کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کاہنوں کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
حدیث نمبر: 10487
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّ أَوَّلَ خَبَرٍ قَدِمَ عَلَيْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَ لَهَا تَابِعٌ قَالَ فَأَتَاهَا فِي صُورَةِ طَيْرٍ فَوَقَعَ عَلَى جِذْعٍ لَهُمْ قَالَ فَقَالَتْ أَلَا تَنْزِلُ فَنُخْبِرُكَ وَتُخْبِرُنَا قَالَ إِنَّهُ قَدْ خَرَجَ رَجُلٌ بِمَكَّةَ حَرَّمَ عَلَيْنَا الزِّنَا وَمَنَعَ مِنَ الْفِرَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک پہلی خبر جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں موصول ہوئی، وہ یہ تھی کہ ایک عورت کا پیروکار جن تھا، ایک دن وہ پرندے کی صورت میں آیا اور ان کے تنے پر بیٹھ گیا، اس خاتون نے کہا: کیا تونیچے نہیں آتا، تاکہ ہم تجھے باتیں بتلائیں اور تو ہمیں بتلائے؟ لیکن اس نے کہا: مکہ مکرمہ میں ایک آدمی ظاہر ہو چکا ہے، اس نے ہم پر زنا کو حرام قرار دیا ہے اور جہادمیں لڑائی کے وقت بھاگ جانے سے بھی روک دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ بات درست ہے کہ جن، بندوں کے تابع ہو جاتے ہیں اور پھر ان کو مختلف واقعات سے باخبر رکھتے ہیں۔ نجومیوں اور کاہنوں کا بھی اس قسم کاسلسلہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10487
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تفرد به عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر، وھو يعتبر به في المتابعات والشواھد، أخرجه الطبراني في الاوسط : 769 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14896»