حِرَاءَ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ فَقَالَ اقْرَأْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [سورة العلق: 1] حَتَّى بَلَغَ {مَا لَمْ يَعْلَمْ} [سورة العلق: 5] قَالَ فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ زَمِّلُونِي فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ يَا خَدِيجَةُ مَا لِي فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ وَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي فَقَالَتْ لَهُ كَلَّا أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ فَكَتَبَ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ خَدِيجَةُ يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ فَقَالَ وَرَقَةُ يَا ابْنَ أَخِي مَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا رَأَى فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ فَقَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا فَيُسْكِنُ ذَلِكَ جَأْشَهُ وَتَقَرُّ نَفْسُهُ فَيَرْجِعُ فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ وَفَتَرَ الْوَحْيُ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کی ابتداء نیند میں سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے، وہ صبح کے پھٹنے کی طرح پورا ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلوت کو پسند کرنے لگے اور غارِ حرا میں جا کر چند راتیں عبادت کرتے اور ان دنوں کا توشہ لے جاتے، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف لوٹتے اور اتنے دنوں کے لیے پھر زاد لے جاتے، یہاں تک کہ ایک دن اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حق آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غارِ حرا میں ہی تھے، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، چنانچہ اس نے مجھے پکڑ کر اس قدر دبایا کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور کہا: پڑھو، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہے، اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دبایا، حتی کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور پھر کہا: پڑھیں، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑ کر تیسری دفعہ دبایا اور مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ … … مَا لَمْ یَعْلَمْ} پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کو لوٹے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔ پس انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا،یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گھبراہٹ ختم ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کو سارا واقعہ سنا دیا اور فرمایا: میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ لیکن سیدہ نے کہا: ہر گز نہیں، آپ خوش رہیں، پس اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور امورِ حق میں مدد کرتے ہیں، پھر سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی، وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچے کا بیٹا تھا، جاہلیت میں عیسائیت کو اختیار کر چکا تھا، چونکہ یہ عربی زبان لکھ سکتا تھا، اس لیے انجیل کو عربی زبان میں لکھتا تھا، یہ بزرگ آدمی تھا اور اب نابینا ہو چکا تھا، سیدہ نے اس سے کہا: اے میرے چچے کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنو، ورقہ نے کہا: بھتیجے! تو کیا دیکھ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری تفصیل بیان کی، ورقہ نے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے، جو موسی علیہ السلام پر نازل کیا گیا، کاش میں اس وقت مضبوط ہوتا، جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: جی ہاں، جو چیز آپ لائے ہیں، جو آدمی بھی ایسی لے کر آیا ہے، اس سے دشمنی کی گئی ہے اور اگر آپ کے اُس وقت نے مجھے پا لیا تو میں آپ کی خوب مدد کروں گا، لیکن جلد ہی ورقہ وفات پاگیا اور وحی رک گئی، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین تھے، بلکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غم اس قدر بڑھ گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی بار چاہا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے گر پڑیں، جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑ کی چوٹی پر چڑتے تاکہ اپنے آپ کو وہاں سے گرا دیں تو جبریل علیہ السلام سامنے آتے اور کہتے: اے محمد! بیشک آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کا اضطراب کم ہو جاتا اور نفس مطمئن ہو جاتا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوٹ آتے، جب پھر مدت طول پکڑتی اور وحی رکی رہتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر اسی طرح کرتے اور جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاتے تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ظاہر ہوتا اور پہلے والی بات دوہراتا۔
وضاحت:
فوائد: … صبح کے پھٹنے سے مراد یہ ہے وہ خواب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیداری میں واضح طور پر پورا ہوتا ہوا نظر آتا، خوابوں کا سلسلہ فرشتے اور وحی کے لیے تمہید ہوتا ہے، اس سلسلے کی وجہ سے بشری قوتیں وحی کا بار برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکارم اور خصائل کا ذکر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دینا، اس سے معلوم ہوا کہ مکارمِ اخلاق اور خصائل خیریہ برے انجام سے سلامتی کا سبب ہوتے ہیں۔
