کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
حدیث نمبر: 10471
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ ((عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَطْيَبُهُ)) قَالَ قُلْنَا وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اراک پودے کا پھل چن رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کالے رنگ والا چنو، پس بیشک وہ بڑا اچھا ہوتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھی بکریاں چراتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، بلکہ ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10471
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3406، ومسلم: 2050 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14551»
حدیث نمبر: 10472
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((بُعِثَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اونٹوں اور بکریوں کے مالکوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دوسرے پر فخر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکوںمیں ہے اور سکینت اور وقار بکریوں کے مالکوں میں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب موسی علیہ السلام کو مبعوث کیاگیا تو وہ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا تو جیاد مقام پر اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں انبیائے کرام کی سادگی و بے ریائی کا بیان ہے۔ حافظ ابن حجر ؒرقمطرازہیں: ائمۂ دین کا خیال ہے کہ انبیائے کرام کے بکریاں چرانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عاجزی و انکساری پیدا ہو جائے اور ان کے دل خلوت کے عادی بن جائیں اور ان کے لیے بکریوںکی تدبیر وانتظام سے لوگوں کی باگ ڈور سنبھالنا آسان ہو جائے، جبکہ امام کرمانی، امام خطابی سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام بخارییہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے لیے دنیا کے پجاریوں اور عیش و عشرت میں مست لوگوں کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ایسے لوگوں کو اس نعمت سے نوازا جو تواضع کرنے والے ہوں، جیسے بکریوں کے چرواہے اور پیشہ ور لوگ۔ (فتح الباری)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10472
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه البزار: 2370 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11940»