کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عیسی کی تخلیقی صفات، عادات، آخری زمانے میں ان کے نازل ہونے، انصاف کرنے، زمین میں ٹھہرنے کی مدت، حج کرنے، اسلام کے علاوہ ہر مذہب کے فنا ہو جانے اور ان کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 10418
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلًا مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِسْلَامِ فَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَنِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْأَسْوَدُ مَعَ الْإِبِلِ وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا تَضُرُّهُمْ فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ)) وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ ((وَيُدَفِّنُونَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے، میں دنیا و آخرت میں عیسی بن مریم علیہ السلام کا سب سے زیادہ قریبی ہوں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے، بیشک وہ نازل ہونے والے ہیں، پس ان کو پہچان لینا، وہ معتدل قد کے آدمی ہیں، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل ہے، ان پر ہلکی زردی کے دو کپڑے ہوں گے، ایسے محسوس ہو گا جیسے ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو، حالانکہ نمی (پانی) لگا نہیں ہو گا، (یعنی وہ انتہائی نظیف اور چمک دار رنگ کے نظر آ رہے ہوں گے) ، پس وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان کے اُس عہد میں اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کو ختم کر دے گا، اللہ تعالیٰ ان کے ہی زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا، زمین پر اتنا امن و امان واقع ہو گا کہ سانپ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائیوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے، بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہیں دیں گے، عیسی علیہ السلام زمین میں چالیس سال قیام کریںگے، پھر وہ فوت ہو جائیںگے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کر کے ان کو دفن کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … عیسی علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے آنے والے آخری پیغمبر تھے،اہل سنت والجماعت کا اتفاقی عقیدہ ہے کہ عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے، قیامت کے قریب وہ آسمان سے اتریں گے، اس کے بعد وفات پائیں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔ حضرت عیسی علیہ السلام امام مہدی کے زمانے میں نازل ہوں گے اور سات سال تک ٹھہریں گے، ان کے دور میں امن و امان اور مال و دولت کی فراوانی ہو گی، جہاں تک انسانیت ہو گی، وہاں تک اسلام ہو گا، دوسرے تمام ادیان ختم ہو جائیں گے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُمْ بِہٖمِنْعِلْمٍاِلَّااتِّبَاعَالظَّنِّوَمَاقَتَلُوْہُیَقِیْنًا۔ بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِـیْمًا۔ وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖقَبْلَمَوْتِہٖوَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِیَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا۔} … حالانکہ نہ انھوں نے (عیسی علیہ السلام) کو قتل کیا اور نہ اسے سولی پر چڑھایا اور لیکن ان کے لیے اس (مسیح) کا شبیہ بنا دیاگیا اور بے شک وہ لوگ جنھوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے، یقینا اس کے متعلق بڑے شک میں ہیں، انھیں اس کے متعلق گمان کی پیروی کے سوا کچھ علم نہیں اور انھوں نے اسے یقینا قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر غالب، کمال حکمت والاہے۔اور اہل کتاب میں کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔(سورۂ نسائ: ۱۵۷، ۱۵۸، ۱۵۹)
اس روایت میں ان کے چالیس سال ٹھہرنے کا ذکر ہے، شارح ابوداود نے حافظ ابن کثیر کے حوالے یہ تطبیق پیش کی ہے کہ اس سے مراد عیسی علیہ السلام کی کل عمر ہے، اور مشہور بھییہی ہے کہ جب ان کو آسمان پر اٹھا یا گیا تو ان کی عمر تینتیس برس تھی۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۹۸۷) واللہ اعلم
جزیہ ختم کر دینے کا معنییہ ہے کہ دنیا پر ایک دین ہو گا، کوئی غیر مسلم بچے گا ہی نہیں کہ جو ذمی ہونے کی صورت میں جزیہ دے۔
ان کے زمانے میں امن اتنا عام ہو جائے گا کہ نقصان پہنچانے والے جانور بھی کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10418
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4324 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9259»