وحی کا نزول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انسانیت میں سب سے بڑا منصب عطا کرنے کے لیے تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے گوشت کا کانپنا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطالبے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑا اوڑھا دینا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ پھر جب کچھ عرصہ تک وحی رکی رہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حدیث کے آخری حصے میں بیان کی گئی کیفیت میں مبتلا ہو جانا۔
ان امور میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے، جس کی وجہ سے احادیث ِ مبارکہ یا ان کے ثقہ راویوں پر اعتراض کیا جا سکے، اسی قسم کی کیفیتوں کو ہلکا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارِ حراء میں جانے کی توفیق بخشی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خوابوں کاسلسلہ شروع کیا گیا۔ دراصل ابتداء میں بارِ نبوت کو برداشت کرنا بشری قوتوں کے لیے خاصا مشکل مرحلہ ہوتا ہے، بعد میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام کی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، جبکہ یہ ہمارا اندازہ ہے، حقیقت میں انبیاء و رسل ہی بہتر جانتے ہیں کہ وصولِ نبوت کا بوجھ کیسا ہوتا ہے، سخت سردی میں نزول وحیکے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینہ ٹپکنے لگتا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا کہ جب وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑی سختی اور شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ صحابۂ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شدت کی کیفیت کا سوال نہیں کیا، دیکھیں جب موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تجلی کی وجہ سے پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے، جبکہ چند لمحے پہلے وہی اللہ تعالیٰ کے دیدار کا اصرار کر رہے تھے۔
آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو اضطراب بیان کیا گیا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ جب کچھ عرصہ وحی کا سلسلہ رکا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خدشہ ہونے لگا کہ کہیں ایسے تو نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسا فعل یا سبب سرزد ہوگیا ہو، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سزا مل رہی ہو، یایہ کیفیت اس غم کی وجہ سے تھی، جو وحی کی تاخیر کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طاری ہو گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع تو نہیں دی گئی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کو بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔
غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں ورقہ بن نوفل کی حیثیت کیا تھی، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دلا رہا ہے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ انبیاء کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔
بہتریہ ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو احساسات بیان کیے گئے ہیں، ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طبعی تقاضا سمجھا جائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارِ نبوت اٹھا لیا اور اپنے منصب تک پوری رسائی حاصل کر لی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قابل ہو گئے کہ وحی کی مختلف مجلسوں میں پورا قرآن مجیدوصول کر سکیں، قرآن مجید کے علاوہ وحی کی دوسری اقسام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے پیغامات موصول کر سکیں، جنت و جہنم کے مناظر دیکھ سکیں، اسراء و معراج کی صورت میں آسمانوں کی سیر کر سکیں، جہنم میں پتھر گرنے اور آسمان کے دروازے کھلنے کی آواز سن سکیں، قبروں میںعذاب میں مبتلا لوگوں کے عذاب کی کیفیت دیکھ سکیں، کثرت ِ عبادت میں اپنی جسمانی غذاکو محسوس کر سکیں، علی ہذا القیاس۔واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10489
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4956، 6982، ومسلم: 160،وقوله: حتي حزن رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم فيما بلغنا حزنا، الخ۔ انما ھو من بلاغات الزھري ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26486»
حدیث نمبر: 10490
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ وَكَانَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، پھر مکہ مکرمہ میں تیرہ برس اور مدینہ منورہ میں دس برس ٹھہرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10490
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه الترمذي: 3622، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2242»
حدیث نمبر: 10491
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً سَبْعَ سِنِينَ يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ وَثَمَانِيَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں پندرہ برس ٹھہرے، ان میں سات سال تک تو روشنی دیکھتے اور آواز سنتے تھے اور آٹھ سالوں میں وحی نازل ہوتی رہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں دس سال تک مقیم رہے۔
وضاحت:
