حدیث نمبر: 10374
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً)) وَفِي رِوَايَةٍ ((يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْءَةِ بَعْضٍ)) ((وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْهُ الْحَيَاءُ وَالسِّتْرُ وَكَانَ يَتَسَتَّرُ إِذَا اغْتَسَلَ فَطَعَنُوا فِيهِ بِعَوْرَةٍ)) وَفِي رِوَايَةٍ ((فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ)) ((قَالَ فَبَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ يَغْتَسِلُ يَوْمًا وَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ فَانْطَلَقَتِ الصَّخْرَةُ بِثِيَابِهِ فَأَتْبَعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ وَهُوَ يَقُولُ ثَوْبِي يَا حَجَرُ ثَوْبِي يَا حَجَرُ حَتَّى انْتَهَى بِهَا إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَتَوَسَّطَهُمْ فَقَامَتْ أَيْ الصَّخْرَةُ وَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ ثِيَابَهُ فَنَظَرُوا فَإِذَا أَحْسَنُ النَّاسِ خَلْقًا وَأَعْدَلُهُمْ صُورَةً فَقَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ قَاتَلَ اللَّهُ أَفَّاكِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَكَانَتْ بَرَاءَتَهُ الَّتِي بَرَّأَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بنو اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ وہ ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھتے تھے، جبکہ اللہ کے نبی موسی علیہ السلام اس چیز سے حیا اور شرم محسوس کرتے تھے، اس لیے وہ پردہ کر کے غسل کرتے تھے، لیکن بنو اسرائیل نے اس وجہ سے ان پر ان کی شرمگاہ کے بارے میں طعن کیا، ایک روایت میں ہے: انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! موسی کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے روکنے والی چیزیہ ہے کہ ان کے خصیتین پھولے ہوئے ہیں، پس ایک دن اللہ کے نبی نہا رہے تھے اور اپنے کپڑے ایک چٹان پر رکھ دیئے، لیکن ہوا یوں کہ وہ چٹان کپڑوں سمیت چل پڑی، موسی علیہ السلام بھی اس کے پیچھے ہو لیے، اپنی لاٹھی ماری اور یہ آواز دی: اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے، لیکن اتنے میں وہ پتھر بنو اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گیا اور ان کے درمیان جا کر کھڑا ہو گیا، اللہ کے نبی نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، جب انھوں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے خوبصورت تخلیق والا اور سب سے معتدل صورت والا پایا، اس کے بعد بنو اسرائیل نے کہا: اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل کے تہمت لگانے والے افراد کو ہلاک کرے، پس یہی وہ براء ت تھی کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بری کیا تھا۔
حدیث نمبر: 10375
وَفِي رِوَايَةٍ ((فَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا)) فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ نَدَبًا سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً ضَرَبَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْحَجَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک روایت میں ہے: موسی علیہ السلام نے اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنا شروع کر دیا، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! موسی علیہ السلام کے مارنے کی وجہ سے پتھر پر چھ سات نشان تھے۔
حدیث نمبر: 10376
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ قُلْتُ مِنَ الشَّامِ قَالَ فَقَالَ لِي هَلْ رَأَيْتَ حَجَرَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قُلْتُ وَمَا حَجَرُ مُوسَى قَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالُوا لِمُوسَى قَوْلًا تَحْتَ ثِيَابِهِ فِي مَذَاكِيرِهِ قَالَ فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ قَالَ فَسَعَتْ بِثِيَابِهِ قَالَ فَتَبِعَهَا فِي أَثَرِهَا وَهُوَ يَقُولُ يَا حَجَرُ أَلْقِ ثِيَابِي حَتَّى أَتَتْ بِهِ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فَرَأَوْا سَوِيًّا حَسَنَ الْخَلْقِ فَلَجَبَهُ ثَلَاثَ لَجَبَاتٍ فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ لَوْ كُنْتَ نَظَرْتَ لَرَأَيْتَ لَجَبَاتِ مُوسَى فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا: جی شام سے، انھوں نے کہا: کیا تم نے موسی علیہ السلام کا پتھر دیکھا ہے؟ میں نے کہا: موسی علیہ السلام کے پتھر سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: بنو اسرائیل نے موسی علیہ السلام کے خصیتین کے معیوب ہونے کے بارے میں کوئی بات کی، ایک دن وہ ایک چٹان پر کپڑے رکھ کر نہانے لگے، لیکن ہوا یوں کہ وہ چٹان ان کے کپڑوں سمیت دوڑ پڑی، وہ اس کے پیچھے دوڑے اور کہا: اے پتھر! میرے کپڑے پھینک دے، لیکن وہ پتھر بنو اسرئیل کے پاس پہنچ گیا، پس انھوں نے دیکھا کہ وہ بالکل ٹھیک اور خوبصورت تخلیق والے ہیں، پھر موسی رضی اللہ عنہ نے اس پتھر کو اپنی لاٹھی سے تین ضربیں لگائیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! اگر میں اس پتھر کو پا لیتا تو اس میں موسی علیہ السلام کی ضربوں کے نشانات دیکھ لیتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں موسی علیہ السلام کے دو معجزوں کا بیان ہے: پتھر کا ان کے کپڑے لے کر دوڑ جانا اور پتھر پر ان کی ضرب کے نشان لگنا۔
موسی علیہ السلام نہایت باحیا ہو نے کی وجہ سے لوگوں کے سامنے اپنے جسم کو ننگا نہ ہونے دیتے تھے، لیکن لوگوں نے یہ بات گھڑ لی کہ ان کی شرم گاہ میں فلان بیماری ہے، یہ اس وجہ سے ہر وقت پردہ کر کے رکھتے ہیں، حالات کا تقاضا تھا کہ موسی علیہ السلام کو اس الزام اور شبہے سے پاک ثابت کیا جائے، پس یہ واقعہ پیش آیا۔
موسی علیہ السلام نہایت باحیا ہو نے کی وجہ سے لوگوں کے سامنے اپنے جسم کو ننگا نہ ہونے دیتے تھے، لیکن لوگوں نے یہ بات گھڑ لی کہ ان کی شرم گاہ میں فلان بیماری ہے، یہ اس وجہ سے ہر وقت پردہ کر کے رکھتے ہیں، حالات کا تقاضا تھا کہ موسی علیہ السلام کو اس الزام اور شبہے سے پاک ثابت کیا جائے، پس یہ واقعہ پیش آیا۔