حدیث نمبر: 10419
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((يُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَكَمًا مُقْسِطًا)) وَفِي لَفْظٍ ((حَكَمًا عَادِلًا وَإِمَامًا مُقْسِطًا)) ((يَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ عیسی بن مریم علیہ السلام منصف فیصل بن کر تمہارے اندر نازل ہوں، وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور مال اس قدر پھیل جائے گا کہ کوئی بھی اس کو قبول نہیں کرے گا۔ کتب ِ احادیث میں عیسی علیہ السلام کے نزول، نزول کے وقت اوران کے عہد کی خصوصیات کی کافی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10419
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7267»
حدیث نمبر: 10420
عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((يَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَمْحُو الصَّلِيبَ وَتُجْمَعُ لَهُ الصَّلَاةُ وَيُعْطِي الْمَالَ حَتَّى لَا يُقْبَلَ وَيَضَعُ الْخَرَاجَ وَيَنْزِلُ الرَّوْحَاءَ فَيَحُجُّ مِنْهَا أَوْ يَعْتَمِرُ أَوْ يَجْمَعُهُمَا)) قَالَ وَتَلَا أَبُو هُرَيْرَةَ {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا} فَزَعَمَ حَنْظَلَةُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ يُؤْمِنُ بِهِ قَبْلَ مَوْتِ عِيسَى فَلَا أَدْرِي هَذَا كُلُّهُ حَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عیسی بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو مٹا دیں گے، نماز کو باجماعت ادا کیا جائے گا، لوگوں کو اس قدر مال دیں گے کہ کوئی بھی کسی سے قبول نہ کرے گا، وہ خراج کو ختم کر دیں گے اور عیسی علیہ السلام روحاء پر اتریں گے اور وہاں سے حج یا عمرہ یا دونوں ادا کریں گے۔ پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیات تلاوت کیں: اور نہیں ہے اہل کتا ب میں سے کوئی بھی، مگر وہ اس کی موت سے قبل اس پر ایمان لائے گا۔ اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10420
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7890»
حدیث نمبر: 10421
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ لَيُثَنِّيَنَّهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! ابن مریم ضرور روحاء کے راستے سے تلبیہ پکاریں گے، وہ حج یا عمرہ یا دونوںکی ادائیگی کے لیے آرہے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … عیسی علیہ السلام کے بارے میں مزید ایک حدیث: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ، فَیَقُوْلُ اَمِیْرُھُمُ الْمَھْدِيُّ: تَعَالَ صَلِّ بِنَا، فَیَقُوْلُ: لَا، اِنَّ بَعْضَھُمْ اَمِیْرُ بَعْضٍ،تَکْرِمَۃُ اللّٰہِ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ۔)) … جب عیسی بن مریم (علیہ السلام) اتریں گے تو مسلمانوں کے امیر مہدی انھیں کہیں گے: آئیں اور نماز پڑھائیں۔ وہ کہیں گے: نہیں، تم ہی ایک دوسرے کے امام و امیر ہو، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی عزت و تکریم ہے۔ (أخرجہ الحارث بن أبی أسامۃ فی مسندہ، واصل الحدیث فی صحیح مسلم: ۱/ ۹۵، الصحیحۃ:۲۲۳۶)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اصل حدیث صحیح مسلم میں ہے، جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ہی ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ((لَاتَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْیُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِیْنَ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: ((فَیَنْزِلُ عَیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَیَقُوْلُ اَمِیْرُھُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا، فَیَقُوْلُ: لَا، اِنَّ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ اَمِیْرٌ، تَکْرِمَۃَ اللّٰہ ھٰذِہِ الْاُمَّۃَ۔)) … میری امت کا ایک گروہ روزِ قیامت تک حق پر غالب رہے گا۔ پھر فرمایا: عیسی بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، مسلمانوں کے امیر ان کو کہیں گے: آئیں اور ہمیں نماز پڑھائیں۔ وہ جواب دیں گے: نہیں، تم خود ایک دوسرے کے امام ہو، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی عزت ہو گی۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ وہ امیر امام مہدی ہوں گے۔ وباللہ التوفیق۔ (صحیحہ: ۲۲۳۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10421
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7271»