کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اللہ تعالیٰ کے نبیوں زکریا،یحییٰ اور عیسی اور اس کی ماں سیدہ مریم علیہم السلام کے ذکر کے ابواب
حدیث نمبر: 10407
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((كَانَ زَكَرِيَّا عَلَيْهِ السَّلَامُ نَجَّارًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔
وضاحت:
فوائد: … زکریا علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کمائی کرتے تھے، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد بڑھئی کا پیشہ اختیار کرنے کییا مطلق کمائی کرنے کی ترغیب دلانا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10407
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2379 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9246»
حدیث نمبر: 10408
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وُلْدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَامُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اولادِ آدم میں سے کوئی بھی نہیں ہے، مگر اس نے خطا کی ہے، یا پھر خطا کا ارادہ کیا ہے، ما سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے اور کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ یہ کہے: میںیونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان خوبصورت الفاظ کے ساتھ یحییٰ علیہ السلام کا تذکرہ کیا: یٰــیَحْـیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا۔ وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَکٰوۃً وَکَانَ تَقِیًّا۔ وَّ بَرًّا بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا۔ وَسَلٰمٌ عَلَیْہِیَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَیَمُوْتُ وَیَوْمَیُـبْعَثُ حَیًّا۔ … اے یحییٰ! کتاب کو قوت سے پکڑ اور ہم نے اسے بچپن ہی میں فیصلہ کرنا عطا فرمایا۔اور اپنی طرف سے شفقت اور پاکیزگی (عطا کی) اور وہ بہت بچنے والا تھا۔ اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا تھا اور وہ سرکش، نافرمان نہ تھا۔ اور سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائے گا۔(سورۂ مریم: ۱۲ تا ۱۵)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے، اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا کر دیا، نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے، بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے، مگر یہ جواب دیتے تھے کہ ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کئے گئے۔ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا، جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، انھوں نے کہا: واللہ! میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے۔ لغت میں محبت، شفقت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے، بظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگیعطا فرمائی۔ یحییٰ علیہ السلام ہر میل کچیل, ہر گناہ اور معصیت سے بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ کی عمر کا خلاصہ تھا, آپ گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے, ساتھ ہی ماں باپ کے فرمابردار اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے, کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی, کبھی
ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے, کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا, کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خُو آپ میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ کو اللہ کی طرف سے امن وامان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن موت والے دن اور حشر والے دن۔ یہی تینوں مقامات گھبراہٹ کے ہیں اور انجان ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے، موت والے دن اس مخلوق سے وابسطہ پڑتا ہے، جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، انھیں کبھی نہ دیکھا۔ محشروالے دن بھی علی ہذالقیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔ امام قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ آپ نے گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10408
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، علي بن زيد بن جدعان ضعيف، ويوسف بن مھران لين الحديث، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 562، وابويعلي: 2544، والحاكم: 2/ 591 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2294»