کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 10411
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((خَيْرُ نِسَائِهَا بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔‘‘
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم رحمتہ اللہ علیہ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ایسی خصوصیات عطا کیں کہ جو دوسری خواتین کا مقدر نہ بن سکیں، سیدہ مریم رحمتہ اللہ علیہ کو طاہر بنایا، مخصوص امور کے لیے ان کا انتخاب کیا، جبریل علیہ السلام نے ان سے کلام کیا، ان کے اندر روح پھونکی، وہ خاوند کے بغیر ایک عظیم پیغمبر کی ماں بن گئیں، ان کے بچے نے بچپنے میں کلام کیا اور اپنی ماں کی پاکدامنی کی شہادت دی، سیدہ مریم نے اپنے ربّ کے کلمات اور کتب کی تصدیق کی اور وہ عبادت گزاروں میں تھی۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، کون ہے سیدہ خدیجہ، جب لوگ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس وقت سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں، جب تکبر کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رک رہے تھے، تب سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی، جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بخل کر رہے تھے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخاوت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اجنبیت طاری تھی، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انس کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام کی پہلی آمد پر پریشان ہوئے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل حمیدہ کا ذکر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پا س لے گئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10411
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3432، ومسلم: 2430 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 640»
حدیث نمبر: 10412
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ قَالَ ((تَدْرُونَ مَا هَذِهِ)) فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔
وضاحت:
فوائد: … موسی علیہ السلام کا فرعون کے محل میں دفاع کرنے والی سیدہ آسیہ علیہا السلام ہی تھیں، اس خاتون کی عظمت کو سلام، جس نے فرعون کے گھر میں رہ کر اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کر لیا، مندرجہ ذیل روایت پر غور کریں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِنَّ فِرْعَوْنَ اَوْتَدَ لِاِمْرَاَتِہِ اَرْبَعَۃَ اَوْتَادٍ فِيْ یَدَیْھَا وَرِجْلَیْھَا، فَکَانُوْا اِذَا تَفَرَّقُوْا عَنْھَا ظَلَّلَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ، فَقَالَتْ: {رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِيْ الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ
وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ}، فَکَشَفَ لَھَا عَنْ بَیْتِھَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔ … فرعون نے اپنی بیوی کے دو ہاتھوں اور دو پاؤں میں چار میخیں گاڑ دیں۔ جب وہ (فرعونی) اس سے جدا ہوتے تھے تو فرشتے اس پر سایہ کر لیتے تھے، اس بیوی نے کہا: اے میرے ربّ! اپنے ہاں میرے لیے جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی چھٹکارا نصیب فرما۔ سو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے گھر سے پردہ ہٹا کر (اسے اس کا گھر دکھا دیا)۔ (مسندابو یعلی:۴/۱۵۲۱ـ ۱۵۲۲، صحیحہ: ۲۵۰۸)
اللہ کے بندوں پر آزمائشیں ضرور آتی ہیں، لیکن ان آزمائشوں پر صبر کرنے کی وجہ سے انہیںجو رحمتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے، وہ ان مصائب سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔
سیدہ خدیجہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب معروف ہیں اور سیدہ مریم علیہا السلام کا ذکر پیچھے ہو چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10412
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 2710، والطبراني: 2168 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2668»
حدیث نمبر: 10413
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہانوں کی عورتوں میں یہ خواتین تجھے کافی ہیں: مریم بنت ِ عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور فرعون کی بیوی آسیہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10413
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 3878 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12418»
حدیث نمبر: 10414
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَفَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَائِهِمْ إِلَّا مَا كَانَ لِمَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار اور فاطمہ جنتی خواتین کی سردار ہوں گی، ما سوائے مریم بنت عمران کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10414
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 1169، والنسائي في الكبري : 8514 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11641»