کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
حدیث نمبر: 10465
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَتُوُفِّيَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار کے دن پیدا ہوئے، سوموار کے دن نبوت ملی اور سوموار کو ہی وفات پائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے سوموار کو نکلے اور سوموار کو ہی مدینہ منورہ پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوموار کے دن ہیحجرِ اسود کو اٹھایا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت سوموار کو ہوئی،یہ متفق علیہ حقیقت ہے، البتہ قمری مہینے کی تاریخ کے بارے میں اختلاف ہے، کئی اقوال مذکور ہیں، ان میں دو اقوال درج ذیل ہیں: ۱ … ربیع الاول کی (۹) تاریخ
ابن عبد البر نے نقل کیا کہ مؤرخین نے اسی قول کو صحیح قرار دیا، محمد بن موسی خوارزمی کے نزدیکیہی قطعی اور یقینی قول ہے، ابن حزم نے اسی کو ترجیح دی اور ابو خطاب بن دحیہ نے اپنی کتاب التنویر فی مولد البشیر النذیر میں اسی رائے کو اختیار کیا۔
۲ … ربیع الاول کی (۱۲) تاریخ
یہ ابن اسحاق کی رائے ہے۔
پہلا قول ہی راجح ہے اور یہ وہی سال تھا، جس میں ابرہہ نے مکے پر حملہ کیا تھا، جس کو عام الفیل کہتے ہیں، اس روز اپریل (571ئ) کی (22) تاریخ تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10465
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه الطبراني12894، والبيھقي في دلائل النبوة : 7/ 233 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2506»
حدیث نمبر: 10466
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا كَانَ أَوَّلُ بَدْءِ أَمْرِكَ قَالَ ((دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَبُشْرَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَأَتْ أُمِّي نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهَا قُصُورُ الشَّامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کے معاملے کی ابتدا کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں نے ایک نور دیکھا، جس نے شام کے محلات روشن کر دیئے۔
وضاحت:
فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۴۵۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10466
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطيالسي: 1140، والطبراني في الكبير : 7729 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22616»
حدیث نمبر: 10467
عَنْ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُلِدْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ فَنَحْنُ لِدَانِ وُلِدْنَا مَوْلِدًا وَاحِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قیس بن مخرمہ بن مطلب بن عبد ِ مناف سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الفیل کو پیدا ہوئے، ہماری ولادت کا زمانہ ایک ہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10467
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 18/872، والحاكم: 2/ 603 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18050»