فوائد: … مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ برس گزارے، لیکن اس روایت میں پندرہ سالوں کا ذکر ہے، دراصل اس میں نبوت کے مقدّمات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روشنی کو دیکھنااور آواز کو سننے کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10491
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2523»
حدیث نمبر: 10492
عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ قَالَ مَا كُنْتُ أَرَى مِثْلَكَ فِي قَوْمِهِ يَخْفَى عَلَيْكَ ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي سَأَلْتُ فَاخْتُلِفَ عَلَيَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ قَالَ أَتَحْسِبُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمْسِكْ أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا وَخَمْسَ عَشْرَةَ أَقَامَ بِمَكَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ وَعَشْرًا مُهَاجِرًا بِالْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے بنی ہاشم عمار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت کتنی عمر تھی؟ انھوں نے کہا: میرا خیال نہیں تھا کہ تیرے جیسا آدمی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم میں رہا اور تجھ پر یہ چیز مخفی ہے، میں نے کہا: میں نے پوچھا تو ہے، لیکن مجھ پر اختلاف کیا گیا ہے، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بارے میں تیرے قول کا علم ہو جائے، انھوں نے کہا: کیا تو شمار کر سکتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: جمع کر، چالیس برس کی عمر میںآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، پھر آپ مکہ مکرمہ میں پندرہ سال رہے، اس دور میں امن بھی تھا اور خوف بھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گئے تو وہاں دس سال قیام کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10492
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2353 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2640»
حدیث نمبر: 10493
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا حَمْزَةَ سِنَّ أَيِّ الرِّجَالِ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ بُعِثَ قَالَ ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ ثُمَّ كَانَ مَاذَا قَالَ كَانَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ فَتَمَّتْ لَهُ سِتُّونَ سَنَةً ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ قَالَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ هُوَ يَوْمَئِذٍ قَالَ كَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَحْسَنِهِ وَأَجْمَلِهِ وَأَلْحَمِهِ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ غَزَوْتُ مَعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ علاء بن زیاد عدوی سے مروی ہے کہ اس نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟ انھوں نے کہا: چالیس برس، اس نے کہا: پھر کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں بھی دس برس ٹھہرے اور مدینہ میں بھی دس سال، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساٹھ برس عمر پوری ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی، اس نے کہا: ان دنوںمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسی عمر کے آدمی لگتے تھے؟ انھوں نے کہا: جیسے سب سے بھرپور نوجوان ہوں، سب سے زیادہ حسین و جمیل اور پرگوشت۔ اس نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں غزوۂ حنین کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔
وضاحت:
فوائد: … مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کی مدت میں اختلاف ہے، اس مدت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر میں بھی اختلاف پڑ جاتا ہے۔
امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: امام مسلم نے اس باب میں کل تین روایات ذکر کی ہیں: ۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساٹھ برس کی عمر میں فوت ہوئے (اور مکہ میں دس برس قیام کیا)۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر پینسٹھ برس تھی (اور مکہ میں پندرہ سال قیام کیا)۔
۳۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی (اور مکہ میں تیرہ سال قیام کیا)۔
آخری روایت زیادہ صحیح اور مشہور ہے، امام مسلم نے اس روایت کو سیدہ عائشہ، سیدنا انس اور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے بیان کیا۔ علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ صحیح ترین روایت تریسٹھ برس عمر والی ہے، انھوں نے باقی روایات کی توجیہ کی ہے، ساٹھ برس والی روایت کے بارے میں کہا کہ اس میں دہائیوں کا اعتبار کیا اور اکائیوں کو چھوڑ دیا (اور عرب ایسا کرتے رہتے ہیں)، اسی طرح پینسٹھ برس والی روایت کی بھی توجیہ کی جائے گی۔
یہ بات بھی اتفاقی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اختلاف صرف مکہ میں قیام کی مدت میں ہے، راجح اور صحیحیہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ برس قیام کیا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک (۶۳) برس بنتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10493
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3194 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12557»
حدیث نمبر: 10494
