کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 10469
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَيْفَ كَانَ أَوَّلُ شَأْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((كَانَتْ حَاضِنَتِي مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ كَعْبٍ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنٌ لَهَا فِي بَهْمٍ لَنَا وَلَمْ نَأْخُذْ مَعَنَا زَادًا فَقُلْتُ يَا أَخِي اذْهَبْ فَأْتِنَا بِزَادٍ مِنْ عِنْدِ أُمِّنَا فَانْطَلَقَ أَخِي وَمَكَثْتُ عِنْدَ الْبَهْمِ فَأَقْبَلَ طَيْرَانِ أَبْيَضَانِ كَأَنَّهُمَا نَسْرَانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ أَهُوَ هُوَ قَالَ نَعَمْ فَأَقْبَلَا يَبْتَدِرَانِي فَأَخَذَانِي فَبَطَحَانِي إِلَى الْقَفَا فَشَقَّا بَطْنِي ثُمَّ اسْتَخْرَجَا قَلْبِي فَشَقَّاهُ فَأَخْرَجَا مِنْهُ عَلَقَتَيْنِ سَوْدَاوَيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ ائْتِنِي بِمَاءِ ثَلْجٍ فَغَسَلَا بِهِ جَوْفِي ثُمَّ قَالَ ائْتِنِي بِمَاءِ بَرَدٍ فَغَسَلَا بِهِ قَلْبِي ثُمَّ قَالَ ائْتِنِي بِالسَّكِينَةِ فَذَرَّاهَا فِي قَلْبِي ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ حُصَّهُ فَحَاصَهُ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ)) وَقَالَ حَيْوَةُ فِي حَدِيثِهِ ((حِصْهُ فَحَاصَهُ وَاخْتِمْ عَلَيْهِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ)) ((فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِهِ فِي كِفَّةٍ فَإِذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْأَلْفِ فَوْقِي أُشْفِقُ أَنْ يَخِرَّ عَلَيَّ بَعْضُهُمْ فَقَالَ لَوْ أَنَّ أُمَّتَهُ وُزِنَتْ بِهِ لَمَالَ بِهِمْ ثُمَّ انْطَلَقَا وَتَرَكَانِي وَفَرِقْتُ فَرْقًا شَدِيدًا ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّي أَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَقِيتُهُ فَاشْفَقَتْ عَلَيَّ أَنْ يَكُونَ أُلْبِسَ بِي قَالَتْ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ فَرَحَلَتْ بَعِيرًا لَهَا فَجَعَلَتْنِي)) وَقَالَ يَزِيدُ ((فَحَمَلَتْنِي)) ((عَلَى الرَّحْلِ وَرَكِبَتْ خَلْفِي حَتَّى بَلَغْنَا إِلَى أُمِّي فَقَالَتْ أَوَأَدَّيْتُ أَمَانَتِي وَذِمَّتِي وَحَدَّثَتْهَا بِالَّذِي لَقِيتُ فَلَمْ يَرُعْهَا ذَلِكَ فَقَالَتْ إِنِّي رَأَيْتُ خَرَجَ مِنِّي نُورٌ أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے معاملے کی ابتدا کیسے ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری دائی کا تعلق بنو سعد بن کعب سے تھا، میں اور اس کا بیٹا بکریاں چرانے کے لیے باہر گئے اور اپنے ساتھ زاد لے کر نہیں گئے، میں نے کہا: اے میرے بھائی! تو جا اور ہماری ماں سے زاد لے آ، پس وہ چلا گیا اور میں بکریوں کے پاس ٹھہر گیا، میں نے دیکھا کہ گدھ کی طرح کے سفید رنگ کے دو پرندے آئے، (دراصل وہ دو فرشتے تھے)، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیایہ وہی ہے؟ پھر وہ میری طرف لپکے، مجھے پکڑا اور گدی کے بل مجھ کو لٹا دیا، پھر انھوں نے میرا پیٹ چاک کیا، اس میں سے میرا دل نکالا، پھر اس کو چیرا دیا اور اس میں سے کالے رنگ کے خون کے دو لوتھڑے نکال دیئے، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: برف کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا پیٹ دھویا، پھر ایک نے کہا: اولوں کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا دل دھویا، پھر ایک نے کہا: اب سکینت لے آیا، پس انھوں نے اس کو میرے دل میں چھڑک دیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اب اس کو سلائی کر دے، پس اس نے اس کو سلائی کر دیا اور اس پر نبوت کی مہر لگا دی، ایک روایت میں ہے: ایک فرشتے نے کہا: تو اس کو سلائی کر دے، پس اس نے سلائی کر دیا، پھر اس نے کہا: اب اس پر نبوت کی مہر لگا دے، اس کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو ایک پلڑے میں رکھ اور دوسرے پلڑے اس کی امت کے ایک ہزار آدمی رکھ، (میں اتنا بھاری ثابت ہوا کہ) میں نے ان ہزار افراد کو اپنے اوپر اس طرح دیکھا کہ مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کوئی مجھ پر گر نہ جائے، پھر ایک