کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اللہ کے نبی عیسی بن مریم علیہ السلام کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 10415
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعُنُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَنْبِهِ حِينَ يُولَدُ إِلَّا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ذَهَبَ يَطْعُنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو آدم کے ہر بچے کو پیدائش کے وقت شیطان اپنی انگلی سے چوکا لگاتا ہے، ما سوائے عیسی بن مریم کے، شیطان چوکا لگانے کے لیے گیا تو تھا، لیکن پردے میں چوکا لگا کر واپس آ گیا۔
وضاحت:
فوائد: … پردے سے مراد وہ جھلی ہے، جس میں بچہ رحمِ مادر میں لپٹا ہوا ہوتا ہے اور بوقت ِ ولادت بچہ کے ساتھ نکلتی ہے۔
شیطانیہ چوکا لگا کر بچے پر اپنے تسلّط کا آغاز کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسی علیہ السلام اور ان کی ماں کی اس سے حفاظت کی،یہ ان کی ماں کی دعا کی برکت تھی، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۴۱۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10415
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3286 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10783»
حدیث نمبر: 10416
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ)) قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں دنیا و آخرت میں عیسی بن مریم علیہ السلام کا سب سے زیادہ قریبی ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے، پس میرے اور عیسی علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں، جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کے اصول کو باپ سے اور دین کی فروعات کو ماؤں سے تشبیہ دی،یعنی انبیاء و رسل کے ادیان کے اصول یکساں تھے، البتہ شریعت کی فروعات مختلف ہوتی تھیں۔
اگرچہ عیسی علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے مابین تقریبا چھ صدیوں کا فاصلہ ہے، لیکن ان دو ہستیوں کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آیا، اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیسی علیہ السلام کے قریب تر ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10416
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8248 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8231»
حدیث نمبر: 10417
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَ بِي عُمُرٌ أَنْ أَلْقَى عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنْ عَجِلَ لِي مَوْتٌ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں امید کرتا ہوں، اگر میری عمر لمبی ہوئی تو میں عیسی بن مریم علیہ السلام سے ملاقات کر لوں گا اور اگر میری موت جلدی آ گئی تو تم میں سے جو آدمی ان کو ملے، ان کو میرا سلام کہہ دے۔
وضاحت:
فوائد: … تمام مسلمان یہ حدیث ذہن نشین کریں اور اپنی نسل کو اس کی تعلیم دیں، تاکہ جس کے زمانے میں حضرت عیسی علیہ السلام کا ظہور ہو وہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سلام پہنچائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10417
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرطھما ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7957»