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ) فَأَخَذَتْنِي وَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} [سورة المدثر: 1-4]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے غارِ حراء میں ایک ماہ تک مجاورت اختیار کی، جب میں نے یہ مدت پوری کی اوروہاں سے اتر کر وادی کی ہموار جگہ پر آیا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، اتنے میں پھر مجھے آواز دی گئی، میں نے پھر اسی طرح دیکھا، لیکن کسی کو نہ دیکھ سکا، پھر مجھے آواز دی گئی، پس اب کی بار جب میں نے سر اٹھایا تو وہ فرشتہ فضا میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا، ایک روایت میں ہے: وہ آسمان اور زمین کے مابین تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اس سے مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، پس انھوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر۔
وضاحت:
فوائد: … جمہور اہل علم کے نزدیک پہلی وحی {اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ } والی آیات ہی ہیں، سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے مراد دوسری وحی ہے، جو فترۂ وحی کے بعد نازل ہوئی تھی، اس حدیث کے درج ذیل سیاق پر غور کریں: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فترۂ وحی کے بارے میں بیان کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بَیْنَا أَنَا أَمْشِی إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَاء ِ فَرَفَعْتُ بَصَرِی فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِی جَاء َنِی بِحِرَاء ٍ جَالِسٌ عَلٰی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ فَرُعِبْتُ مِنْہُ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالَی {یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ … إِلٰی قَوْلِہِ … وَالرُّجْزَ فَاہْجُر} فَحَمِیَ الْوَحْیُ وَتَتَابَعَ۔ … ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی، میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حراء میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، میں گھبرا گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے لپیٹ دو،چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا أَیُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثَیَابَکَ فَطَھِّرْوَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ}اس کے بعد وحی پے در پے اور کثرت سے
نازل ہونے لگی۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) حافظ ابن کثیر نے کہا کہ یہی سیاق محفوظ ہے، اس سے صاف پتہ چلتاہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10494
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4922، ومسلم: 161 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14338»
حدیث نمبر: 10495
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِرْذَوْنٍ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ طَرَفُهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَأَيْتِهِ ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر نبی کریم کے پاس آئے، انھوں نے پگڑی باندھی ہوئی تھی اور اس کا کنارہ ان کے کندھوں کے درمیان تھا، جب میں نے ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے دیکھ لیا ہے اس کو؟ یہ جبریل علیہ السلام تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10495
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عمر العمري، أخرجه الطبراني في الكبير : 23/ 85 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25669»
حدیث نمبر: 10496
عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَزَعَمَ أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ تَجَنَّبَ أَنْ يَدْنُوَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَخَوُّفًا أَنْ يَسْمَعَ حَدِيثَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ إِذْ مَرَرْتَ بِي الْبَارِحَةَ قَالَ رَأَيْتُكَ تُنَاجِي رَجُلًا فَخَشِيتُ أَنْ تَكْرَهَ أَنْ أَدْنُوَ مِنْكُمَا قَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ قَالَ لَا قَالَ فَذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَيْرِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سلمہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام سے سرگوشی کر رہے تھے، اس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہونے سے اجتناب کیا ، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن لے، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا: جب تو گزشتہ رات ہمارے پاس سے گزرا تھا تو تجھے کس چیز نے سلام کرنے سے روک دیا تھا؟ اس نے کہا: جی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ایک آدمی سے سرگوشی کر رہے تھے، اس لیے میں اس چیز سے ڈر گیا کہ ممکن ہے کہ آپ میرے قریب آنے کو ناپسند کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ آدمی کون تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے، اگر تو ان کو سلام کہتا تو وہ تیرے سلام کا جواب دیتے۔ راوی کہتا ہے: میں نے غیر ابو سلمہ سے سنا کہ وہ سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10496
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16320»
حدیث نمبر: 10497
