کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: داود علیہ السلام کی فضیلت، قراء ت اور ان کی آواز کی خوبصورتی کا بیان
حدیث نمبر: 10397
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ الْقَرَاءَةُ وَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ فَتُسْرَجُ وَكَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُهُ وَكَانَ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام پر تلاوت کو آسان کر دیا گیا تھا، وہ اپنی سواری کے بارے میں حکم دیتے، پس اس پر زین کسی جاتی، لیکن اس عمل سے پہلے وہ زبور کی تلاوت مکمل کر لیتے تھے اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کے لیے وقت کو مختصر کر دیتے ہیں،یعنی ایسی خاص توفیق سے نوازتے ہیں کہ وہ تھوڑے وقت میں بڑا عمل کر لیتے ہیں۔ باقاعدگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے اس برکت کو محسوس کرتے ہیں، نبی کی تو شان ہی نرالی ہوتی ہے۔
پہلےیہ حدیث ِ مبارکہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوشع علیہ السلام کی نماز عصر کی خاطر سورج کو روک لیا تھا، وہ جو چاہتا ہے، کر دیتا ہے، کون سا اس نے کسی کو جواب دینا ہے۔
واقعۂ معراج پر غور کریں، اللہ تعالیٰ نے زمان و مکاں کو مختصر کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10397
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2073، 3417 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8145»
حدیث نمبر: 10398
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَهُوَ يَقْرَأُ فَقَالَ لَقَدْ أُوتِيَ أَبُو مُوسَى مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی آواز سنی، جبکہ وہ تلاوت کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو موسی کو تو آلِ داود کی بانسریاں عطا کر دی گئی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10398
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 2/ 181 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25857»
حدیث نمبر: 10399
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ يَقْرَأُ فَقَالَ لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَفِي لَفْظٍ لَقَدْ أُعْطِيَ أَبُو مُوسَى مَزَامِيرَ دَاوُدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا اور فرمایا: اس کو آلِ داود کی بانسریاں عطا کر دی گئی ہیں۔ ایک روایت میں ہے: ابو موسی کو داود علیہ السلام کی بانسریاں دے دی گئی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بانسری سے مراد خوبصورت آواز ہے اور آل داود سے مراد خود داود علیہ السلام ہیں۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری جن کا نام عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہما بھی خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10399
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 2/ 180، وابن ماجه: 1341 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8806»