فرشتے نے کہا: اگر اس ہستی کا اس کی پوری امت کے ساتھ وزن کیا جائے تو یہ بھاری ثابت ہو گی، پھر وہ دونوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے، میں بہت زیادہ ڈرا اور گھبرا گیا، پھر میں اپنی ماں کی طرف گیا اور جو کچھ دیکھا، اس کو بتلایا، وہ بھی میرے بارے میں ڈرنے لگی کہ مجھ پر کوئی معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے، اس نے کہا: میں تجھے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتی ہوں، پھر اس نے اونٹ تیار کیا، مجھے پالان پر سوار کیا اور خود میرے پیچھے سوار ہو گئی،یہاں تک کہ ہم میری ماں کے پاس پہنچ گئے، اس دائی نے کہا: میں نے اپنی امانت اور ذمہ داری ادا کر دی ہے ، پھر جب میری ماں کو سارا واقعہ بیان کیا تو ان کو کوئی گھبراہٹ نہیں ہوئی، بلکہ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ مجھ سے ایک نور نکلا، جس سے شام کے محل روشن ہو گئے۔
وضاحت:
فوائد: … حلیمہ خود بنت ِ ابی ذویب عبد اللہ بن حارث تھیں، ان کے شوہر کا نام حارث بن عبد العزی تھا، یہ دونوں قبیلہ سعد بن بکر بن ہوازن سے تعلق رکھتے تھے۔ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر موجود رہے، ان کا گھر برکتوں سے مالا مال رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تقریباً چار سال تک ان کے گھر رکھا گیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10469
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، بقية بن الوليديدلس تدليس التسوية، وقد عنعن، أخرجه الدارمي: 13، والحاكم: 2/ 616 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17798»
حدیث نمبر: 10470
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَأَتَاهُ آتٍ فَأَخَذَهُ فَشَقَّ بَطْنَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَرَمَى بِهَا وَقَالَ هَذِهِ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَشْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ فَأَقْبَلَ الصِّبْيَانُ إِلَى ظِئْرِهِ قُتِلَ مُحَمَّدٌ قُتِلَ مُحَمَّدٌ فَاسْتَقْبَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ فَقَدِ انْتَقَعَ لَوْنُهُ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ كُنَّا نَرَى أَثَرَ الْمَخِيطِ فِي صَدْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوںکے ساتھ کھیل رہے تھے کہ ایک آنے والا آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیٹ مبارک چاک کیا اور اس سے خون کا لوتھڑا نکال کر پھینک دیا اور کہا: یہ آپ سے شیطان کا حصہ تھا،پھر اس نے اس کو سونے کے تھال میں موجود زمزم کے پانی سے دوھویا، بچے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دایہ کے پاس گئے اور کہا: محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، پس جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لینے آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بدلا ہوا تھا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینے میں سلائی کا نشان دیکھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … خون کا یہ لوتھڑا من جملہ ان اجزاء میں سے تھا، جن کے ذریعے انسانی تخلیق کی تکمیل ہوتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد ِ اطہر سے اس لوتھڑے کو نکال دینا،یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفعت کی دلیل ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کرامت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی بڑے منصب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لوتھڑے کے بغیر پیدا ہوتے اور پیدائشی طور پر اس سے سالم ہوتے تو اس سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت کا اندازہ نہ ہو سکتا، سو اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام کے ذریعہ اس کرامت کا اظہار کیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہر کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باطن کا کمال بھی ثابت ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10470
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7517، ومسلم: 162 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12246»