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْيِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ أَسْمَعُ صَلَاصِلَ ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إِلَيَّ إِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تَفِيضُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وحی کو محسوس کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب میں گونج دار آوازیں سنتا ہوں، تو اسی وقت خاموش ہو جاتا ہوں، جب بھی میری طرف وحی کی جاتی ہے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ میرا نفس نکلنے والا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10497
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، وعمرو بن الوليد مجھول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7071»
حدیث نمبر: 10498
عَنْ عَلِيٍّ أَوْ عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا فَيُذَكِّرُنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ حَتَّى نَعْرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَكَأَنَّهُ نَذِيرُ قَوْمٍ يُصَبِّحُهُمُ الْأَمْرُ غُدْوَةً وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ لَمْ يَتَبَسَّمْ ضَاحِكًا حَتَّى يَرْتَفِعَ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علییا سیدنازبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے مخاطب ہوتے اور (سابقہ امتوں پر) اللہ تعالیٰ کے انعامات اور واقعات کے ساتھ نصیحت کرتے، تو ہم اس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (خوف سے بدلے ہوئے) چہرے سے پہنچان لیتے تھے، ایسے لگتا تھا کہ آپ اپنی قوم کو ڈرا رہے ہیں اور بس اگلے روز کی صبح کو عذاب آ جائے گا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات کرتے تھے تو اس وقت تک نہیں مسکراتے تھے، جب تک وہ چلے نہیں جاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … فرشتے کا ادب کرتے ہوئے اور وحی کی شدت محسوس کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت مسکراتے نہیں تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10498
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 677، والطبراني في الاوسط : 2655 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1437»
حدیث نمبر: 10499
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ يُسْمَعُ عِنْدَ وَجْهِهِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کے قریب شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی سی آواز سنائی دیتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10499
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالةيونس بن سليم، أخرجه الترمذي: 3173 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 223»
حدیث نمبر: 10500
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ثُمَّ تَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سردی والی صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … نزول وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دباؤ پڑتا تھا، جیسا کہ اگلی حدیث سے بھی معلوم ہورہا ہے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۴۸۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10500
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24813»
حدیث نمبر: 10501
عَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ لَيُوحَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَتَضْرِبُ بِجِرَانِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپ اپنی سواری پر ہوتے تو وہ اپنی گردن کوزمین پر پھیلا دیتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹنی پر سوار ہوتے تو نزولِ وحی کی وجہ سے اس پر بھی بوجھ پڑتا، وہ اس بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے اپنی گردن کو زمین پر پھیلا دیتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10501
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 2/ 505، والبيھقي في دلائل النبوة : 7/ 53 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24868 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25380»
حدیث نمبر: 10502
عَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات ہوتی اور وہ آپ سے قرآن مجید کا دور کرتے تو آپ چھوڑی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ مال کی سخاوت کرنے والے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10502
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث ضعيف بھذه السياقة، النعمان بن راشد ضعيف سييء الحفظ، أخرجه النسائي: 4/ 125 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25499»
حدیث نمبر: 10503
عَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ قَالَ أَحْيَانًا يَأْتِينِي مَلَكٌ مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّ عَلَيَّ ثُمَّ يُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي مَلَكٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ فَأَعِي مَا يَقُولُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کبھی کھبی تو فرشتہ اس طرح آتا ہے کہ گھنٹی کی گونج کی سی آواز آتی ہے، یہ کیفیت مجھ پر بڑی گراں گزرتی ہے، لیکن جب وہ مجھ سے جدا ہوتا ہے تو میں اس وحی کو یاد کر چکا ہوتا ہوں اور بسا اوقات فرشتہ مرد کی صورت میں آتا ہے، پھر جو کچھ وہ کہتا ہے، میں اس کو یاد کر لیتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10503
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3215، ومسلم: 2333 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25766»