کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
حدیث نمبر: 10382
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقِسَانِيُّ قَالَ الْوَلِيدُ حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ وَقَالَ مُحَمَّدٌ ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ خَضِرٌ إِذْ مَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَادَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ فَهَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ قَالَ لَا قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ خَضِرٌ فَسَأَلَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ وَجَعَلَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ الْحُوتَ آيَةً فَقِيلَ لَهُ إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ وَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے حُر بن قیس فزاری کے درمیانیہ مباحثہ ہونے لگا کہ وہ موسی علیہ السلام کا وہ صاحب کون تھا کہ انھوں نے جس سے ملاقات کرنے کے لیے راستے کا سوال کیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ خضر علیہ السلام تھے، اتنے میں وہاں سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، سیدنا ابن عباس نے ان کو بلایا اور کہا: میرا اور میرے اس دوست کی اس موضوع پر بحث ہو رہی ہے کہ موسی علیہ السلام کا وہ صاحب کون تھا کہ جس سے ملاقات کرنے کے لیے راستہ کا انھوں نے سوال کیا تھا، تو کیا تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات بیان کر رہے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہفرماتے ہوئے سنا: موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک گروہ میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے موسی! کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں، جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ خضر ہے، موسی علیہ السلام نے ان کی ملاقات کا راستہ دریافت کیا، جواباً اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لیے بطور نشانی قرار دیا اور ان سے کہا گیا: جب تو مچھلی کو گم پائے تو لوٹ آنا، پھر ان دونوں کا وہی قصہ پیش آیا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔کہ ان کے اور
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10382
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 78، 7478، ومسلم: 2380 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21426»
حدیث نمبر: 10383
حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الشَّامِيَّ يَزْعَمُ أَوْ يَقُولُ لَيْسَ مُوسَى صَاحِبُ خَضِرٍ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ كَذَبَ نَوْفٌ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَامَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ خَطِيبًا فَقَالُوا لَهُ مَنْ أَعْلَمُ النَّاسِ قَالَ أَنَا فَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ إِنَّ لِي عَبْدًا أَعْلَمَ مِنْكَ قَالَ رَبِّ فَأَرِنِيهِ قَالَ قِيلَ تَأْخُذْ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ فَحَيْثُمَا فَقَدْتَهُ فَهُوَ ثَمَّ قَالَ فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ وَجَعَلَ هُوَ وَصَاحِبُهُ يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ رَقَدَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ فَحَبَسَ اللَّهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ الْمَاءُ فَاسْتَيْقَظَ مُوسَى فَقَالَ {لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا} [الكهف: 62] وَلَمْ يُصِبِ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ {أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ} {فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا} [الكهف: 63-64] فَجَعَلَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا {وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا} [الكهف: 61] قَالَ أَمْسَكَ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلُ الطَّاقِ فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَكَانَ لِمُوسَى عَلَيْهِ عَجَبًا حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى عَلَيْهِ ثَوْبٌ فَسَلَّمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ قَالَ أَنَا مُوسَى قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ {أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا} [الكهف: 66] قَالَ يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا تَعْلَمُهُ وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَّمَكَهُ اللَّهُ فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحُمِلَ بِغَيْرِ نَوْلٍ فَلَمْ يُعْجِبْهُ وَنَظَرَ فِي السَّفِينَةِ فَأَخَذَ الْقَدُومَ يُرِيدُ أَنْ يَكْسِرَ مِنْهَا لَوْحًا فَقَالَ حُمِلْنَا بِغَيْرِ نَوْلٍ وَتُرِيدُ أَنْ تَخْرُقَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} [الكهف: 75] قَالَ إِنِّي نَسِيتُ وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ قَالَ الْخَضِرُ مَا يُنْقِصُ عِلْمِي وَلَا عِلْمَكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا كَمَا يُنْقِصُ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ {فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا} [الكهف: 77] فَرَأَى غُلَامًا فَأَخَذَ رَأْسَهُ فَانْتَزَعَهُ فَقَالَ {أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} [الكهف: 74-75] قَالَ سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى قَالَ فَانْطَلَقَا فَإِذَا جِدَارٌ يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ أَرَانَا سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَرَفَعَ يَدَهُ هَكَذَا رَفْعًا فَوَضَعَ رَاحَتَيْهِ فَرَفَعَهُمَا لِبَطْنِ كَفَّيْهِ رَفْعًا فَقَالَ {لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ} [الكهف: 78] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَتِ الْأَوْلَى نِسْيَانًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَوْ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نوف شامی کا خیال ہے کہ جس موسی کی خضر سے ملاقات ہوئی تھی، وہ بنی اسرائیل والے موسی نہیں ہیں، انھوں نے کہا: اللہ کے دشمن نوف نے جھوٹ بولا ہے، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک موسی علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، لوگوں نے ان سے پوچھا: لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا کون ہے؟ انھوں نے کہا: میں ہوں، اُدھر سے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کر دی کہ میرا ایک بندہ تجھ سے زیادہ علم والا ہے، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو پھر وہ مجھے دکھاؤ، ان سے کہا گیا کہ تم ایک مچھلی پکڑو اور اس کو ایک ٹوکرے میں ڈالو، جہاں تم اس کو گم پاؤ گے، تو وہ وہاں ہو گا، پس انھوں نے مچھلی پکڑی اور اس کو ایک ٹوکرے میں رکھا اور انھوں نے اور ان کے ایک ساتھی نے ساحل کی طرف چلنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ وہ ایک چٹان کے پاس پہنچ گئے، موسی علیہ السلام وہاں سو گئے، مچھلی نے ٹوکرے میں حرکت کی اور سمندر میں کود گئی، اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے داخل ہونے والی جگہ کا پانی روک لیا (اور یوں ایک غار سی نظر آنے لگی)، جب پانی مضطرب ہوا تو موسی علیہ السلام بیدار ہو گئے (اور کہیں آگے جا کراپنے نوجوان سے) کہا: لا ہمارا کھانا دے، ہمیں تو اپنے اس سفر سے تھکاوٹ اٹھانی پڑی۔ موسی علیہ السلام نے اس مقام سے آگے گزر کر تھکاوٹ محسوس کی، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا، آگے سے اس نوجوان نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جب کہ ہم چٹان پر ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے، وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا ، دراصل شیطان نے مجھے بھلا دیا۔ چنانچہ وہیں سے وہ اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے واپس لوٹے۔ پس انھوں نے اپنے قدموں کے نشانات کو ڈھونڈنا شروع کر دیا، اور اس مچھلی نے انوکھے طریقہ سے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔ اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کا چلاؤ روک لیا اور وہ جگہ طاق کی طرح نظر آنے لگی،یہ مچھلی کے لیے انوکھا اور موسی علیہ السلام کے لیےعجیب کام تھا، بہرحال وہ دونوں بالآخر اس چٹان تک پہنچ گئے، مطلوبہ مقام پر پہنچ کر انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی ہے، اس نے کپڑا ڈھانپا ہوا ہے، موسی علیہ السلام نے اس کو سلام کہا، اس نے آگے سے کہا: تیری علاقے میں سلام کیسے آ گیا؟ انھوں نے کہا: میں موسی ہوں، خضر علیہ السلام نے کہا: بنو اسرائیل کا موسی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں آپ کی تابعداری کروں کہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں۔ خضر علیہ السلام نے کہا: اے موسی! بیشک مجھے اللہ کی طرف سے ایسا علم دیا گیا ہے کہ تم اس کو نہیں جانتے اور تم کو اسی کی طرف سے ایسا علم دیا گیا ہے کہ میں اس کی معرفت نہیں رکھتا، پھر وہ دونوں ساحل پر چل پڑے (اور خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام پر پابندی لگا دی کہ انھوں نے اس سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرنا)، وہاں سے ایک کشتی گزری، انھوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا، اس لیے ان کو بغیر کسی اجرت کے سوار کر لیا گیا، لیکن اس چیز نے ان کو تعجب میں ڈالا، پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کو دیکھا اور کلہاڑا لے کر اس کی ایک تختی کو توڑنا چاہا، موسی علیہ السلام نے کہا: ان لوگوں نے ہمیں اجرت کے بغیر سوار کر لیا اور اب تم اس کشتی کو توڑ کر سب سواروں کو غرق کرنا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے تو پہلے ہی تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو میرے ساتھ ہر گز صبر نہ کر سکے گا۔ موسی علیہ السلام نے کہا: بیشک میں بھول گیا تھا، پھر ایک پرندہ آیا اور اس نے سمندر سے اپنی چونچ بھری، خضر علیہ السلام نے اس کو دیکھ کر کہا: اے موسی! میرے اور تیرے علم نے اللہ تعالیٰ کے علم میں اتنی کمی کی ہے، جتنی کہ اس پرندے نے اس سمندر میں کی ہے، پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ وہ دونوں ایک گاؤں والوں کے پاس آ کر ان سے کھانا طلب کیا، لیکن انھوں نے ان کی مہمان داری سے صاف انکار کر دیا۔ نیز خضر علیہ السلام نے وہاں ایک لڑکا دیکھا اور اس کو پکڑ کر اس کا سر اکھاڑ دیا، موسی علیہ السلام نے کہا: کیا تو نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈالا، بیشک تو نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی، انھوں نے کہا: کیا میں نے تم کو نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر ہر گز صبر نہیں کر سکتے۔ عمرو نے اپنی روایت میں کہا: یہ پہلے کام سے زیادہ سخت کام تھا، پھر وہ دونوں چل پڑے، جب خضر علیہ السلام نے دیوار کو گرتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے اس کو سیدھا کر دیا، سفیان راوی نے اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھ کو اس طرح بلند کیا، پھر اپنی ہتھیلیوں کو رکھا اور پھر ان کو ہتھیلیوں کی اندرونی سمت کی طرف سے بلند کیا، موسی علیہ السلام نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے، اس نے کہا: بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: پہلی بار تو موسی علیہ السلام بھول گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ موسی علیہ السلام پر رحم کرے، کاش وہ صبر کرتے تاکہ وہ ہم پر اپنے مزید معاملات بیان کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ کہف مع التفسیر، خضر کون تھے؟ دیکھیں: حدیث نمبر (۱۰۳۹۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10383
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 122، 3278، 3401، ومسلم: 2380، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21431»